مریم نواز اور پرویز رشید کی ٹیلی فون پر گفتگو کا ”تنازعہ“


یہ 70 ء کے عشرے کی بات ہے۔ ایف سکس تھری اسلام آباد میں وفاقی وزارت مذہبی امور کا دفتر تھا جب کبھی مولانا کوثر نیازی مرحوم سے ان کے دفتر میں ملاقات ہوتی تو میں انہیں ٹیپ ریکارڈر پر تلاوت کلام سننے میں محو پاتا، یا پھر وہ ہلکی آواز میں موسیقی سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے میں نے ایک بار ان سے ایک بار استفسار کیا کہ ”وہ دفتری کام کے دوران ٹیپ ریکارڈر پر تلاوت یا موسیقی کیوں سنتے رہتے ہیں؟“ اس سے آپ کی دفتری امور نمٹانے میں کوئی دقت تو پیش نہیں آتی اس کی کوئی خاص وجہ ہے تو انہوں نے کہا کہ ”وزیر اعظم کے حکم پر نہ صرف تمام وزراء کے ٹیلی فون ٹیپ ہوتے ہیں بلکہ ہمارے دفاتر میں ہونے والی گفتگو بھی ٹیپ کر لی جاتی ہے۔ لہذا میں گفتگو کے معاملہ میں احتیاط برتتا ہوں“

ان کے پاس مصدقہ اطلاع تھی کہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو ان کی نگرانی کر رہے ہیں کیونکہ ان کا اپوزیشن کے اکثر رہنماؤں سے رابطہ رہتا تھا۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو اپنے وزراء پر بھی شک رہتا تھا جس کے باعث وہ ان کی نگرانی کرتے تھے اگرچہ چالیس سال قبل ٹیلی فون پر گفتگو یا کسی ملاقات میں ہونے والی بات چیت کو ریکارڈ کرنے جدید آلات نہیں تھے لیکن اس وقت بھی اہم عہدوں پر فائز سیاست دان اپنی گفتگو کے ٹیپ ہونے کے خوف کا شکار رہتے تھے لیکن آج ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی کر لی ہے۔ بآسانی کسی بھی شخص کی گفتگو ریکارڈ کی جا سکتی ہے۔

بعض اوقات کسی ملک کی دو تین خفیہ ایجنسیاں بیک وقت ایک دوسرے کی گفتگو ریکارڈ کر کے حکومت اور ریاستی اداروں کے درمیان جہاں غلط فہمیاں پیدا کر دیتی ہیں۔ وہاں وہ دو آدمیوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کو وائرل کر کے سیاسی ماحول میں گرما گرمی اور شور شرابا کی کیفیت پیدا کر دیتی ہیں۔ اب تو ان خفیہ ایجنسیوں کی رسائی سیاست دانوں اور اہم عہدوں پر فائز شخصیات کے ”بیڈ رومز“ تک پہنچ گئی ہے۔ زیادہ تر آڈیوز اور وڈیوز بلیک میلنگ کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنما ناصر بٹ جو اب لندن مقیم ہیں، نے 6 جولائی 2019 ء میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی وڈیو ریکارڈ کر کے میاں نواز شریف کو دی جانے والی سزا کو ”بے نقاب“ کر دیا تھا۔ اس وڈیو کے ذریعے جہاں میاں نواز شریف کو نا اہل قرار دینے کی ”منصوبہ بندی“ منظر عام پر آ گئی وہاں ”عدالتی نظام“ بارے سوالات کھڑے کر دیے گئے۔ اس کے بعد سینئر صحافی احمد نورانی نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو منظر عام پر لا کر جس طرح میاں نواز شریف کے خلاف میں اعلیٰ عدلیہ کے ملوث ہونے کے شواہد پیش کیے ہیں۔ اس سے ہمارے عدالتی نظام کی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

دوچار روز قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور پرویز رشید کے درمیان غالباً 2017 ء میں ہونے والی ٹیلی فون پر بات چیت وائرل کر کے یہ تاثر دیا گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کچھ اینکر پرسنز کے بارے میں منفی رویہ رکھتی ہے اور کچھ کو نواز رہی ہے۔ یہ ساری گفتگو جیو نیوز کے ایک پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ کے حوالے سے ہے جس میں دو اینکر پرسنز کے طرز کلام بارے میں پرویز رشید نے منفی ریمارکس دیے ہیں جب کہ دوسرے اینکرز کے تجزیوں بارے محتاط انداز میں تنقید کی گئی ہے۔

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں مختلف ٹی وی چینلوں پر ٹاک شوز میں اینکر پرسنز کا طرز کلام اور کنڈکٹ خود چغلی کھاتا ہے کہ ان کا ایجنڈا کہاں تیار کیا گیا ہے اور وہ کس کی زبان بول رہے ہیں۔ آج شاید ہی کوئی شخص ایسا ہو جو ٹی وی پر ہونے والے ٹاک شوز بارے کوئی رائے نہ رکھتا ہو ہر کوئی جانتا ہے۔ ”بھاشن“ دینے والا اینکر پرسن کس ”میٹر بینڈ“ پر بات کر رہا ہے۔ ٹی وی ٹاک شوز رائے عامہ کو متاثر نہیں کرتے بلکہ یہ ان لوگوں کی رائے کو مستحکم کرنے میں مدد کرتے ہیں جو پہلے سے ہی کوئی رائے متعین کر چکے ہوتے ہیں۔

اینکر پرسنز اپنے کو دنیا کی ایسی مخلوق سمجھتے ہیں کہ جس کا کوئی محاسبہ نہیں کر سکتا اس لئے ان کے جی میں جو آتا ہے۔ وہ سیاست دانوں کے بارے میں کہہ دیتے ہیں۔ اگر ان کو اس بات کی آزادی ہے کہ وہ جو جی میں آئے کسی بارے کہہ دیں تو پھر جس شخص یا جماعت کو تختہ مشق بنایا جا رہا ہوں اس کو بھی حق پہنچتا ہے کہ وہ الزام تراشی اور نامناسب زبان استعمال کرنے والوں کے بارے میں اپنی رائے قائم کریں۔

پرویز رشید وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کے منصب پر فائز رہے ہیں۔ ان کے دور وزارت میں ہی ”ڈان لیکس“ کی واردات ہوئی جو ان کی وزارت سے استعفے کا باعث بنی ڈان لیکس نے جہاں نواز شریف حکومت کے لئے مسائل پیدا کیے وہاں پرویز رشید اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان لڑائی کا باعث بنی ہم دونوں ہم مکتب تو نہیں ہم عصر ضرور ہیں۔ پرویز رشید کا تعلق بائیں بازو سے ہے جب کہ میں نصف صدی سے دائیں بازو کے کیمپ میں ہوں اور دائیں بازو سے تعلق کا فخریہ اظہار کرتا ہوں۔

پرویز رشید پیپلز پارٹی میں بھی رہے لیکن بنیادی طور پر بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں میں سرگرم عمل رہے لیکن جب سے میاں نواز شریف کے ”سحر“ میں مبتلا ہوئے ان ہی کے ہو کر رہ گئے ہیں۔ پرویز رشید کے مسلم لیگ میں بسیرا کرنے کے باوجود ان کے دل سے بائیں بازو سے محبت نہیں نکلی زمانہ طالبعلمی میں وہ نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سرکردہ رہنما تھے جب کہ میرا اور شیخ رشید احمد کا تعلق مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن سے تعلق رہا میں بڑی حد تک اسلامی جمعیت طلبہ کے بھی قریب رہا ہوں ہمارے درمیان ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کے باوجود دوستانہ تعلقات رہے ہیں۔

گارڈن کالج راولپنڈی کی سٹوڈنٹس یونین کے صدارتی انتخاب میں شیخ رشید احمد سے پرویز رشید کا مقابلہ ہوا تو شیخ رشید احمد جیت گئے پرویز رشید کم و بیش ربع صدی سے مسلم لیگ (ن) میں ہیں اور میاں نواز شریف کے قریب تصور کیے جاتے ہیں۔ جن دنوں شیخ رشید احمد اور پرویز رشید دونوں مسلم لیگ (ن) کا حصہ تھے تو پرویز رشید کے نواز شریف کے قریب ہونے کے باعث اپنی کتاب ”فرزند پاکستان“ میں پرویز رشید کا قصیدہ لکھا تھا۔

جب زمانہ جلاوطنی میں میری آکسفورڈ سٹریٹ لندن میں قائم مسلم لیگ (ن) کے دفتر میں پرویز رشید (جو برطانیہ میں جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ ) سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ازراہ مذاق مجھ سے کہا کہ ”نواز رضا تمہارا اسلام اور میرا سوشلزم کا نعرہ اب کہاں گیا ہے“ تو میں نے ان کو برجستہ جواب دیا ”پرویز رشید تمہارا سوشلزم کا نعرہ تو کہیں گم ہو گیا ہے لیکن میرا اسلام کا نعرہ اب بھی پوری قوت سے زندہ ہے۔“ ہم دونوں کے درمیان نصف صدی سے قائم دوستانہ تعلقات میں وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

