ٹی ٹی پی نے سابق ترجمان خالد بلتی عرف محمد خراسانی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی طالبان نے ہمسایہ ملک افغانستان میں اپنے سابق ترجمان خالد خراسانی کے ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ انہوں نے اپنے ساتھی کے قتل کا بدلہ لینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان، جسے ٹی ٹی پی کے نام سے جانا جاتا ہے، نے ٹویٹر پر محمد خراسانی نامی شخص کی ہلاکت کا اعلان کیا۔ خراسانی کا اصل نام خالد بلتی تھا۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے یہ تصدیق پاکستانی سکیورٹی حکام کے اس اعلان کے چند روز بعد سامنے آئی ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان کو افغانستان میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ آج جمعرات تک طالبان نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی تھی۔

ٹی ٹی پی کے حالیہ ترجمان جو محمد خراسانی کا نام ہی استعمال کرتے ہیں، کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بلتی کی ہلاکت کا واقعہ نو جنوری کو پیش آیا تھا اور اس کی موت کا بدلہ لیا جائے گا۔

بلتی ٹی ٹی پی کا کمانڈر تھا اور اس نے سن 2011 سے سن 2015 تک گروپ کے ترجمان کے طور پر کام کیا۔ 2015ء میں اسے افغانستان میں گرفتار کر لیا گیا تھا اور پھر افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد اسے رہا کر دیا گیا۔

اگرچہ ٹی ٹی پی افغان طالبان سے مختلف تنظیم ہے لیکن زیادہ تر تجزیہ کاروں کی رائے میں ان دونوں تنظیموں کے خیالات، اسلام کے حوالے سے نظریات اور مغرب کے حوالے سے منفی رائے ایک ہی جیسی ہے۔

نومبر میں پاکستانی حکام نے ٹی ٹی پی کے ساتھ ایک ماہ کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور یہ جنگ بندی معاہدہ نو دسمبر 2021ء کو ختم ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ٹی ٹی پی نے اپنی دہشت گرد کارروائیوں کا دوبارہ آغاز کر دیا۔ یہ گروپ گزشتہ 14 برس کے دوران قانون نافذ کرنے والے پاکستانی اداروں اور عام شہریوں پر متعدد حملوں میں ملوث رہا ہے۔ لیکن ان کی زیادہ تر کارروائیاں بلوچستان یا پاکستانی قبائلی علاقوں تک محدود ہیں۔

اطلاعات کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی کا مبینہ سربراہ نور ولی محسود اور اس کی تنظیم کے متعدد جنگجو افغانستان میں ہی کہیں روپوش ہیں۔

(اے پی)


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments