تھکا ہوا کپتان اور فرزندِ پاکستان

محمد حنیف - صحافی و تجزیہ کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان کی کرشماتی شخصیت ہم نے بچپن میں لان کے ایک اشتہار میں دیکھی تھی۔ ایک بہت ہی تخلیقی اشتہار میں عمران خان کو نہیں دکھایا گیا تھا، بس ایک سایہ تھا جو سکرین کی ایک طرف سے نمودار ہوتا ہے، سلوموشن میں ایک لمبا رن اپ لیتا ہے، پھر چیتے کی سی چھلانگ لگا کر بال پھینکتا ہے۔

بغیر عمران خان کا چہرہ دیکھے صرف اُن کے رن اپ اور بولنگ ایکشن سے ٹی وی کے سامنے بیٹھی پوری قوم کو پتا چل گیا کہ جو سکرین پر سایہ سا گزرا ہے یہ ہمارا کپتان ہے۔

کرکٹ کے بارے میں بہت کم علم ہے لیکن جنون کی طرح کرکٹ سے عشق کرنے والے اور اس پر رپورٹنگ کرنے والے ساتھی رپورٹر عبد الرشید شکور کو پڑھ کر اور ان کی باتیں سُن کر اتنا جانتا ہوں کہ اچھے سے اچھے فاسٹ بولر کو بھی وکٹوں کے پیچھے ایک اپنے جیسا ہی چیتا وکٹ کیپر اور سلپ میں جاگتے ہوئے کھلاڑیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

عمران خان بیٹسمینوں کی وکٹیں تو اڑاتے ہی تھے، لیکن انھوں نے بال کو سوئنگ کرنے کا آرٹ بھی سکھایا اور ان کے دشمن بھی مانتے ہیں کہ اپنے کریئر کے آخری دنوں میں بھی اُن سے اچھی ریورس سوئنگ کبھی کسی نے نہیں کی۔

یہاں پر یہ اعتراف کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جب میرے صحافی بھائی عمران خان کی سیاست کو کرکٹ کے استعاروں سے بیان کرتے تھے تو مجھے بڑی چڑ ہوتی تھی۔

دھرنے کے دنوں میں کئی رپورٹر خان صاحب سے پوچھتے تھے کہ آپ اگلا باؤنسر کب پھینکیں گے، اگلی وکٹ کس کی لیں گے، خان صاحب نے خود بھی امپائر کی انگلی کا ذکر کر کے اس طرزِ صحافت کو شہ دی۔ میرے جیسا کرکٹ سے نابلد آدمی یہ پوچھتا تھا کہ یہ کون سی کرکٹ ہے جس میں میچ کو ایک سو دن سے زیادہ ہو گئے۔

تو یہ کپتان کی کپتانی کا ہی کرشمہ ہے کہ میں بھی کرکٹ کی زبان میں بات کرنے پر مجبور ہوں۔

خان صاحب کا لمبا رن اپ دیکھتا ہوں، چیتے والی اٹھان دیکھتا ہوں اور پھر دیکھتا ہوں کہ انھوں نے اپنی وکٹ کے پیچھے کون سے کھلاڑی کھڑے کیے ہیں، وہ اپیل پورا گلا کھول کر کر سکتے ہیں، کریز پر کھڑے بیٹسمین کی ماں بہن بھی ایک کر سکتے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی وسیم باری کی طرح لمبی جست لگا کر کیچ پکڑ سکتا ہے؟

اگر مجھے اچھی طرح یاد ہے تو وسیم باری نے ایک دفعہ ایک اننگز میں آٹھ کیچ پکڑے تھے۔ خان صاحب اکثر فرمایا کرتے تھے کہ مجھ سے بہتر ٹیم بنانی کسی کو نہیں آتی اور اس کے لیے وہ ورلڈ کپ کی ٹیم کا ذکر کرتے تھے۔ پھر شوکت خانم ہسپتال کے لیے جو پیسہ اکھٹا کرنا تھا تو اس میں تو انھوں نے قوم کے بچے بچے کو اپنی ٹیم میں شامل کر لیا تھا۔

حکومت میں آ کر انھوں نے جو ٹیم قوم کو پیش کی ہے اس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ کوئی اصلی میچ نہیں ہے بلکہ اس طرح کا بینیفٹ میچ ہے جس میں سارے ریٹائرڈ کھلاڑی شامل ہیں اور صرف اپنے فائدے کے لیے کھیل رہے ہیں۔ عمران خان لمبا رن اپ لے کر پورے زور سے بال پھینکتے ہیں اور ان کا وکٹ کیپر ہے فرزندِ پاکستان۔

عمران خان اگر سنگاپور کے وزیر اعظم کے بجائے شیخ رشید کی کتاب پڑھ لیتے تو سیاست جلدی سیکھ جاتے۔ شیخ رشید نے اس کتاب کا نام رکھا تھا، جی ہاں، فرزندِ پاکستان۔

جو بھی شیخ رشید کو جانتے ہیں اور شفقت محمود اور اسد عمر کو اتنا نہیں جانتے جتنا شیخ رشید کو جانتے، اور بہت عرصے سے جانتے ہیں، وہ سب جانتے ہیں کہ شیخ رشید کو ہر حکومت میں ہونا چاہیے لیکن انھیں سوائے کیمرے کے سامنے بولنے کے کوئی کام نہیں دینا چاہیے۔ (اس کے مقابلے میں عمران خان کی اصلی ٹیم کے ممبر اور صدر مملکت عارف علوی کو کیمرے اور ٹوئٹر سے دور رکھنا چاہیے کیونکہ جب وہ اپنے گھر سے 45 منٹ دور 22 شہریوں کی ہلاکت کی خبر سنتے ہیں تو فرماتے ہیں کہ بہت افسوس ہوا اور مجھے پتا ہے کیونکہ میں بھی ایک دفعہ برفانی طوفان میں پھنس گیا تھا۔ طوفان میں پھنسے لوگوں کو یہ پتہ چلے کہ شاید اگر آپ بچ گئے تو ایک دن آپ بھی صدر بن جائیں، مجھے دیکھیں۔)

شیخ رشید وزیر ریلوے تھے تو اتنے ہولناک حادثے ہوئے کہ لگا کہ قوم کو اسی بات کی سزا مل رہی ہے کہ شیخ رشید کو ان کی پسند کی وزارت نہیں ملی۔ فرزندِ پاکستان ہر آنے جانے والی حکومت میں اپنے عمل سے ثابت کر چکے ہیں کہ کیمرا آن کرو اور میری باتیں سُنو، مجھ سے کوئی کام وغیرہ نہیں ہوتا۔

وہ ہمیں جی ایچ کیو کے مختلف گیٹ نمبر بتا کر ثابت کرتے ہیں کہ قوم کے پاس اپنی بات گیٹ کے اندر پہنچانے کا راستہ وہی ہیں۔ لیکن فرزندِ پاکستان کو پاکستان سے اتنا ڈر لگتا ہے کہ جس دن پاکستان میں ایٹمی دھماکہ ہونا تھا، اسی دن وہ دبئی بھاگ گئے تھے کیونکہ ان کو لگا کہ ہمارا یہ پٹاخہ اِدھر اُدھر ہو گیا تو سارے ہی نہ مر جائیں۔

تو آپ کے ملک کا سب سے طاقتور وزیر وہ ہے جو یہ فیصلہ کرتا ہے کہ آج یہ خطرہ ہے کہ پورا ملک ایک بم دھماکے میں اڑ جائے، اس لیے میں دبئی کی فلائٹ بک کروا لوں۔

عمران خان رن اپ کے لیے مڑتا ہے، سرخ بال کو اپنی سفید پینٹ پر رگڑتا ہے، مڑتا ہے، رن اپ شروع کرتا ہے، پر وکٹوں کے پیچھے شیخ رشید کو دیکھتا ہے تو تھوڑا تھک جاتا ہے، چیتے کی سی چھلانگ بھول جاتا ہے امپائر کی طرف دیکھتا ہے اور امپائر کہتے ہیں کہ آپ نے ہی تو نیوٹرل امپائر کا آئیڈیا دنیا کو دیا تھا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments