عرب اسرائیل پہلی جنگ 1948- قسط نمبر 9

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ تقسیم فلسطین کے نتیجے میں اس خطے میں ایک جنگ کا آغاز ہو جائے گا۔ یہ سب کیسے ہوا اور اس دوران کیا کیا اہم واقعات پیش آئے، اس کا ایک مختصر تذکرہ پیش خدمت ہے۔

29 نومبر 1947 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی جس میں فلسطین کے برطانوی مینڈیٹ کو دو ریاستوں ( ایک عرب اور ایک یہودی) اور یروشلم شہر میں تقسیم کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد کی سفارش کی گئی۔

جیسے ہی 29 نومبر 1947 کو، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے تقسیم فلسطین کی قرار داد منظور کی گئی تو یہودیوں میں زبردست خوشی کی لہر دوڑ گئی اور عرب دنیا میں ایک بڑے پیمانے پر غم و غصے کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ یاد رہے اس وقت تک اسرائیل میں یہودیوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہو چکی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر عرب ممالک میں بھی یہودی آباد تھے۔ (یاد رہے 1947 میں ہی ہندوستان کی تقسیم کا اعلان بھی ہوا تھا) ۔

تقسیم فلسطین کے اعلان کے فوری بعد فلسطین کے مختلف علاقوں میں پرتشدد ہنگامے شروع ہو گئے۔ ایک طرف یہودی تھے اور دوسری طرف وہ عرب جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی لیکن ان کے ساتھ عیسائی بھی بڑی تعداد میں شریک تھے۔ اس موقع پر برطانیہ نے غیر جانبداری کا کردار اپنایا اور خانہ جنگی کو بڑھنے سے نہ روکا۔ بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے تقسیم ہند کے وقت پنجاب میں ہونے والی خانہ جنگی کو نہیں روکا۔

عربوں میں زبردست جوش و خروش پیدا ہوا۔ کئی اطراف سے عرب مجاہدین فلسطین آنا شروع ہو گئے۔ اس جنگ کی تفصیلات بہت ہی ہولناک ہیں۔ ایک طرف یہودیوں کے گروہ تھے۔ (ابھی اسرائیل کی باقاعدہ فوج نہیں تھی) ۔ عرب بھی مختلف گروہوں کی شکل میں لڑ رہے تھے۔ اس تمام صورت حال میں یہودی ایک مشکل صورت حال میں گرفتار ہو گئے۔

یوں تو اس جنگ کے کئی سرکردہ لوگوں کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے ایک شخصیت عبد القادر الحسینی تھے جو کئی سو مجاہدین کے ساتھ مصر سے آئے تھے اور انھوں نے مقامی طور پر بھی کئی ہزار رضاکاروں کو بھرتی کیا۔ ان سب کی مدد سے انہوں نے یروشلم میں موجود ایک لاکھ یہودی باشندوں کا محاصرہ کر لیا۔ یہودیوں کے کئی جنگجو گروہوں نے (جن میں ایک اہم ترین گروہ ہاگنہ تھا ) ان کا بھر پور مقابلہ کیا۔ لیکن عبد القادر الحسینی نے انہیں بے حد نقصان پہنچایا۔

عرب لیگ اور اس کا کردار

اس سے قبل کہ میں آپ کو عرب اسرائیل کی پہلی جنگ سے متعلق کچھ معلومات فراہم کروں میں چاہوں گا کہ وہ تنظیم جس نے اس جنگ کو شروع کیا ( یعنی عرب لیگ) اس کا مختصر تعارف آپ کی خدمت میں پیش کروں۔

یاد رہے کہ جنگ عظیم اول کے خاتمے کے بعد اس علاقے میں کئی عرب ریاستیں معرض وجود میں آ چکی تھیں جبکہ فلسطین پر ابھی تک انگریزوں کا قبضہ تھا۔ عربی بولنے والی افریقی اور ایشیائی ریاستوں نے اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر عرب لیگ (جسے الجامعۃ العربیہ کا نام بھی دیا گیا ) اس کی بنیاد 1945 قاہرہ میں رکھی گئی تھی۔ ابتداء میں چھ ممالک اس کے ممبر تھے اور اب ان کی تعداد 22 ہے۔ اس لیگ کا بنیادی مقصد عرب دنیا کے قومی معاملات کو بہتر انداز میں پیش کرنا ہے۔

عرب لبریشن آرمی (ALA)

جب فلسطین کی تقسیم کی گئی تو اسی عرب لیگ نے عرب لبریشن آرمی (ALA) بنائی جس نے اسرائیل کے خلاف جنگ کی۔ (میں اس جنگ کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ اس میں کافی ایسی باتیں جاننے کو ملیں جن کا ذکر منفی اثرات پیدا کر سکتا ہے ) ۔ بہرحال یہ بات بڑی اہم ہے کہ جیسے ہی فلسطین پر انگریزوں کا حق حکمرانی ( 14 مئی 1948 کو آدھی رات کو) ختم ہوا اس کے دوسرے دن ہی 15 مئی کی صبح کو عرب فوج فلسطین کے علاقے میں داخل ہو گئی۔

