برف باری سے اشک باری تک


سال نو کے آغاز میں ہی سانحہ مری میں 22 کے قریب انسان، جن میں دس بچے بھی شامل تھے، لقمہ اجل بن گئے، اس دل خراش واقعے نے پورے ملک میں رنج و غم کی لہر دوڑا دی کون سی آنکھ ہے جو اس دل دہلا دینے والے حادثے پر اشک بار نہ ہوئی ہو۔

اس جاں کاہ حادثے نے ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ قصور کس کا تھا۔ سیاحوں کا، جو بغیر سوچے سمجھے، اور برفانی طوفانی کی پیشین گوئیوں کے باوجود لاکھوں کی تعداد میں مری پہنچ گئے، یا کہ حکومت کا، جس نے اتنی بڑی تعداد کو مری جانے دیا، خراب موسم کی اطلاعات کی موجودگی میں اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ مری اور گلیات میں اتنے زیادہ سیاحوں کو سمونے کی گنجائش موجود ہی نہیں۔

مری میں تیس سے چالیس ہزار گاڑیوں کی پارکنگ کی گنجائش موجود ہے جب کہ حکومتی اطلاعات کے مطابق کل شب مری میں ایک لاکھ تیس ہزار گاڑیاں موجود تھیں۔ اگر ہر گاڑی میں اوسطاً چار افراد بھی ہوں تو کل پانچ لاکھ بیس ہزار سیاح بنتے ہیں جو کل مری کے تقریباً دس سے بارہ کلومیٹر لمبے سٹریچ میں موجود تھے۔ جو ایکسپریس وے پر گلوریا جینز سے لے کر کلڈنہ تک بنتا ہے۔

کچھ لوگ سیاحوں کو اس حادثے کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں، خاص طور پر پی ٹی آئی کے اندھے سپورٹرز جو حکومت کی نا اہلی اور غفلت پر پردہ ڈال کر سارا ملبہ سیاحوں پر ڈال رہے ہیں۔ بہت سے لوگ حکومت کے بھی لتے لے رہے ہیں۔ کچھ لوگ مقامی انتظامیہ کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں کہ انہوں نے بروقت امدادی کارروائی کیوں نہ کی۔

ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ سیاحوں کی بے احتیاطی اپنی جگہ، مگر حکومت کی نا اہلی اور غفلت سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں۔ ہم ہمیشہ سے یہ کہتے چلے آئے ہیں کہ پاکستان میں سیاحت کو پروموٹ نہیں بلکہ مینیج کرنے کی ضرورت ہے۔

مری کے آفیشل پیج پر تین دن پہلے ہی شدید برفباری اور راستے بند ہونے کی پیشگی اطلاع دی گئی تھی۔ ہماری پبلک تو ازل سے ہی ایسی ہی ہے کہ اس طرح کی وارننگز پر کان نہیں دھرتی۔ مگر حکومت بھی تو کسی چیز کا نام ہے، حکومت کی بھی تو ذمہ داری ہے کہ شہریوں کی حفاظت کے لئے ہر ممکن اقدامات کرے، جو کہ کبھی نظر نہیں آئے۔ نہایت ہی شرم ناک بات ہے کہ مری میں ڈیڑھ دو فٹ برف پڑنے سے 22 لوگ جان سے جاتے ہیں اور حکومتی وزرا پبلک کو خوش خبریاں سنا رہے ہیں کہ مری میں ایک لاکھ گاڑی گئی ہے جس کا مطلب ہے کہ پبلک خوش حال ہو رہی ہے۔ ناطقہ سر بہ گریباں ہے، اسے کیا کہئیے۔

دنیا کے درجنوں ممالک میں اس سے کہیں زیادہ برف باری ہوتی ہے اور کہیں کم درجہ حرارت رہتا ہے لیکن وہاں اس طرح کے سانحات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ان ممالک کی حکومتیں اپنے شہریوں کی جان کی فکر کرتی ہیں، اور ری ایکٹیو ہونے کی بجائے پرو ایکٹیو ہو کر بڑے حادثات کے بچاؤ کی تدابیر اختیار کرتی ہیں۔

ہمارے ہاں حکومت کی (چاہے وہ مسلم لیگ کی ہو، پی پی پی کی، یا پھر اس خوفناک تبدیلی آئی رے کی) کارکردگی ہر سیکٹر میں اور خاص طور پر ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کے حوالے سے بے حد مایوس کن رہی ہے۔ ملک میں نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینیجمنٹ (این ڈی ایم اے ) نام کا ایک ادارہ تو موجود ہے مگر اس کے پاس نہ تو وسائل ہیں، نہ ہی کوئی صلاحیت (کپیسٹی) کہ وہ رسک مینجمنٹ کا کام کر سکے۔ لے دے کر ڈیزاسٹر ریسپانس میں تھوڑا بہت کام اس کے کریڈٹ پر ہے، باقی رہے نام اللہ کا۔ اسی طرح پراونشل ڈیزاسٹر رسک مینیجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز) کا بھی کوئی حال نہیں۔ ہم ان دونوں اداروں کے ساتھ پراجیکٹس کر چکے ہیں اور ہمارے پراجیکٹس کے جو کمپونینٹس این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کی ذمہ داری تھے، اور جن کا مقصد ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن تھا، انہی کا بیڑہ غرق ہوا، اور وہ کام نہ ہو سکا۔

واپس مری والے سانحے کی طرف آتے ہیں، ٹیکنالوجی اور جدید ترین آئی ٹی سسٹمز کے دور میں حکومت کے لئے کتنا مشکل ہے کہ وہ ایسا سسٹم وضع کرے جس سے آئندہ اس طرح کے خوف ناک حادثات کو روکا جا سکے۔ کچھ تجاویز ہیں جن پر سوچ بچار کر کے اور مزید بہتر بنا کر عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے۔

( 1 ) ایک جامع سروے کروایا جائے جس میں مری اور گلیات میں سیاحوں اور گاڑیوں کی کل گنجائش کو ماپا اور ان کے لئے دستیاب ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز کی تعداد کا تخمینہ لگایا جائے، ( 2 ) ایک ایسا آٹومیٹڈ سسٹم بنایا جائے جس کے تحت مری اور گلیات میں ہر طرف سے آنے والی ٹریفک کا کاؤنت ایک مرکزی کنٹرول روم میں ڈسپلے ہوتا ہو، اور جب مری میں مزید سیاحوں اور گاڑیوں کی گنجایش موجود نہ ہو تو مزید گاڑیوں کا داخلہ بند کر دیا جائے ( 3 ) موبائل ٹورسٹ پولیس کا قیام عمل میں لایا جائے جس کا اولین مقصد سیاحوں کو راہنمائی اور مدد فراہم کرنا ہو۔

( 4 ) مقامی انتظامیہ کو برف ہٹانے کی جدید مشینیں مہیا کی جائیں اور ساتھ ہی ان مشینوں کو چلانے کے لئے آپریٹرز اور فیول کے اخراجات کے لئے سالانہ بجٹ بھی ( 6 ) ٹریفک پولیس میں اضافہ کیا جائے اور ٹریفک کو ریگولیٹ کرنے کے لئے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے نافذ کیے جائیں۔ ( 7 ) مری میں غیر قانونی تعمیرات کو روکا جائے اور تمام تعمیرات میں بلڈنگ کوڈ کو فالو کرنا یقینی بنایا جائے ( 8 ) مری اور گلیات میں موٹر وے کی طرز پر ایک ہیلپ لائن بنائی جائے جس پر بہ وقت ضرورت سیاح یا مقامی آدمی بہ وقت ضرورت مدد طلب کر سکیں۔

ان سارے اقدامات پر جو اخراجات آئیں گے ان کا بوجھ کم کرنے کے لئے مری اور گلیات میں داخلے کی فیس بڑھائی جا سکتی ہے۔

آخر میں اپنے سیاح احباب سے یہ گزارش ہے کہ کچھ فرض آپ کا بھی ہے کہ اپنی جان کی پروا کریں اور کہیں بھی جانے سے پہلے وہاں کی ویدر فور کاسٹ ضرور دیکھیں اس کے مطابق سفر پلان کریں اور ضروری سامان اور ایکسٹرا ڈرائی فوڈ گاڑی میں لازمی رکھیں۔ یاد رکھیں اگر آپ خود اپنی جان کی پروا نہیں کریں گے تو حکومت سے کوئی توقع کیسے رکھ سکتے ہیں، ویسے بھی حکومت اپنا پیٹ بھرنے آتی ہے۔ ہماری اور آپ کی جان بچانا اس کی ترجیحات میں نہیں۔ بنایا جائے ( 8 ) مری اور گلیات میں موٹر وے کی طرز پر ایک ہیلپ لائن بنائی جائے جس پر بہ وقت ضرورت سیاح یا مقامی آدمی بہ وقت ضرورت مدد طلب کر سکیں۔

ان سارے اقدامات پر جو اخراجات آئیں گے ان کا بوجھ کم کرنے کے لئے مری اور گلیات میں داخلے کی فیس بڑھائی جا سکتی ہے۔

آخر میں اپنے سیاح احباب سے یہ گزارش ہے کہ کچھ فرض آپ کا بھی ہے کہ اپنی جان کی پروا کریں اور کہیں بھی جانے سے پہلے وہاں کی ویدر فور کاسٹ ضرور دیکھیں اس کے مطابق سفر پلان کریں اور ضروری سامان اور ایکسٹرا ڈرائی فوڈ گاڑی میں لازمی رکھیں۔ یاد رکھیں اگر آپ خود اپنی جان کی پروا نہیں کریں گے تو حکومت سے کوئی توقع کیسے رکھ سکتے ہیں، ویسے بھی حکومت اپنا پیٹ بھرنے آتی ہے۔ ہماری اور آپ کی جان بچانا اس کی ترجیحات میں نہیں۔

Facebook Comments HS

مظفر حسین بخاری

ایم ایچ بخاری ڈیویلپمنٹ پروفیشنل ہیں اور ایک ملٹی لیٹرل ترقیاتی ادارے سے منسلک ہیں۔ کوہ نوردی اور تصویر کشی ان کا جنون ہے۔ مظہر کے تخلص سے شعر کہتے ہیں۔

muzzafar-hussain-bukhari has 32 posts and counting.See all posts by muzzafar-hussain-bukhari