خرم بھائی، مولانا رومی اور مرغ گویم


مرغ گویم
باہر نکلم
چیل جھپٹم
جان کھویم
مرغ گویم مرغ گویم مرغ گویم مرغ گویم
اور مرغ نے کہا، میرے بچو میرے بچو، جوتم باہر نکلو گے تو چیل جھپٹا مار کر تم کو لے جائے گی اور تم اپنی جانوں سے چلے جاﺅ گے، اپنی جانوں کو کھو دو گے۔ لہٰذا باہر نہ نکلا کرو۔ چیلوں سے ڈرا کرو مرغ گویم، مرغ گویم، مرغ گویم۔
مولانا شمسی کی آواز میں مثنوی مولانا روم کی طرز پر بڑے انداز سے خرم بھائی نے ہم سب بچوں کو یہ سنایا تھا۔ بڑے بھی ہنس دیے تھے اور ہمیں بھی بڑا مزا آیا تھا۔
یہ خرم بھائی سے میری پہلی ملاقات تھی۔
اس زمانے میں ریڈیو پاکستان سے روزانہ مثنوی مولانا روم پر درس کا ایک پروگرام آتا تھا مولانا شمسی کی زبردست آواز تھی اور وہ بڑے عمدہ طریقے سے مولانا روم کی مثنویات پڑھتے تھے، پھر ان کی وضاحت بھی کرتے جاتے تھے۔ ہمارے گھر میں اور ہمارے رشتے داروں کے گھروں میں بڑی پابندی سے یہ پروگرام سُنا جاتا تھا۔ اس زمانے میں صرف ریڈیو ہی تھا جس پر تفریحی پروگرام بھی ہوتے تھے اور مذہبی پروگرام بھی سُنے جاتے تھے۔ نہ وی سی آر تھا اور نہ کیبل ٹیلی ویژن کی عیاشی اور طرح طرح کے پروگرام۔ کبھی بین الاقوامی خبریں، کبھی کھیل، کبھی فلم، ڈرامے اور نہ جانے کتنے تعلیمی پروگرام۔ ٹیلی وژن نہ ہُوا یونیورسٹی ہو گئی، سینما ہال ہوگیا یا جنگل جہاں جانوروں کو ہر انداز سے دیکھیں یا پھر سمندر کے اندر ہونے والے واقعات سے اپنے آپ کو روشناس کریں۔
میں اسکول میں پڑھتا تھا اور خرم بھائی مجھ سے دو سال سینئر تھے مگر ہماری دوستی خوب ہوئی تھی۔ خاندان کی ہر تقریب میں ان سے ملاقات ہوتی تھی اور میری کوشش ہوتی تھی کہ ان سے ملنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دوں۔ وہ ناظم آباد میں رہتے تھے اور ہم لوگ پی آئی بی کالونی میں، مگر اکثر و بیشتر شادیوں میں، میلاد اور قران خوانی میں ان سے ملاقات ہو جایا کرتی تھی۔
ان کو ہمیشہ شریر کہا جاتا، شاید وہ شریر بھی تھے، مگر مجھے ان کی جو بات سب سے زیادہ اچھی لگتی تھی وہ تھی ان کی پڑھنے کی عادت۔ مجھے بھی پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ کرشن چندر، عصمت چغتائی، احمد ندیم قاسمی، سب کے افسانے مجھے اچھے لگتے تھے۔ میں نے تو آٹھویں کلاس میں ہی باجی کی نویں اور دسویں کلاس کی اُردو کی کتاب میں سے سارے افسانے اور کہانیاں پڑھ ڈالی تھیں۔
کورس کی کتابیں کھیل اور کود اپنی جگہ پر مگر ساتھ ہی اُردو کی کتابیں پڑھنے کا مجھے بہت شوق تھا۔ خرم بھائی نے ہی مجھے ابن صفی اور اکرم الٰہ آبادی کی کتابوں سے بھی متعارف کرایا تھا پھر میں نے ایک آنے میں دو کتابوں والی گلی کی لائبریری سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر یہ کتابیں لی تھیں اور پڑھ ڈالی تھیں۔ پھر ان ہی لائبریریوں سے مجھے نسیم حجازی، عادل رشید، اے آر خاتون اور رضیہ بٹ کی کتابوں کا چسکہ لگا تھا۔ وہ یہ ساری کتابیں پہلے ہی پڑھ چکے تھے۔ ہم جب بھی ملتے تھے اپنی اپنی کتابوں کے بارے میں ضرور باتیں کرتے تھے۔ ان کا انداز ٹھہرا ہُوا تھا اور اس ٹھہراﺅ میں ایک وقار بھی تھا جو صرف ان کا ہی انداز تھا، جو زندگی بھر ان کے ساتھ لگا رہا۔
جب میں نے آٹھویں کلاس کا امتحان اس کیا تو انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کر لیا تھا اور ان کا داخلہ گورنمنٹ کالج ناظم آباد میں ہوگیا۔ میں تندہی سے نویں جماعت کا امتحان پاس کرنے کے چکر میں لگا ہُوا تھا۔ مجھے انجینئر بننے کا شوق تھا اور ان کو فزکس پڑھنے کا۔ ان کی وجہ سے مجھے بھی فزکس میں کافی دلچسپی ہو گئی تھی۔ انہوں نے ہی مجھے سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ کائنات کے بارے میں فزکس کے قوانین کیا کہتے ہیں؟ ایٹم کے اندر کیا ہوتا ہے اور نیوٹران کو بھی توڑا جاسکتا ہے۔ کائنات کے بارے میں ان کی باتیں سحرانگیز تھیں، جیسے طلسم ہوشربا کی داستان۔ وہ ستاروں کی تخلیق، آسمانوں پر موجود بلیک ہولز اور سورج پر ہونے والے دھماکوں کے بارے میں بے تحاشا اور بغیر رُکے بولتے رہتے تھے۔ کائنات ان کے لیے ایک معما تھی، ایک طلسم تھا جس کے بارے میں معلومات جمع کرنے کا انہیں بے حد شوق تھا۔
مجھے گھروں کی کسی تقریب میں ہی پتا لگا تھا کہ خرم بھائی سرخے ہو گئے ہیں اور گورنمنٹ کالج ناظم آباد کے الیکشن میں پیشانی پر سرخ پٹی باندھ کر اُلٹے سیدھے نعرے لگاتے ہیں۔ کسی کے سرخے ہو جانے کی خبر اس زمانے میں بری خبر ہوتی تھی۔ مجھے تو یہی بتایا گیا تھا کہ سرخے سوشلسٹ ہوتے ہیں، وہ مارکس لینن اور اینگلز کو مانتے ہیں۔ اسلامی نظام کے خلاف ہیں اور مُلک میں روس والوں کی حکومت چاہتے ہیں۔
مجھے اس خبر پر حیرت ہوئی تھی۔ خرم بھائی بہت سمجھدار شخص تھے۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی۔ ان کا تعلق روس سے کیوں ہوگا؟ وہ کیوں مارکس اور لینن کے غلام ہوں گے؟
ہمارا گھر بہت مذہبی تو نہیں تھا مگر غیر مذہبی بھی نہیں تھا۔ ساری بہنیں پابندی سے نماز پڑھتی تھیں۔ ہم سب نے باضابطہ قرآن پڑھا تھا۔ ہر ایک کے لیے اچھی سی ختم قرآن کی تقریب منعقد کی گئی تھی۔ ہم سب ہی پابندی سے روزہ رکھتے تھے مگر ہم پر بے جا پابندی بھی نہیں تھی۔ ہمارے گھروں کی لڑکیاں اسکول، کالج، یونیورسٹی بھی جاتی تھیں باضابطہ برقعہ تو نہیں پہنتی تھیں مگر دوپٹے اور ڈھیلے ڈھالے کپڑوں کے علاوہ میں نے تو کسی کو کچھ اور پہنے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ آج کل کے زمانے کی طرح اسلام اسلام کا نعرہ بہت نہیں لگتا تھا مگر جتنی ایمانداری اس وقت تھی اب اس کی تھوڑی سی جھلک بھی دیکھنے کو نہیں ملتی ہے۔ اب تو مجھے لگتا ہے کہ اندر سے ہماری رُوحیں بھی گندگی کا شکار ہو گئی ہیں، اوپر سے مذہب کا نعرہ ہے تو کیا فائدہ۔
اگلے ہی ہفتے بڑے ابو کے گھر پر خرم بھائی سے ملاقات ہو گئی تھی۔ وہ بڑے پیار سے ملے تھے، اسی گرم جوشی کے ساتھ جو ان کا وتیرہ رہا تھا۔ انہوں نے اس وقت شوکت صدیقی کی کتاب ”خدا کی بستی“ پڑھی تھی اور مجھ سے کہا تھا کہ ضرور پڑھنا۔ میں نے کہا تھا کہ ہاں ضرور پڑھوں گا مگر امتحان کے بعد۔
میں نے ان سے پوچھا، سُنا ہے کہ وہ سرخے ہو گئے ہیں۔ وہ ہنس دیے تھے۔ ”نہیں بھائی کوئی سرخا وُرخا نہیں ہوئے ہیں۔ کالج میں الیکشن تھے تو ہم دوستوں نے سرخوں کی پارٹی کو سپورٹ کیا تھا، ارے وہی این ایس ایف والوں کو۔ تم بھی کالج میں جاﺅ گے تو ان کو ہی سپورٹ کرو گے۔ صحیح کہتے ہیں یہ لوگ۔ تعلیم عام ہونی چاہیے اور مفت ہونی چاہیے، روزگار ہر ایک کو ملنا چاہیے۔ ارے کیا برائی ہے اس میں۔ کیا برائی ہے اگر غربت کا خاتمہ ہو جائے۔ بچے اسکولوں میں جایا کریں، علاج ہر ایک کا ہو جائے۔ سماج میں انصاف ہر ایک کو ملے۔ ایک ایسا نظام ہو جہاں بچے تعلیم سے محروم نہ رہیں اور بڑے روزگار سے بے روزگار نہ ہوں۔“
بات ان کی صحیح تھی۔ مجھے یقین تھا کہ خرم بھائی درست کہہ رہے ہیں۔ میں نے نویں کلاس میں چاروں مضامین میں بڑے اچھے نمبر لیے تھے۔ دسویں بھی فرسٹ ڈویژن میں پاس کر کے آدم جی سائنس کاج میں داخل ہوگیا تھا۔ خرم بھائی نے انٹر کے بعد کراچی یونیورسٹی میں بی ایس سی میں داخلہ لے لیا تھا۔ ان کو فزکس ڈیپارٹمنٹ میں آسانی سے داخلہ مل گیا تھا۔
شروع میں کالج مجھے اچھا نہیں لگا تھا حالاں کہ کہا جاتا ہے کہ کالج میں تو ایک طرح کی آزادی ہوتی ہے۔ آدم جی سائنس کالج میں آزادی تھی اور نہیں بھی تھی۔ آزادی ہونے کے باوجود پوچھنے والے بہت تھے۔ کالج میں کوئی خاص سیاست بھی نہیں تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ آدم جی سائنس کالج کے طلبہ کی دبا کر پوزیشنیں آتی تھیں ہم لوگوں کا مقابلہ ڈی جی سائنس کالج سے تھا۔ کبھی ہماری پوزیشنیں ہوتی اور کبھی ان کی۔ ماحول ایسا تھا کہ ہر ایک کو پڑھنا ہی پڑتا تھا۔
میں کالج میں اچھا جا رہا تھا اور مجھے مزا بھی آنے لگا تھا۔
خرم بھائی یونیورسٹی میں بہت خوش تھے۔ ایک دفعہ کالج سے چھٹی کر کے میں ان سے ملنے کراچی یونیورسٹی گیا بھی تھا۔ کیا خوب جگہ تھی۔ سبزی منڈی سے یونیورسٹی کی بس میں بیٹھ کر ویرانوں اور جنگلوں سے ہوتے ہوئے جب یونیورسٹی پہنچے تو ایسا لگا کہ جیسے صحیح معنوں میں کسی پڑھنے لکھنے کی جگہ پر آ گئے ہیں۔ اب تو بلڈنگوں، بے ڈھنگی عمارتوں سے گزرتے ہوئے بس جب یونیورسٹی آتی ہے تو کوئی خاص احساس نہیں ہوتا ہے، بس یہ بھی ایک جگہ ہے بہت سی جگہوں کی طرح۔ وہی میلی دیواریں، نعرے لکھے ہوئے، شاید پڑھائی ابھی بھی ہوتی ہو مگر وہ ماحول اب نہیں ہے۔
خرم بھائی نے تفصیل سے یونیورسٹی دکھائی تھی۔ ہاسٹل میں ایک دوست کے کمرے میں لے گئے جہاں ان کا بھی سامان رکھا ہُوا تھا اور اسی کمرے میں پہلی دفعہ کمرے کی کھڑکی کے اوپر ایک تصویر لگی ہوئی تھی داڑھی والے ایک شخص کی۔ مجھے پتا لگا تھا کہ یہ کارل مارکس کی تصویر ہے۔ میرے ذہن میں مارکس کی دوسری شکل تھی۔ مذہب کو افیون کہنے والے اور خدا کے وجود سے انکار کرنے والے کی شکل پر تو پھٹکار برسنی چاہیے تھی۔ میں نے خرم بھائی سے یہی بات کہہ دی تھی۔
وہ ہنس دیے تھے ”نہیں یار، اس نے کب کہا ہے کہ مذہب افیون ہے اس نے تو صرف یہ کہا ہے کہ دُنیا بھر کے غریبوں کو مذہب کا نشہ پلا کر سرمایہ دار اور جاگیردار ان کو استعمال کرتے ہیں اور مذہب کو افیون کی طرح استعمال کرتے ہیں۔“ پھر وہ ایک طویل بحث کا آغاز ہوگیا تھا۔
میرے ساتھ نظام تھا۔ ہمارے محلے میں رہتا تھا اور ہم سب لوگوں میں کافی دوستی تھی۔ نظام مولانا مودودی سے بہت متاثر تھا اور اسلامی جمعیت طلبہ کا کارکن بھی۔ اس نے کہا تھا نہیں مارکس، اینگلز، لینن، اسٹالن اور ماﺅزے تنگ یہ سارے کے سارے دہریے لوگ ہیں اور دُنیا میں لادینیت پھیلانا چاہتے ہیں اور اس طرح سے ان کی تصویر لگانا تو بالکل ہی غیر اسلامی ہے۔ اسلام میں تو ویسے بھی تصویریں جائز نہیں ہیں۔
خرم بھائی اور ان کا دوست اسلم ہنس دیے تھے۔ انہوں نے مجھے کمیونسٹ مینی فیسٹو کی ایک کاپی اُردو میں دی اور ہنس کر کہا تھا، ”تم اور نظام اس کو پڑھنا پھر بتانا کہ کہاں پر خدا کے خلاف، مذہب کے خلاف اور اسلام کے خلاف لکھا ہے۔ یہ تو ایک سیاسی جدوجہد کی بات کرتے ہیں۔ ظلم و ستم کے خلاف اور سرمایہ داری، جاگیرداری کے خلاف اور ان کے خلاف لڑنا تو غیر اسلامی نہیں ہے بھائی۔ جہاں تک مارکس کی تصویر کا تعلق ہے کمرے میں تو آئن اسٹائن کی تصویر بھی لگی ہوئی ہے۔ بڑے آدمی کی تصویر لگائی ہے، کوئی پوجا نہیں کرتے ان کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فزکس کا بادشاہ آئن اسٹائن ہے اور مزدور کا حق مارکس کے دریافت کردہ اصولوں کو سمجھ کر ہی ملے گا۔ وہ بڑا سائنس دان تھا جس نے فزکس کے اصولوں کو سمجھا تھا اور مارکس بڑا فلاسفی تھا جس نے سماجی اصولوں کو سمجھ کر سماج کو بدلنے کی بات کی تھی تاکہ ان لوگوں کو انصاف ملے جو صدیوں سے غلام ہیں، اس میں غیر اسلامی کیا ہے، اپنی سمجھ سے باہر ہے۔“
کراچی یونیورسٹی کے ہاسٹل کے اس کمرے سے میرے ذہن میں پہلی دفعہ سوشلزم اور جماعت اسلامی کی جنگ کا آغاز ہُوا تھا۔ پہلی دفعہ مجھے پتا لگا کہ کمیونسٹ پارٹی بھی ہے جو پاکستان میں سوشلزم اور کمیونزم لانا چاہتی ہے۔ پہلی دفعہ نظام نے مجھے سمجھایا کہ پاکستان کا مطلب کیا ہے اور پاکستان میں صرف اور صرف اسلامی نظام ہی چل سکے گا کیوں کہ پاکستان ہندوﺅں سے لڑ کر الگ اسی لیے بنایا گیا تھا کہ یہاں پر اسلام کا اقتصادی، سماجی اور سیاسی نظام ہو، جہاں ﷲ کی حکمرانی ہو اور پہلی ہی دفعہ مجھے احساس ہُوا تھا کہ خرم بھائی اگر کمیونسٹ نہیں ہیں تو سوشلسٹ ضرور ہیں۔ مجھے اچھا بھی لگا تھا، برا بھی۔ اچھا یہ لگا تھا کہ اگر وہ غریبوں، مزدوروں، کسانوں کی حکومت کی بات کرتے ہیں تو کیا برائی ہے، انصاف تو ہونا چاہیے۔ آخر ہم لوگ غریب کیوں رہیں، کیوں نہ ہم بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کریں اور کیوں نہ ہم لوگوں کو عزت سے رہنا نصیب ہو اور بُرا یہ لگا تھا کہ اگر نظام صحیح کرنا ہے تو آخر مذہب سے دشمنی کی کیا ضرورت ہے، کیا سوشلزم اور انصاف لانے کے لیے مذہبی دشمنی ضروری ہے۔ دُنیا کا کوئی مذہب نہیں سکھاتا ہے کہ ظلم کیا جائے۔ حق تو ہر ایک کو ملنا چاہیے اور اسلام تو ہے ہی غریبوں کا مذہب، ان غریبوں کا مذہب جو دھتکارے ہوئے لوگ ہیں۔ سوشلزم اور اسلام ایک دوسرے کے خلاف کیوں کر ہوسکتے ہیں؟ یہ سارے سوالات میرے ذہن میں آئے تھے کچھ جوابات ملے تھے اور کچھ جوابات نہیں ملے تھے۔
میں نے اور نظام دونوں نے انٹر فرسٹ ڈویژن نمبروں سے پاس کر لیا۔ میرا داخلہ این ای ڈی انجینئرنگ کالج میں ہُوا اور نظام کا داخلہ ڈاﺅ میڈیکل کالج میں ہوگیا۔ خرم بھائی یونیورسٹی میں ہی تھے اور ماسٹرز کر رہے تھے ساتھ ہی ان کی سیاسی مصروفیات بھی جاری تھیں زوروشور کے ساتھ۔
اس زمانے کا این ای ڈی، یونیورسٹی تو نہیں تھا مگر شاید آج انجینئرنگ یونیورسٹی سے زیادہ انجینئرنگ اور آج کے انجینئرنگ کے طلبہ سے زیادہ باشعور طلبہ ہوتے تھے وہاں پر۔ سارا سال پڑھائی ہوتی تھی اور خوب ہوتی تھی۔ پڑھنے والے بھی سنجیدہ تھے اور پڑھانے والے بھی سنجیدہ اور جو لوگ پڑھ کر نکلتے تھے ان کے لیے نوکریاں بھی خوب تھیں۔ این ای ڈی میں پڑھنے کا مطلب تھا کہ ایک اچھا مستقبل طلوع ہوگا۔ سال میں ایک دفعہ الیکشن ہوتے تھے، سوشلسٹوں اور غیرسوشلسٹوں میں مقابلہ ہوتا تھا بعد میں یہ مقابلہ پروگریسو اور اسلامی جمعیت طلبہ کے درمیان ہونے لگا تھا مگر کوئی جھگڑا نہیں تھا، کوئی لڑائی نہیں تھی نہ گولیاں چلتی تھیں اور نہ قتل ہوتے تھے۔ اب تو یہ واقعات کراچی یونیورسٹی، میڈیکل کالجوں اور انجینئرنگ کالجوں میں عام ہو کر رہ گئے ہیں نہ جانے کہاں کھو گئے وہ دن۔ معصومیت سے گزر کر بہیمانہ پن کا آنا ایک بڑا المیہ ہے ہمارے کراچی کا۔
ایک دن ڈاﺅ میڈیکل کالج کے کینٹین میں جلسہ تھا، مُلک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے۔ خرم بھائی نے مجھ سے کہا تھا کہ میں بھی ضرور اس میں شرکت کروں کون سا دور ہے این ای ڈی کالج ڈاﺅ میڈیکل کالج سے۔ میں نے نظام کو بتایا تھا کہ میں بھی جلسہ سننے آﺅں گا اور اس کے ساتھ چائے پیوں گا۔
نظام نے کہا تھا ضرور آنا مگر سوشلسٹوں کے جلسے میں آنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ لوگ تو مُلک میں سرخ آندھی چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ارے یہ لوگ پاکستان کو بھی سمرقند و بخارا بنا دیں گے۔ تم کو پتا ہے ہزاروں مسلمانوں کا تاشقند، ازبکستان، تاجکستان میں قتل عام ہوگیا ہے۔ روسی کمیونسٹوں نے پرولتاریوں نے وہاں مسجدوں میں نائٹ کلب کھول دیے ہیں اور شراب پیتے ہیں وہاں بیٹھ کر۔ کروڑوں مسلمانوں کو لینن اور اسٹالن نے سائبیریا بھیج دیا، آج بھی چین میں ﷲ کا نام لینے سے پھانسی لگ جاتی ہے۔ تم کو پتا ہے البانیہ میں تو نکاح کا سسٹم ہی ختم کردیا گیا ہے، سب بن گئے ہیں حرام نسل۔ آنا ضرور مگر یار ان کمیونسٹوں، دہریوں کے چکر میں نہ پڑو تو بہتر ہے۔
میں بہت سادہ تھا۔ مجھے نہ تو سمرقند و خارا کے بارے میں کچھ پتا تھا اور نہ پرولتاریہ کا مطلب مجھے آتا تھا۔ وہ تو بہت دنوں کے بعد پتا لگا تھا کہ بورژوا کا مطلب وہ طبقات ہیں جو استحصال کرتے ہیں اور پرولتاریہ سے مراد وہ محنت کش لوگ ہیں جن کا استحصال ہوتا ہے۔ بورژوا جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں جب کہ کمیونسٹ پارٹی عوامی جمہوری انقلاب یا دوسرے معنوں میں پرولتاریہ کی آمریت کے لیے کوشاں ہے۔ میرا اکثر دل کرتا ہے کہ اپنے کمیونسٹ دوستوں سے پوچھوں کہ پرولتاریہ کا انقلاب لانے والے اپنے خواب سے جاگ کر بورژوا کیوں بن کر رہ گئے ہیں اور سارے کے سارے امریکا، لندن، یورپ اور آسٹریلیا میں یوں بس گئے ہیں۔ دل کرتا ہے کہ نظام کو بھی امریکا خط لکھ کر پوچھوں کہ بنگلہ دیش، انڈونیشیا، افغانستان، الجزائر اور ایران میں زیادہ مسلمان مرے ہیں کہ سمرقند و بخارا میں زیادہ مرے تھے۔ کراچی کی سڑکوں پر مسجدوں کے نام پر جو کاروبار ہو رہا ہے وہ تو نظر نہیں آ رہا ہے مگر تاشقند کی مسجد میں بننے والا نائٹ کلب الطاف حسین قریشی کی تحریروں میں تو تھا، حقیقت میں کہاں ہے۔ کاش میں پوچھ سکتا۔ نہ وہ دن رہے نہ وہ وحشتیں، سب کچھ بدل گیا ہے، سب لوگوں نے جوتے بدل لیے اور ٹوپیاں بھی بدل گئی ہیں۔
اس دن ڈاﺅ کی کینٹین میں بڑا جلسہ ہُوا۔ مزدوروں اور طلبہ کے لیڈروں نے خوب تقریریں کی تھیں، فوج کے خلاف بہت نعرے لگے، جمہوریت کی بحالی کے مطالبات کیے گئے تھے، روٹی کپڑا اور مکان کے خواب جگائے گئے۔ میں نے سوچا تھا خرم بھائی صحیح کہتے ہیں اس مُلک کو انقلاب کی ضرورت ہے۔ ہم کو جاگنا چاہیے، ہمیں جاگنا ہوگا۔
نظام تو جلسے میں نہیں آیا تھا مگر جلسے کے بعد اس نے ہمیں چائے پلائی تھی اور مجھے، خرم بھائی اور اسلم کو میڈیکل کالج کا دورہ کرایا تھا۔ مجھے سفید کوٹ میں گھومنے والی لڑکیاں بہت اچھی لگی تھیں جو لڑکوں کے ساتھ گھوم رہی تھیں اس زمانے میں این ای ڈی میں مشکل سے دس پندرہ لڑکیاں پڑھتی تھیں اور ہم لوگ ڈاﺅ میڈیکل کالج اور وہاں کے لڑکے لڑکیوں کے تعلقات کے بارے میں عجیب عجیب قصے گھڑا کرتے تھے۔ نظام ہم لوگوں کو کالج کی عمارت میں پہلے اناٹومی ہال لے کر گیا تھا جہاں بارہ لاشیں ٹیبلوں پر رکھی ہوئی تھیں اور لڑکے لڑکیاں ان کی چیر پھاڑ کر رہے تھے۔ ہم تینوں کے لیے یہ عجیب و غریب قسم کا تجربہ تھا۔ اس کے بعد اس نے ہمیں اناٹومی کا میوزیم بھی دکھایا تھا جہاں کٹے ہوئے ہاتھ، پیر، سینہ، پیٹ اور انسانی جسم اپنے اندرونی رازوں کے ساتھ ہم سب لوگوں پر عیاں تھا۔ مجھے یاد ہے کہ خرم بھائی نے کہا تھا کہ وہ بھی مرنے کے بعد اپنا جسم اس طرح کے اناٹومی میوزیم میں دینا پسند کریں گے تاکہ طلبہ اس کو دیکھ کر پڑھیں اور تعلیم حاصل کریں۔ قبر میں اُتر کر ختم ہو جانے کا کیا فائدہ ہے؟
ہم سب ہی ہنس دیے تھے۔ مگر اسلم نے کہا تھا کہ خرم تمہارا جسم اگر اس طرح جاروں میں سجا کر رکھا گیا تو یاد رکھنا کہ لڑکیاں بھی آ کر ان جسموں کو پڑھتی ہیں۔ مرجانے کے بعد تم شرما بھی نہ سکو گے۔
ہم سب دوبارہ ہنس پڑے تھے۔
میڈیکل کالج کا وہ دورہ ایک خواب کی طرح سے مجھے یاد ہے، خاص کر اناٹومی میوزیم، چیر پھاڑ کی جانے والی لاشیں، سفید کوٹ میں لڑکیاں، ان کی آپس کی باتیں، جب بھی سوچتا ہوں ویسے ہی سلوموشن میں ایک فلم چلنی شروع ہوجاتی ہے۔ دھیرے دھیرے بے آواز اور بلیک اینڈ وائٹ۔ مجھے آج تک سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ پرانی یادیں بلیک اینڈ وائٹ فلموں کی طرح کیوں آتی ہیں؟ دماغ کے پردے پر رنگین فلمیں کیوں نہیں چلتی ہیں۔ وہ رنگین دن، ذہن میں بلیک اینڈ وائٹ فلم کی طرح چلنا شروع ہوجاتا ہے۔
ایک دن یکایک پتا لگا تھا کہ یونیورسٹی میں این ایس ایف کے دو ٹکڑے ہو گئے ہیں، طلبہ تنظیم مکمل طور پر ٹوٹ کر رہ گئی ہے اور اس طرح سے ٹوٹی ہے کہ خرم بھائی اور اسلم دونوں ہی سوشلسٹ ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے الگ ہو گئے ہیں۔ اسلم روسیوں کے سوشلزم پر یقین رکھتا ہے اور خرم بھائی ماﺅسٹ ہو گئے ہیں۔ یہ تو مجھے بعد میں خرم بھائی نے بتایا کہ روسیوں کے حامی دراصل ترمیم پسند سوشلسٹ ہیں جن کا انقلاب سے یقین اُٹھ گیا ہے جنہوں نے اسٹالن کے مرنے کے بعد خروشیف کی قیادت میں روس کی کمیونسٹ پارٹی پر سازش کر کے قبضہ جما لیا ہے اور دُنیا بھر میں برپا ہونے والے انقلاب کے خلاف سرمایہ دار مُلکوں امریکا، برطانیہ، فرانس وغیرہ کے ساتھ مل کر مزید سازشیں کر رہا ہے اور چین کے ماﺅزے تنگ، چواین لائی اورالبانیہ کے انور ھوژا اس کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ دُنیا کے محنت کش ایک اور سازش کا شکار ہو گئے۔
مجھے یاد ہے کہ میں نے پوچھا تھا کہ خرم بھائی چین اور روس کے جھگڑوں میں ہمیں پڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ ہمارے مُلک کے مسائل کا خروشیف اور چواین لائی سے کیا لینا دینا ہے۔ ہمیں تو اپنے لوگوں کو جگانا چاہیے۔ اب تو ایسا لگ رہا ہے کہ ہم انہیں جگانے کے بجائے ترمیم پسندی اور ماﺅ کے انقلاب کا فرق سمجھانے میں لگ گئے ہیں۔ مجھے اندازہ ہُوا تھا کہ وہ میری بات سمجھ گئے ہیں مگر کچھ مجبوری تھی کسی سے وفاداری تھی، سمجھنے میں ان کا اپنا عمل تھا کہ انہوں نے میری بات سے اتفاق نہیں کیا تھا۔
پھر مجھے پتا لگا تھا کہ خرم بھائی کا اپنے گھر والوں سے جھگڑا چل رہا ہے۔ خرم بھائی کے سب سے بڑے بھائی کسی انشورنس کمپنی میں کام کرتے تھے اور اچھا کمانے لگ گئے تھے، دوسرا بھائی انجینئر بن کر سعودی عرب چلا گیا تھا۔ تیسرا بھائی کسی بینک میں کام کرنے لگا تھا۔ خرم بھائی کے ابا کا خیال تھا کہ وہ مقابلے کے امتحان میں بیٹھیں اور سرکار کی سول سروس میں شامل ہوجائیں مگر خرم بھائی نے ایم ایس سی کرنے کے بعد اپن کچھ اور پروگرام بنا لیے تھے۔ انہیں مقابلے کے امتحان اور سرکاری نوکری سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
اسی زمانے میں مُلک بھر میں ایوب خان مُردہ باد کے نعرے لگنے شروع ہوئے تھے۔ پینسٹھ کی جنگ میں ہر کوئی ایوب خان زندہ باد کے نعرے لگا رہا تھا، اب وہی لوگ ایوب خان مُردہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ بات چینی کی مہنگائی سے شروع ہوئی تھی اور سارے مُلک میں جیسے ہنگامہ برپا ہوگیا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Latest posts by ڈاکٹر شیر شاہ سید (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments