اومیکرون: اے نئے دوست بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے؟


نیا سال نمودار ہونے کو تھا کہ دو چیزیں گردش میں آ گئیں۔ ایک تو فیض صاحب کے حوالے سے یہ نظم ”اے نئے سال بتا، تجھ میں نیا پن کیا ہے؟“ اور دوسرے کورونا خاندان کا ایک نیا بچہ ”اومیکرون“ ۔ اتفاق سے دونوں ہی کے بارے میں کسی قدر غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ ”اے نئے سال۔“ والی نظم جسے احباب بڑے شوق کے ساتھ فیض صاحب کی نسخہ ہائے وفا والی تصویر کے ساتھ پوسٹ کرتے ہیں، دراصل ہمارے سیالکوٹ والے فیض احمد فیض کی نہیں بلکہ فیض لدھیانوی کی ہے۔ اور اومیکرون کے بارے میں غلط فہمی یہ ہے کہ پہلے بھی بہت دیکھے ہیں، یہ بھی گزر جائے گا۔ لیکن قرائن بتاتے ہیں کہ یہ شاید اپنے بڑے بھائی بہنوں کی طرح بغلی گلی سے گزر نہیں جائے گا بلکہ گھر میں گھسنے کی بھر پور کوشش کرے گا۔

پچھلے برس نومبر کے آخر میں جب اومیکرون کا ذکر شروع ہوا تو پہلے تو اس کا نام لینا ہی عجیب سا لگتا، بہت سے لوگوں کی زبان نے ٹھوکر کھائی۔ نام لینے میں غلطی کی گنجائش موجود ہے لیکن اس کی انتہائی سرعت کے ساتھ پھیلنے کی صلاحیت کو نظر انداز کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ ساوتھ افریقہ میں نمودار ہو نے کے بعد یہ جس ملک میں بھی گیا، ایک کثیر آبادی کو لپیٹ میں لیا اور آگے ہی آگے چلتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں بھی نہ صرف یہ پہنچ چکا بلکہ کئی بڑے شہروں پر دستک دے چکا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اومیکرون ایک ایسا مہمان ہے جس نے ہمارے گھر آنا ہی ہے۔

اگر واقعی ایسا ہے تو تو پھر کیوں نہ اس کے لئے کچھ تیاری کر لی جائے۔

سب سے پہلے تو اس مہمان کو پہچاننا ضروری ہے۔ یہ نزلہ زکام، گلا خراب اور ہلکی کھانسی کی کیفیت سے کافی ملتا جلتا ہو گا۔ بخار، ناک بہنا، سر درد، جسم میں درد، اور تھکاوٹ دیکھنے میں آئے گی۔ پچھلے کورونا وائرس جن کو ذائقہ اور خوشبو کی حس ختم ہو جانے سے ہم پہچانتے تھے، اومیکرون میں یہ خصوصیت دستیاب نہیں ہو گی۔ سو یہ علامات یاد رکھئے اور تیار رہئے۔ کیونکہ غالب امکان ہے کہ یہ ہمارے ہاں آئے گا ضرور۔

پچھلی قوت مدافعت جو چاہے ویکسین سے ہو یا کورونا وائرس کی انفیکشن کا شکار ہونے سے، اس کے باوجود اومیکرون دروازے پر دستک ضرور دے گا اور ذرا سی لا پرواہی پر اندر گھس آئے گا۔ وہ ممالک جہاں یہ لاکھوں روزانہ کے حساب سے لوگوں کو اپنا شکار کر رہا ہے، وہاں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا شکار ہونے والے کے قریب (عین ممکن ہے کہ ابھی بیمار کو خود بھی معلوم نہ ہو کہ اسے انفیکشن ہے ) کچھ ہی دیر سانس لینے کی بات ہے، آپ اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اومیکرون کا مریض، علامات شروع ہونے سے دو دن پہلے اور علامات شروع ہونے کے تین دن بعد تک یہ وائرس پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جہاں بن بلائے گھر میں گھس جانا اومیکرون کی بری بات ہے وہاں ایک پہلو اچھا بھی ہے۔ وہ یہ کہ یہ زیادہ دیر ٹھہرتا نہیں ہے۔ اوسطاً اس کا دورانیہ پانچ سے سات دن ہے جس کے دوران بخار، جسم درد، تھکاوٹ اور گلا خراب رہتا ہے لیکن یہ عموماً اس بات کی نوبت نہیں آنے دیتا کہ شدید کھانسی یا سانس کی تکلیف کی وجہ سے ہسپتال جانا پڑے، انتہائی نگہداشت کے شعبہ میں علاج کروانا پڑے، یا گھر والے ہر وقت اس فکر میں رہیں کہ جانے کب ہسپتال سے کیا خبر آتی ہے۔ گویا یہ دشمن تو ہے لیکن دشمن جاں نہیں ہے۔

تاہم ایسا بھی نہیں کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں۔ جہاں جہاں اومیکرون آج تک پھیلا ہے، وہاں لوگ شدید بیمار بھی ہوئے ہیں۔ ہسپتالوں میں داخلے کی نوبت بھی آئی ہے۔ امریکہ میں تو کافی جگہوں پر ہسپتال اپنی گنجائش سے زیادہ مریضوں کا علاج کر رہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ شدید بیماری کا شکار ہو کر ہسپتال میں داخل ہونے والے یہ تمام لوگ وہ ہیں جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی۔ اس لئے کہ ویکسین لگوانے والوں کو تو یہ زیادہ نقصان نہیں پہنچاتا، لیکن بغیر ویکسین والوں کی خوب خبر لے سکتا ہے۔

