ڈاکٹروں اور فوجیوں کا ایک مشترکہ نفسیاتی مسئلہ


ہمارے ہاں کچھ پیشے انتہائی متبرک اور کچھ بہت کمتر سمجھے جاتے ہیں۔ حالانکہ کوئی پیشہ بھی کمتر نہیں ہوتا بے شک کتنی ہی کم آمدن والا ہی کیوں نہ ہو وہ کسی نہ کسی حوالے سے لوگوں کی اور اپنے ملک کی خدمت کر رہا ہوتا ہے۔ اور اگر لوگ مختلف پیشوں سے منسلک نہ ہوں تو ملک کا نظام ہی نہ چلے۔ اب اگر لوگ پیشوں کو ہی اچھے اور برے کے خانوں میں تقسیم کر دیں گے تو ہر بندہ ہی قابل فخر پیشے میں جانا چاہے گا۔ اور جو نہ جا سکے گا وہ شدید قسم کے احساس کمتری میں مبتلا ہو گا۔

مگر کیا کیا جائے کہ ہماری تربیت اسلامی خطوط سے زیادہ ہندو کلچر سے ہوئی ہے۔ اگر امدادی پیشے ختم کر دیے جائیں تو چاہے وہ جتنے مرضی اہم اور قابل فخر شعبے ہوں ان کی حیثیت دو ٹکے کی بھی نہیں رہ جاتی۔ ہر شعبہ زندگی میں کسی نہ کسی دوسرے شعبے کا محتاج ہے۔ اور ان تمام شعبہ جات کا آپس کا تال میل ہی ترقی اور خوشحالی کا ضامن ہے۔

میں ایک شادی میں شریک تھا۔ ہم سب رشتے دار کھڑے گپوں میں مشغول تھے کہ میری ایک عم زاد تشریف لائی اور اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر سب سے تعارف کرواتے ہوئے بولی ”ڈاکٹر عذرا“

میں نے ہنستے ہوئے کہا ”یہاں تم سے کوئی علاج کروانے نہیں آیا۔ بہتر تھا کہ تم اپنے باپ یا ماں کے حوالے سے اپنا تعارف کرواتی“

وہ بولی ”کیوں نہ مینشن کروں یہ ہمارا پرائیڈ ہے۔“

میرے بھائی نے کہا ”تم کام تو دائیوں والے ہی کرتی ہو۔ ایک کوالیفائیڈ دائی۔ مگر میں نے کسی دائی کو یہ کہتے نہیں سنا کہ دائی فلاں“

وہ غصے سے بولی ”تم ایک گائناکالوجسٹ کو ایک دائی سے ملا رہے ہو۔ تم نے بھی کیا مثال دی“ (اب دائی کے پیشے کی اگر تضحیک کی تو وہ بھائی نے نہیں بلکہ خود ڈاکٹر صاحبہ نے ہی کی۔ حالانکہ وہ خود دائی کے ہاتھوں ہی گاؤں میں پیدا ہوئی تھیں )

ابھی یہ بات جاری ہی تھی کہ ایک اور رشتے دار آئے اور بڑی رعونت سے اپنا ہاتھ بڑھایا اور تعارف کروایا ”میجر عارف حیات“

ایک زور دار قہقہہ بلند ہوا۔ میجر صاحب نے حیرت سے سب کی طرف دیکھا ”کیا ہوا“

خالہ نے کہا ”ابھی اس چیز پر ہی بات ہو رہی تھی کہ محفل تو رشتے داروں کی ہے مگر تعارف اپنے عہدوں یا تعلیم کے حوالے سے کروایا جا رہا ہے“

فوجی صاحب بولے ”کیوں نہ تعارف کروائیں۔ ہمارا پیشہ ہمارے لیے قابل فخر ہے“

میں نے کہا ”ہاں ہم سب تو اپنے اپنے پیشوں پر بہت شرمسار ہیں۔ میں ایک کیمسٹ ہوں۔ مجھے بہت شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ خالہ نے ساری زندگی بچوں کو پڑھایا اور اب پرنسپل ہیں۔ یہ بھی شرم کی وجہ سے صرف اپنا نام ہی بتا سکیں کیونکہ عہدہ بتاتے انہیں بھی شرم آ رہی تھی۔ ابھی ابھی تابش چچا مل کر گئے۔ انہوں نے نہیں کہا مجسٹریٹ تابش۔ کیونکہ وہ بھی شرمسار تھے اپنے عہدے پر۔ یہ بچہ طالب علم ہے۔ ابھی یہ ڈاکٹر یا فوجی نہیں بنا اس لیے اسے بھی ماں باپ کے حوالے سے ہی تعارف کروانا پڑا۔ صرف فوجی اور ڈاکٹر ہی ہوتے ہیں۔ جو اتنے بلند اور برتر ہیں کہ انہیں اپنا تعارف کرواتے فخر محسوس ہوتا ہے باقی سب تو نہ ہی دکھی انسانیت کی خدمت کر سکتے ہیں۔ نہ ہی کسی صورت قوم کی حفاظت کر سکتے ہیں۔

حد تو یہ ہے کہ اگر کسی فوجی یا ڈاکٹر کی شادی ہو تو اس کارڈ پر خاص طور پر لکھوایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر فلاں یا میجر فلاں یا کیپٹن فلاں۔ حتٰی کہ ریٹائر ہونے کے بعد بھی چھوٹی سی (ر) کے ساتھ عہدہ ضرور لکھا جاتا ہے۔ ٹی وی شو ہو یا کوئی اور پروگرام تعارف اسی انداز میں ہوتا ہے۔ اب تو اس وبا میں کچھ انجینئر بھی مبتلا ہو رہے ہیں اور ان کے شادی کارڈ بھی ایسے ہی ہونے لگے ہیں۔

خیر ہماری بحث طویل ہوتی گئی۔ مگر ہم پاکستانی قوم ہیں نہ کوئی جیتا نہ ہارا مگر جیسے ہی اعلان ہوا کہ خواتین و حضرات تشریف لائیں کھانا لگ گیا ہے۔ اس وقت سب ڈاکٹر اور فوجی اپنا پرائیڈ اور فخر بھول بھال کر عام خواتین و حضرات میں شامل ہو کر کھانے پر ایسے ٹوٹ پڑے جیسے دشمن پر ٹوٹ پڑتے ہیں یا جیسے مریض کی جیب پر۔ اب سب کی تعلیم اور پرائیڈ ایک جیسا تھا۔

Facebook Comments HS

One thought on “ڈاکٹروں اور فوجیوں کا ایک مشترکہ نفسیاتی مسئلہ

  • 10/01/2022 at 4:01 شام
    Permalink

    حد تو یہ ہے کہ لوگ قبر کے کتبے پر بھی اپنا پیشہ لکھواتے ہیں، شاید منکر نکیر سے بھی اسی طرح تعارف کرواتے ہوں گے!

Comments are closed.