انڈین پولیس فورس کے ’ابھینندن‘ کو اپنی مونچھوں کی وجہ سے کیوں معطل کیا گیا؟


انڈیا میں اپنی مونچھوں کی وجہ سے معطل ہونے والے پولیس کانسٹیبل راکیش رانا کو اب ان کی نوکری پر بحال کر دیا گیا ہے۔

سرکاری حکم نامے میں معطلی کی منسوخی کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ یہ حکم مناسب اتھارٹی کی جانب سے جاری نہیں کیا گیا تھا۔

پولیس کانسٹیبل راکیش رانا ان کا تعلق ریاست مدھیہ پردیش پولیس سے ہے اور بھوپال میں کوآپریٹو فراڈ اور پبلک سروس گارنٹی وِنگ میں کانسٹیبل کے طور پر تعینات تھے۔ ان کا کام سپیشل ڈی جی کی گاڑی چلانا تھا۔

راکیش رانا کو اپنی مونچھیں صاف کروانے کا حکم دیا گیا تھا لیکن جب وہ اس کے لیے تیار نہ ہوئے تو انہیں معطل کر دیا گیا۔ اس تنازع کے بعد سے راکیش رانا میڈیا کی سرخیوں میں رہے ہیں۔

حکام کو مونچھوں پر کیا اعتراض تھا؟

حکام نے دلیل دی تھی کہ ’مونچھوں سے ان کا کا چہرہ اچھا نہیں لگتا۔‘

محکمے کے اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل آف پولیس پرشانت شرما کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں لکھا گیا تھا کہ راکیش رانا کو چیک کرنے پر معلوم ہوا کہ ‘ان کے بال بڑھ گئے ہیں اور مونچھیں گلے تک عجیب و غریب ڈیزائن میں بڑھی ہوئی ہیں۔‘

اس کے بعد انہیں اپنے بال اور مونچھیں صحیح طریقے سے تراشنے کی ہدایت کی گئی تھی لیکن انہوں نے اس حکم کی تعمیل نہیں کی۔

پولیس حکام کا اس وقت کہنا تھا کہ یہ یونیفارم سروس میں ڈسپلن کے زمرے میں آتا ہے اور اس کا دیگر ملازمین پر برا اثر پڑتا ہے اس لیے انہیں فوری طور پر معطل کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’مونچھیں ہوں تو ابھینندن جیسی ورنہ نہ ہوں۔۔۔‘

#CWC19: مونچھیں ہوں تو محمد حفیظ جیسی

کیا یہ مونچھیں پہلی صدی عیسوی کے فیشن کو ظاہر کرتی ہیں؟

‘عزتِ نفس اور وقار’

معطلی کے حکم کے بعد راکیش رانا بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے۔

راکیش رانا نے کہا تھا کہ ‘بہت سے پولیس افسران اور پولیس جوانوں نے مونچھیں رکھی ہوئی ہیں، انہیں اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی۔ جوان مونچھوں میں بہت اچھے لگتے ہیں۔ ‘میں ایک سال سے اس کام میں ہوں لیکن اچانک میری مونچھوں پر سوال اٹھائے جانے لگے ہیں۔ میں معطل ہونے کے لیے تیار ہوں لیکن مونچھیں نہیں کاٹ سکتا کیونکہ میں راجپوت ہوں اور اس کا تعلق میری عزت نفس اور وقار سے بھی ہے۔‘

اس کے ساتھ ہی لوگوں نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ جو محکمہ مونچھوں پر سوال اٹھا رہا ہے وہی محکمہ پہلے لوگوں کو مونچھیں رکھنے کے لیے 100 روپے الاؤنس دیتا رہا ہے۔ یہ الاؤنس مونچھوں کی دیکھ بھال کے لیے دیا جاتا تھا لیکن یہ تقریباً 10 سال پہلے بند ہو چکا ہے۔

اب تک محکمہ پولیس میں مونچھوں کے حوالے سے کوئی رہنما اصول نہیں تھے۔ پولیس کا حکم اور راکیش رانا کا استدلال لوگوں میں موضوع بحث بن گیا تھا۔

نوکری پر بحالی

بالآخر پولیس نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا اور راکیش رانا کو محکمے میں کام پر واپس آنے کو کہا گیا ہے۔

راکیش رانا کو کوئی نیا حکم نہیں دیا گیا بلکہ انہیں نوکری پر بلایا گیا ہے۔ اب وہ ایم ٹی (موٹر ٹرانسپورٹ) پول میں ریزرو ڈرائیور کے طور پر تعینات ہوں گے۔

پولیس محکمے کے بعض حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ جس طرح سے راکیش رانا کے خلاف کارروائی کی گئی اس کے بارے میں محکمے کے کچھ افسران کو اعتراض تھا۔

پولیس فورس کے ’ابھینندن‘

راکیش رانا 2007 سے پولیس کے محکمے میں نوکری کر رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ تقریباً گیارہ سال سے ان کی موچھیں ایسی ہی ہیں لیکن اچانک حال ہی میں ان کی مونچھوں پر اعتراض کیا گیا۔

راکیش رانا کی مونچھیں ایئر فورس کے گروپ کیپٹن ابھینندن جیسی ہیں، اس وجہ سے محکمہ کے لوگ انہیں ابھینندن کے نام سے پکارتے ہیں۔

اپنی بحالی کے بعد راکیش رانا نے تصدیق کی ہے کہ وہ کام پر واپس آگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہوں گا۔‘

ریاستی وزیر داخلہ نروتم مشرا نے کہا ہے کہ ‘اس معاملے میں ڈی جی پی سے رپورٹ طلب کی گئی ہے، وہ دونوں فریقوں سے بات کر کے رپورٹ دیں گے۔’

ریاست میں کانگریس پارٹی نے بھی اس معاملے پر طنز کیا تھا۔ کانگریس کے ترجمان نریندر سلوجا نے ٹویٹ کر کے کہا کہ ’حضور، یہ سچ ہے کہ مونچھیں اور داڑھی والوں سے آپ کے تعلقات اچھے نہیں ہیں لیکن اس راجپوت جوان کو صرف مونچھوں کی وجہ سے معطل کرنا درست نہیں، اسے بحال کیا جانا چاہیے۔’

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp