سنہ 2022 کی آمد اور عمران خان کا اضطراب
الوداع 2021 الوداع۔ خوش آمدید 2022۔ 2021 پر آشوب سال تھا۔ میدان سیاست ہو یا معیشت کی دنیا۔ پارلیمان ہو یا کھیت کھلیان کہیں سے بھی اچھی خبر نہیں آئی جس طرح 2021 میں حکومت اور اپوزیشن باہم ”دست و گریباں“ رہے پچھلے ساڑھے تین سال سے زائد عرصہ سے ”عمرانی حکومت“ گرانے کی تگ دو کی جاری ہے۔ تاحال ”مہربانوں“ کی ”مہربانیوں“ عمران خان کی حکومت قائم ہے جب کبھی ”عمرانی حکومت“ کا سنگھاسن ڈولتا نظر آتا ہے۔ کوئی ”غیبی“ ہاتھ اسے سہارا دے کر بچا لیتا ہے۔ اس لئے کسی نہ کسی طرح ”عمرانی حکومت“ کی حکومت کسی ”جانکاہ“ حادثے سے بچ رہی ہے لیکن ”دست شفقت“ کب تک جاری رہے گا؟
اس بارے میں کوئی بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی۔ سیاسی حلقوں میں یہ بات برملا کہی جا رہی ہے کہ عمران خان کے سر سے ”دست شفقت“ اٹھنے والا ہے۔ دست شفقت رکھنے والے حکومت کی مسلسل نالائقیوں سے عاجز آچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ کل کیا ہو گا لیکن اب سیاسی محافل میں کہا جا رہا ہے کہ موجودہ حکومت کا مارچ 2022 میں ”تیاپانچہ“ ہونے والا ہے۔ ”شمشان گھاٹ“ تیار ہو چکا ہے۔ دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان کی بے چینی و اضطراب دیکھ کر ان کے بارے سیاسی مارکیٹ میں ”گپ شپ“ کے بارے میں کچھ کچھ حقیقت دکھائی دیتی ہے۔ دو چار روز قبل انہوں نے اپنی ترجمانوں کی فوج کا اجلاس کے پی کے میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں جھٹکا لگنے کے بعد پیدا ہونے ہونے والی صورت حال پر اپنا ”نیا بیانیہ“ تیار کرنے لئے تھا لیکن اس اجلاس میں بھی عمران خان کے اعصاب پر میاں نواز شریف سوار تھے۔
وہ بار بار یہ کہتے رہے کہ ”نواز شریف کی سزا ختم کرنے کے لئے راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ اے سزا یافتہ شخص کو چوتھی بار وزیر اعظم بنا دیا جائے اگر ایسا ممکن ہے تو ملک کی تمام جیلوں کے دروازے کھول دیے جائیں اور سزا یافتہ لوگوں کو رہا کر دیا جائے“ سب جانتے ہیں۔ ان کا مخاطب کون ہے؟
اور وہ ”طاقت ور“ لوگوں کو جو پیغام دے رہے ہیں۔ سب کو سمجھ آ رہا ہے لیکن وہ طاقت ور لوگوں کا نام لینے کی ہمت نہیں رکھتے۔ لہذا یہ بات کسی حد تک دل کو لگتی ہے۔ ”عمرانی حکومت“ کا چوتھا سال بھی ”ناکامی“ کا سال ہے اور ان کی ناکامیاں ہی ان کے اقتدار کے خاتمے کا باعث بن رہی ہیں جب سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ”خوشگوار تعلقات کار“ قائم نہیں ہو سکے اپوزیشن پاکستان کی تاریخ کے (ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں 1977 میں دھاندلی زدہ انتخابات کے بعد اپوزیشن کے پارلیمان میں نہ بیٹھنے اور تحریک چلانے سے ملک میں مارشل لا کی طویل رات مسلط ہو گئی ) دوسرے بڑے دھاندلی زدہ انتخابات کے بعد پارلیمنٹ میں آ بیٹھی تو عمران خان بھی مسند اقتدار پر بیٹھ گئے اور اپوزیشن بھی ”مارشل لا“ کے خوف سے سہم کر اپوزیشن بنچوں پر براجمان ہو گئی لیکن پہلے ہی دن سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی شروع ہو گئی
اپوزیشن نے پہلے ہی روز ”سلیکٹڈ“ پرائم منسٹر کو ایوان میں تقریر نہیں کرنے دی آج ساڑھے تین سال ہونے کو ہیں۔ وزیر اعظم کو حسرت ہے کہ وہ اطمینان سے پارلیمان سے خطاب کریں اور ہر بدھ کو پارلیمان کے سامنے جواب دہ ہوں لیکن پارلیمان میں ضرورت سے زیادہ ”غیر دوستانہ“ ماحول کے سامنے وہ حوصلہ ہار گئے ہیں اور اپنا نام پارلیمنٹ کو سب سے کم وقت دینے والے وزرائے اعظم میں کی فہرست میں شامل کرا لیا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نہ ختم ہونے والی ”جنگ“ جاری ہے۔ حکومت اپوزیشن کو برداشت نہیں کر پائی جب کہ اپوزیشن حکومت کو گرانے میں مصروف رہی 2021 ”مایوسیوں اور محرومیوں“ کا سال ہے۔ 2021 مہنگائی اور بے روزگاری کا بھی سال ہے۔
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ”کشیدہ تعلقات کار“ نے پارلیمانی زندگی پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ ایوان بالا میں تاحال اپوزیشن کی اکثریت ہے جس کے باعث حکومت قانون سازی میں من مانی نہیں کر سکی پھر ایک روز ایک ہی نشست میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں قانون سازی بلڈوز کر دی اور ایوان بالا سے مسترد کیے گئے 33 بلوں کو منظور کروا لیا پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں یک طرفہ طور پر قانون سازی کی نظیر پارلیمانی تاریخ میں نہیں ملتی۔
وزیر اعظم اپوزیشن کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے لئے تیار نہیں تو اپوزیشن بھی ان کو پارلیمان میں خوش آمدید نہیں کہہ رہی جوں ہی وزیر اعظم پارلیمان کا رخ کرتے ہیں تو انہیں ”سلیکٹیڈ پرائم منسٹر“ اور ”گو نیازی گو“ کے نعروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکومتی بنچوں کی جانب سے ”چور اور ڈاکو“ کے نعرے لگا کر اپوزیشن کا منہ چڑانے کی کوشش ایوان کا ماحول مزید مکدر بنا دیا جاتا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدہ تعلقات کار کے باعث بہت کم قانون سازی ہوئی وزرا کی فوج ظفر موج ہونے کے باوجود حکومت پارلیمان میں کورم پورا رکھنے میں ناکام رہی آئے روز کورم پورا نہ ہونے کے باعث حکومت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا البتہ حکومت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی ایک ہی نشست میں چند گھنٹوں میں 33 متنازعہ بل منظور کروا کر قانون سازی کی کمی کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔
2021 اپوزیشن کے چیدہ چیدہ رہنماؤں سے نیب قانون کے تحت جیلیں آباد کیے رکھیں میاں شہباز شریف اور خواجہ محمد آصف سمیت متعدد مسلم لیگی رہنما جیل کاٹ چکے ہیں جب سے سیاسی حلقوں میں میاں شہباز شریف کے بارے میں وزیر اعظم بنانے کی افواہ گردش کرنے لگی تو حکومت نے ان کو تیسری بار جیل بھجوانے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے ہیں لیکن جب جیل میں ان کی طبعیت زیادہ خراب ہو گئی تو انہیں لندن جانے کی اجازت مل گئی وہ پچھلے دو سال سے لندن میں مقیم ہیں۔ پچھلے چند دنوں میاں نواز شریف کی وطن واپسی کا چرچا ہوا تو اقتدار کے ایوانوں میں ”کھلبلی“ مچ گئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ دو سال سے زائد عرصہ جیل میں رہے سپریم کورٹ سے ضمانت پر ہی رہائی ممکن ہوئی قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کی ”بے بسی“ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے جاری کردہ پروڈکشن آرڈرز پر حکومت عمل درآمد نہیں کرتی یا وہ ”اوپر“ کے دباؤ پروڈکشن آرڈرز جاری نہیں کرتے یہی وجہ ہے۔ اپوزیشن بار ہا ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی منصوبہ بندی کر چکی۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے استعفاٰ دے دیا ہے۔ ان کی جگہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر رانا تنویر حسین کو چیئرمین منتخب کر لیا گیا ہے۔ ان کی شاندار کارکردگی رہی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن نے عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لئے قائم کردہ پارلیمانی کمیٹی نے کوئی کام نہیں کیا وزیر اعظم اور اپوزیشن کے درمیان ”بامعنی“ مشاورت نہ ہونے کے باعث الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی تقرری تعطل کا شکار رہی۔
نئے سال کا سورج سیاسی افق پر تبدیلی کی نوید لے کر طلوع ہوا ہے۔ اگرچہ عمران خان کی حکومت قائم ہونے سے قبل ہی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم ہونے لگی تھی لیکن 2021 میں روپے کی ریکارڈ قدر کم ہوئی مجموعی طور پر روپے کی قدر 35، 40 فیصد کم ہوئی جس سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آ گیا آج ہر شخص مہنگائی کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ 2021 میں بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
موجودہ حکومت نے 2021 کا سال ختم ہونے سے دو روز قبل منی بجٹ پیش کر کے عوام پر 343 ارب روپے کا بم گرایا ہے اگرچہ اپوزیشن نے منی بجٹ پیش کرتے وقت پارلیمان میں شدید احتجاج کیا ہے۔ ہنگامہ آرائی کی ہے۔ نعرے بازی کر کے اپنے وجود کا احساس دلا یا ہے لیکن حیران کن بات ہے۔ حکومت کی طرف سے منی بجٹ پیش کرنے کے وقت اپوزیشن کے احتجاج کی قیادت کرنے کے لئے میاں شہباز شریف موجود اور نہ ہی آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے ایوان میں آنے کی زحمت گوارا کی جس پر وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب کو طعنہ دینے کا موقع مل گیا کہ قانون سازی روکنے کے دعوے دار رفو چکر ہو گئے۔

