عوامی نمائندے اور ٹیکس


Parliamentarians Tax Diary 2019 کو دیکھ کر میں یہ سوچ رہا تھا کہ یہ وہ آمدن ہے جو انھوں نے *Declare* کی ہوئی ہے، اور جو نہیں کی ہو گی وہ کتنی ہو گی ؟ اسی طرح ایک عمومی مزاج ہے کہ بڑے لوگ زیادہ تر اپنے اثاثے بیوی، بچوں، دوستوں یا ملازموں کے نام پر رکھتے ہیں تو وہ کتنی ہو گی ؟ اور ان میں سے 85% افراد ان خاندان میں سے ہیں جو 70 سال سے ہماری حکمرانی کر رہے ہیں، تو سوچیں ان خاندانوں کے پاس کتنی دولت ہو گی؟
یہ وہ طبقہ ہے جو عوام کی نمائندگی کرتا ہے اور عوام میں 60% فیصد وہ لوگ ہیں جن کے پاس اپنے گھر نہیں اور اگر ہیں تو 2.5 مرلے سے کم کے۔ سرکاری طور پر 20000 ماہانہ کم سے کم اجرت رکھی ہوئی ہے۔ تو کیا یہ لوگ ہم پر حکمرانی کے یا ہماری نمائندگی کا حق رکھتے ہیں ؟ کیا ایسا تو نہیں کہ رزق تو پورا اترتا ہے بیچ میں کچھ ہاتھ ہیں جو کھا جاتے ہیں، آگے پیچھے کر دیتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے والد صاحب جن کے 4 بچے ہیں وہ ان میں سے سب سے بڑے بیٹے کو 4000 روپے دے کر کہتے ہیں کہ سب کو 1000 روپیہ تقسیم کر دینا اور وہ 2500 خود رکھ لے اور باقیوں کو 500 500 روپے دے ؟ ابھی یہ اس ملک کو چلانے والے جن کے پاس اختیار اور وسائل ہیں ایک ادارہ ہے، اور سوچیں کہ باقی اداروں کی لسٹیں نکالیں تو کیا حالات ہوں گے۔
تو اس سب سے سمجھنے میں آسانی ہوجاتی ہے کہ اس سرمایہ دارانہ نظام میں چند خاندانوں کی اجارہ داری ہے جن کے پاس گھوم پھر کر دولت چلی جاتی ہے اور عوام دن بدن روز مرہ ضروریات کو بھی پورا کرنے سے قاصر ہے۔ کیا اس سب کو ایسے ہی چلنے دیا جائے ؟ یا خود بھی کچھ کرنا ہے ؟
آیت : *وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ*(سورۃ النجم آیت نمبر 39 )
ترجمہ : *اور یہ کہ انسان کیلئے وہی ہوگا جس کی اس نے کوشش کی۔*
Facebook Comments HS