ہمارا تعیلمی نظام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تعلیم کسی بھی معاشرے میں اساسی عوامل میں شامل ہے اور اس کے بغیر ترقی کا خواب دیکھنا بیکار ہے۔ وہ اقوام کبھی بھی دنیا پر حکمرانی کا خواب نہیں دیکھ سکتیں جو تعلیم سے دور ہوں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ اس اساسی چیز کو ہمارے ہاں نظر انداز کیا گیا ہے اور اس کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔

ہمارے نظام تعلیم میں وہ کون سی خصلتیں ہیں جن کی وجہ سے اب تک یہ ہماری قومی امنگوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کون سی خرابیاں ہیں جنہوں نے اس تعلیمی نظام کو اتنا ناقص بنا دیا ہے کہ ایم پی ایل کر کے آنے والے طالب علم کو ابھی تک نہیں پتہ کہ استاد سے کیسے بات کرتے ہیں، والدین سے کیسے سلوک کرتے ہیں۔ نہ اخلاقی اقدار سے واقف ہے نہ معاشرے سے مانوس ہے۔ ایسے نظام تعلیم سے کیا توقع وابستہ کی جا سکتی ہے۔

یہ نظام تعلیم ملک میں رائج کرنے کی چیز نہیں ہے بلکہ انقلاب کے ذریعے اکھاڑ پھینکنے کی چیز ہے۔ اس لیے اس میں خصوصی اصلاحات کی نہ صرف ضرورت ہے بلکہ اس کی اساس کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، ہمارا نظام دو حصوں میں تقسیم ہے ؛ پہلے میں مذہبی درس گاہوں کے نقائص کو واضح کرنے کی کوشش کروں گا، پھر ایک نگاہ عصری تعلیمی درس گاہوں کے نقائص پر ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔

٭ سب سے بڑی خامی جو اس نظام تعلیم میں ہے، وہ قومی وحدت کا فقدان ہے۔ ہم نے تعلیم کو مختلف حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ یہ بہت ہی خطرناک مرض ہے جو ہم نے اپنے تعلیم نظام میں روا رکھا ہے، میں آگے جا کر بتاؤں گا کہ اس سے کتنے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ہمارا نظام تعلیم دو اہم حصوں میں تقسیم ہے ؛ مدارس اور عصری علوم کی درسگاہیں۔ پھر مزید اردو اور انگلش میڈیم اسکول کی تقسیم۔ کسی بھی ملک یا قوم میں بنیادی تعلیم میں وحدت نہ ہو تو اس کے بارے میں کیا رائے قائم کی جا سکتی ہے بلکہ کہا جاسکتا ہے انہوں نے خود اپنے مقدر میں بربادی کا فیصلہ اپنے ہاتھوں سے لکھا ہے۔

ہمارے ہاں علما، مصلحین، مفکرین اور فلسفی کہتے پھرتے ہیں کہ قومی اتحاد ضروری ہے قومی وحدت کے بغیر قومی سطحی کی سوچ پیدا کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ شورو غل مچاتے رہتے ہیں لیکن کبھی ان کو توفیق نہیں ہوتی کہ عقلی بنیادوں پر اس کی اساس تلاش کی جائے۔ جب تک چیز کی اساس تلاش نہ کی جائے اس کو کیسے درست کیا جا سکتا ہے۔ ان کو کوئی بتائے کہ جو تعلیمی نظام آپ نے بنایا ہے اور بنیاد ہی میں اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، وحدت کا خواب آپ کیسے دیکھ رہے ہیں۔

مدرسے سے پڑھنے والے بچے کا ایک الگ پس منظر ہے، وہ اپنے علوم و فنون مگن ہیں۔ یہ اپنی دنیا میں بستے ہیں اور عصری علوم کے طالب علم اپنی دنیا میں۔ یہ اس دنیا سے ناواقف ہوتے ہیں اور عصری علوم کے بچے مدارس کی دنیا سے ناواقف ہوتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ بائیس سال تک آپ ان بچوں کو الگ الگ ماحول، تعلیمی نظام اور پس منظر سے پڑھا رہے ہیں اور ان کو الگ پس منظر اور علوم پڑھا رہے ہیں اور ایک دن اچانک دونوں کو ملا کر وحدت کا خواب دیکھتے ہیں، ابلاغ کا رشتہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بالکل بے سود کوشش ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ نے ایک ملایا کو میرے سامنے بٹھا دیا ہے ان کو نہ میری زبان کا پتہ ہے اور مجھے ان کی زبان سے واقفیت ہے۔

٭ ہماری مذہبی تعلیم میں دوسرا نقص تقلید اور جمود ہے۔ ہم کچھ افکار اور عقائد باندھے ہوئے ہیں، نہ سوچ سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں بلکہ مذہبی تعلیم کا المیہ یہ ہے کہ بات ہی یہاں سے شروع کی جاتی ہے کہ بہرحال آسمانی تعلیمات کو عقلی بنیاد پر پرکھنا فضول ہے بلکہ یہ سب عقیدے کی بنیاد پر مان لینے کی چیز ہے۔ عقلی بنیاد پر کسی چیز کو ثابت کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ ہم اس کے پابند نہیں۔ جب بات ہی یہاں سے شروع کی جاتی ہے تو اس طالب علم سے غور و فکر اور تدبر کیا امید کی جا سکتی ہے جو بیس پچیس سال اس نظام میں بسر کر کے آتا ہے وہ تقلید پرست ہی ہو گا۔

وہ اپنے فرقے میں محدود رہے گا، اپنے امام کی رائے کو حتمی سمجھے گا۔ وہ کسی طرح بھی جدید مسائل سے آگاہ نہیں ہو گا۔ اس میں تحقیق و جستجو کا مادہ ہی باقی نہیں رہے گا۔ وہ محض ایک بت بن کر رہ جائے گا۔ آپ جو کچھ اسے کہیں گے، بس وہ اس کو مان لے گا۔ بھلے اس کو لاکھ دلائل بعد میں دیے جائیں، وہ کسی کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہو گا۔ اور تیار بھی کیوں کر ہو گا۔ جب تعلیم گاہیں دیوبندیوں، بریلویوں اور اہل حدیث کے نام پر رجسٹرڈ ہوں گے۔ ظاہر ہے دیوبندی مدارس سے دیوبندی ہی نکلے گا، بریلوی مدارس سے بریلوی نکلے گا۔ مسلمان اور انسان کا نکلنا مشکل نہیں، ناممکن ہے۔ جب نظام تعلیم میں تعلیم کے بجائے فرقے پڑھائے جائیں گے تو یہی ہو گا۔

٭ مذہبی نظام تعلیم کا ایک المیہ یہ ہے کہ اس کے نصاب میں قرآن مجید شامل ہی نہیں ہے۔ یہ بات ہضم کرنا اگرچہ مشکل ہے لیکن فی الواقعہ ایسا ہی ہے۔ آپ کسی بھی مسلمان سے پوچھ لیں کہ اسلام کی تعلیمات کا بنیادی ماخذ کیا ہے وہ بلا جھجک آپ کو جواب دے گا کہ قرآن مجید۔ یہی دین کی اساس ہے اور یہی ہمارے نظام تعلیم کی بنیاد ہے لیکن عجیب معاملہ ہے کہ یہ کتاب مسلمانوں کی مذہبی درسگاہوں کے نصاب میں جگہ پانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوئی۔

مدارس میں کچھ فنی مباحث پڑھائے جاتے ہیں، حدیث پڑھائی جاتی ہے اور آج کل بڑا زور لگا کر قرآن مجید کا ترجمہ پڑھایا جاتا ہے، در حالانکہ اس کتاب کو تعلیمی نظام کا محور ہونے کی حیثیت حاصل ہونی چاہیے تھی لیکن عجیب بات ہے کہ محور و مرکز ہونا تو درکنار یہ اس کے سلیبس میں بھی شامل نہیں ہے۔ مذہبی درسگاہوں میں قرآن مجید کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا ہے وہ یہ ہے کہ قرآن مجید تو تلاوت کے لیے ہے، اسے پڑھیے اور ثواب حاصل کیجیے، اس کا کچھ حصہ یاد ہونا چاہیے تاکہ نماز پڑھائی جا سکے۔

پورا پورا یاد کیا جائے تو بہتر ہے تاکہ تراویح کی بزم آباد کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ بھی اگر مدارس میں قرآن مجید کا کوئی مصرف ہے تو ایصال ثواب ہے۔ قرآن مجید کے حوالے سے غور و تدبر نام کی کوئی چیز مدارس میں ہے ہی نہیں۔ جب تک اس کتاب کو مذہبی تعلیم کا محور نہیں بنایا جائے، اس وقت تک وحدت کا خواب دیکھنا فضول ہے۔

٭ نصاب انتہائی فرسودہ ہے۔ یہ نصاب تبدیلی اور اخلاقی اقدار کہاں سے پیدا کرے گا جو خود اخلاقی اقدار سے عاری ہے۔ بقول استاد محترم ”وہ منطق مر چکی ہے جس کی تعلیم وہاں دی جاتی ہے، وہ فلسفہ ختم ہو چکا ہے جسے وہاں پڑھایا جاتا ہے، وہ علوم و فنون اپنی مدت پوری کر چکے ہیں جو اب بھی وہاں مطلوب و مقصود ہیں، دنیا اس سے بہت آگے جا چکی ہے لیکن وہ اب بھی اسی جگہ کھڑے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ اب بھی یونان کا فلسفہ اور منطق اور اس کے دور متوسط میں جو کچھ تھا وہ اپنی بساط لپیٹ کر دنیا سے کب کا رخصت ہو چکا ہے لیکن کبھی مدرسوں میں جا کر بیٹھ جائیں؛ وہی بحثیں وہی باتیں وہی منطق وہی ارسطو وہی افلاطون، اس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، جن سے اب نہ دنیا کو دلچسپی ہے اور نہ ہی ان کا کوئی مقام دنیا میں باقی رہا۔

اپنے زمانے میں اس کی اہمیت ہوگی اس میں کوئی شبہ نہیں اور یقیناً تھی۔ بہرحال اب دنیا اس سے بہت آگے جا چکی ہے ؛ فلسفہ، فلکیات، حکمت، طبعیات میں بے شمار مکتبہ فکر پیدا ہو چکے ہیں۔ بہت سے محل ٹوٹ چکے ہیں، بہت سے قصر آباد ہو گئے۔ اب تو علوم و فنون کا حال یہ ہے کہ ساری کی ساری اساسیں نئے سرے سے ترتیب پا رہی ہیں لیکن ہم وہیں کے وہیں کھڑے ہیں جہاں ہمارے اسلاف ایک زمانے میں ہمیں چھوڑ کر گئے تھے، یہ وہ حقائق ہیں جن سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا ہے۔“

مذہبی نظام تعلیم کے مقابل جو دنیاوی تعلیم کا نظام ہے، اس میں بھی اتنا ہی سقم موجود ہے جو دینی تعلیم میں ہے۔ اس میں بھی مندرجہ ذیل خرابیاں موجود ہیں جن کی اصلاح کے بغیر ہم رشوت خو ر، بددیانت، قاتل تو پیدا کر سکتے ہیں، اچھے انسان نہیں۔

٭ سب سے پہلی خامی جو جدید تعلیمی اداروں میں موجود ہے وہ دینی اساس سے محرومی ہے۔ آپ نے چار پانچ اسباق اسلامیات کے شامل کر دیے یا اسلامیات کو لازمی قرار دے دیا۔ اس کی حیثیت اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ایک گیلن پیشاب سے بھر دیا جائے اور اس میں دو قطرہ آب زم زم ٹپکا دیا جائے اور دعوی کیا جائے کہ اب یہ پاک و مطہر ہو گیا ہے۔ ایک نظام تعلیم اپنی بنیاد اور نصب العین میں غلط ہے، آپ کس طرح اس میں دین و اخلاق کو داخل کریں گے۔

نظام تعلیم محض چند کتابیں نہیں ہوتیں یا ایک متعین نصاب نہیں ہوتا نہ ہی چند عمارتیں ہوتی ہیں جس میں لوگ بیٹھ جائیں بلکہ نظام تعلیم بذات خود ایک تہذیب ہوتی ہے جو انسانی اقدار کو پروئے ہوئے ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں اس قدر غیر ذمہ داری برتی گئی کہ نو آبادیاتی نظام تعلیم کو بغیر سوچے سمجھے قبول کر لیا گیا۔ ان کا ایک نوآبادیاتی نقطہ نظر تھا، اس کے تحت انہوں نے اس نظام تعلیم کو تشکیل دیا۔ جو سیرت و کردار ہم لوگوں کے اندر پیدا کرنا چاہتے ہیں، وہ اس کے برخلاف بالکل دوسرا نظام ہے۔

اس نظام کی عمارت ایسے نہیں ہے کہ اس میں کہیں کوئی خرابی موجود ہے، اس کو ٹھیک کر کے نظام کو درست کیا جا سکتا ہے بلکہ اس نظام کا حال یہ ہے کہ اس کی اساس ہی غلط ہے۔ اس کو کہاں سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ بنیاد سے لے کر اوپر تک یہ عمارت غلط کھڑی ہے، اس نظام سے کوئی توقع نہیں کی جا سکتی۔ بلکہ یہ المیہ ہے کہ جو پس منظر مدارس کے طلبا لے کر آتے ہیں انہیں دنیاوی علوم کو سمجھنے میں دقت ہوگی۔ بالکل اسی طرح جو جدید تعلیمی اداروں سے پڑھ کر جاتا ہے، اس کے لیے مذہبی لوگوں کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے۔ بیس بائیس سال تو وہ ایک دوسرے نظام میں بسر کر چکا ہے، اگر اس طرح کے لوگوں کو دین سکھانا چاہیں تو اس کے لیے ایک نیا آدمی پیدا کرنا پڑتا ہے اور نیا آدمی پیدا کرنا آسان کام نہیں ہے۔

٭ اس نظام کے بنانے والوں کو معلوم تھا کہ یہ قوم مسلمان ہے اور یہ اپنے مذہب سے غیر معمولی وابستگی رکھتے ہیں، جذبات سے مغلوب ہو جاتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ حق ہے وہ ہمارے پاس ہے اس لیے ان کے لیے دین چھوڑنا بالکل ناممکن ہے اور دین کے حوالے سے بھی ان کے پاس اتنا علم موجود نہیں ہے کہ اگر ان کے سامنے کوئی دیوار کھڑی کر دی جائے تو اس کا مقابلہ کر سکیں۔ اگر ہم ان کو مسلمان ہونے سے باز نہیں رکھ سکتے لیکن اتنا تو کر سکتے ہیں کہ ان کو شکوک و شبہات میں مبتلا کر دیں کہ اس کے بعد وہ مسلمان کہلاتے ہوئے بھی مسلمان نہ رہیں۔

ہم ان کو کافر نہیں بنا سکتے لیکن یہ تو کر سکتے ہیں کہ ان کو مسلمان نہ رہنے دیں۔ اس مقصد کو پانے میں انہیں کوئی ناکامی نہیں ہوئی۔ اپنے اہل علم کو دیکھ لیجیے، اپنے ارباب اختیار کو دیکھ لیجیے، اپنے علما کو دیکھ لیجیے، ماہرین فن کو دیکھ لیجیے۔ اپنے فن میں بڑی مہارت رکھتے ہوں گے، گفتگو کریں گے تو معلوم ہو گا آسمان سے باتیں کر رہے ہیں لیکن دین کے بارے میں بات کیجیے تو معلوم ہو گا کہ دین کی الف ب سے واقف نہیں۔ اس تعلیم نظام سے اس کی کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ یہاں سے رشوت خور پیدا ہوں ‌گے، بددیانت پیدا ہوں گے، بدتمیز پیدا ہوں ‌گے، گستاخ پیدا ہوں گے۔ یہ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں، یہ اسی نظام تعلیم سے اٹھتا ہوا دھواں ہے جو معاشرے میں پھیل رہا ہے۔

٭ پھر ایک اور حادثہ اس جدید تعلیم کو درپیش ہوا ہے ؛ جس طرح ہماری مذہبی تعلیم میں تقلید اور جمود ہے اسی طرح اس میں بھی تقلید پرستی اس سے زیادہ ہے کم نہیں ہے۔ آدمی کو اپنے مکتبہ فکر اور خاص زاویہ سے باہر نہیں نکلنا ہے۔ آپ اختلاف کریں تو معلوم ہو گا کہ آپ کو مار دے گا۔ جب تک کوئی فتویٰ نہ لگا لے، آپ کی جان نہ چھوڑے۔ آپ کوئی بصیرت کی بات کر لیں تو وہاں سے خون خرابہ شروع کر دیں۔ اگر کسی آدمی میں یہ خبائث موجود ہوں تو معاف کیجیے گا کہ وہ خواہ دینی مدارس سے پڑھ کر آیا ہو یا عصری تعلیم گاہ سے پڑھ کر آیا ہے وہ آدمی کب ہوا، کیسے ہوا۔

اگر آدمی بنتا تو ظاہر سی بات ہے کہ اس کے اندر آداب و اقدار پیدا ہوتے۔ چیزوں کو سمجھنے کا صحیح ذوق پیدا ہوتا۔ بس یہی ان کا حال ہے۔ آپ ان کے سامنے کوئی بات کر دیں اور کہہ دیں کہ فلاں مغربی مفکر نے یہ کہا ہے فلاں کتاب میں یہ لکھا ہے حالانکہ پڑھانے والے نے بھی اس کتاب کو دیکھا نہیں ہے لیکن ان کو معلوم ہے کہ مخاطبین نے کون سی کتاب پڑھی ہوگی، وہ بلا جھجک اپنی طرف سے کہہ دیتے ہیں۔ لیکن محض یہ کہہ کر وہ بری الذمہ ہو جاتا ہے کہ فلاں مغربی مفکر نے کہا ہے کوئی تحقیق، کوئی دلیل، کوئی استدلال اس طرح کے نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔ بیشک وہ نسخہ ان کے لیے موت کا سامان ہو لیکن عطائیوں کا معاملہ یہ ہے کہ نسخہ پلائیے اور تسخیر کیجیے، کیونکہ مجرد عقل ان کے پاس ہے ہی نہیں۔ آدمی مرتا ہے تو مرے، جیتا ہے جیئے۔

٭ جس طرح مذہبی لوگ جلد جذباتی ہو جاتے ہیں اسی طرح عصری تعلیم حاصل کرنے والوں کا بھی حال یہی ہے۔ بات کی اساس کیا ہے، اس سے ناواقف ہوتے ہیں۔ جس طرح مولوی سے پوچھ لیجیے کہ اس بات کی بنیاد کیا ہے تو کہیے گا بخاری میں لکھا ہے، درمختار میں لکھا ہے یا المبسوط میں لکھا ہے۔ اسی طرح ان لوگوں کو پوچھ لیجیے تو کہیں گے کہ اخلاق میں لکھا ہے، قانون میں لکھا ہے، چار کتابوں کے نام لیں گے اور آپ کو خاموش کر دیں گے۔ اگر بات کی اساس پوچھ لیجیے تو وہ اس سے ناواقف ہوتے ہیں۔ عقلی دلائل پوچھ لیجیے تو آپ کو مارنے پر آ جائیں گے اور بول اٹھیں گے کہ تم کون ہوتے ہو ارسطو پر تنقید کرنے والے ، افلاطون کو غلط کہنے والے، اپنی اوقات میں رہو۔ یعنی کہ یہ ادھر کے مولوی اور وہ ادھر کے مولوی۔

٭ ایک اور واقعہ جو ہمارے تعلیمی نظام کو درپیش ہے وہ زبان سے ناواقفیت ہے۔ اردو سے ناواقف ہیں لیکن جس انگریزی کو ہم نے سر پر چڑھا رکھا ہے اس کا یہ حال ہے کہ ماسٹر کرنے کے بعد اگر کوئی چیز معلوم بھی ہے تو یہ ہے کہ انگریزی میں لکھتے ہوئے بائیں طرف سے قلم کو چلایا جاتا ہے اور اردو میں دائیں طرف سے۔ اس کے علاوہ زبان، ادب، حسن بیان سے بالکل نالاں نظر آتے ہیں۔ زبان صرف ل م کا نام نہیں ہے بلکہ انداز بیان، گفتگو میں حسن و جمال، زبان و ادب سے واقفیت ہی کسی کو اہل زبان کہلانے کا حقدار بنائے گا۔ لیکن آپ دیکھ لیجیے جا کر ان درسگاہوں کا مطالعہ کیجیے۔ بالکل زبان سے ناواقف ہوتے ہیں۔ یہ بھی ایک المیہ ہے جو ہمارے تعلیمی نظام کو در پیش ہے۔

٭ ایک اور المیہ اس نظام کو درپیش ہے وہ بچوں پر کتابوں کا ناجائز اور بے جا بوجھ ہے جو ان پر ڈالا جاتا ہے۔ چھ سال کے بچوں کو دیکھ لیجیے، دس دس کتابیں اٹھائے پھرتے ہیں۔ ذرا انصاف کیجیے، وہ انسان ہے گدھا تو نہیں ہے۔ ان کو تہذیب سے ہمکنار کیجیے۔ اس عمر میں کتابیں ان کو تہذیب نہیں سکھائیں گی، تہذیب وہ اپنے گھر اور استاد سے سیکھے گا۔

اس لیے میرا خیال ہے کہ یہ نظام تعلیم پیوند لگانے کے بعد قابل نہیں ہے بلکہ یہ کسی انقلاب کے ذریعے اکھاڑ پھینکنے کی چیز ہے اور ایک زندہ معاشرے میں اس کا یہی حشر ہونا چاہیے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عبدالکریم دوست کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments