آپ عورت سے کتنی نفرت کرتے ہیں – حصہ زیور
یہ بتانا کہ لوگ عورتوں سے نفرت کرتے ہیں یہ بتائے بنا کہ لوگ عورتوں سے نفرت کرتے ہیں، میں بتاتی ہوں۔ کچھ ماہ قبل، پاکستان کے شہر منڈی بہا الدین میں پیدا ہونے والی اور برصغیر میں انسانی حقوق بالخصوص حقوق نسواں کا پرچار کرنے والی قابل قدر سماجی کارکن اور مصنفہ کملا بھاسن کا انتقال ہوا۔ ان کی شخصیت جو میں نے پائی تو دل سے تو بس یہ دعا نکلتی ہے کہ رام اور رحمٰن کو ماننے والی کملہ بھاسن کو اللہ جنت نصیب فرمائے۔
ان کی کہی ہوئی باتوں نے حقوق نسواں میں دلیل اور تحریک پیدا کی ہے۔ وہ خواتین کے زیورات پہننے کے خلاف نہیں تھیں مگر انہوں نے اس بات کا ایک پاکستانی نشست میں خوب احساس دلایا تھا کہ زیور اس بوجھ میں سے ایک بوجھ ہے جو صدیوں سے پدرشاہی اور سرمایہ داری کے گٹھ جوڑ نے عورت پر لاد رکھا ہے۔ زیور کی جہاں بات ہے وہاں زیور کے بنا عورت سجی سنوری معلوم نہیں ہوتی اور عورت زیور پہن لے تو وہ اچھی عورت نہیں کہلاتی۔ جہاں عورت اپنی مرضی اور خوشی سے زیور پہننا چاہے وہاں اس کو ملعون و مطعون ٹھہرایا جاتا ہے اور جہاں وہ اجتناب برتے وہاں اس کی دل کشی اور خوبصورتی پر سوال اٹھ جاتا ہے۔
کچھ عرصے سے سعادت حسن منٹو کے تقریباً تمام افسانوں کو پڑھنے کا ہدف پورا ہوا۔ ان کے بیش تر افسانے جو بازار حسن اور وہاں سے منسوب لوگوں بارے ہوا کرتے ہیں، اس وقت اور آج کے دور میں عورت کے مقام کی تصویر کھینچ کر دکھاتے ہیں۔ یہ گمان کہ گزرا ہوا زمانہ بہت خوب تھا۔ دروغ سا لگتا ہے۔ ان کے افسانوں میں نام نہاد بازار حسن سے تعلق رکھنے والی عورتوں کے حوالے سے جو زباں عام تھی وہ آج کے دور میں تقریباً ہر عورت کے لئے استعمال ہوتی ہے۔
تمام الفاظ (گالیاں ) عام ہیں جو اگلے زمانوں میں امیر اور غریب اوباش مرد نام نہاد بازار حسن کی عورتوں کی پہچان اور شناخت کے طور پر استعمال کرتے تھے جو کہ گالی کم اور القابات زیادہ تھے۔ اب وہی القابات اس معاشرے کی ہر عورت کے لئے گالی کے طور پر استعمال ہوتے ہیں یعنی عورتوں سے اتنی خار ہے کہ کسی بھی عورت کو وہ لفظ ہزل کے طور پر کہہ دیا جاتا ہے جو تب مرد جسم فروشی پر مجبور عورت کو کہا کرتے تھے۔ میری مراد ہرگز رائج الزباں ہزلیات نہیں ہیں جو کہ عام ہیں جن سے اطفال بھی خوب واقف ہیں۔
آج ایسے بہت سے الفاظ عام ہیں جن کو عورت کے خلاف مذاق اور ڈانٹ کے طور پر ادا کیا جاتا ہے۔ یہ بھی نہ سمجھئے کہ کسی عورت نے بھی وہ الفاظ نہیں سنے یا اس کو زندگی میں کسی مقام پر گھر، گلی، سڑک، بازار، دفتر، کالج وغیرہ یا کسی نے راہ چلتے نہیں کہے۔ عورت جو بھی پہنے، عورت کو وہ تمام الفاظ متواتر سننے کو ملتے ہیں جو اگلے وقتوں میں مردوں نے ”بری“ عورتوں کے لئے مخصوص کر رکھے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آج ان کے لئے ہر عورت بری ہے۔ ہر عورت میں سے چند کو اخذ کیا جاتا ہے۔ کسی کو کوئی ایک اچھی لگتی ہوگی مگر اس کے لئے تب بھی بہت سی عورتیں اس لئے بری ہوں گی کیوں کہ کہیں نہ کہیں وہ اپنی عورت ہونے کے ناتے ان کے وچار نہیں سنبھالتی۔
جب لفظ ”عورت“ استعمال کیا جائے اس سے مراد ہر عورت کی ہوتی ہے، یعنی خار کھا جانے والوں کی ماؤں، بہنوں، اور بیٹیوں جو کہ پہلے عورتیں اور بعد میں کسی کی رشتے دار ہیں۔ ان عورتوں یعنی ہم سب کو کہیں نہ کہیں وہ لفظ بصورت بدکلامی اور بدزبانی سننے کو ضرور ملتے ہیں۔ ہمارے کام کرنے، بات کرنے، کھانے پینے، بیٹھنے، چلنے، اوڑھنے غرض ہر انداز زندگی کی بنا پر بڑی گالی منسوب ہوتی ہے۔ زیور پہننے کے انداز بھی مجرمانہ پدرشاہی معاشرت میں عورت کے کردار کا تعین ہوتا ہے۔
اس میں برائی زیور میں نہیں جو واجب یا ممنوع دھات سے بنایا جاتا ہے نہ ہی زیور پہننے والی کی ہے اور نہ ہی کوئی دھات واجب یا ممنوع ہوتی ہے۔ برائی تو صدیوں پہلے اور بعد بھی عورت کو اس زیور سے پرکھتے نظام میں ہے جو زیور کی بنیاد پر کرداروں کو جانچتے ہیں۔ اچھی عورت وہ کہلاتی ہے جو نظام کے طے کردہ قواعد کی پاسداری کرتے ہوئے وقت کے مطابق زیور پہنے۔ یہ بھی طے شدہ معلوم ہوتا ہے کہ کون سا زیور ”نیک سیرت“ عورتیں پہنتی ہیں اور کون سا ”بد سیرت“ عورتیں۔
کم عمری یعنی شیر خواری میں بیٹی کے کان نہ چھدوائے جائیں تو آس پاس کے لوگ سوال کرتے ہیں کہ لڑکی اتنی بڑی ہو گئی اور اس کے کان خالی ہیں۔ لڑکی اپنی مرضی سے ناک کیا چھدوا لے سب اس کو شادی کے لئے تیار سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ شادی شدہ لڑکی کی ناک میں کوئی دھات نہ ہو، اس پر سوال داغے جاتے ہیں کہ وہ کیسی شادی شدہ عورت ہے جس کی ناک خالی ہے؟ لڑکی ناک میں نتھلی کیا پہن کے، اس کو سب سے پہلے وہ کہانی سننے کو ملتی ہے جو گزرے وقتوں میں مرد بازاری عورت کی نتھلی بارے کہا کرتے تھے۔
کچھ لوگ نتھلی سے اس لئے اجتناب کرتے ہیں کہ ”نیچ“ ذات کی عورتیں ایسے سستے زیور پہنتی ہیں۔ کیونکہ ہم سب کی ذاتیں اس قدر بلند و بالا ہیں کہ جس کو بنیادی فطرتی اور انسانی ضرورت کھانا ٹھیک سے میسر نہ آتا ہو، وہ نیچ اور پست ذات کے ہوتے ہیں خاندانوں میں بہت عام ہے کہ بیٹیوں کو نتھلی پہننے نہیں دی جاتی۔ ”یہ تو چھاچھنوں اور مراسنوں کی رویات ہے“ کا عمومی جملہ سننے کو ملتا ہے۔ چھاچھنوں اور مراسنوں جیسے انتہائی غیر مناسب الفاظ کے ساتھ بیٹیوں جی عزت نفس کے لئے طوائف کے الفاظ بھی شامل ڈانٹ ہوتے ہیں کہ طوائفیں نتھلیاں پہنتی ہیں۔
جو شوق سے گلوبند (چوکر) پہنے تو سب سے پہلے اس کو بتایا جاتا ہے کہ ”پیشہ ور“ لڑکیاں اشارے کے طور پر گلوبند پہنتی ہیں۔ شوق سے جھمکے پہنے جائیں تو کہا جاتا ہے کہ اچھے گھر کی بیٹیاں ایسے بے حیا زیور نہیں پہنتی۔ پازیب اور چوڑیوں کی تو بات ہی نہ کریں، جن کی جھنکار اور کھنک پہلے سے ہی مردوں کو راغب کرنے کے سوا کوئی مقصد نہیں رکھتی۔ جہیز میں بیش قیمت طلائی زیورات لینے والی خواتین جنہوں نے پدرشاہی کو بے دردی سے جذب کر لیا ہوتا ہے، بہوؤں کو ناک چھدوانے نہیں دیتی کہ ان کے خاندان میں عورتیں ناک نہیں بنواتی خواہ کانوں میں دماغ تک بالیاں ہی کیوں نہ پہنی ہوں۔
دوسری جانب، عورت کوئی زیور نہ پہنے تو اس کی خالی کلائیاں، ناک، اور کان اس کے عورت ہونے میں کمی بتاتے ہیں۔ اس کی غربت یا شوہر کی بیوی سے بے رخی کے نقشے کھینچ کر رکھے جاتے ہیں۔
جو لڑکی ناک میں لونگ نہ پہنے وہ جیسے جوان نہیں ہوتی اور جو نتھلی پہن لے وہ ایسی عورت تصور ہوتی ہے جس کی نتھلی کوئی اوباش مرد آ کر اتار کر اترائے گا۔
ان معاملات میں جس کی کمی دکھتی ہے وہ عورت کی انفرادیت ہے۔ جس کی پائل شیطان کو مسرت بخشتی ہے، جس کی نتھلی اس کو باعزت سے بے عزت بناتی ہے، جس کے کان اور ناک میں دھاتوں کے ہونے نہ ہونے سے اس کا کردار اور اقدار واضح اور دھندلی ہوتی رہتی ہیں۔


