تم ایک بے کار عورت ہو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شاکر علی اور ان کی زوجہ، عابدہ بیگم کے درمیان پہلا جھگڑا تب ہوا جب ان کی بیٹی مناہل نے اچھی پوزیشن سے میٹرک پاس کر کے کالج جانے کا عندیہ دیا۔ عابدہ بیگم اس کی مزید تعلیم کے سخت خلاف تھیں۔ جبکہ شاکر علی کی خواہش تھی کہ وہ کم از کم گریجویشن ضرور کرے۔ وہ بے چارے جو خود میٹرک کے بعد کسی نہ کسی طرح ایک سرکاری محکمے میں جونیئر کلرک بھرتی ہونے میں تو کامیاب ہو گئے تھے، مگر اس کے بعد ابھی تک اسی عہدے پر رکے ہوئے تھے۔ وہ نرم لہجے کے ایک صلح جو آدمی تھے اور آج تک بیوی کی مان کر ہی چلے آرہے تھے۔ یہ ان کی شادی شدہ زندگی کا پہلا موقع تھا کہ وہ کسی معاملے میں عابدہ بیگم کے سامنے یوں ڈٹ گئے تھے۔

عابدہ بیگم بھی عام طور پر ایک سلجھی ہوئی، لڑائی جھگڑے سے دور رہنے والی اور سگھڑ خاتون خانہ تھیں۔ بے شک ان کی تعلیم تو مشکل سے ساتویں جماعت تک ہی تھی مگر ان کی شخصیت جمال و کمال کا مرقع تھی۔ انہوں نے شاکر صاحب کی قلیل تنخواہ میں بھی گھر کا نظام بڑے سلیقے اور وقار سے سنبھالا ہوا تھا۔ مناہل کی مزید تعلیم کے ضمن میں ان کا استدلال تھا کہ نچلے طبقے کی لڑکیاں اگر زیادہ پڑھ لکھ جائیں تو انہیں مناسب رشتے نہیں ملتے۔

پھر ان کی پڑھائیوں پر اتنا پیسہ خرچ ہو جاتا ہے کہ جہیز بنانے کی بھی گنجائش نہیں رہتی۔ بیٹیوں کے ضمن میں ان کی ذہنی پرواز بس شادی کے مسائل تک ہی محدود تھی۔ ان کا دوسرا مسئلہ بیٹے (یاسین علی) سے متعلق تھا۔ یاسین علی ایف اے میں فیل ہو کر آوارہ پھرتا تھا۔ عابدہ بیگم چاہتی تھیں کہ مناہل کو کالج بھیجنے کی بجائے، وہی پیسے خرچ کر کے یاسین کو کوئی ہنر سکھا دیا جائے۔ آخر بیٹا ہے، کوئی ہنر سیکھ لے گا تو چار پیسے کمانے کے قابل ہو کر ہمارے بڑھاپے کا سہارا بنے گا۔

شاکر علی اپنی سی کوشش کر چکے تھے اور اب بیٹے کی نالائقی اور خوامخواہ کی اکڑ سے بہت مایوس تھے۔ یوں بھی ان کا ماننا تھا کہ آئندہ نسلوں کی بہتری کے لئے بیٹیوں کی اعلیٰ تعلیم زیادہ ضروری ہے۔ پرائے گھر میں جانے سے پہلے، تعلیم ہی وہ طاقت ہے جو انہیں اپنے حق کی خاطر لڑنے کی طاقت فراہم کر سکتی ہے۔ اور ایک تعلیم یافتہ ماں ہی بچوں کی بہتر تربیت کر سکتی ہے۔ عابدہ بیگم کو میاں کے ایسے کسی خیال سے تو اتفاق نہیں تھا مگر پھر بھی وہ مناہل کو کالج جانے سے نہ روک سکیں۔

شاکر صاحب نے خود تنگیاں کاٹیں مگر بیٹی کو پہلے ایف سی ایس اور پھر بی سی ایس کروا کر ہی دم لیا۔ اسی دوران میں یاسین علی کو بھی دوبارہ سے ایف اے کا امتحان دلوایا مگر کامیابی نہ مل سکی۔ پھر کوشش کی کہ وہ کوئی ہنر ہی سیکھ لے لیکن وہ کسی بڑے کاروبار کے خواب دیکھ رہا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ باپ کے اس چھوٹے سے مکان کے بدلے بینک سے قرضہ لے کر کوئی بزنس کر لے۔ کالج کے تیسرے سال میں جب مناہل کو محکمہ ء تعلیم کی طرف سے دوسرا لیپ ٹاپ انعام کے طور پر ملا تو اس نے پہلے والا بھائی کو دے دیا۔ پھر اسے آہستہ آہستہ کمپیوٹر کا تھوڑا بہت استعمال بھی سکھا دیا۔ ابتدا میں تو وہ صرف گیمز ہی کھیلتا تھا۔ پھر فیس بک کا اکاؤنٹ بھی بنا لیا اور

رفتہ رفتہ اس کی دلچسپی بڑھتی گئی تو وہ کچھ دوسرے کام بھی سیکھنے لگا۔

بی سی ایس کرنے کے بعد مناہل کو ”آئی ٹی“ ہی کی ایک فرم میں اپرنٹس کی جاب مل گئی۔ جہاں سے کچھ تو آمدنی کا ذریعہ بن گیا اور کچھ ایم سی ایس کرنے کی امید بھی ہو گئی۔ اتفاق سے انہی دنوں شاکر صاحب کی بھی ترقی ہو گئی۔ ان کے آس پاس اب سب ان سے جونیئر تھے تو انہیں بھی سینئر کلرک کی پروموشن مل گئی۔ کچھ تنخواہ میں اضافہ ہوا اور کچھ دیگر مراعات میں بھی۔ مطلب ان کے مالی حالات بھی کافی بہتر ہو گئے۔ لیکن مناہل کو ابھی اپرنٹس شپ پر چند مہینے ہی ہوئے تھے کہ اس کے لئے ایک رشتہ آ گیا۔

لڑکا (یوسف شاہ) چھوٹے چھوٹے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری کا اکیلا مالک تھا۔ وہ لوگ عام طور پر شاہ فیملی سے باہر شادیاں نہیں کرتے تھے لیکن یوسف شاہ اور اس کی ماں (فاطمہ بتول) کو مناہل اور اس کے ماں باپ بہت پسند آ گئے تھے۔ یوسف شاہ کا کاروبار خوب چل رہا تھا اور پھر وہ جہیز بھی نہیں لینا چاہتے تھے اس لئے عابدہ بیگم کو یہ رشتہ زیادہ ہی بھا گیا۔ مناہل نے کافی کوشش کی کہ کچھ دیر اور اس شادی والے معاملے سے بچ رہے مگر عابدہ بیگم کا دباؤ ایسا تھا کہ شاکر صاحب بھی زیادہ دیر بیٹی کا ساتھ نہ دے سکے۔

البتہ باپ اور بیٹی کی کوششوں سے بات چیت کو منگنی اور پھر شادی تک پہنچتے پہنچتے ایک سال سے زیادہ لگ گیا۔ اس دوران میں مناہل اپنی اپرنٹس شپ والی جاب پر اچھے قدم جما چکی تھی۔ فرم کا ڈائریکٹر اس کے کام اور کام کی رفتار سے خاصا خوش تھا۔ اسی لئے طے کر لیا گیا کہ اگر یوسف شاہ شادی کے بعد مناہل کو جاب پر آنے کی اجازت نہ دے تو وہ گھر سے ہی کچھ نہ کچھ کام جاری رکھ سکے۔ پھر اگر ضرورت ہو تو مہینے میں ایک دو بار دفتر کا چکر بھی لگا لیا کرے۔

بہر حال شادی ہو گئی اور جیسا کہ ڈر تھا یوسف شاہ نے مناہل کو جاب پر جانے سے منع کر دیا۔ اس کے کہنے کے مطابق یہ اس کی شان کے خلاف تھا۔ شادی کے کچھ دیر بعد ہی جو پہلا انکشاف ہوا وہ یوسف شاہ کی تعلیم کے بارے میں تھا۔ شادی سے پہلے بتایا گیا تھا کہ وہ بی اے پاس ہے لیکن جلد ہی یہ راز بھی کھل گیا۔ وہ کسی نہ کسی طرح میٹرک پاس کرنے کے بعد ایک کالج میں داخل ضرور ہوا تھا مگر پہلے ہی سال وہاں سے نکال دیا گیا تھا۔

یوسف شاہ کے باپ نے کوشش تو بہت کی لیکن جب اس نے دیکھا کہ اکلوتا بیٹا مزید تعلیم کی طرف رجحان ہی نہیں رکھتا تو اسے اپنے ساتھ فیکٹری میں لگا لیا۔ اب وہ فیکٹری کا کام تو خوب چلا رہا تھا مگر تعلیم کی کمی کی وجہ سے تربیت میں جو کجی رہ گئی تھی وہ دور نہ ہو سکی۔ چنانچہ مناہل کو شادی کے چند دن بعد ہی سسرال کی طرف سے غیر متوقع مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

سب سے پہلے تو یہ خیال ہی غلط ثابت ہوا کہ یوسف شاہ اور فاطمہ بتول نے مناہل کا انتخاب، اس کی قابلیت اور اس کے والدین کی شرافت کی بنیاد پر کیا تھا۔ دراصل ان کی برادری میں دور دور تک کوئی لڑکی اس سے شادی کے لئے تیار نہیں تھی۔ وہ سب لوگ اپنے اپنے کاروباروں میں یوسف شاہ سے کہیں آگے نکل چکے تھے اور اب اپنی نسبت غریب خاندان میں بیٹی کی شادی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ یوسف شاہ اور فاطمہ بتول نے سوچا تھا کہ مناہل ایک غریب خاندان کی بیٹی ہے تو ان کے گھر کی امارت سے دب کر رہے گی۔ مگر جب انہیں ایسا ہوتا نظر نہ آیا تو ان کے رد عمل کی تلخی بہت فطری تھی۔ مناہل کے رویے میں اعتماد کا جو وفور تھا اس کی وجہ

شاکر علی کے الوداعی کلمات بھی تھے۔ جو کسی بھی عام والد کی طرف سے رخصتی کے وقت دی جانے والی ہدایات سے بالکل مختلف تھے۔

انہوں نے کہا تھا ”بیٹی! تم بیاہ کر نئے گھر ضرور جا رہی ہو اور میری دعا ہے کہ وہاں تمہیں ہر طرح کا سکھ، عزت اور اعتماد ملے۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ تم ہم سے جدا ہو رہی ہو۔ یہ گھر ہمیشہ تمہارے باپ کا گھر رہے گا۔ میرے مرنے پر اس گھر کا آدھا حصہ بھی تمہارا ہو گا۔ اور اگر سسرال میں تمہارے ساتھ انصاف نہ ہو تو پہلے اپنا جائز حق حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔ لیکن اگر تمام راستے بند پاؤ تو باپ کے گھر لوٹ آنا۔ یہاں تمہیں پورے وقار سے خوش آمدید کہا جائے گا“ ۔

مناہل، گھر کے ملازمین کے ساتھ بہت نرم رویہ اپنائے ہوئے تھی اور یہی فاطمہ بتول کو اس سے بڑی شکایت تھی۔ ساس صاحبہ کو ٹی وی ڈرامے دیکھنے کا بھی بہت شوق تھا۔ مناہل اس وقت بھی اپنا لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ جاتی تھی۔ یہ اس سے دوسری بڑی تکلیف تھی۔ ساس صاحبہ کی خواہش تھی کہ جب بھی کوئی ہمسائی وغیرہ ملنے آئے تو مناہل اس کے سامنے لش پش کپڑے پہن کر اور زیورات سے لدی پھندی آئے۔ مناہل کو یہ سب بہت مصنوعی لگتا تھا۔ ملنے جلنے والی عورتوں کی غیبت میں بھی وہ ساس کا ساتھ نہیں دیتی تھی۔ اس طرح مناہل کے خلاف ساس کی شکایات میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا تھا۔

یوسف شاہ نے شروع شروع میں تو نئی نویلی دلہن کی محبت میں ماں کی شکایتوں کو نظرانداز کیا مگر پھر آہستہ آہستہ وہ بھی ماں کا ہمنوا بننے لگا۔ اس کے کسی بھی سوال پر مناہل کا پراعتماد اور مدلل جواب جہاں اسے لاجواب کرتا وہیں اسے غصہ بھی دلاتا۔ یوسف شاہ کے پاس جب کوئی دلیل نہ ہوتی تو وہ گالی گلوچ پر اتر آتا۔ مناہل نے اسے کئی بار احساس دلانے کی کوشش کی کہ گالی کسی بھی مرد کی شرافت کو مشکوک بنا دیتی ہے۔ مگر یوسف کے پاس اپنا رعب قائم رکھنے کا یہ آخری راستہ تھا۔

شادی کے تیسرے مہینے جب مناہل کو یقین ہو گیا کہ وہ ماں بننے والی ہے تو اس نے کسی لیڈی ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری خیال کیا۔ فاطمہ بتول اس معاملے میں خاندانی دائی کے علاوہ ہر چیز کو ناز نخروں سے تعبیر کر رہی تھیں۔ اس پر بھی چخ چخ ہوئی۔ یوسف شاہ باپ بننے کی خبر پر اتنا خوش تھا کہ اس نے بیوی کا ساتھ دینا ضروری سمجھا۔ یوں ماں اور بیٹے کے درمیان بھی تلخی پیدا ہو گئی۔ فاطمہ بتول نے اسے اپنی بے عزتی تصور کیا اور یوسف شاہ کی غیر موجودگی میں مناہل کے ساتھ زیادہ سخت برتاؤ کرنے لگی۔

اسی دوران میں یوسف شاہ کا بزنس تنزلی کا شکار ہو گیا۔ اب اسے جہاں آنے والے بچے کی خوشی تھی وہیں کاروبار کی فکر بھی تھی۔ تعلیم کی کمی، کاروباری مشکلات کو سمجھنے کے آڑے آ رہی تھی۔ مناہل نے اسے کئی بار مدد کی پیش کش بھی کی مگر اس نے سنی ان سنی کر دی۔ یوسف شاہ کا دماغ اس حقیقت کو قبول کرنے کے لئے تیار ہی نہیں تھا کہ مناہل ایک عورت ہو کر اس کی فیکٹری کے معاملات میں اس کی کوئی مدد کر سکتی ہے۔ مناہل کہ اپنی جاب بھی یوسف شاہ کو بتائے بغیر ہی جاری رکھے ہوئے تھی اور اب اس کے ساتھ ساتھ وہ ہونے والے بچے کے مراحل سے بھی گزر رہی تھی، اس نے بھی آخرکار اس معاملے میں خاموشی ہی اختیار کر لی۔ یوسف شاہ نے بھی اب مسجد میں زیادہ جانا شروع کر دیا تھا جہاں وہ امام مسجد کو نذرانے پیش کرتا رہتا اور امام مسجد اسے دعاؤں سے نوازتے رہتے۔

انہی الجھے ہوئے حالات میں مناہل نے ایک پیارے سے بیٹے کو جنم دیا۔ یوسف شاہ بچے کی پیدائش پر خوش تو بہت تھا لیکن

اسے ایک بات کا دکھ بھی تھا۔ اور وہ یہ کہ کاروباری حالات کی خرابی کے باعث وہ بیٹے کی خوشی اس انداز سے نہیں منا سکا تھا جیسے کہ وہ منانا چاہتا تھا۔ دادی نے بھی پہلے تو پوتے کی آمد پر بہت خوشی کا اظہار کیا اور مناہل کے بھی صدقے واری جاتی رہیں لیکن جلد ہی انہیں بہو سے نئی شکایت پیدا ہو گئی۔ انہوں نے یوسف کے بھی کان بھرنا شروع کر دیے کہ یہ کیسی ماں ہے جو پاس پڑے بچے کو رونے دیتی ہے اور اسے چپ کرانے کی بھی کوشش نہیں کرتی؟

مناہل نے جواب میں یوسف کو سمجھانے کی سعئی کی کہ وہ جو کچھ بھی کر رہی ہے وہ بچوں کی نفسیات اور پرورش کے ضمن میں پڑھی ہوئی ہدایات کے مطابق اور درست سمت میں ہے۔ یوسف تو نفسیات دانوں کو بھی پاگل سمجھتا تھا، اس کے پلے مناہل کی بات کیسے پڑتی؟ ماں اور بیوی کی چخ چخ، اوپر سے کاروبار کا مندا، یوسف کے چڑچڑے پن میں روز بروز اضافہ ہونے لگا۔

مناہل جو یوسف کی ذہنی حالت کو بھی اچھی طرح سمجھ رہی تھی، اس نے ایک بار پھر کاروبار کے ضمن میں اپنی مدد کی پیش کش کی۔ یوسف اب اپنے غصے پر قابو نہ رکھ سکا اور بولا ”تم ایک بے کار عورت ہو۔ تم سے گھر اور بیٹا تو سنبھالا جاتا نہیں اور میرے کاروبار میں میری مدد کرنے کے دعوے کر رہی ہو۔ تم عورتوں کا یہی مسئلہ ہے۔ چار جماعتیں پڑھ جاتی ہو تو خود کو ہر کام کا ماہر سمجھنا شروع کر دیتی ہو۔ اگر یہ کام عورتیں کر سکتیں تو دنیا کے سارے کاروبار ہی عورتوں نے سنبھالے ہوتے۔ تمہیں تو گھر کے نوکروں سے کام لینا بھی نہیں آتا کیونکہ تمہارے باپ کے گھر میں کبھی کوئی نوکر نہیں تھا“ ۔

مناہل نے اسے سمجھانے کی کوشش میں کتنی مثالیں دیں۔ دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں کے نام گنوائے جن کے انتظامات عورتوں نے سنبھال رکھے تھے۔ ان خواتین کا ذکر کیا جو مختلف ترقی یافتہ ممالک کی وزیر اعظم یا صدر رہ چکی تھیں یا ابھی بھی تھیں۔ اس نے یوسف کو باور کرانے کی سعئی کی کہ آج کا دور آئی ٹی کا دور ہے۔ ہر کام میں سائنس اور ٹیکنالوجی سے مدد لی جا سکتی ہے۔ آپ کے کاروبار کو بھی ایسی ہی مدد کی ضرورت ہے اور میں آپ کو یہ سہولت فراہم کر سکتی ہوں ”۔

لیکن یوسف شاہ نے نہ سمجھنا تھا نہ سمجھا۔ الٹا لاجواب ہو کر گالی گلوچ پر اتر آیا۔ غصے کے عالم میں مناہل کے ماں باپ کو برا کہنے سے بھی تامل نہ کیا۔ مناہل جو شاید اور ہر طرح کا سلوک برداشت کر سکتی تھی، مگر ماں باپ کی تضحیک جھیلنا اس کی فطرت کے خلاف تھا۔ وہ بھی اشتعال میں آ گئی اور اس نے یوسف کا گھر چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔ یوسف کا دماغ تو پہلے ہی کام نہیں کر رہا تھا اس نے بھی اسے فوراً ً نکل جانے کا کہہ دیا۔ مناہل روتی دھوتی بچے کو اٹھا کر باہر نکلنے لگی تو یوسف نے بڑھ کر اس سے بیٹا چھین لیا۔ مناہل نے ایک لمحے کو سوچا اور فیصلہ کیا کہ اگر اس وقت وہ بیٹے کی وجہ سے رک گئی تو ساری عمر بے عزت ہوتی رہے گی۔ وہ بیٹے کے بغیر ہی باہر نکلی، ٹیکسی پکڑی اور باپ کے گھر چلی گئی۔

ادھر جب عابدہ بیگم کو اس کے آنے کی وجہ معلوم ہوئی تو وہ پہلے تو رونے دھونے لگیں، پھر بیٹی سے ناراض ہوئیں کہ اتنی سی بات پر خاوند کا گھر چھوڑ کر کیوں چلی آئی؟ دودھ پیتا بچہ اب تمہارے بغیر کیسے رہے گا؟ کچھ اس کا ہی خیال کیا ہوتا۔ ماؤں کو تو بڑی بڑی قربانیاں دینی پڑتی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ انہوں نے فوراً ً شاکر علی کو فون کر کے ساری بات بتا دی۔

بیٹے کے بغیر تو مناہل کا بھی برا حال تھا مگر اس وقت اسے کچھ اور سوجھا ہی نہیں تھا۔ اب جب اسے وہاں چھوڑ آئی تھی تو یہ پچھتاوا بھی لگا ہوا تھا۔ بیٹے کی محبت اسے ذہنی کشمکش اور وسوسوں کا شکار کر رہی تھی۔ تبھی شاکر علی گھر پہنچے اور انہوں نے بیٹی کو دلاسا دیا۔ اسے خوش آمدید کہا اور معاملات کے اچھی طرح سلجھنے تک وہیں رکنے کی ہدایت کی۔ بچے کے بارے میں ان کا موقف تھا کہ ان برے حالات میں بھی یوسف مالی طور پر ہم سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔

پھر تم اپنی ملازمت سے جو کما رہی ہو وہ بھی اتنا کافی نہیں کہ اس کی بنیاد پر تم بچے کو پالنے کا دعویٰ کر سکو۔ میری کسی ضمانت کو کوئی اہمیت نہیں ملے گی۔ اس لئے اگر یوسف عدالت میں جائے گا تو بھی شاید ہم بچہ اتنی آسانی سے حاصل نہ کر سکیں۔ یوسف تمہاری اس کمزوری کی بنیاد پر تمہیں واپس گھر بلانا چاہے گا تا کہ تمہیں مزید بے عزت کر سکے۔ اس لئے ضروری ہے کہ کچھ دیر بچے کی جدائی برداشت کرو اور پہلے خود کو اقتصادی طور پر مضبوط بناؤ۔ بات مناہل کی سمجھ میں آ گئی اور اس نے یوسف کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی۔

مناہل کی حقیقی رہنمائی اس کی آئی ٹی فرم کے ڈائریکٹر علی نواز صاحب نے کی۔ ان کی عمر تو بمشکل چالیس سال کے قریب ہو گی لیکن وہ اپنی لائن میں اعلیٰ کامیابیاں سمیٹنے والے ایک صاحب مطالعہ شخص تھے۔ ان کی فرم میں پہلے بھی مناہل کی طرز کے کئی واقعات ہو چکے تھے۔ انہوں نے ہر بار ہی رہنمائی کرنے کی کوشش کی تھی۔ گو ہر کسی نے ان کے مشوروں پر عمل نہیں کیا تھا مگر جنہوں نے بھی ان کی تجربہ کاری سے فائدہ اٹھایا انہوں نے کامیابی بھی سمیٹی تھی۔

علی نواز صاحب نے مناہل کو سمجھانے کی کوشش میں بتایا کہ بعض اوقات انسان جس چیز کو اپنی کمزوری سمجھ رہا ہوتا ہے، ذرا سی دانشمندانہ حکمت عملی سے وہی اس کی طاقت بن جاتی ہے۔ آپ ایک ماں ہیں اور دودھ پیتے بچے کی جدائی میں تڑپ رہی ہیں، یہ آپ کی کمزوری ہے۔ لیکن اگر آپ دل پر پتھر رکھ کر کچھ دیر صبر سے کام لے لیں گی تو یہی آپ کی طاقت بن جائے گی۔ یوسف شاہ جو آپ سے بچے کو چھین کر سمجھ رہا ہے کہ وہ آپ کو اذیت دے کر خوش رہ سکے گا، کچھ ہی دنوں میں اس کی یہ خوشی کافور ہو جائے گی۔ اتنے چھوٹے بچے کو ماں کے بغیر سنبھالنا تو نرسوں کے لئے بھی کوئی آسان کام نہیں ہوتا اور وہاں تو اسے ایک بوڑھی اور جاہل ماں کے علاوہ کسی ملازمہ کا کمزور سا سہارا ہی مل سکتا ہے۔ یوسف شاہ اور اس کی ماں جیسے لوگ نازک جذبوں اور کومل لفظوں کی زبان نہیں سمجھتے۔ کچھ ہی دنوں میں ان کے ہوش ٹھکانے آ جائیں گے۔

شاکر علی نے بھی بیٹی کو سخت موقف اختیار کرنے کے لئے کہہ تو دیا تھا مگر وہ بھی اچھی طرح جانتے تھے، اتنا ہی کافی نہیں ہو گا۔ انہوں نے ایک اچھا سا وکیل ڈھونڈا اور مناہل کی طرف سے یوسف شاہ کے خلاف کیس دائر کر دیا۔ وہ بے شک اپنے محکمانہ عہدے میں تو کوئی خاص ترقی نہ کر سکے تھے مگر ان کے تجربات بہت سے اعلیٰ افسران کی نسبت بھی کچھ زیادہ ہی تھے۔ انہیں علم تھا کہ سول کورٹ میں مقدمہ کی تاریخ نکلتے نکلتے بھی کئی مہینے لگ جائیں گے اور تب تک مناہل کی مالی حالت بھی کافی بہتر ہو چکی ہو گی۔ یوسف شاہ تو چاہتا ہی تھا کہ مقدمہ جتنا بھی لمبا کر سکتا ہے کرے، لیکن شاکر علی اور مناہل کی بھی ضرورت تھی کہ کچھ وقت لگ جائے۔

علی نواز نے مناہل کی ہمت بڑھائی اور اسے کام پر دھیان دینے کے لئے کہا۔ اس سے دو فائدے ہوئے۔ مناہل کا خیال

اپنے بیٹے کی طرف کم سے کم جاتا تھا دوسرے وہ اپنی فنی صلاحیت بڑھا رہی تھی۔ یوں ایم سی ایس کرنے کے لئے بھی اس کی امید بڑھ رہی تھی۔ بے شک رات کو کئی بار اس کی آنکھ کھل جاتی اور وہ بیٹے کو اپنے پہلو میں نہ پا کر تڑپ اٹھتی۔ ایسے میں اگر عابدہ بیگم بھی جاگ جاتیں تو انہیں بھی موقع مل جاتا کہ وہ مناہل کو کھری کھری سنا سکیں۔ ان کا ابھی تک یہی خیال تھا کہ مناہل نے یوسف شاہ سے سمجھوتہ نہ کر کے نہایت بے وقوفی کی ہے۔

ادھر مناہل کے آ جانے کے دو ہفتے بعد یوسف شاہ کی فیکٹری میں جلیل اکرام نام کے ایک نوجوان کی آمد ہوئی۔ جلیل نے خود کو کسی بزنس سلیوشن نامی کمپنی کا نمائندہ بتایا۔ اس نے یوسف شاہ کو اپنی کمپنی کی خدمات کی پیش کش کی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کی کمپنی کے مشوروں سے یوسف شاہ کی فیکٹری کا تنزلی کی طرف گامزن کاروبار، نہ صرف یہ کہ سنبھل سکتا ہے بلکہ ترقی بھی کر سکتا ہے۔ یوسف شاہ کو اپنی جیب سے بھی کچھ نہیں دینا۔

البتہ جب کمپنی کے مشوروں کی بدولت فیکٹری کا بزنس آج کی نسبت دو گنا ہو جائے گا تو آپ ہمیں ٹرن اوور کا پانچ فیصد ادا کرنا شروع کریں گے۔ آپ کو اور ہمیں اختیار ہو گا کہ جب چاہیں کسی مہینہ کے آخر میں اس معاہدہ کو منسوخ کر دیں۔ جلیل اکرام کی کئی دنوں کی کوشش کے بعد یوسف شاہ نے اسے اپنے مینیجر سے ملاقات کے لئے کہا۔

