جنت


ایک لمحے کے لئے حیران و پریشاں عقیدت مند یہ سوچتے ہوئے کہ کہی اس جنت کی بات تو نہیں ہو رہی جس کے لئے ہم دوسرے انسانوں کو محض اسی بنا پر قتل کرتے ہیں کہ وہ شراب نوشی اور زنا کرتے ہیں۔ اور ہم جنت میں جا کر حلال شراب پی کر اور پھر حوروں کے ساتھ ٹینس میچ کھیلیں گے۔ تو سن لو، ہمارا مقصد کبھی بھی اس جنت میں جانے کا نہیں، جس کے لئے ہمیں دوسروں کا خون بہانا پڑے یا دوسروں پر ظلم و بربریت کرنا پڑے۔ ہمارا جنت ان ناپاک اور اچھوت مخلوق کے لئے ہے، جو سچائی پر یقین رکھتے ہیں، جن کے پاس انفرادی آزادی اور عزت نفس بحال ہو، جن کی باتیں سننے کے قابل ہو، جن کے ساتھ بیٹھ کر انسان گھٹن محسوس نہ کرے۔

جو ہر بات پر اپنی برتری اور تمھاری تنزلی کا گیت نہ گاتا ہو۔ جو کہ ایک سماجی نظام کا بہترین جاننے اور سمجھنے والا ہو۔ جن کی ظرف اعلیٰ ہو، جو حقیقت سے منہ پھیرنے والا نہ ہو، جن کو نیچر اور انسانوں سے محبت کرنے کے لیے کوئی سرحد نہ ہو، جن کی تمام تر فیصلوں کا مرشد اس کا برداشت کرنے والا ٹوٹا دل ہو۔ یہی مستحق ہے ہماری جنت میں آنے کے لئے۔ اس جنت میں ہر چیز نایاب ملے گا، خوشی آنسوؤں کے ساتھ منائیں گے اور غم مسکرا کر، ہم رہے یا نہ رہے، الفاظ جنت سے بولے گے۔

تیری تمام تر عبادت اور خیرات و صدقات ہماری جنت میں اس طرح مسترد ہوگی جیسا کہ ابلیس کی عبادات۔ ہماری جنت کے نایاب اصولوں میں سے ایک نفرت کو اس حد تک بڑھانا ہے کہ محبت میں بدل جائے۔ ہماری جنت میں محبت اتنی عام ہوگی کہ ہر درخت کے پتے پر محبت لکھا اور ہر ندی کے کنارے محبت تحریر شدہ ملے گا۔ جنت میں امن کی فضا ہو گی، اور زندگی سے محبت کرنے والے جوک در جوک چلے آئیں گے۔ موسیقی اپنا رنگ جنت میں بکھیر دے گی اور ہر طرف ایک سرور چھائی رہے گی۔

سات رنگوں کا سماں ایک رنگ میں رنگ چکا ہو گا اور وہاں پر ”میں“ کے لفظ کا اختتام ہو جائے گا اور تو ہی تو رہے گا۔ یہاں پر انسان روحانی اور وجدانی کیفیت سے گزرتا ہے اور معرفت اپنے حد کمال چو کر جاتا ہے۔ اس جنت میں ہر چیز کی انفرادی قدر و قیمت ختم ہو جاتی ہے اور تمام تحفظات ملیامیٹ ہو جاتے ہے۔ جب جنت میں معرفت کی اونچائی روشنی میں حسن کے مد مقابل اجائے، تو جنتی بندہ ناچیز رقص کرنے پر آتا ہے وہاں سے عشق کا باب شروع ہو جاتا ہے۔

اس جنت کا لوکیشن دراصل انسان کے دل کا قلعہ ہے جیسے فتح کر کے عالمی فاتح کی طرف دنیا کو محبت، امن اور خوبصورت زندگی کا پیغام دے کر مرنے کے بعد دلوں میں جینا ہے۔ یہی ہماری جنت ہے، یہی کا میں فاتح ہوں۔ رہی اب باری تیری جنت کی تو اس کا فیصلہ کرنے والا رب ہے کیونکہ محترم منافقت سے نہ تو ایک سوچنے والے باشعور انسان کو دھوکا دے سکتا ہے اور نہ ہی اپنے رب کو، اگر کسی کے سوچنے سے تیری خدا کی خدائی کو خطرہ لاحق ہے تو پھر لوگوں کی سوچ کو بدلو۔ کیونکہ ہمیں ساتھ جینا مرنا اور رہنا ہے اور مل جل کر جنت کو آباد و شاد رکھنا ہے۔

Facebook Comments HS