میاں نواز شریف، مریم نواز اور پرویز رشید کو میری چوہدری نثار علی خان سے دوستی کا علم ہے۔ کبھی مسلم لیگ (ن) میں چوہدری نثار علی خان کا طوطی بولتا تھا۔ بڑے بڑے مسلم لیگی ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے تھے۔ میں نے ذاتی طور میاں نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان تعلقات میں توازن پیدا کرنے کی ہر ممکن کو شش کی کبھی کبھی میاں صاحب کو میرے کالموں سے شکوہ شکایت کا موقع ملتا رہتا ہے۔ ان کے ذہن میں کسی نے یہ بات بٹھا دی تھی کہ میں چوہدری نثار علی خان کے ایما پر نواز شریف کی سیاست پر حاشیہ آرائی کرتا ہوں میری اس جسارت پر چوہدری نثار علی خان تو ایک بار باقاعدہ ناراض ہو گئے اور قطع تعلق کی دھمکی دے دی تھی لیکن بالآخر میرے خلوص کی جیت ہوئی۔

میری صحافتی زندگی میں سب سے مشکل وقت اس وقت آیا جب میاں نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے سیاسی راستے جدا ہو گئے اور میرے لئے دونوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا مشکل ہو گیا میرا تجربہ ہے۔ کوئی سیاست دان کسی صحافی سے اس وقت تک ہی خوش رہتا ہے جب تک وہ اس تعریف و توصیف کرتا رہے اگر کسی وقت کسی پالیسی پر دوستانہ انداز میں تنقید کر دی جائے یا اس کے سیاسی مخالف کی تعریف کر دی جائے تو نہ صرف اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کر دیتا ہے بلکہ فاصلہ قائم کر لیتا ہے۔

جب سے چوہدری نثار علی خان کے جاتی امراء سے تعلقات ختم ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی اندرونی سیاست میں پرویز رشید کا عمل دخل بڑھ گیا ہے۔ پرویز رشید کو مریم نواز کیمپ میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے بلکہ ان کو مریم نواز کے ”انکل“ اور ”استاد محترم“ کا مقام حاصل ہو گیا ہے اگرچہ عام تاثر ہے کہ مریم نواز کی سیاست پر پرویز رشید کی سوچ کا بڑا عمل دخل ہے لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ مریم نواز نے پچھلے چند سالوں میں جرات و استقامت کا جو مظاہرہ کیا اس نے انہیں قومی سیاست صف میں لا کھڑا کیا ہے۔ اب انہیں کسی ”استاد یا انکل“ کی رہنمائی کی ضرورت نہیں وہ ملکی سیاست کو بہتر انداز میں سمجھتی ہیں۔ ان کو عوام میں بے پناہ پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ اب تو کیپٹن (ر) محمد صفدر کی پریس کانفرنسیں سن کر ان کے انتہائی میچور ہونے کا تاثر ملتا ہے۔ وہ انتہائی مدلل انداز میں گفتگو کرتے ہیں۔

مریم نواز اور پرویز رشید کے درمیان ہونے ٹیلی فونک گفتگو کے وائرل ہونے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ تجربہ کار اور جہاں دیدہ ہونے کے باوجود ٹیلی فون پر اس حد تک غیر محتاط گفتگو کرتے رہیں جو ریکارڈ کر لی گئی یہ گفتگو آج چار پانچ سال بعد ان کے سیاسی کیرئیر کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ اس وقت آڈیو اور وڈیو وائرل ہو رہی ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ہمارے کچھ ادارے کن کاموں مصروف رہتے ہیں۔ یہ سیاست دانوں کے لئے ایک سبق ہے کہ ٹیلی فون پر کس نوعیت کی گفتگو کرنی چاہیے۔

شنید ہے اب تو جدید ترین آلات آ گئے ہیں جن کے ذریعے نہ صرف ”وٹس ایپ“ پر ہونے والی گفتگو ریکارڈ کر لی جاتی ہے بلکہ آواز کی شناخت کر کے بات چیت محفوظ کی جا سکتی ہے۔ اسلام آباد ہے تو پاکستان کا دار الحکومت لیکن ہمارا ڈپلومیٹک ایریا جاسوسی کا بہت بڑا مرکز ہے۔ بعض سفارت خانوں میں ایسے جدید آلات نصب ہیں جو اقتدار کے ایوانوں میں سرسراہٹ کو بھی ریکارڈ کر لیتے ہیں۔ سیاست دانوں کو گفتگو ٹیپ کرنا معمول بن گیا ہے۔

چند سال قبل کی بات ہے۔ بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے لئے تیار کی گئی چارج شیٹ میں سیاسی مخالفین کے ٹیلی فون ٹیپ کرنا بھی شامل تھا۔ معلوم نہیں جو لوگ سیاست دانوں کی آڈیو اور وڈیو لیک کر کے ان کی جس طرح کریڈبلٹی ختم کر رہے ہیں جس طرح وہ اپنے طاقت ور ہونے کے تاثر کو تقویت دیتے ہیں۔ اسی طرح آج کے حکمران بھی ان کی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

سینئر صحافی عبدالودود قریشی کا شمار باخبر صحافیوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے ٹویٹر پر مریم نواز اور پرویز رشید کی افشاں کی گئی گفتگو پر دلچسپ تبصرہ کیا ہے جس میں کہا ہے کہ ”رپورٹ کارڈ والوں کو barking dogs کہا گیا کچھ صحافی اپنے آپ کو watch dogs کہتے ہیں۔ اس نام سے ان کی ایک تنظیم بھی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے روزنامہ پاکستان ٹائمز کے بیورو چیف ایچ کے برکی (ہلاکو خان برکی) کو پارلیمان کے فلور پر barking birky کہا تو اعتراض dog پر نہیں bark پر ہوا

مریم نواز اور پرویز رشید کی گفتگو پر جہاں صحافتی تنظیمیں بیانات جاری کر رہی ہیں وہاں ”متاثرہ“ اینکر پرسنز کا رد عمل بھی سامنے آ گیا ہے۔ کچھ صحافتی تنظیموں نے اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا ہے جب کہ کچھ نے اسے معمول کی گفتگو کا درجہ دے کر شدید رد عمل کے اظہار سے گریز کیا ہے۔ کچھ کو اس گفتگو کے ایشو پر ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی سوجھی ہے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس جس کے صدر شہزادہ ذوالفقار ہیں اور جس کے روح رواں افضل بٹ ہیں۔ نے مسلم لیگی لیڈروں کی سینئر صحافیوں اور اینکر پرسنز بارے گفتگو مذمت نہیں کی بلکہ آڈیو کی لیکج پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور سخت الفاظ میں مذمت سے گریز کیا ہے۔

پی ایف یو جے کے اس گروپ نے پرویز رشید کی جانب پریس کے بارے میں دیے گئے قابل اعتراض ریمارکس پر مسلم لیگی قیادت سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ میں خود پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (دستور ) کا صدر ہوں ہماری تنظیم بھی سینئر صحافیوں کے بارے میں ریمارکس پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتی ہے۔ اس طرح کے ریمارکس کے منظر عام پر آنے سے جہاں مسلم لیگی قیادت کے آزادی صحافت بارے رویہ پر سوالات اٹھے ہیں۔ وہاں کچھ اخبار نویسوں کی غیر جانبداریت کے سرٹیفیکیٹس بھی جاری کر دیے ہیں۔

اس سے ان کو بڑا فائدہ ہوا ہے۔ ایک دو سینئر صحافیوں کی بد نامی کا ساماں پیدا کیا ہے تو کچھ کو پاک دامنی کی سند مل گئی ہے۔ بہر حال یہ ایسا ایشو بھی نہیں جسے یکسر نظر انداز کر دیا جائے تاہم سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ اینکر پرسنز کو احتیاط کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے پرویز رشید کے ریمارکس سے آزادی صحافت کو کوئی خطرہ لاحق ہو گا۔ سیاست دانوں اور صحافیوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ انہیں ایک دوسرے کے بارے میں محتاط انداز میں گفتگو کرنی چاہیے جب کوئی صحافی اور اینکر پرسن کسی سیاسی شخصیت کے خلاف جس درجے کی زبان استعمال کرتا ہے اور اس کی توہین کرتا ہے۔ اسے سیاسی قبیلے کے لوگوں سے اس سطح کے رد عمل پر شور شرابا نہیں کرنا چاہیے اگر صحافت مقدس پیشہ ہے تو اس پیشہ سے وابستہ لوگوں کو اس پیشہ کا تقدس برقرار رکھنا چاہیے اور دوسروں کی اسی طرح عزت و توقیر کا خیال رکھنا چاہیے جس طرح وہ سمجھتے ہیں کہ وہ خود ایک باعزت شخص ہیں۔

Facebook Comments HS