تعلیم پھر سے نظر انداز



2021 ء کے اختتام پر ہر ادیب اور تنقید نگار مختلف نقطہ نظر کو اپنا موضوع بنا کر تحریر میں پیش کر رہا ہے جس میں گزشتہ سال میں حکومت کا کردار، معاشی بحران، مہنگائی کا عروج، اپوزیشن کا کردار، تبدیلی کہاں ہے؟ ، کورونا وائرس کے نتائج اور دیگر موضوعات کو زیر بحث لایا گیا اور بدقسمتی سے تعلیم کا موضوع کسی ایک دو قلم سے گزرا شاید۔

تعلیم ایک ایسا زیور ہے، ایک ایسا راز ہے جو کسی بھی معاشرے کی سیاسی، معاشی، اخلاقی اور سماجی حالت کو ترقی کی راہ پر چلانے میں معاون ثابت ہوتا ہے جس پر تنقیدی نگاہ ڈالنا اشد ضروری ہے۔ ایک مسئلے کے حل کے لیے ہزاروں سوالات جنم لیتے ہیں۔ گزشتہ سال میں تعلیم کا کیا معیار رہا؟ کیا کورونا وائرس صرف تعلیم کا دشمن رہا؟ ہمارے وزیر تعلیم کے کیا فیصلے رہے؟ کیا تعلیم کو سنجیدہ لیا گیا؟ تعلیم کے شعبے میں کتنا بجٹ پیش کیا گیا؟

ان سب سوالات کو زیر بحث لانا بہت ضروری ہے۔ بدقسمتی سے سرمایہ دارانہ نظام کے ہاتھوں تعلیم کا نظام گزشتہ دو سالوں میں بھی چکی کے اندر پستہ ہی رہا اور نتائج کے طور پر طلباء کو ذہنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان حالات سے دوچار ہونے کے لیے طلباء کو ایک بہت بڑے پیکج کے ساتھ ریلیف ملا جس میں سینکڑوں بچوں کی پروموشن اور فل مارکس دے کر تعلیم کے معیار کو گرایا گیا۔

ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہماری حکومت کے لیے تعلیم کی کیا اہمیت ہے اور جس کے لیے صرف 2.5 فی صد بجٹ منصب کیا گیا۔ کیا تعلیم کا مقصد اندھا دھند مارکس دینا ہے یا طلباء کی قابلیت کا پرچار کرنا بھی؟ معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی نوجوان قوم کہلاتی ہے جس میں شعور کا ہونا لازمی ہے نا کہ شور کا۔ موجودہ حالات کا اندازہ لگایا جائے تو تعلیم میں شعور دینے کا کا دیا صرف چند اساتذہ کے ہاتھوں جل رہا ہے لیکن مایوس کن کیفیت یہ ہے کہ تعلیمی نظام کو دوسرے معاملات کے لیے پیچھے چھوڑا گیا اور پیچھے چھوڑا جاتا ہے۔

بہت سارے ادیب اپنے تبصرے میں، اپنی کتب میں تعلیمی نظام کا بحران، ہماری حکومت کا کردار، طلباء اور اساتذہ کا کردار اور ناقص تعلیمی نظام کو زیر بحث لاتے ہیں اور یہ سلسلہ کئی سالوں سے چلتا آ رہا ہے کہ ماہر تعلیم کے کتب کے نام ”ہمارا تعلیمی نظام فیل کیوں ہے؟“ ، ”تعلیم کا بحران“ صرف انہی ناموں سے منصوب کیے جاتے ہیں۔ کبھی کسی کتاب کا یہ نام پڑھنے کو نہیں ملا کہ کہ تعلیمی نظام کی ترقی کیسے ہوئی ہے، ایسی کون سی سرگرمیاں عملی طور پر اپنائی گئی ہیں کہ تعلیم واقعی ہی ترقی کے راز میں روشن ہوئی۔

بہر حال آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم کو پھر سے نظر اندازہ نہ کیا جائے۔ طلباء کی ذہنیت کے ساتھ کھیلا نہ جائے اور گزشتہ سالوں میں خصوصی پچھلے دو سالوں میں تعلیم کے ساتھ کیا کیا گیا منظر عام پہ لایا جائے اور اس پر غور اور تفکر کیا جائے۔ رنجیدہ دل کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا کہ ہمارے وزیر تعلیم نے سوائے طلباء کے لیے چھٹیوں اور پرموشن کے فیصلوں کے علاوہ کوئی کارنامہ سر انجام نہیں دیا کہ جس سے ہر ادیب کا قلم یہ لکھنے کے لیے رک جائے کہ تعلیمی نظام پر چھایا مایوسی کا اندھیرا کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟ ہر طلباء میں سوچنے اور اور شعوری تقاضوں کو اجاگر کرنے کی صلاحیت اس اندھیرے کو اجالے میں بدل سکتی ہے اور حکومت کو اس بات کا احساس دلانا ہے کہ تعلیم ترقی کا راز ہے جو نظر اندازی نہیں بلکہ اہمیت کی طلبگار ہے۔

Facebook Comments HS