فیصل آباد کا سیاسی میدان

اب جبکہ عام الیکشن کے اعلان ہونے میں پونے دوسال سے بھی کم عرصہ رہ گیا ہے اور بلدیاتی الیکشن کی آمد آمد ہے ۔ خیبر پختونخواہ میں خفت آمیز شکست کے بعد تحریک انصاف تو نہیں چاہے گی کہ وہ پنجاب کا سیاسی میدان سجائے اور ایک ممکنہ سخت چیلنج کا سامنا کرنا پڑے جس کا پنجاب میں اسے مسلم لیک نون کی شکل میں حقیقی خطرہ درپیش ہے مسلم لیگ ن اس سے پہلے پاکستان تحریک انصاف کو کنٹونمنٹس میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن میں پچھاڑ چکی ہے ۔
پی ٹی آئی کہتی ہے کہ وہ واحد جماعت ہے جس کی نمائندگی چاروں صوبوں میں ہی مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ چاروں صوبوں میں دوسرے نمبر کی جماعت بن چکی ہے ۔ سندھ میں پیپلز پارٹی پنجاب میں مسلم لیگ نون اور بلوچستان میں BAP اوّل پوزیشن پر ہیں اور اب کے پی میں ہونے والے پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات میں مولانا فضل الرحمان کی جے یو آئی پہلی پوزیشن پر آ چکی ہے یہ پی ٹی آئی کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔
اب ممکنہ طور پر مارچ یا اپریل میں بلدیاتی الیکشن کا دنگل سجے گا کیونکہ سپریم کورٹ اس حوالے سے سخت آرڈرز جاری کر چکی ہے لگتا ہے کچھ طاقتیں تحریک انصاف کی حقیقی طاقت کا اندازہ لگانا چاہتی ہیں لہذا ان الیکشن میں سب جماعتوں کو فری ہینڈ ملنے کا امکان ہے ۔ جہاں تک فیصل آباد کی بات ہے تو یہاں روائتی طور پر نون لیگ مضبوط رہی ہے پچھلے الیکشن میں مسلم لیگ کے دونوں دھڑوں میں مقابلہ ہوا تھا اور رانا ثنااللہ گروپ کے ملک رزاق سٹی مئیر منتخب ہوئے تھے اور چوہدری شیر علی گروپ کے امیدوار کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا پی ٹی آئی کی قابل ذکر موجودگی نہ تھی ۔ اس دفعہ سٹی مئیر کو ڈائریکٹ منتخب ہونا ہے میٹروپولیٹن کا علاقہ چار ایم این اے اور آٹھ ایم پی اے کے حلقوں پر مشتمل ہے اس لئے ہر جماعت بہت ہیوی ویٹ قسم کا امیدوار اتارے گی ۔ رانا ثنا اللہ گروپ کے ممکنہ امیدوار تو ملک رزاق ہی ہوں گے ۔مگر شیر علی گروپ چاہے گا کہ امیدوار ان کی مرضی کا ہو اس سلسلہ میں عمران شیر علی فیورٹ ہیں ان کے علاوہ ایم پی اے طاہر جمیل بھی امیدوار بن سکتے ہیں ۔ مگر ان کو صوبائی نشست چھوڑنا پڑے گی .سب سے غیر یقینی صورتحال پاکستان تحریک انصاف کی ہے یہاں پر پچھلے دوسال سے رانا زاہد محمود سٹی مئیر کے لئے بھرپور کمپین چلا ئے ہوئے ہیں اگر ان کو پی ٹی آئی کا ٹکٹ مل جاتا ہے تو وہ بہت مضبوط امیدوار ہوں گے اسطرح اگر شیر علی گروپ کو ٹکٹ نہیں ملتا تو وہ بھی رانا زاہد محمود کو سپورٹ کر سکتا ہے ان حالات میں پی ٹی آئی کی خوش قسمتی ہے ان کو یہاں پر ایک مضبوط امیدوار دستیاب ہے ۔ مگر پی ٹی آئی کا ٹریک ریکارڈ دیکھا جائے تو بہت سی جگہ پر وہ اپنا ٹکٹ غلط امیدوار کو جاری کر کے اپنی شکست کے اسباب خود پیدا کرنے کے ماہر ہیں۔ اس حوالے سے کئی حکومتی پارلیمینٹرین اپنے قریبی رشتہ داروں کو یہ ٹکٹ دلوانے کے لئے کوشاں ہیں اگر ٹکٹ میرٹ پر نہ دیا گیا تو نون لیگ کی جیت یقینی ہو جائے گی ۔ ضلع کونسل بن جانے سے پی ٹی آئی کے ایک اور مضبوط دھڑے زاہد نذیر گروپ اب ضلع کونسل کا الیکشن لڑنے کے لئے فیورٹ ہیں اور ضلع کی تمام تحصیلوں میں ان کا اپنا ذاتی ووٹ بنک بھی ہے اگر پی ٹی آئی کا ٹکٹ زاہد نذیر کو ملتا ہے تو یہاں بھی پی ٹی آئی اچھی پوزیشن میں ہوگی جبکہ ن لیگ کی طرف سے قاسم فاروق اگر امیدوار ہوئے تو اتنے مضبوط نہیں ہوں گے لیکن اگر چک جھمرہ سے سابقہ ایم پی اے آزاد علی تبسم یا سابقہ ایم این اے طلال چوہدری خود الیکشن لڑتے ہیں تو دونوں جماعتوں میں برابر کا جوڑ پڑے گا ۔اس وقت پی ٹی آئی کے شہر کے تمام چار حلقوں سے ایم این اے ہیں مگر بیس ماہ بعد ہونے والے جنرل الیکشن میں شہر کی یہ تمام سیٹیں جیتنا ناممکن ہو گا موجودہ مہنگائی اور فیصل آباد میں کسی میگا پراجیکٹ کی عدم موجودگی کی وجہ سے پی ٹی آئی کو دوبارہ اس شہر کو فتح کرنا مشکل ہے ۔ دو ہزار اٹھا رہ میں ن لیگ کو یہاں سے سرپرائز شکست ہوئی تھی جبکہ اپر پنجاب کے باقی شہروں لاہور ، گوجرانوالہ ، سیالکوٹ ، سرگودھا ، شیخوپورہ ، ساہیوال ، اوکاڑہ اور نارووال میں مسلم لیگ نون فاتح ٹھہری تھی ۔ فیصل آباد میں نون لیگ نے کئی میگا پراجیکٹ مکمل کروائے ہوئے ہیں جن میں کینال ایکسپریس ، ایف آئی سی ، خواتین یونیورسٹی ، میڈیکل یونیورسٹی ، جنرل ہسپتال ، سمندری انڈرپاس وغیرہ وغیرہ ۔ مگر پی ٹی آئی کے پاس کوئی قابل ذکر پراجیکٹ نہیں ۔ فرخ حبیب تھوڑے سے ووٹوں سے جیتے تھے اب دوبارہ ان کا عابد شیر علی کو ہرانا معجزہ ہو گا ۔ فرخ حبیب پی ٹی آئی کا نوجوان پڑھا لکھا چہرہ ہیں اس لئے پی ٹی آئی کو چاہئے ان کو اسلام آباد یا لاہور سے لڑوا کر جتوائیں ۔ راجہ ریاض جو پی ٹی آئی سے بھی ناراض ہیں اور اس دفعہ وہ پی ٹی آئی کا ٹکٹ بھی شاید نہ لیں اس لئے یہاں سے بھی نون لیگ کی جیت یقینی ہے ۔ فیض کموکا کا حلقہ بھی محفوظ خیال نہیں کیا جارہا اس دفعہ وہاں سے نوجوان عرفان منان پہلا الیکشن لڑیں گے اور ان کی پوزیشن مستحکم ہوگی ۔ فیض کموکا کو اپنے ایم پی اے کے امیدوار ڈاکٹر اسد معظم کی ناراضگی اس سیٹ سے محروم کر سکتی ہے ۔ اس طرح مسلم لیگ کے سابقہ سدا بہار ایم این اے اکرم انصاری اور شیخ خرم شہزاد میں سخت مقابلہ متوقع ہے ۔ایم پی اے کی شہر کی آٹھ سیٹوں میں سے چار سیٹیں پی ٹی آئی اور چار سیٹیں ن لیگ نے جیتی تھیں ۔ یہاں بھی خیال کاسترو اور میاں وارث کا دوبارہ ایم پی اے بننا معجزہ ہو گا کیونکہ ان کے مدمقابل رانا ثنااللہ اور ملک نواز ہوں گے جو اپنی سابقہ شکست کا بدلہ لینے کے لئے بے تاب ہیں البتہ لطیف نذر اپنی شرافت اور محنت اور شکیل شاہد کمزور ن لیگی امیدوار کا فائدہ اٹھا کر دوبارہ جیت سکتے ہیں ۔ اس وقت بقایا بیس ماہ کے وقت میں پی ٹی آئی کو ایک تو مہنگائی پر قابو پانا ہو گا اور لوگوں کو ریلیف دینا پڑے گا اور شہر کے لئے کوئی میگا ہروجیکٹس لانا ہوں گے ۔ ورنہ مسلم لیگ نون دوبارہ اپنا قلعہ واپس لینے کی پوزیشن میں نظر آتی ہے
Facebook Comments HS

