مری میں برفباری اور ہلاکتیں: ’کہتے تھے وہ ٹھیک ہیں کوئی مسئلہ نہیں‘
'ہم لوگ بڑی تعداد میں بھارہ کہو پر کھڑے ہیں، نہ ہمیں ہمارے عزیزوں کی لاشیں دی جا رہی ہیں نہ اگے جانے دیا جا رہا ہے۔‘
مری میں ہلاک ہونے والے مردان کے چار لڑکوں کے قریبی دوست عزیز فیصل خان کہتے ہیں کہ ہمارے علاقے کے درجنوں لوگ بھارہ کہو کے مقام پر کھڑے ہیں۔ ہم انتظامیہ سے گذارش کر رہے ہیں کہ ان لوگوں کو بچایا تو نہیں جا سکا اب ان کی لاشیں ہی ہمیں دے دی جائیں۔حکام کا کہنا ہے کہ صبح سے پہلے یہ ممکن نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارہ کہو سے آگے صرف ایمبولینس، فوج اور پولیس کی گاڑیاں جارہی ہیں۔ ‘اگر حکومت اور انتظامیہ لاشیں نہیں دے سکتی تو ہمیں جانے دیا جائے ہم لوگ اپنے عزیزوں کی لاشیں لے آئیں گے۔‘
اس واقعے میں مردان کے چار نوجوان ہلاک ہوئے ہیں جن میں اسد خان، سہیل خان، بلال خان اور ان ہی کے ہم نام بلال خان، جو کہ کراچی سے آئے ہوئے تھے، شامل ہیں۔ یہ چاروں مردان کے ایک ہی علاقے کے رہائشی ہیں اور آپس میں چچا زاد اور خالہ زاد تھے۔
چاروں دوستوں میں سب بڑے سہیل خان تھے جن کی عمر 25 سال بتائی جاتی ہے۔ انہوں نے سوگواروں میں دو بچے اور بیوی چھوڑی ہیں۔ جبکہ باقی تینوں کی عمر تقریبا 22 سال ہے۔ اسد خان کے سوگواروں میں دو بچے اور بیوی ہیں۔
اسد خان میرا بچپن کا دوست تھا
فیصل خان کہتے ہیں کہ ’اسد خان میرا نہ صرف بچپن کا دوست تھا بلکہ کاروباری پارٹنر بھی تھا۔ اسد خان اور میری مردان میں سریا کی دوکان ہے۔ جبکہ کراچی والے بلال کے علاوہ باقی دونوں بھی سریے کا کاروبار کرتے ہیں۔ باقی تینوں ان کے رشتہ دار ہیں جس وجہ سے میری ان کے ساتھ بھی دوستی تھی۔‘
فیصل خان کہتے ہیں کہ ہماری بہت گہری دوستی تھی ہم کپڑے، گھڑی، جوتے ہر چیز ایک جیسی پہنا کرتے تھے۔
ہم دونوں نے ہمیشہ ایک ساتھ سیاحت کی تھی۔ جب برفباری شروع ہوئی تو میں نے کہا کہ بحرین سوات چلتے ہیں جبکہ کراچی والے بلال خان کی مری دیکھنے کی خواہش تھی جس وجہ سے وہ مری اور میں بحرین چلا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے:
مری: شدید برفباری سے بچوں سمیت 22 سیاحوں کی ہلاکت کی تحقیقات کا حکم، امدادی کارروائیاں جاری
’برف کی قبر میں دھنس گیا تھا، خوش قسمت تھا بچ گیا‘
برفباری دیکھنے جائیں مگر پوری تیاری کے ساتھ
کہتے تھے وہ ٹھیک ہیں کوئی مسئلہ نہیں
فیصل خان کہتے کہ ‘مجھے اسد خان کا ایک پیغام ملا تھا کہ دوکان کی چابی فلان جگہ پڑی ہے وہ لے لوں۔ آج صبح جب وہ وقت پر دوکان نہیں آئے تو میں نے فون کیا اور اس کا نمبر کسی اور نے اٹھایا اور بتایا کہ اسد خان اور اس کے ساتھ تین لوگ فوت ہو چکے ہیں۔‘
ان کے ایک اور قریبی عزیز نصرت خان کا کہنا تھا کہ جب یہ لوگ برف میں پھسے تو پریشان نہیں تھے۔ ‘میں نے فون کال کی تو سہیل خان نے فون اٹھایا اس نے کہا برف کی وجہ سے روڈ بند ہو چکا ہے لیکن امید ہے کہ جلد کھل جائے گا اور ہم لوگ مری کا چکر لگا کر واپس آ جائیں گے۔‘
نصرت خان کا کہنا تھا کہ کوئی دو، تین گھنٹے بعد دوبارہ فون کیا تو انھوں نے بتایا کہ ابھی روڈ نہیں کھلا ہے۔ مگر کھل جائے گا، یہاں ہم ہی نہیں کئی لوگ پھسے ہوئے ہیں۔ کئی لوگ کاروں میں موجود ہیں ان میں بچے اور عورتیں بھی ہیں، پرشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔
تاہم صبح صبح ہی ہمیں اطلاع ملی کہ چاروں ہلاک ہو گئے ہیں۔
بلال خان کی مری جانے کی خواہش
مردان کے ہلاک ہونے والے چاروں دوستوں کے قریبی رشتہ دار بابر خان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارا رشہ دار بلال خان چند دن پہلے ہی کراچی سے آیا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ برفباری دیکھنے مری جائے۔ اس کی خواہش پر اسد خان نے جب برفباری کی اطلاع سنی تو اس کو اپنی گاڑی میں لے کر گے تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ صبح کے وقت جب یہ مری جا رہے تھے تو انھوں نے کہا تھا کہ مری میں رات نہیں گزارتے۔ وہاں سے ایبٹ آباد جائیں گے۔ رات ایبٹ آباد یا گلیات کے کسی ہوٹل میں رکیں گے۔ انھوں نے ایبٹ آباد یا گلیات میں کسی جگہ کا انتظام کیا تھا۔
بابر خان کہتے ہیں کہ جب رات کو میرا ان سے رابطہ ہوا تو انھوں نے کہا کہ ‘پرشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ ہم ٹھیک ٹھاک ہیں۔ اگر رات بھی گاڑی میں گزارنی پڑ گئی تو ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ گاڑی میں ہیٹر وغیرہ موجود ہے۔ ہم لگا لیں گے’۔
ان کا کہنا تھا کہ آدھی رات کے وقت میری دوبارہ بات ہوئی تو سہیل خان نے کہا کہ ’ہم لوگ تو ٹھیک ہیں لیکن کئی گاڑیوں میں لوگوں کی حالت خراب ہے۔ ہمارے پاس کچھ پانی اور کھانے پینے کی چیزیں تھیں جو ہم نے لوگوں کے حوالے کر دی ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ کیسے ان عورتوں اور بچوں کی مدد کریں جو پھنسے ہوئے ہیں۔‘


