ڈاکٹر صاحب اور پطرس کی سائیکل


ڈاکٹر صاحب سے دوستی یوں تو میڈیکل کالج کے دوسرے سال ہوئی مگر قلبی لگاؤ، انڈر سٹینڈنگ، ابے تبے والی بے تکلفی بلکہ ایک دوسرے کی سر عام بے عزتی کے حوالے سے سوچیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے گویا ایک دوسرے کی انگلی پکڑ کر ہی ساتھ ساتھ چلنا سیکھا۔

کورس کی کتابوں کے علاوہ کچھ دوسری فالتو کتابیں پڑھنے کا شوق مشترک تھا اور یہی شوق دوستی کا سبب بنا۔ ہم اپنے آپ کو تو ادب کے سمندر کے چلو بھر پانی کا بھی دعویدار نہیں گردانتے مگر ڈاکٹر صاحب ادبی سمندر میں نہ صرف مچھلی کی طرح تیرتے پھرتے تھے بلکہ ہر غوطے میں گوہر نایاب ڈھونڈ کر نکال لاتے۔ زندگی سے متعلق ان کا فلسفہ بہت سادہ تھا، جیو اور جینے دو، خوش رہو اور دوسروں کی خوشیوں کا سبب بنو۔ ان سے ہمیشہ ہی بہت کچھ سیکھا۔

شاعری کا ذوق کمال کا پایا تھا۔ اساتذہ کا کلام ازبر تھا اور جتنی محبت انہیں شاعری سے تھی اتنی ہی محبت سے پڑھ کر سناتے بھی تھے بلکہ یوں کہیں کہ شاعری کا حق ادا کر دیتے تھے۔ ہم سب دوست ادبی شاہ پارے ان سے فرمائش کر کے سنتے۔ لکھتے بھی خوب تھے۔ جتنے حاضر جواب خود تھے ویسا ہی شگفتہ اور برجستہ ان کا انداز بیاں تھا۔ کالج کے سالانہ فنکشن میں انہوں نے سب دوستوں کے لیے لکھا اور سٹیج پر پڑھ کر محفل لوٹ لی۔ یہ الگ بات کہ کالج کی جس حسینہ بلکہ جن جن حسیناؤں پر ان کا دل تھا ان کی شان میں لکھے گئے قصیدوں میں انہوں نے قدرے مبالغہ آرائی سے کام لیا تھا اور ہم سے دوستی کا حق ایسے ادا کیا کہ ایک ٹوٹا پھوٹا لفظ تک لکھنا گوارا نہ کیا۔ آج تک ڈھیٹ بنے فرمائش کرتے رہتے ہیں مگر مجال ہے ان پر اثر جو ہو جائے۔

کالج ختم ہونے کے بعد رابطے میں کمی ضرور آئی مگر کبھی رابطہ منقطع نہ ہوا۔ سینئر ڈاکٹر ہیں۔ ہسپتال میں مریضوں کو ہوش و خرد سے بیگانہ کرنے میں مہارت رکھتے ہیں، مریضوں کی زبان میں بولیں تو بے ہوشی والے ڈاکٹر یعنی انیستھیزیالوجسٹ ہیں۔ کتابوں اور ادب سے محبت آج بھی برقرار ہے اور شاعری آج بھی ان کی مرغوب صنف ہے۔

کچھ عرصہ پہلے انہوں نے اس شاعر کو پڑھنا شروع کیا جس کے دربار میں ہمارے پر جلتے ہیں اور جن کی آزاد شاعری ہمارے سر کے چار فٹ اوپر سے تیرتی گزر جاتی ہے۔ ایک دن ہمیں ن م راشد کی ایک شاہکار نظم بھیجی اور نہ صرف بھیجی بلکہ اس پر تبصرہ کرنے کی بھی حکم نما فرمائش کر دی۔ پہلے تو سوچا ان کی اس دھونس کو نظر انداز کر دیا جائے مگر پھر کچھ تو سوچ کر اور سچ پوچھیں تو اپنی عزت کی خاطر دو تین دفعہ نظم پڑھ کر جیسے تیسے اس پر تبصرہ لکھ کر بھیج دیا مگر وہ تو فری ہی ہو گئے۔

ہر تھوڑے دنوں میں کوئی نہ کوئی کلام چلا آ رہا ہے۔ کہتے تھے کہ ن م راشد ان کا نیا عشق ہے اور ہمیں اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ اس عشق میں گردن تک غرق ہو چکے ہیں۔ ایک دفعہ ان سے کہا کہ جب تم کوئی نظم بھیجتے ہو تو نجانے کیوں ہمیں پطرس کی سائیکل یاد آ جاتی ہے۔ کہنے لگے کون سی سائیکل؟ کیا مرزا کی سائیکل؟ اور بھلا اس سائیکل کا ہماری بھیجی نظم سے کیا تعلق؟ کئی دفعہ ٹالا مگر ایک دن ان کے اصرار پر انہیں یہ قصہ سنایا۔

”یہ ان دنوں کی بات ہے جب پطرس بخاری ریڈیو پاکستان میں ملازمت کرتے تھے۔ ایک بار عمارت سے باہر نکلے تو دیکھا باہر ایک سائیکل کھڑی ہے۔ سائیکل کی کوئی کل سیدھی نہیں تھی۔ ہینڈل الٹا، پہیے ٹیڑھے، رنگ بھی عجیب۔ پطرس بغور سائیکل کا معائنہ کر رہے تھے۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ کیا دیکھ رہے ہیں، تو انہوں نے جواب دیا کہ“ غور سے دیکھو! یہ سائیکل تمہیں ن م راشد کی نظم نہیں لگ رہی! ؟ ”۔

پطرس نے یقیناً یہ مذاق ہی کیا ہو گا مگر ہمارا یہ مذاق ٹھک کر کے ڈاکٹر صاحب کو لگ گیا۔ بے تحاشا ہنسے مگر وہ دن اور آج کا دن کوئی بھی نئی نظم ہمیں نہیں بھیجی۔

نیا سال شروع ہوا تو سوچا کہ کیوں نہ ڈاکٹر صاحب کو ن م راشد کی کوئی خوبصورت سی نظم بھیج کر نئے سال کی مبارکباد دی جائے۔

Facebook Comments HS

One thought on “ڈاکٹر صاحب اور پطرس کی سائیکل

  • 03/01/2022 at 11:59 صبح
    Permalink

    Very good ma sha Allah

Comments are closed.