پاکستانی ڈاکٹر کی سربراہی میں انسانی جسم میں سور کے دل کی پیوند کاری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پرسوں امریکی ریاست میری لینڈ میں انسانی تاریخ کا ایک نیا اور انتہائی اہم باب رقم کیا گیا۔ 57 سالہ ڈیوڈ بینیٹ جس کا دل ناکارہ ہو چکا تھا اور جسے انسانی دل کی پیوند کاری کے لئے بھی مسترد کیا جا چکا تھا موت کی آمد کا منتظر تھا اسے بتایا گیا کہ اگر وہ پسند کرے تو آزمائشی طور پر جینیاتی طور پر ترمیم شدہ سور کا دل اس کے سینے میں اتارا جاسکتا ہے۔ قریب المرگ بینیٹ نے فوراً حامی بھر لی۔ ہنگامی طور پر امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایجنسی سے اس غیر معمولی عمل کی اجازت حاصل کی گئی۔ سات گھنٹے طویل سرجری کے بعد اب تک بینیٹ بقید حیات ہے لیکن اپنی نوعیت کے اس پہلے آپریشن میں شامل ماہرین ابھی یہ پیش گوئی کرنے سے قاصر ہیں کہ کب تک اور کس حد تک یہ خنزیری پیوند بینیٹ کو زندہ رکھ سکے گا۔ پاکستانیوں کے لئے فخر کا مقام یہ ہے کہ میری لینڈ یونیورسٹی میں اس پورے پروگرام کی سربراہی پاکستانی نژاد ڈاکٹر منصور محی الدین کر رہے ہیں جو کراچی کے ڈاؤ میڈیکل کالج سے فارغ التحصیل ہیں۔

چند ماہ قبل امریکہ ہی میں گردے فیل ہونے والے ایک مریض میں سور کا گردہ بھی لگایا جا چکا ہے۔

اعضاء کی پیوند کاری کے لئے کیا آپشنز موجود ہیں؟

1۔ مصنوعی یا مکینیکل اعضاء: دل کے والو، پیس میکر، ڈایالسس مشینیں، مصنوعی کولہے، گھٹنے، کوکلیائی امپلانٹ

2۔ مردہ شخص سے حاصل کردہ اعضاء: یوں تو دل، پھیپھڑے، گردے، جگر، جلد، چھوٹی آنت، لبلبہ اور قرنیہ سمیت کئی اعضاء دماغی موت کے بعد حاصل کر کے دوسرے شخص میں چسپاں کیے جا سکتے ہیں لیکن ان اعضاء کا صحت مند ہونا لازمی ہے جبکہ بعد از موت رفتہ رفتہ ہر عضو ناکارہ ہوتا جاتا ہے چنانچہ انہیں نکالنے کے لئے وقت بہت محدود ہوتا ہے۔

3۔ زندہ فرد سے حاصل کردہ اعضاء: خون اور اس کے اجزاء، آپریشن کے دوران حاصل شدہ زائد کھال، ہڈی کا ٹکڑا، ہڈیوں کا گودا، امنیوٹک سیال۔ دیالو افراد اپنا ایک گردہ، جگر، لبلبہ اور پھیپھڑے کا کچھ حصہ بھی عطیہ کر سکتے ہیں۔

4۔ جانوروں سے حاصل کردہ اعضاء

جانوروں سے اعضاء حاصل کرنے کی مختصر تاریخ

حضرت انسان بہت متجسس اور مہم جو واقع ہوئے ہیں۔ ان کا ذہنی افق آسمان سے بھی زیادہ وسیع ہے۔ مذہبی تاریخ، متھالوجی اور قدیمی افسانوی ادب میں جا بجا جانوروں اور انسانوں کے ’ہائبرڈ‘ ملتے ہی ہیں لیکن پچھلے تین سو سال میں مختلف النوع حیوانات کے اعضاء کو انسانوں میں پیوست کرنے کے متعدد تجربے رپورٹ کیے گئے ہیں۔

سترہویں صدی میں فرانسیسی طبیب جین بیپٹسٹ ڈینس نے بھیڑ کا خون لگا کر تشنج اور ذہنی امراض کے شکار مریضوں کا علاج کرنے کی کوشش کی گئی۔

انیسویں صدی میں کتے، بلی، خرگوش، مرغی سمیت کئی جیتے جاگتے جانوروں کی جلد انسانوں کی جلی ہوئی یا السر زدہ کھال پر لگانے کی کوشش کی گئی۔ پتہ چلا کہ اس کام کے لئے سب سے مناسب جانور مینڈک ہے غریب پوری جلد اترنے کے بعد بھی کچھ وقت زندہ رہتا ہے!

سنہ 1838 ء میں سور کا قرنیہ انسان میں لگایا گیا۔ معلوم نہیں کہ آنکھ میں سور کا بال ہونا والا محاورے کا اس واقعہ سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

سنہ 1960 ء میں امریکی سرجن کیتھ ریمٹسما نے گردے فیل ہونے کے 13 مریضوں میں چمپینزی کے گردے لگائے جو زیادہ نہ چلے۔

اسی زمانہ میں امریکہ کے ہی ایک سرجن جیمس ہارڈی جو پھیپھڑوں کے ٹرانسپلانٹ کے خالق ہیں نے چمپینزی کا دل ایک مرتے ہوئے انسان میں لگایا لیکن یہ کوشش بھی کارگر نہ ہوئی۔

سنہ 1901 ء میں خون کے مختلف گروہوں کی موجودگی سے واضح ہوا کہ پچھلے بہت سے تجربات کی ناکامی میں غیر موافق گروپ بھی ایک عامل تھا۔

پیوند کاری کے سب سے بڑے چیلنجز کیا ہوتے ہیں؟

عطیہ کردہ عضو کو میزبان جسم فوری یا تاخیر سے مسترد کر سکتا پے۔ اس ’ریجیکشن‘ کو روکنے کے لئے ایسی ادویات استعمال کرنی پڑتی ہیں جو جسمانی مدافعت کو دبا کر رکھیں۔ درحقیقت 1970 اور 80 کے دوران ان ادویات کی ایجاد سے ہی پیوندکاری کو مہمیز ملی۔ بینیٹ کو لگائے گئے دل کے مالک سور میں جینیاتی ترمیم سے یہ ممکن بنایا گیا کہ وہ اس کے جسم کو زبردست مدافعتی جھٹکا پہنچانے سے باز رہے۔

دوسرا خطرہ بیکٹیریا، فنگس اور وائرس کے حملے سے ہونے والے انفیکشن کا ہوتا ہے جس کا ایک immunosuppressed بدن متحمل نہیں ہو سکتا ۔ اسی لئے جنگلی جانوروں کی نسبت فارمی جانوروں کا استعمال محفوظ تر جانا جاتا ہے۔

آخر سور کے اعضاء ہی کیوں پیوند کاری کے لئے استعمال کیے جا رہے ہیں؟

یہ بہت اہم سوال ہے اور بالخصوص یہودیت اور اسلام کے پیروکاروں کے لئے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق انسان نے ساڑھے آٹھ ہزار برس قبل خنزیر کو جنگلی سے پالتو جانور بنا لیا اور تب سے ہی دونوں کا قریبی تعلق برقرار رہا پے۔ گائے، بھینس اور بھیڑ کے ساتھ بھی انسان اسی رشتے میں جڑا ہوا ہے۔ مادہ سور سال میں دو دفعہ دس سے بارہ بچے جنتی ہے۔ یہ تعداد بھیڑ اور گائے سے کئی گنا زیادہ ہے۔ ولادت کے بعد یہ جانور بڑی تیزی سے نمو پاتا ہے۔ دل سمیت سور کے جسم کے کئی اعضاء انسان سے مماثلت رکھتے ہیں۔ کئی ہزار سال ساتھ رہنے کی وجہ سے انسان اور سور میں پائے جانے والے جرثوموں اور وائرس کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔ طبی دنیا میں سور سے حاصل اجزاء اور عضویات عشروں سے جان بچانے کے کام آرہے ہیں۔ بہت زیادہ خون بہہ جانے کی صورت میں دیے جانے والے جیلاٹن محلول، شوگر کے مریضوں کے لیے انسولین، خون پتلا کرنے والی دوا ہیپارین، بری طرح جلی ہوئی کھال کے لئے خنزیری جلدی پیوند سے اطباء خوب واقف ہیں۔ دل میں لگائے جانے والے حیاتیاتی والو بھی اتنے عرصے سے سور ہی کا ہی عطیہ ہے۔ یہ گائے سے بھی لئے گئے لیکن میڈ کاؤ بیماری کے بعد ان کا چلن بہت گھٹ چکا پے۔

جینیاتی ترمیم شدہ حیوانی اعضاء کی پیوند کاری کا امکان ان مریضوں اور ان کے عزیزوں کے لئے امید کی ایک تابندہ کرن ہے جو کسی عضو رئیسہ کی ناکامی کا دکھ جھیل رہے ہیں اور موت و حیات کی سرحد کے مکین ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments