جھوٹ – للی پوٹ پارا کا افسانہ


(سلووینین زبان میں لکھی گئی اس کہانی کی مصنفہ للی پوٹ پارا ہیں۔ وہ سلوینین ادب کی ایک معروف اور انعام یافتہ ادیبہ ہیں اور مترجم ہیں۔ ان کی کہانیوں کا مجموعہ ”باٹمز اپ اسٹوریز“ کو 2002 میں پروفیشنل ایسوسی ایشن آف پبلشرز اینڈ بک سیلرز آف سلووینیا کی طرف سے پرائز فار بیسٹ لٹریری ڈبیو ”کے اعزاز سے نوازا گیا۔ موجودہ ترجمہ کرسٹینہ ریئرڈن کے انگریزی ترجمے کا ترجمہ ہے، جو“ ایلکیمی جرنل آف ٹرانسلیشن ”میں شائع ہوا تھا۔

اس کہانی کا مرکزی کردار ”ٹنکا“ اپنی نانی کی واپسی کا انتظار کر رہی ہے جو اس سے یہ کہہ کرگئی ہیں کہ وہ دکان تک جا رہی ہیں اور ابھی واپس آ جائیں گی۔ لیکن انھوں نے بچی سے جھوٹ بولا تھا۔ دراصل وہ اپنے گھر چلی گئی ہیں۔ لڑکی ان کا انتظار کرتی رہتی ہے۔ بے سود انتظار۔ اسی لئے کہانی کا عنوان ”جھوٹ“ ہے۔ نانی کے اس جھوٹ کے سبب ٹنکا کا بڑوں پر سے بھروسا اٹھ جاتا ہے کیونکہ اسے احساس ہو گیا ہے کہ بڑے جھوٹ بولتے ہیں۔ اس انکشاف کے سبب اگلے دن صبح کو اس کو لگتا ہے کہ وہ ایک ہی رات میں اچانک بڑی ہو گئی ہے۔ مترجم)

***

” ابھی گھر نہ جائیے نانی!“ ٹنکا اپنی نانی سے منت آمیز ضد کرتی ہے، جو اس کے بالوں میں کنگھی کرتے ہوئے گھڑی کی طرف دیکھنے لگی تھیں۔ ٹنکا کو معلوم ہے کہ نانا کام سے واپس آنے والے ہوں گے اور بھوکے ہوں گے۔ پھر بھی وہ نہیں چاہتی کہ اس کی نانی اپنے گھر جائیں۔ نانی کے چلے جانے کے بعد اسے اپنا اپارٹمنٹ عجیب طرح سے سرد محسوس ہونے لگتا ہے، حالانکہ اس کے فوراً بعد اس کی ماں اور پاپا گھر واپس آتے ہیں۔ ”تھوڑی دیر اور رکیے، اتنی جلدی کیا ہے؟“

نانی اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتی ہیں : ”ٹھیک ہے، میں بس دکان تک جاؤں گی۔ بریڈ لانا ہے اور نانا کے لئے کافی بھی لینی ہے۔“

ٹنکا کی ضد رک جاتی ہے۔ نانی کوٹ پہنتی ہیں۔ وہ راہداری کے آئینے پر ایک نظر ڈالتی ہیں۔ اپنا بیگ اٹھاتی ہیں اور چلی جاتی ہیں۔ ٹنکا دوڑ کر بیڈ روم کی کھڑکی کے پاس جاتی ہے، کیونکہ وہاں سے باہر آنگن نظر آتا ہے، جہاں سے دکان سے اپارٹمنٹ میں داخل ہونے والے ہر شخص کو وہ دیکھ سکتی ہے۔

ٹنکا کھڑکی کے پاس دبکی بیٹھی ہے۔ اسے سامنے کے گیٹ سے ماں آتی ہوئی نظر آتی ہے۔ وہ اپنے پاپا کو فورڈ کار کی بغل میں کار پارک کرتے ہوئے اور لوگوں کو کام سے گھر واپس آتے ہوئے دیکھتی ہے۔

” ٹنکا کچن میں آؤ۔ تم وہاں کیاکر رہی ہو؟ آخر وہاں ایسی کیا بات ہے جو اتنی دیر سے بیٹھی ہو؟“ ماں نانی کے پکائے لنچ کو دوبارہ گرم کرتے ہوئے کہتی ہے۔ پاپا کچھ نہیں کہتے کیونکہ کام کے بعد انھیں بہت بھوک لگی ہے اور وہ فوراً کھانا چاہتے ہیں۔

ٹنکا کھڑکی کے باہر دیکھتی ہے۔ اسے پیشاب لگا ہے۔ لیکن وہ وہاں سے ہٹتی نہیں، کیونکہ اسے معلوم کہ اس کے وہاں سے ہٹتے ہی نانی آئیں گی۔ اسے ہوم ورک کرنا ہے، لیکن وہ نہیں کرتی کیونکہ نانی اب کسی بھی وقت واپس آ سکتی ہیں۔

سورج دھیرے دھیرے ڈوب رہا ہے۔ ٹنکا دوڑ کر باتھ روم میں جاتی ہے۔ اس کی بہن میوزک اسکول سے گھر واپس آتی ہے۔ ماں جھنجھلائی ہوئی ہے۔ اور پاپا فٹبال کھیلنے گئے ہیں۔ جس شیشے سے ٹنکا اپنا چہرہ سٹائے بیٹھی ہے وہ اس کے منھ کی بھاپ سے دھندلا ہو گیا ہے ۔

اب تقریباً رات ہو چکی ہے۔ ٹنکا کا منھ بد مزا ہو رہا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اس کے پیٹ میں ایک عجیب سا مکڑی کا جالا ہو۔ جیسے سینکڑوں چپ چپے مکڑے اس کے اندر رینگ رہے ہوں۔

”بیٹی یہاں آؤ، کارٹون دیکھو۔ آخر تمھیں آج ہوا کیا ہے؟“ ماں کہتی ہے، جو ابھی بھی خراب موڈ میں ہے۔

” میں نہیں آتی،“ ٹنکا دھیرے سے کہتی ہے۔ پھر کہتی ہے : ”نانی ابھی ابھی دکان گئی ہیں۔ دکان بند ہونے کو ہے۔ وہ اب آنے ہی والی ہوں گی۔

نانی واپس نہیں آتیں۔ ٹنکا اپنا پاجامہ پہنتی ہے اور تھوڑا دہی کھاتی ہے۔ اب وہ کھڑکی کو نہیں دیکھ رہی ہے۔ وہ کسی طرف بھی نہیں دیکھتی۔ اب وہ کچھ دیکھنا ہی نہیں چاہتی۔ لیکن اس کے لئے آنکھیں بند کرنا بھی مشکل ہے کیونکہ وہ آنکھیں موندتی ہے تو اسے نانی نظر آتی ہیں۔ دروازے سے نکل کر دکان کی طرف جاتے ہوئے۔ وہ سینکڑوں دفعہ جاتی ہیں اور سینکڑوں بار واپس نہیں آتی آتیں۔

اگلی صبح ٹنکا کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک ہی رات میں کئی سال بڑی ہو گئی۔
مترجم: ڈاکٹر آفتاب احمد
سینئر لیکچرر، ہندی اردو، کولمبیا یونیورسٹی، نیویارک

Facebook Comments HS