سیاحت و تفریح کے لوازمات اور حفاظتی اقدامات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حالیہ دنوں میں سانحہ مری پر کافی کچھ لکھا، پڑھا، کہا، اور سنا گیا ہے ۔ ایسا واقعہ کئی لوگوں کے لئے نیا اور پہلی بار ہے۔ کسے معلوم تھا کہ سیر کے لئے جانے والے گھر واپس نہ آئیں گے؟ کس نے سوچا تھا کہ تفریح ایک خوفناک اور المناک حادثے کی صورت اختیار کر لے گی؟ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے لوگوں کی رائے دو گروہوں میں منقسم نظر آئی۔ پہلا یہ کہ مری میں حکومت اور ریاست ہنگامی حالات پر قابو پانے میں ناکام رہی بلکہ اس نے مجرمانہ غفلت اور بے حسی کا مظاہرہ کیا۔

دوسرا یہ کہ لوگوں کو سیر کے لئے اتنے شدید موسم میں مری جانا ہی نہیں چاہیے تھا۔ لیکن پہلے والی رائے کی زیادہ حمایت نظر آئی ہے۔ ذمہ داری ادا کرنے میں حکومت اور ریاست کی ناکامی والی بات درست ہے۔ فواد چوہدری صاحب مری میں لاکھوں گاڑیوں کے داخلے پر سیاحت کے فروغ کا جشن منا رہے تھے لیکن یہ جشن ایک سانحے میں بدل گیا۔

ٹویٹر پر ایک تصویر دیکھی جس میں دیوار پر خاردار تاریں لگی ہوئی تھیں۔ یہ کسی حکومتی یا فوجی ادارے کی دیوار تھی جس کے اندر موجود لوگوں کے پاس سردی اور برفباری سے بچنے کے لئے تمام لوازمات موجود تھے جبکہ اس دیوار کے باہر لوگوں کی گاڑیاں برف میں دھنسی ہوئی تھیں اور وہ سردی سے مر رہے تھے۔ ان میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے جن کو بروقت امداد دے کر بچایا جاسکتا تھا۔

اس سانحے سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ حکومت وقت شدید موسمی حالات اور حادثات سے نمٹنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ سانحے کا شکار افراد کو الزام دینا victim blaming کے زمرے میں آتا ہے جو قطعی نامناسب اور غیر اخلاقی ہے۔ ہر سال سیاحوں کی بڑی تعداد مری اور گلیات کا رخ کرتی ہے۔ باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے ان مسائل پر قابو پایا جا سکتا تھا۔ حکومت کو چاہیے کہ:

مری اور گلیات میں سیر کے لئے مزدا گاڑیوں یا ویگن کا انتظام کیا جائے اور پرائیویٹ گاڑیوں کے داخلے کو ممکنہ حد تک محدود کیا جائے۔ شہر میں گنجائش سے زیادہ گاڑیوں کے داخلے پر سختی سے پابندی ہو۔

برفباری کے موسم میں برف ہٹانے کے فوری اور جدید انتظامات کیے جائیں۔

حکومت خود سرمایہ کاری کر کے مری اور گلیات میں کثیر المنزلہ ہوٹلز اور ریستوران تعمیر کرے جہاں لوگ محفوظ طریقے سے برفباری سے لطف اندوز ہو سکیں۔ ہوٹلز اور ریستورانوں کے قیام و طعام کے چارجز بھی حکومت خود طے کرے تاکہ ہوٹل مالکان اپنی من مانی نہ کرسکیں۔

مری اور گلیات میں ائر بی این بی کی طرز پر مقامی لوگ اپنے گھروں کے ایک یا دو کمرے سیاحوں کو کرائے پر دے سکتے ہیں۔ اس طرح سیاحوں کو سہولت کے ساتھ ساتھ لوگوں کو روزگار میسر آ جائے گا۔

ٹویٹر پر ایک ویڈیو میں کوئی صاحب تجویز دے رہے تھے کہ برفباری کے موسم میں کیا کرنا چاہیے، یہ ہدایات بورڈز پر نمایاں الفاظ میں لکھ دی جائیں۔

عوام الناس کو بھی سیر و تفریح کے لئے ایسی جگہ جاتے وقت ضروری معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔ مثلاً:

گاڑی کے سائلنسر کو برف میں دھنسنے سے بچائیں تاکہ دھواں خارج ہوتا رہے۔ ورنہ کاربن مونو آکسائیڈ جیسی زہریلی گیس گاڑی میں داخل ہو جائے گی جس کی بدبو نہیں ہوتی اور یہ خاموشی سے انسان کی انسان کی موت کا سبب بن جاتی ہے۔

گاڑی کا ہیٹر چلاتے وقت کوئی ایک شیشہ ضرور کھلا رکھیں۔ خود کو گرم رکھنے کے لئے موٹے اونی کپڑے پہنیں۔
ہر گھنٹے بعد تھوڑا سا پانی لیں۔

دوران سفر موسمی حالات سے باخبر رہیں۔ اگر آگے گاڑیوں کی طویل قطار ہے تو بغیر سوچے سمجھے اس میں پھنسنے کی بجائے اپنی گاڑی واپس موڑ لیں۔

ایسا کوئی تفریحی ٹور پلان کرنے سے پہلے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے بارے میں شعور ضرور حاصل کریں۔ بدقسمتی سے مصیبت اور پریشانی کو کیش کرنے والے لوگ زیادہ ہوتے ہیں اور ایسے وقت میں مدد کرنے والے کم۔ ایسے حالات میں حاضر دماغی اور بروقت درست اقدام کر کے پریشانی اور تکلیف سے بچا سکتا ہے۔ سیر و تفریح کی غرض سے کیا گیا سفر کسی کی زندگی کا آخری سفر نہیں ہونا چاہیے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments