وبا کا خوف ہے خود بھی کسی وبا کی طرح

ایک بچہ سڑک کنارے کھڑا فٹ پاتھ کی جانب توجہ طلب نظروں سے دیکھ رہا ہے، جیسے یہاں کچھ قیمتی کھو دیا ہو۔ اچانک اپنی قمیض کا پلو اٹھاتا ہے، آنکھوں میں آیا آنسو صاف کرتا ہے، چل پڑتا ہے۔ بیمار شخص کسی سے فون پہ بات کر رہا ہے، ساتھ ہی اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہیں، پر یہ آنسو بات چیت میں خلل نہیں ڈال رہے۔ شہر کے بڑے ہسپتال میں ماہر نفسیات کی کلینک کے باہر مریضوں کا رش پڑا ہے، ہر چہرہ انتظار کی تکلیف سے دوچار نظر آ رہا ہے۔
مسجد میں امام صاحب نماز سے قبل مقتدیوں کو تاکید کر رہے ہیں کہ کندھے سے کندھا ملا لیں، نماز شروع ہوتے ہی دیر سے شامل ہوتا شخص دو نمازیوں کے درمیان واضح فاصلہ دیکھ کر ٹھہر جاتا ہے، جیسے کی امام کی حکم عدولی اسے ایک آنکھ نہ بھائی ہو۔ ایک بزرگ گھر کے باہر تھڑے پہ بیٹھے گہری سوچ میں گم ہیں پران کے چہرے کے بدلتے تاثرات بتاتے ہیں کہ ان کے ذہن میں جو چل رہا ہے وہ تکلیف دہ ہے۔ پاس سے گزرتا کوئی راہ گیر ان سے دریافت کرے کہ بابا جان کیا ہوا تو وہ ایک ہی جملہ دہراتے ہیں، ”جنازہ نکل گیا“ پھر اس کے بعد لمبی خاموشی۔
یہ تمام مناظر کورونا کی بعد کی دنیا کے ہیں۔ جو بچہ سڑک کنارے کھڑا فٹ پاتھ کو دیکھ رہا ہے وہ دراصل اپنے سکول کی تلاش میں ہے۔ دن بھر مزدوری کرنے والا یہ بچہ آج سے ایک سال چند ماہ قبل اسی فٹ پاتھ پہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ تعلیم حاصل کیا کرتا تھا۔ راہگیر اسے اسٹریٹ سکول کا نام دیا کرتے تھے۔ یوں جب رات کو گھر لوٹتا تو ننھے ہاتھوں کی کمائی کے ساتھ نشوونما پاتے ذہن میں علم کی چند بوندیں بھی ہوا کرتی تھیں۔ اس وبا نے باقی تعلیمی اداروں کو عارضی بندش پہ مجبور کیا تھا، پر اسٹریٹ سکولوں کو صفحہ ہستی سے مٹا گئی تھی۔
چند بچے وہ بھی تھے جن کے والدین بارے کہا جاتا ہے کہ یہ پیٹ کاٹ کر اپنوں بچوں کو پڑھاتے ہیں۔ وبا کے باعث لمبا عرصہ تعلیمی سلسلہ منقطع ہونے کے باعث یہ بچے معاشی حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے کمانے والوں کی دوڑ میں شامل ہو گئے۔ اب ان کے سکول تو کھلے ہیں لیکن ان کی غیر حاضری کے باعث ان کی ساتھی ان کی کرسیوں پہ اپنے بستے رکھے آج بھی ان کے منتظر نظر آتے ہیں۔
بیمار شخص فون پہ کسی عزیز سے بات کر رہا ہے جو اس وبا سے قبل اس کے کھانسنے پر بھی دوڑے چلے آتے تھے۔ کورونا نے صرف تعلیم، کاروبار اور دفتری کام کو ہی آن لائن نہیں کیا، بیمار پرسی اور داد رسی بھی آن لائن چلی گئی۔ ”اسے کورونا نہ ہو“ نہ جانے اس سوچ نے عیادت کے صلہ میں ملنے والے عبادت کے کتنے ہی مواقعوں کو ٹھیس پہنچائی ہو۔ اپنوں سے اسی قطع تعلقی نے ہی ماہر نفسیات کی کلینک کا باہر وہ قطار لگوائی ہے جس کا اوپر ذکر ہوا ہے۔ ظاہر ہے جب انسانوں کی آبادی ایک کام نہ کرنے کا فیصلہ کر لے تو اس خلاء کو پر کرنے کو کوئی پیشہ تو ضرور معرض وجود میں آئے گا۔
کورونا کی اب پانچویں لہر سنائی دے رہی ہے لیکن اس کی پہلی لہر نے ہماری پانچوں نمازوں میں صفوں کے دوران جو خلاء ڈالا تھا وہ ابھی پر نہیں ہو پایا۔ گھر کے باہر تھڑے پہ بیٹھے بابا جان جس جنازے کا ذکر کر رہے ہیں وہ سفید پوشی کا جنازہ ہے۔ سفید پوش، وہ طبقہ جسے جتنا میسر ہو، اتنے پہ قناعت کر لینا۔ خواہشوں کا گلہ گھونٹ دینا، ضروریات کی فہرست چھوٹی کر دینا۔ اس وبا نے سفید پوشی کا پردہ چاک کیا ہے۔ کئی سفید پوش ”مرتے کیا نہ کرتے“ کا محاورہ ذہن میں لئے اپنی ضروریات کا رونا دوسروں کے سامنے رو بیٹھے۔ ایسے میں سفید پوشی کا جو بھرم ٹوٹا تھا، اسے سفید پوش بزرگ جنازے سے تعبیر کرتے ہیں۔
ہمیں اس سے سروکار نہیں کہ کب دنیا حالات معمول پہ آنے کے اعلان کرے۔ ہمارے لئے حالات تب معمول پہ آئیں گے جب سٹریٹ سکول ویسی آب و تاب سے دوبارہ کھلیں گے۔ جب ہماری صفوں میں فاصلہ نہ رہے گا، جب بیمار کی عیادت کرنے والے مصروفیات کا بہانہ بنائے بغیر بیمار پرسی کو دوڑے چلیں آئیں گے۔ اور جب ہر سفید پوش کو اس کی عزت نفس لوٹا دی جائے۔ ایسا تب ہی ممکن نظر آتا ہے کہ قدرت کوئی ابر رحمت برسائے جو اس وبا کے یہ اثرات بہا لے جائے وگرنہ تو
گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
سدا عیش دوراں دکھاتا نہیں

