بےشک چھٹیاں فانی ہیں
23 دسمبر کو جب چھٹیاں ہوئیں ہماری خوشی کا عالم ہی اور تھا جلدی جلدی سارے رجسٹر کلوز کیے واٹس ایپ سٹیٹس بھی لگ گیا اور چھٹیوں کی خوشی میں تگڑا سا لنچ بھی کر لیا یہ سچ ہے حضرت انسان ہمیشہ اپنے حالات سے فرار چاہتا ہے اب جبکہ اس سال سکول کافی عرصہ بند رہے مگر پھر بھی اساتذہ اور طلباء ہمیشہ چھٹیوں کے انتظار میں رہتے ہیں۔
آج 6 جنوری 2022 تک پنجاب میں ہونے والی موسم سرما کی تعطیلات کا اختتام ہو گیا ہے گزشتہ چند دنوں سے ہر طرف چھٹیاں بڑھنے کی افواہیں گردش کر رہی تھیں کچھ فیس بکی دانشوروں نے چھٹیاں بڑھنے کی مصدقہ پیش گوئی کر دی تھی لیکن کل جب وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس کا ٹویٹ سامنے آیا تو ساری افواہیں دم توڑ گئیں۔
اب ماں باپ سکون کا سانس لیتے ہوئے بچوں کے اپنے معمولات میں واپس آ جانے پر شکر ادا کریں گے وہیں پر بچے اس صورتحال سے خوش دکھائی نہیں دیتے ہیں بلکہ بچے کیا ایسے نوجوان اساتذہ جو نوے کی دہائی میں طالبعلم تھے اپنے زمانہ طالب علمی کی طرح اب بھی چھٹیوں کی تلاش میں سرگرداں نظر آتے ہیں جب چھٹیاں ختم ہونے میں دو یا تین دن باقی بچتے ہیں۔
مختلف واٹس ایپ اور فیسبک گروپوں میں اس بات پہ ہلکی ہلکی بحث شروع ہو جاتی ہے کہ آیا دو تین دن بعد سکول کھلیں گے یا نہیں ایسے میں کچھ فرض شناس اور سنجیدہ قسم کے اساتذہ اس بات کے حامی دکھائی دیتے ہیں کہ مقررہ وقت پر سکول کھول دیے جائیں جس سے طالب علموں کی پڑھائی کا حرج نہ ہو جبکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دبی دبی زبان میں اس بات پہ زور دیتے ہیں کہ چھٹیاں اگر ایک ہفتہ مزید بڑھ جائیں تو ”طالب علموں“ کو آرام مل جائے۔
اب جیسا کہ سوشل میڈیا پہ ہر کسی کو ہر بات پہ تبصرہ کرنے کی آزادی ہے تو ایسے لوگوں کو ببانگ دہل تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے یہ کہا جاتا ہے کہ اساتذہ کو مفتا کھانے کی عادت پڑ چکی ہے وہ ہمیشہ یہی چاہتے ہیں کہ گھر بیٹھے تنخواہ ملتی رہے اگر گزشتہ دو سالوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہو سکتا ہے اس بات کو سچ سمجھ لیا جائے مگر اس بنا پر یہ گمان کرنا کہ اساتذہ گھر بیٹھ کر مفت کی کھانا چاہتے ہیں سچ نہ ہو گا۔
سال میں جتنے دن بھی سکول کھلے اساتذہ نے اپنے فرائض تن دہی سے سرانجام دیے چاہے وہ طالب علموں کو تعلیم دینا ہو SOPs پر عمل درآمد کروانا یا طلباء اور عملے کی ویکسینیشن کروانا جہاں تک بات ہے چھٹیوں کے بڑھ جانے کی تو دل تو بچہ ہے جی جو آخر تک چھٹیوں میں اضافے کی دعا کرتا ہے۔
اب ٹھنڈ سے نبرد آزما ہوتے ہوئے مرد اساتذہ بائیک پر سفر کرنے کی مشقت اٹھائیں گے اور خواتین اساتذہ رکشوں اور کیری ڈبوں کا سہارا لیں گی رہے بچے تو وہ اس آنے جانے کی پابندی سے آزاد ہیں چاہے تو کل تیار ہو کر سکول پہنچ جائیں اور چاہے تو ماؤں سے لاڈ کرتے ہوئے بستر میں اینٹھتے رہیں لیکن جو بھی ہو چند دن معمول پر آتے ہوئے گزریں گے اور پھر موسم گرما کی تعطیلات کا انتظار شروع ہو جائے گا ہر دفعہ چھٹی نہ ملنے پر حسرت بھری آہ بھری جائے گی اور سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے حکام بالا کو کوسا جائے گا اگر ایک ہفتہ چھٹیاں بڑھا دیتے تو کیا ہو جاتا مگر بے شک چھٹیاں فانی ہیں!