آغاز میں یہ جنگ ایک خانہ جنگی کی صورت میں شروع ہوئی لیکن جلد ہی اس نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ جنگ کئی ماہ تک چلتی رہی اور زیادہ تر فلسطین، جزیرہ نما سینا اور جنوبی لبنان کی سر زمین پر لڑی گئی۔

جنگ کے نتیجے میں اسرائیل نے اس تمام علاقے پر قبضہ کر لیا جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد میں منقول تھا۔ اس طرح پہلی مرتبہ اسرائیل فلسطین کے تقریباً 60 فیصد علاقے پر قابض ہو گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ علاقے اردن کے پاس چلے گئے۔ اسی دوران مصری فوج نے غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لیا۔ یاد رہے فلسطین کے لوگوں نے ایک دفعہ یہ مطالبہ بھی کیا کہ انہیں ٹرانس جورڈن (یہ دریائے اردن کے مشرقی کنارے کا وہ علاقہ تھا جس پر برطانیہ اور اردن کے شاہی خاندان کی حکومت تھی) کے ساتھ ملا کر ایک آزاد عرب ریاست کا درجہ دے دیا جائے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ جنگ کے نتیجے میں فلسطین کے علاقے میں سات لاکھ فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل کر دیے گئے اور وہ فلسطینی پناہ گزین بن گئے جو اب تک پناہ گزین ہی ہیں۔ جنگ اور جنگ کے بعد صرف تین سالوں میں دس لاکھ کے قریب یہودی اسرائیل میں آ بسے۔

جنگ کا یہ انجام کیوں ہوا؟ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ جیسے مناسب فوج کا نہ ہونا، جنگی سامان کی کمی وغیرہ وغیرہ۔

میں نے اب تک جو پڑھا اس کے مطابق سب سے بڑی وجہ عربوں کے باہمی کشمکش تھی۔ باقی اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔

مختصر یہ کہ جنوری 1948 کو عرب لبریشن آرمی نے فلسطین میں قدم رکھا جس کی اسرائیل نے سخت مزاحمت کی۔ اس جنگ میں کئی مرتبہ جنگ بندی کا موقع بھی آیا۔ اسرائیل کی ایئرفورس نے بھی اس میں حصہ لیا، لیکن آخر کار عرب لبریشن آرمی کامیاب نہ ہو سکی۔

بریگیڈئیر ضیاءالحق اور فلسطینی مہاجر

اس موقع پر میں ایک اور بات بھی آپ کو یاد دلوانا چاہتا ہوں کہ ہم نے اکثر سنا ہے کہ جب جنرل ضیاء الحق بریگیڈئیر تھے تو انہیں پاکستان کی طرف سے اردن بھیجا گیا تھا اور وہاں پر انہوں نے فلسطینی لوگوں کے خلاف جنگ کی تھی۔

اس کی تفصیل بھی بہت افسوسناک ہے۔ جس کا مختصر احوال یہ ہے کہ پہلی عرب اسرائیل جنگ اور دوسری چھ روزہ جنگ کے نتیجے میں بہت بڑی تعداد میں فلسطینی اردن میں آ کر پناہ گزین بن گئے۔ شروع میں تو کوئی مسئلہ نہ بنا لیکن جلد ہی شام، ایران اور پی ایل او (جس کے سربراہ یاسر عرفات تھے ) نے اردن کے شاہی خاندان کے لیے مسائل پیدا کرنے شروع کر دیے۔ جسے ختم کرنے کے لیے اردن کے بادشاہ نے پاکستان سے درخواست کی اس سلسلے میں ضیاءالحق کئی سال تک پاک فوج کے دستے کے ساتھ اردن میں رہے۔

یاسر عرفات کا دعویٰ ہے اس دوران پچیس ہزار فلسطینیوں کو قتل کیا گیا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تعداد تین ہزار کے قریب تھی۔ کسی ایک بے گناہ کا قتل بھی پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے۔

اس لیے مجھے اب تک یاد ہے کہ جب میں ٹیکسٹائل کالج میں پڑھتا تھا تو اس وقت ہمارے ساتھ فلسطین کے لڑکے بھی تھے۔ جو اس بات کا تذکرہ کرتے تھے کہ آپ کی فوج نے ہمیں بے حد نقصان پہنچایا تھا۔

یہ ایک افسوسناک کہانی ہے۔ مجھے ایک صاحب نے یہ بھی بتایا کہ اب تک ان فلسطینی مہاجرین کو کوئی بھی عرب ملک نیشنلٹی نہیں دیتا اور یہ جہاں بھی رہتے ہیں مہاجرین کی صورت میں ہی رہتے ہیں۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ان کے حال پر رحم کرے اور یہ بھی کبھی اپنے گھروں میں سکون سے رہ سکیں۔ (آمین)

اس سیریز کے دیگر حصےبنی اسرائیل سے اسرائیل تک تین مذاہب کا مرکز: قسط نمبر 8بنی اسرائیل سے اسرائیل تک تین مذاہب کا مرکز : قسط 10

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments