امجد اقبال کے امریکہ پہنچنے کی کہانی


ضلع گجرات کے  قصبے شادیوال کے جم پل امجد اقبال بھی بالآخر امریکہ آ کر آباد ہو گئے ہیں. کرونا شروع ہونے سے چند   روز پہلے مارچ 2020ء میں وہ فیملی سپانسرشپ سکیم کے تحت، اپنے چھوٹے بھائی اور ہمشیرہ کی فیملیوں کے سولہ افراد کے ہمراہ امریکہ آئے تھے. امریکہ آ کر بسنے کے انتظار میں انہیں اور ان کی فیملیز کے دیگر افراد کو لگ بھگ پندرہ سال طویل انتظار کرنا پڑا.
امجد کا چھوٹا بھائی منصف اقبال، 1999ء میں لاٹری ویزے پر امریکہ آیا تھا.  امریکی شہری ہونے کے بعد اس نے 2005ءمیں اپنے دونوں بھائیوں اور ہمشیرہ کو بھی سپانسر کر دیا. جن کے امیگرانٹس ویزا کیسوں کی باری آنے میں تقریباً پندرہ سال لگ گئے. طویل انتظار کی سولی پر لٹکتے امجد اور اس کی فیملی نے یہ وقت بڑی ثابت قدمی سے گزارا.
سات ممبران پر مشتمل امجد کی فیملی، اس کے بھائی سجاد رسول اور ہمشیرہ کی فیملیز، کل ملا کر سولہ افراد گرین کارڈ ملنے کے بعد پاکستان سے امریکہ آ کر بے حد خوش ہیں. امجد اپنے بھائی منصف اقبال کے ہمراہ امریکی ریاست میری لینڈ کے شہر بالٹی مور میں آ کر آباد ہوئے ہیں.
منصف اقبال میری لینڈ کی ایک مسجد میں امام ہیں.  جبکہ منصف کا بیٹا بلال بالٹی مور کے پولیس ڈیپارٹمنٹ میں پولیس آفیسر تعینات ہے. چاروں فیملیاں الگ الگ گھروں میں ایک دوسرے کے پڑوس میں ہی رہتی ہیں.
گجرات کے ایک قدامت پسند مزہبی گھرانے سے تعلق رکھنے والے امجد اور اس کی فیملی کے دیگر افراد امریکہ جیسے بڑے ملک اور اس کے کلچر میں آ کر اب اپنے آپ کو قطعاً اجنبی محسوس نہیں کرتے. وہ  سب اس ماحول میں اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق اپنے لیے نئی راہیں تلاش کرنے میں مصروفِ عمل ہیں.
امجد اور اس کا بڑا بیٹا ڈرائیونگ سیکھ کر اب شہر کے قریبی سٹورز پر کام بھی کرتے ہیں. جبکہ دیگر بچے مختلف سکولوں میں داخل ہو کر اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں. امریکہ آ کر ان بچوں کے سنہری خواب اور نئی راہیں اب ان کی منتظر ہیں.
امجد  نے پنجاب یونیورسٹی  کے زیرِ انتظام گورنمنٹ زمیندار پوسٹ گریجوایٹ کالج گجرات سے 1990ء میں ایم. ایس سی (ریاضی) میں گولڈ میڈل حاصل کیا تھا. گورنمنٹ ایجوکیشن کالج لاہور سے بی ایڈ کرنے کے بعد ارادہ تو ان کا ٹیچنگ لائن میں جانے کا تھا، مگر مرضی کی ملازمت کے انتظار میں بیٹھے رہنے کی بجائے ان کو موقع ملا تو وہ  ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس گجرات میں اکاؤنٹس اسسٹنٹ بھرتی ہو گئے. جہاں سے ترقی کرتے کرتے  وہ 2020ء میں 26 سال کی سروس کے بعد گریڈ-17 اکاؤنٹس آفیسر  ریٹائرڈ ہوئے ہیں.
قسمت ان پر بڑی مہربان رہی. ادھر ملازمت سے ریٹائر ہوئے اور دوسری جانب پندرہ سال کے انتظار کے بعد انہیں امریکہ سے بلاوا آ گیا. اب مارچ 2020ء سے وہ امریکہ میں مقیم ہیں.
ایک ملاقات کے دوران امجد کا کہنا تھا کہ انہیں امریکہ آ کر بہت اچھا لگا ہے. امریکہ میں نیا ہونے کے باوجود انہیں امریکی کلچر کے شاکس کو جذب کرنے میں زیادہ دقت پیش نہیں آئی. داڑھی ہونے کی وجہ سے اس کے ذہن میں جو خدشات اور وسوسے تھے،.امریکہ آ کر انہیں ان کے برعکس رویوں کا مشاہدہ ہوا ہے. یہاں آ کر ابھی تک انہیں کسی قسم کے امتیازی, یا نسل پرستانہ سلوک کا سامنا نہیں کرنا پڑا. ہر شخص کو اس کے مزہبی عقائد کے مطابق یہاں پریکٹس کرنے کی مکمل آزادی ہے.
مجموعی طور پر امریکی لوگوں کے روئیے بڑے دوستانہ ہیں. وہ بڑے ہنس مکھ چہروں کے ساتھ ملتے ہیں. انہیں  اور ان کی فیملی کے دیگر افراد کو امریکہ آ کر کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں ہوا. بچے بھی اپنے سکولوں میں بہت تھوڑے عرصے میں ایڈجسٹ ہو گئے ہیں.
امجد کا مزید کہنا تھا کہ اسے امریکی انفراسٹرکچر، اس کے مضبوط اداروں  اور رائج نظام نے بے حد متاثر کیا ہے. ہر چیز ایک نظم و ضبط کے تحت چل رہی ہے. زندگی کے ہر شعبے میں سبھی کو آگے بڑھنے کے مساوی مواقع یہاں کے نظام کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے.
Facebook Comments HS