مری: پنجاب حکومت کی پانچ رکنی تحقیقاتی ٹیم سیاحوں کی ہلاکت کی وجوہات کا تعین کرنے مری پہنچ گئی
اطلاعات کے مطابق اگلے چار روز اس کمیٹی کے ارکان مری میں ہی قیام کریں گے اور سیاحوں کی ہلاکت کی وجوہات اور انتظامی سطح پر ہونے والی کوتاہیوں اور غفلت کے حوالے سے تحقیقات کریں گے۔
یاد رہے کہ پنجاب کے پہاڑی تفریحی مقام مری میں گذشتہ جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب شدید برف باری کے دوران گاڑیوں میں پھنسے 20 سے زائد سیاح ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
پنجاب حکومت نے اس سلسلے میں آٹھ جنوری کو تحقیقات کے لیے پانچ رکنی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ یہ کمیٹی سات دن کے اندر تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ حکومت کو پیش کرے گی۔
پنجاب حکومت کی جانب سے قائم تحقیقاتی کمیٹی ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب ظفر نصراللہ کی سربراہی میں کام کرے گی، جبکہ دیگر اراکین میں سیکریٹری حکومت پنجاب علی سرفراز، سیکریٹری حکومت پنجاب اسد گیلانی، اے آئی جی پولیس فاروق مظہر شامل ہیں جب کہ پانچویں رکن کی نامزدگی بعد میں کی جائے گی۔
تحقیقات کے دوران کمیٹی کے ارکان پنجاب کے مختلف محکموں کے افسران جن میں محکمہ سیاحت، ہائی وے ڈویژن مری، ضلعی انتظامیہ کے عہدیداروں یعنی کمشنر، ڈی سی، اے سی، سٹی پولیس کے علاوہ نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ (این ڈی ایم اے ) اور صوبائی محکمہ قدرتی آفات (پی ڈی ایم اے) کے ارکان سے بھی تحقیقات کرے گی۔
تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان جائے وقوعہ کا جائزہ لینے کے علاوہ سیاحوں کے بیانات ریکارڈ کر کے رواں ہفتے کے آخر میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو رپورٹ پیش کریں گے۔
https://www.youtube.com/watch?v=FVoa6ZPUOHk
تحقیقاتی کمیٹی کن سوالات کے جواب جاننے کی کوشش کرے گی؟
کمیٹی یہ تحقیقات کرے گی کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس سمیت متعلقہ محکموں نے محکمہ موسمیات کی جانب سے خراب موسم کی پیشگوئی کے باوجود کوئی مشترکہ ایکشن پلان بنایا تھا یا نہیں۔
کمیٹی اس بات پر بھی تحقیقات کرے گی کہ جب مری میں گاڑیاں گنجائش سے زیادہ ہو رہی تھیں تو گلیات اور اسلام آباد سے انٹری پوائنٹس پر سیاحوں کو کیوں نہ روکا گیا۔
اس کے علاوہ کمیٹی اس حادثے کی وجوہات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ریسکیو آپریشن کے مؤثر ہونے یا نہ ہونے کا بھی جائزہ لے گی۔
یہ تحقیقاتی کمیٹی ان آٹھ سوالوں کے ممکنہ جوابات کے حوالے سے تحقیقات کرے گی:
- محکمہ موسمیات نے مری کے حوالے سے کئی وارننگز جاری کیں، اس کے باوجود کیا متعلقہ محکموں نے جوائنٹ ایکشن پلان ترتیب دیا؟
- کیا الیکٹرانک، پرنٹ یا سوشل میڈیا کے ذریعے سفری تجاویز جاری کی گئی؟
- کیا اتنی بڑی تعداد میں گاڑیوں اور سیاحوں کو سنبھالنے کے لیے کوئی پالیسی ترتیب دی گئی؟
- جب مری میں رش ایک حد سے بڑھ گیا تو اسلام آباد اور مری کے داخلی راستوں پر گاڑیوں کو کیوں نہیں روکا گیا؟
- کیا ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے پہلے سے کوئی منصوبہ بندی کی گئی تھی؟
- کیا پھنسے ہوئے لوگوں کو پناہ دینے کے لیے ہوٹل اور گیسٹ ہاؤسز کو ہدایات جاری ہوئیں؟
- جب برف کا طوفان آیا تو ریکسیو آپریشن کی تفصیلات کیا تھیں؟ کیا لوگوں کو گاڑیوں سے نکال کر محفوظ مقامات پر بروقت منتقل کیا گیا؟
- وہ کون سی وجوہات تھیں جو اس سانحے کا باعث بنیں؟
یہ بھی پڑھیے
مری میں جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب ایسا کیا ہوا جو سانحے میں بدل گیا؟
’ہم برف میں پھنسے ہوئے ہیں‘ نوید کا اہلیہ کو آخری پیغام
’غیر ملکی سیاح ایسے ملک کبھی نہیں آئیں گے جہاں لوگ سڑکوں پر مر رہے ہوں‘
مری کی برفباری میں پھنسے سیاح: ’کچھ گاڑیوں پر دستک دے رہے ہیں تو وہاں سے کوئی جواب نہیں ملتا‘
واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے مری میں سیاحوں کی ہلاکتوں پر تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کڑے قواعد لاگو کرنے کے احکامات صادر کر چکے ہیں۔
ٹوئٹر پر جاری بیان میں وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ’مری کے راستے میں سیاحوں کی المناک اموات پر نہایت مضطرب اور دلگرفتہ ہوں۔ ضلعی انتظامیہ خاطرخواہ حد تک تیار نہ تھی کہ غیر معمولی برفباری اور موسمی حالات کو ملحوظِ خاطر رکھے بغیر لوگوں کی بڑی تعداد میں آمد نے آ لیا۔‘
مری کو ضلعے کا درجہ دینے کا فیصلہ
وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی صدارت میں گذشتہ اتوار کو منعقدہ ایک اجلاس کے بعد جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق مری کو ضلع کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ مری فی الحال ضلع راولپنڈی کی تحصیل ہے۔
اجلاس میں مری کی سڑکوں کی تعمیرِ نو، پارکنگ کی سہولیات اور غیر قانونی تعمیرات سے متعلق بھی فیصلے لیے گئے جبکہ مری جانے والی گاڑیوں اور لوگوں کی تعداد کو بھی محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
دوسری جانب مری میں ایک مقامی ہوٹل کو برف میں پھنسے افراد کے لیے کمروں کے کرائے بڑھانے پر سِیل کر دیا گیا ہے۔ کرایوں میں اضافے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر ‘بائیکاٹ مری’ کی مہم بھی چل رہی ہے۔