کیا ہم یہ ممکن بنا سکتے ہیں کہ یہ ہمارے گھر کا رخ نہ کرے؟ یقیناً! ویکسین لگوا کر، ماسک پہن کر، گھر سے غیر ضروری نکلنے سے پرہیز کر کے، نکلنا پڑے تو بھیڑ بھاڑ سے دور رہ کر، ہاتھوں کو بار بار دھو کر، اور اپنے کمروں کو ہوا دار بنا کر۔

ایک اور اہم بات! چونکہ پچھلی مدافعت چاہے وہ ویکسین سے ہو یا بیماری کے ایک جھٹکے سے، اومیکرون اس کے باوجود بیماری کر سکتا ہے تو اس وجہ سے یہ ہیلتھ ورکرز کو بھی بہت زیادہ اپنا نشانہ بنا رہا ہے۔ ڈاکٹر، نرسیں، پیرا میڈیکل سٹاف، ان کا تو واسطہ ہی مریضوں سے رہتا ہے جن میں کورونا کے مریض بھی شامل ہیں۔ آج کل برطانیہ اور امریکہ میں ہیلتھ ورکرز بڑی تعداد میں اس کا شکار ہیں اور اس وجہ سے مریضوں کا علاج کرنے والوں کی کافی کمی ہو گئی ہے۔ پاکستان میں بطور ایک شہری ہمیں یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ ہم انفرادی سطح پر وہ اقدامات اٹھائیں کہ ہیلتھ ورکرز کم سے کم اس کا شکار ہوں۔

انفرادی بچاؤ کے اقدامات یعنی ماسک پہننا، چھ فٹ کا فاصلہ رکھنا، ہاتھ دھونا، ہجوم سے بچنا، اپنے گھر اور کام کی جگہ کو ہوادار بنانا خود ہمیں تو کورونا سے بچاتے ہی ہیں، مجموعی کیسز میں کمی کا باعث بھی بنتے ہیں جس سے کہ ہیلتھ ورکرز پر مریضوں کی ایک بڑی تعداد کا بوجھ نہیں پڑتا۔ او ر ان کے وائرس کا شکار ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی بھی بیماری کے لئے مشورہ کی خاطر فون کا سہارا لینا، اور بلا شدید ضرورت ہسپتال یا کلینک پر جانے سے پرہیز کرنا بھی بہت فائدہ مند ہے کیونکہ یہ ہماری، اور ہماری صحت اور زندگی کا خیال رکھنے والوں کی زندگی کو بچاتا ہے۔

رہا یہ سوال کہ کیا اومیکرون کورونا کی وبا کا آخری باب ہو گا؟ تو ماہرین کا قیاس تو ہے کہ اومیکرون کی صورت میں شاید قدرت نے ہمیں ایک موقع فراہم کر دیا ہے۔ لیکن ابھی یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ہم آج کے دن اس کے بارے میں کس قدر احتیاط کرتے ہیں اور اومیکرون وبا کے پھیلاؤ کے دوران کتنے پینترے بدلتا ہے، آنے والے دنوں میں وبا کا اختتام ان دو باتوں پر منحصر ہے۔ اور اس بات پر بھی کہ ہم کورونا سے بچاؤ کے انفرادی رویوں اور ویکسین کے استعمال کے علاوہ اپنے ترکش میں اور تیر بھی لے کر آئیں۔

پچھلے برس کے اختتام کے قریب وائرس کا خاتمہ کرنے والی دوائیں بھی سامنے آ چکی تھیں اور ان کے عام استعمال کا سرٹیفیکیٹ بھی جاری ہو چکا تھا۔ لازم ہے کہ نئے برس میں ان دواؤں کا فارمولا، زیادہ سے زیادہ ملکوں کو میسر ہو تا کہ یہ اور اس کے بعد سامنے آنے والی زیادہ موثر دوائیں تمام دنیا میں کم قیمت پر دستیاب ہو سکیں۔ نئے سال کے نئے پن کا مطلب ویکسین سے آگے بڑھنے اور انسانی ذہانت کی بدولت سامنے آنے والی برکتیں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے میں ہے۔

ڈاکٹر زعیم الحق ایک میڈیکل ڈاکٹر ہیں اور اپنے شعبہ کے تکنیکی امور کے ساتھ ان انفرادی و اجتماعی عوامل پر بھی نظر رکھتے ہیں جو ہماری صحت یا بیماری کا باعث بنتے ہیں۔

 

Facebook Comments HS

ڈاکٹر زعیم الحق

ڈاکٹر زعیم الحق ایک میڈیکل ڈاکٹر ہیں اور اپنے شعبہ کے تکنیکی امور کے ساتھ ان انفرادی و اجتماعی عوامل پر بھی نظر رکھتے ہیں جو ہماری صحت یا بیماری کا باعث بنتے ہیں۔

dr-zaeem-ul-haq has 15 posts and counting.See all posts by dr-zaeem-ul-haq