"صحرا میں بہار” (تیسری قسط۔)


آشرم سے نکل کے ہم نے پھر سفر شروع کیا۔ سفر کا دورانیہ تھوڑی دیر کا بتایا گیا تھا اور یہ تھوڑی دیر ڈھائی پونے تین گھنٹے پہ محیط تھی۔ جیسا کہ میں نے بتایا کہ کراچی سے نکلنے کے بعد سے تو گویا منظر ہی تبدیل ہو گیا تھا۔ جوں جوں ہم آگے بڑھتے جا رہے تھے ہر طرف شام ہو چکی تھی دن ڈھل رہا تھا تو شہ فلک اپنی آرام گاہ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ خیر اللہ اللہ کر کے ہمارا یہ سفر تھر کے کونے میں جا کر ختم ہوا۔ ہماری منزل تھر کا ایک سرحدی قصبہ کاسبو تھا۔

جہاں محفل موسیقی اور محفل مشاعرہ کا اہتمام تھا۔ کاسبو نو ہزار کی آبادی کا چھوٹا سا قصبہ تھا۔ یہ قصبہ سرحد سے اس قدر قریب ہے کہ ہمیں بتایا گیا تھوڑے فاصلے پر جو روشنیوں کی قطار نظر آ رہی ہے وہ بھارت کی سرحد ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ بھارتی سرحد کا علاقہ اس قدر روشن ہے کہ رات میں بھی دن کا سماں ہے اور ہماری سرحد کے آس پاس کے علاقے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے تھے۔ وہاں کے لوگوں نے بتایا کہ یہاں عموماً بجلی نہیں ہوتی۔

ہم چوں کہ سات بج کے چالیس منٹ پر وہاں پہنچے تھے اور دن اب مختصر ہو رہے ہیں تو جب ہم پہنچے تو سورج غروب ہوئے قریب ڈیڑھ گھنٹہ ہو گیا تھا اور یوں لگ رہا تھا جیسے اچھی خاصی رات ہو گئی ہو۔ دیہی آبادیوں میں رات خاصی جلدی اترتی ہے۔ یہ تو بڑے اور وسیع آبادی کے شہروں میں ہوتا ہے کہ رات جاگتی ہے۔ ایک وقت تھا جب روشنیوں کے شہر کراچی میں رات آتی ہی نہیں تھی۔ شام کے بعد جب رات اپنے جوبن پر آتی تو اگلے دن کا سورج طلوع ہونے تک روشنیاں اجالا بکھیرے رکھتیں اور ہر طرف رونق ہی رونق ہوتی۔ اب تو لگتا ہے اس کی روشنیوں اور رونقوں کو کسی کی نظر لگ گئی ہے۔

راستے میں آتے ہوئے جو مناظر ہم نے دیکھے تھے ان کو دیکھ کے اندازہ ہوا کہ یہاں کس قدر پسماندگی ہے زندگی کی بنیادی ضروریات بھی مکمل طور پر نہیں ہیں۔ لوگ مشکل طور پہ زندگی گزار رہے ہیں یا شاید زندگی ان کو گزار رہی ہے۔ ہم راما پیر کے مندر میں اترے تھے کیوں کہ اس کے وسیع و عریض احاطے میں ہی اس پروگرام کا انتظام تھا جس کے لیے ہم لوگ کراچی سے یہاں بلائے گئے تھے۔ یہ جگہ مقامی لوگوں کے لیے آڈیٹوریم کی حیثیت رکھتی ہے کیوں کہ ان کے سماجی اور ثقافتی نوعیت کے پروگرامز وہیں ہوتے ہیں۔

کسی بھی جگہ پہنچ کے خواتین کا سب سے اہم کام فریش ہونا ہوتا ہے اور پھر یہ سفر تو تقریباً بارہ گھنٹے پہ محیط ہو گیا تھا اگرچہ درمیان میں ہم نے دو جگہ مختصر وقت کے لیے قیام بھی کیا تھا لیکن پھر بھی اتنا طویل سفر کچھ لوگوں کو تھکا دینے کے لیے بہت کافی ہوتا ہے۔ بہرحال وہاں اتر کے سب نے منہ ہاتھ دھو کے سفر کی تھکن دور کرنے کی کوشش کی۔ سلکیاں کی طرح یہاں بھی ہمارے پہنچنے سے پہلے مقامی فن کار آچکے تھے اور ہماری آمد کا انتظار کر رہے تھے۔

کچھ دیر بعد ہم بھی اس محفل میں جا کے بیٹھ گئے۔ مقامی فن کاروں سے ہم لوگوں کا تعارف کروایا گیا۔ ہمیں انھوں نے موسیقی کی زبان میں یعنی گانے گا کے خوش آمدید کہا۔ بہت اچھا لگا ان کا یوں ہمارا استقبال کرنا۔ ابھی یہ تعارف اور استقبالیہ گیت وغیرہ ہو ہی رہے تھے کہ تھر میں ہمارے میزبانوں میں سے ایک میزبان جناب وینجھ راج نے کھانے کے لیے اپنے یہاں چلنے کو کہا چناں چہ ہم سب وہاں چل پڑے۔ ان کا گھر نزدیک ہی تھا۔

وینجھ راج صاحب کا گھر بہت اچھا بنا ہوا تھا اور دیہی روایات کے مطابق کشادہ بھی۔ قدیم رواج کے مطابق یہ گھر دو حصوں پر مشتمل تھا گھر کا اگلا حصہ مردانہ تھا اور وہ بھی باقاعدہ ایک گھر ہی تھا۔ یقیناً مرد مہمانوں کی آمد و قیام وہاں ہی ہوتا ہو گا۔ پہلے یہ ہی رواج تھا کہ گھروں میں مردانہ اور زنانہ حصے الگ الگ ہوتے تھے۔ دیہاتوں میں یہ رواج اب بھی ہے۔ وینجھ راج صاحب کے گھر میں ان کی بیوہ ماں کے علاوہ ان کی بیوی اور بیٹی بھی تھے۔

ان کا گھر دیکھ کے ہم لوگ حیران ہوئے۔ ان کا گھر اندر سے بالکل اسی طرح تھا جیسے ہمارے یہاں کے گھر۔ ہمیں یوں محسوس ہو رہا تھا گویا ہم تھر کے سرحدی قصبے کے بجائے کراچی کے کسی گھر میں ہیں۔ صاحب خانہ کی والدہ اور اہلیہ نے ہمیں بہت اچھے انداز میں خوش آمدید کہا۔ دونوں خواتین تھر کے روایتی لباس میں تھیں اور بہت اچھی لگ رہی تھیں۔ گھر کے صحن کا کچھ حصہ کچا بنا ہوا تھا جہاں مرغیوں کے دڑبے کے علاوہ پودے بھی لگے ہوئے تھے۔

یہ خالصتاً دیہاتی منظر تھا۔ وینجھ راج صاحب کی بیٹی انٹر کی طالبہ ہے ویسے تو وہ نگر پارکر کے کالج کی طالبہ ہے لیکن کووڈ کی وجہ سے ان دنوں گھر پر ہی ہے اور آن لائن کلاسز لے رہی ہے۔ کچھ ہی دیر میں کھانا چن دیا گیا۔ کھانے سادہ تھا۔ کھانے میں گندم کی روٹی کے علاوہ چاول کی روٹی بھی۔ مٹر کے چاول، مکس سبزی اور پھلیاں اور چھاچھ۔ یہ لوگ گوشت نہیں کھاتے اس لیے ہمارے میزبان نے اس بات کے لیے پہلے ہی معذرت کرلی تھی کہ ہمیں سبزیوں پر مشتمل کھانا ہی مل سکے گا۔

کھانے کے بعد احاطے کا رخ کیا اور پھر سے محفل شعر و نغمہ کا آغاز ہوا۔ مقامی فن کاروں نے سندھی روایتی کلام کے علاوہ سرائیکی گیت بھی سنائے اور خوب داد پائی اس میں شک نہیں اس چھوٹے سے علاقے کے فن کاروں کا ہنر بہترین تھا۔ ایک فن کار جن کا نام یوسف فقیر تھا وہ نابینا تھے لیکن اللہ نے انھیں فن سے خوب نوازا تھا۔ انھوں نے بہت عمدگی سے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ ان کے صاحب زادے بھی بہت اچھا گاتے تھے انھوں نے بھی صوفیانہ کلام سنا کر ہمیں محظوظ کیا۔

ماسٹر جوو مل نے بھی کافیاں اور حاضرین کی فرمائش پر کلام سنایا۔ صوفیانہ کلام سن کر مہمان حضرات وجد میں آ گئے۔ زیفرین، علی کوثر اور ہدایت سائر نے جو دھمال ڈالا اس نے صوفیانہ کلام کے اثر کو کئی گنا بڑھادیا۔ دیکھنے والے اس سے بھی بہت محظوظ ہوئے۔ پروگرام کا اگلا حصہ مشاعرہ تھا۔ اس میں مقامی اور مہمان شعراء دونوں نے اپنا کلام سنا کے داد پائی۔

Facebook Comments HS