سلیم اللہ صاحب، یوسف شاہ کے والد کے زمانے سے اس فیکٹری کے مینیجر چلے آرہے تھے۔ انہوں نے نہ صرف فیکٹری کے تمام حساب کتاب کی ذمہ داری سنبھال رکھی تھی بلکہ محکمۂ انکم ٹیکس کے لوگوں سے نمٹنا بھی انہی کے تجربہ اور واقفیت کی بدولت ممکن ہو پاتا تھا۔ انہوں نے اس فیکٹری کے بہت اچھے دن بھی دیکھے ہوئے تھے اور اب بربادی کے آثار انہیں بھی پریشان کر رہے تھے۔ مگر اپنے عنان اختیار میں کسی کی دخل اندازی بھی انہیں پسند نہیں تھی۔

یہ اور بات کہ جلیل اکرام نے اپنی بات چیت کے دوران صرف ایک مثال سے ہی انہیں رام کر لیا۔ مذکورہ مثال یوں تھی کہ اگر دریا بہہ رہا ہو تو اس میں سے بالٹی دو بالٹی نکال لینے سے نہ دریا کو کچھ فرق پڑتا ہے نا ہی کسی کو خبر ہوتی ہے۔ لیکن اگر موجود صرف ایک بالٹی ہی ہو تو اس میں سے نکالے گئے دو گلاس کا نقصان بھی واضح نظر آتا ہے۔ سلیم اللہ نے بات سمجھ لی تو یوسف شاہ نے بھی اجازت دے دی اور جلیل اکرام نے اپنا کام شروع کر دیا۔

فیکٹری کی کون کون سے مشینیں کب کب خریدی گئیں اور وہ کیا کیا کام کر سکتی ہیں؟ اب تک مختلف لوگوں کو کیسے کیسے پرزے بنا کر دیے گئے ہیں اور کیا کچھ نیا بنانے کی استعداد ہے؟ ایک ہفتے کے اندر جلیل اکرام سب کچھ اپنے لیپ ٹاپ پر اتار کر اپنے ساتھ لے گیا۔ پھر سات آٹھ دن اس کی کمپنی نے اس ڈیٹا پر کام کیا اور یوسف شاہ کی فیکٹری کے تمام مسائل حل کرنے کے طریقے لے کر وہ واپس آ گیا۔ کمپنی کی طرف سے پوری تفصیل بنا کر دی گئی تھی کہ کن کن لوگوں کو کیا کیا آفرز بھیجنی ہیں۔ اسی کے مطابق عمل کیا گیا اور دھڑا دھڑ آرڈر آنا شروع ہو گئے۔ یوسف شاہ نے تو کبھی ایسا سوچا بھی نہیں تھا لیکن حیرت سلیم اللہ کو بھی ہوئی۔

لیپ ٹاپ پر کام کرتے کرتے یاسین علی کی بھی اس کام میں دلچسپی بڑھ گئی۔ اب مناہل کے پاس بھی اتنا وقت ضرور تھا کہ اس کی خاطر خواہ مدد کر سکے۔ سو وہ اسے ایف سی ایس کی تیاری کرانے لگی۔ مناہل اپنے ذرائع سے بیٹے کی خبر بھی رکھ رہی تھی۔ وہاں سے بے شک اچھی خبریں کم ہی ملتی تھیں لیکن اب اس نے بھی قبول کر لیا تھا کہ کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا اور برداشت کرنا ہی پڑتا

ہے۔ شاکر علی وکیل کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور گزرتے وقت کے ساتھ نئی سے نئی حکمت عملی پر بھی غور کرتے رہتے تھے۔

جلیل اکرام کی مدد سے یوسف شاہ کی فیکٹری اتنی تیزی سے ترقی کر رہی تھی کہ وہ بے پناہ خوش اور بے انتہا حیران تھا۔ سلیم اللہ کو اب بالٹی میں سے گلاس بھرنے کی ضرورت نہیں رہ گئی تھی کیونکہ وہ بہتے دریا سے بالٹیاں بھر رہے تھے۔ روپے پیسے کی ریل پیل شروع ہوئی تو یوسف شاہ نے بیٹے کے لئے ایک فل ٹائم نرس رکھ لی۔ کام مزید آگے بڑھا تو اس نے ایک نئی شادی بھی کر لی۔ شادی کے تیسرے مہینے ہی نئی بیوی بھی امید سے تھی اور اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔

ادھر مناہل کے ایم سی ایس کا امتحان پاس کرتے ہی علی نواز نے اسے بڑی تنخواہ کے ساتھ ایک بہتر عہدہ دے دیا۔ یاسین علی نے ایف سی ایس کا امتحان پاس کر کے بی سی ایس میں داخلہ لے لیا۔ عدالت کی طرف سے دو بار تاریخ نکلی لیکن یوسف شاہ کی جگہ اس کا وکیل ہی پیش ہوا اور اگلی تاریخ لے کر چلتا بنا۔ جلیل اکرام ایک دن یوسف شاہ کے پاس آیا اور اس نے مزید کام کرنے سے معذرت کر لی۔ کاروبار پھر مندے کا شکار ہو گیا تو یوسف شاہ نے کسی اور کمپنی سے مدد حاصل کرنا چاہی۔ ایسے میں سلیم اللہ صاحب آڑے آ گئے کہ انہیں کسی اور کمپنی کے آ نے سے اپنی بالٹیوں کا راز کھل جانے کا خطرہ تھا۔

یوسف شاہ نے بار بار ٹیلی فون کر کے پھر سے جلیل اکرام کو بلایا۔ اس نے آ کر بتایا کہ اس کی اپنی حیثیت ایک ڈاکیے سے زیادہ کچھ نہیں تھی۔ تمام کام اور پورا پروگرام تو اس کی کمپنی میں کوئی اور ترتیب دیتا تھا۔ جہاں لاکھوں کمپنیوں کا ڈیٹا دیکھ کر یہ نتائج اخذ کیے جاتے تھے، جو بنے بنائے اس کی فیکٹری کو ملتے تھے۔

مناہل اپنے بیٹے کی وجہ سے یوسف شاہ کے گھر کی مکمل خبر رکھنے پر مجبور تھی۔ اس نے اپنے وکیل کے ذریعے قانونی دباؤ استعمال کیا اور تیسری تاریخ پر یوسف شاہ کو عدالت میں حاضر ہونے پر مجبور کر دیا۔ دونوں اطراف کے وکیلوں نے اپنا اپنا زور لگایا مگر جب مناہل نے عدالت میں یوسف شاہ کی دوسری شادی، اس کی بیوی کے حمل اور اپنی نوکری، آمدنی کے بارے میں تفصیلات پیش کیں تو جج صاحب کے پاس کوئی راستہ نہ رہا سوائے بچہ مناہل کے حوالے کرنے کے۔ سو حکم جاری کر دیا گیا۔ یوسف شاہ دوسرے دن بچہ شاکر علی کے گھر چھوڑنے آیا تو اس نے مناہل سے صلح کی درخواست کی، جو مناہل نے ٹھکرا دی۔

بیٹے کو کھو دینا، یوسف کے لئے جنگ میں شکست کھا جانے جیسا تھا۔ اوپر سے کاروبار اتنی اونچائی پر پہنچ کر پھر سے گرنے لگا تھا اور اسے کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ جلیل اکرام کی منت کی گئی تو اس نے کمپنی کے مالک سے ملوانے کا وعدہ کر لیا۔ جلیل اکرام کا خیال تھا کہ اگر کمپنی کے مالک مان جائیں اور دوبارہ سے یوسف کے ساتھ کام کرنے لگیں تو امید ہے کہ بگڑے کام سنور سکتے ہیں۔ یوسف شاہ کے بار بار کہنے پر جلیل اکرام نے کمپنی کے مالک کے ساتھ اس کی ملاقات کا بندوبست کر دیا۔

کمپنی کے مالک نے یوسف شاہ کی ساری بات سننے کے بعد اسے بتایا کہ اس کا کام تو معمولی ہے لیکن یہ میرے بس کی بات نہیں ہے۔ یہ سب ہماری کمپنی کی ایک ورکر نے انجام دیا تھا۔ اب اگر وہ مان جائے اور آپ کی مدد کو تیار ہو تو مجھے کوئی اعتراض نہ ہو گا۔ یوسف شاہ کی درخواست پر اس ورکر کو بلایا گیا۔ وہ ورکر دراصل مناہل تھی اور مالک علی نواز۔

مناہل کو دیکھتے ہی یوسف شاہ کے پیروں تلے سے تو جیسے زمین ہی نکل گئی۔ غصے سے اس کا برا حال تھا لیکن اس نے خود کو سنبھالا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ یہاں غصہ دکھانے سے نقصان تو ہو سکتا ہے لیکن فائدہ ہرگز کچھ نہ ہو گا۔ اس نے علی نواز سے التجائیہ لہجے میں یہ جاننے کی درخواست کی کہ اسے یہ سب مدد کیوں اور کیسے فراہم کی گئی اور پھر ہاتھ کھینچ لینے کی وجہ کیا تھی؟ علی نواز نے مناہل کو جواب دینے کا اشارہ کیا۔ مناہل نے کہا ”اگر یہ سوال مجھ سے ذاتی حیثیت میں پوچھا جا رہا ہے تو میں جواب دینے کی پابند نہیں ہوں“ ۔

یوسف فوراً بولا ”نہیں، میں یہ سوال آپ کی کمپنی سے کر رہا ہوں اور اس کام کی ادائیگی کے لئے بھی تیار ہوں“ ۔

مناہل یوں گویا ہوئی ”ہماری کمپنی کا تو کام ہی یہی ہے۔ ہم بزنس کے مسائل کو حل کرنے میں مدد دیتے ہیں اور اس کا معاوضہ وصول کرتے ہیں“ ۔

”لیکن آپ لوگ یہ مدد کیسے کرتے ہیں؟ کیا میں پوچھ سکتا ہوں؟“ ۔

”کیوں نہیں؟ معاملہ اپنی نوعیت میں تو بہت سادہ ہے۔ بے شک جب کام کرنا ہوتا ہے تو عقل اور مہارت کے ساتھ ساتھ بے شمار محنت بھی درکار ہوتی ہے۔ تفصیل تو بہت طویل ہے، مختصر یہ کہ ہم اپنے کلائنٹ کی ضروریات کے مد نظر لاکھوں لوگوں اور کمپنیوں کا ڈیٹا چیک کرتے ہیں۔ آپ کیا مال بنا سکتے ہیں اور کہاں بیچ سکتے ہیں؟ یہ ڈھونڈا جاتا ہے۔ اور پھر کلائنٹ کو یہ سب معلومات فراہم کر دی جاتی ہیں۔ اصل کام لاکھوں لوگوں اور کمپنیوں کا ڈیٹا اکٹھا کر کے اس کا تجزیہ کرنا ہے“ ۔

”اب ایک ذاتی سوال ہے، اگر آپ جواب دے دیں تو آپ کی مہربانی ہو گی“ ۔
”آپ پوچھئے، مجھے مناسب لگا تو جواب دے دوں گی“ ۔
”ہمارے درمیان تو جھگڑا ہو گیا تھا۔ پھر آپ نے میری مدد کرنے کی ضرورت کیوں سمجھی؟“ ۔

مناہل نے چند لمحے سوچا، جیسے طے کر رہی ہو، جواب دوں یا نہ دوں؟ پھر بولی ”ضرورت بھی تھی، کیونکہ میرا بیٹا آپ کے پاس تھا۔ آپ کی مالی مشکلات میرے بیٹے پر بھی اثرانداز ہو سکتی تھیں، لیکن بڑی وجہ اور تھی“ ۔

”تو پلیز بتائیے کہ وہ بڑی وجہ کیا تھی؟“ ۔

”میں نے آپ کو بار بار کاروبار میں مدد کی پیش کش کی تھی لیکن آپ نے ہر بار مجھے حقارت سے دھتکار دیا تھا۔ میں ایک بے کار عورت ہوں، یہ بھی کہا تھا اور بار بار کہا تھا۔ عورتیں کاروبار سنبھالنے کے قابل نہیں ہوتیں یہ دعویٰ بھی کیا تھا۔ اور مجھے یہ ثابت کرنا تھا کہ عورت یہ سب کام کر سکتی ہے۔ آج کاروبار کی بنیاد ٹھوس اور تازہ ترین معلومات ہیں۔ یہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ پرانے زمانے کی جنگ نہیں جہاں تلوار چلانی ہو یا گھوڑے دوڑانے پڑیں۔

بنیادی کام کمپیوٹر پر ہوتا ہے۔ اور کمپیوٹر کا اپنا کوئی دماغ نہیں ہوتا۔ دماغ اسے چلانے والے کا استعمال ہوتا ہے۔ آؤٹ پٹ کا انحصار کمپیوٹر چلانے والے کی استطاعت پر ہوتا ہے۔ دماغ اپنی استعداد پر کام کرتا ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھتا کہ وہ کسی مرد کی کھوپڑی میں قید ہے یا اسے کسی عورت کے سر نے سنبھال رکھا ہے۔ میرا خیال ہے کہ

آپ کو آپ کے سوال کا جواب مل گیا ہو گا! ”۔

”جی مل گیا ہے۔ اور اب میری ایک درخواست ہے کہ آپ کی کمپنی پہلے کی طرح میری مدد کرتی رہے۔ میں اس کے لئے پہلے سے زیادہ معاوضہ دینے کے لئے تیار ہوں“ ۔

اب بولنے کی باری علی نواز کی تھی ”ہم آپ کے ساتھ کام کرنے کے لئے تیار ہیں، مگر ہماری ایک شرط ہے“ ۔
”جی بتائیے!“ ۔

”آپ کم از کم اپنی طرف سے لکھ کر دیں گے کہ عورت کو اگر مواقع میسر ہوں تو وہ ہر ایسا ذہنی کام انجام دے سکتی ہے جو عام طور پر صرف مرد حضرات کرتے ہیں۔ اور یہ بھی کہ کوئی عورت بے کار نہیں ہوتی“ ۔

”میں تیار ہوں“ یوسف شاہ نے جواب دیا ”میں یہ سب لکھ کر دینے کو تیار ہوں۔ میں سب سمجھ گیا ہوں۔ یہ سب میری غلطی تھی۔ دراصل میرے ماحول میں کبھی عورت کو یہ موقع دیا ہی نہیں گیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکے۔ مگر میں اب جان گیا ہوں۔ میں آپ کی شرائط پر کام کرنے کو تیار ہوں۔ بلکہ اس ضمن میں اگر میں کوئی اور مدد کر سکوں تو اس کے لئے بھی حاضر ہوں“ ۔

مناہل فوراً ً بولی ”آپ کوئی کاروباری سلسلہ استوار کرنے سے پہلے، میری طلاق کے کاغذات تیار کروا کے میرے حوالے کیجئے۔ تاکہ ہمارا تعلق خالصتاً کاروباری بن جائے“ ۔

”جی بالکل! میں کل ہی یہ کاغذات مکمل کر کے آپ کو پہنچا دیتا ہوں“ ۔
۔

علی نواز نے بعد میں مناہل کو اپنے دفتر میں بلایا، بٹھایا، چائے پلائی اور پوچھا ”کیا آپ نے طے کر لیا ہے کہ اب یوسف شاہ سے کوئی جذباتی رشتہ نہیں رکھنا؟“ ۔

”وہ میرے بیٹے کا باپ ہے سر! یہ رشتہ میں اس سے چھین نہیں سکتی، اور جونہی میرا بیٹا ہوش سنبھالے گا تمام حقیقت اس پر آشکار کر دوں گی۔ بعد میں وہ خود کیا فیصلہ کرتا ہے یہ اختیار اس کا اپنا ہو گا۔ البتہ میرا کوئی ذاتی واسطہ اس سے اب کسی صورت بھی نہیں رہ سکتا۔ آپ نے دیکھا نہیں، میں نے اس سے طلاق کے کاغذات منگوا لئے ہیں؟“ ۔

”اسی لئے تو پوچھا ہے۔ کیونکہ اگر ایسا ہے تو پھر میں آپ کو ایک مشورہ دینا چاہوں گا“
”کیسا مشورہ سر؟“ ۔

”میرا پارٹنر اور چھوٹا بھائی علی نیاز آپ سے بہت متاثر ہے۔ بہت پسند کرتا ہے آپ کو ۔ کام میں اتنا مصروف رہا کہ اب تک شادی بھی نہیں کر سکا۔ وہ آپ سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ پلیز اس کے بارے میں کچھ سوچ بچار کیجئے“ ۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments