محبت، پیار اور عشق کیا ہے؟


میں اگر ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے بات کرو تو ہم مسلمانوں کے کانوں میں آذان کے بعد محبت کی روح پھونک دی جاتی ہے۔ خواہ پھر وہ اللّٰہ تعالیٰ کے احکامات کی ہو ،انسانوں سے یا دنیا کی ہر شے سے ہو۔ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے یہ جذبات ایک نعمت سے کم نہیں اگر جذبات نہ ہو تو دنیا کی ہر شہ بے رنگ ہی نظر اتی ۔
مجھ سے کسی نے اس حوالے سے سوال کیا کہ محبت ، پیار اور عشق میں فرق کیا ہے ۔ ایک لمحے کیلئے سوچ میں پڑھ گئی کہ ہاں واقعی میں یہ ہے کیا اور اس میں فرق کیا ہے ۔ تو میں اس سوال کا جواب تو خاص نہیں جانتی تھی لیکن جواب اپنی سوچ کے مطابق دی۔ کہ محبت یہ ہے کہ کسی سے بس ہوجائے یا یہ کہہ سکتے ہے کہ محبت پہلے درجے کو ہی کہتے ہے ۔ تو پیار دوسرے درجے کو اور عشق تیسرا درجہ جہاں بس اس کے بعد ساری دنیا فانی لگتی ہے۔ عشق کی مثال جو میں نے کبھی صوفی سے دی تو کبھی وطن پر جان نثار کرنے سے ۔ میں نے اس سوال کا لوگوں سے پوچھا کہ آخر لوگوں کے نزدیک پیار ،محبت اور عشق کیا ہے ۔
بہت سے لوگوں کے نزدیک محبت ایک احساس ہے پھر وہ چیز سے ہو یا انسان سے ۔ وہ مل جائے تو محبت کو بانٹ کر وہ پیار بن جاتا ہے ۔ اور پھر جب محبت نہیں مل جاتی تو وہ عشق بن بن جاتا ہے ۔
کچھ کا کہنا ہے کہ محبت ہر ایک سے ہوتی ہے اور پیار صرف اس سے جو دل کے بہت قریب ہو اور عشق اللّٰہ تعالیٰ کے احکامات اور اللّٰہ تعالیٰ سے ۔
ان سب باتوں اور سب کی سوچوں کو جب میں نے دیکھا ، تو محبت ، پیار و عشق ایک ہے ۔ جہاں بھی احترام کا رشتہ ہوتا ہے تو وہاں پیار، محبت یا آجکل کے لوگوں کے مطابق عشق ہو جاتا ہے۔ کسی نے مجھ سے کہا کہ شاعر صاحبان اپنے احساسات کو زیادہ تر عشق کا نام دیتے ہیں۔ تاکہ اشعار میں جان ڈال سکیں۔ لیکن دراصل یہ تینوں ایک ہی احساس و جذبات کانام ہے ۔ بس نام بدل کہ رکھ دیا ہے ۔
وہ جو لوگ عشق کو اللّٰہ تعالیٰ سے جوڑ رہے ہے اس احساس کا الگ مقام ہے یا یہ کہہ دے کہ صوفیانہ پیار و عشق الگ مقام رکھتا ہے ۔
محبت صرف ایک خوبصورت احساس ہے جو اللّٰہ تعالیٰ نے انسانوں کے اندر پیدا کیا ہے تاکہ یہ دینا صحیح معنوں میں چل سکے ۔ ہر رشتے میں اس خوبصورت احساس کی وجہ سے چار چاند لگ جاتے ہیں۔ نام جو بھی ہو لیکن رشتوں کو نکھار دیتا ہے۔
محبت یہ نہیں کہ دوسرے کو غلام بنایا جائے ،محبت تو یہ ہے کہ اس کا احساس کیا جائے۔ وہ غلط ہو تو اس کو تحمل سے سمجایا جائے ۔ کوئی پریشان ہو تو اس کی پریشانی کو دور کیا جائے۔ وہ اگر غلط راستے پر ہو تو اس کے صحیح راستے کا تعین کیا جائے۔ وہ اگر کوئی مصیبت میں ہو تو اس کا سہارا بنا جائے ۔ اس کے غم میں شامل ہوکر اس کے دکھ کو کم کیا جائے۔ خوشی کے لمحات کو اور بھی گوشوار بنایا جائے۔ غلط فہمیاں اگر پیدا ہو بھی جائے تو دوسرا ان غلط فہیمیوں کو دور کر کہ دوسرے کے احساس کو مجروح نہیں کرتا ۔ محبت یہ نہیں کہ بات بات پر دعوے و قسم کھائی جائے، نہیں بلکہ عمل کرکہ اس کے احساس کو محفوظ رکھتا ہے۔ تو اسے محبت ،پیار یا عشق کہتے ہیں۔ عزت و احترام اور و آخری اصول ہے ۔
لیکن اجکل کے بہت سے نوجوانوں کا عشق ، محبت و پیار یا تو خوبصورتی، جسم یا پھر پیسے پر اٹکا ہوتا ہے۔ یا وقت گزاریں کیلئے دوسرے کے احساس کو روند ڈالتے ہے ۔ اپنی چاہت کو الگ الگ نام دے کر خود کو بھی اور دوسروں کو گمراہ کرتے ہے۔اور تکلیف دیتے ہیں ۔ جب تک انہیں صحیح معنوں میں اس خوبصورت احساس کا معلوم نہیں ہوگا کہ اس کا مقام اللّٰہ تعالیٰ نے کیا رکھا ہے تب تک بے سکونی ہر طرف چائیے ہوئی ہوگی ۔معذرت کے ساتھ بے حیائی ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی ۔ جو بھی رشتے خلوص، بنا لالچ کی چاہت اور سمجھداری پر قائم ہوئے ہوں تو رشتے تا قیامت تک ہی قائم رہتے ہیں۔
Facebook Comments HS