عالمی سطح پر تحفظ خوراک کی ضرورت و اہمیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقوام متحدہ کی تنظیم برائے خوراک و زراعت کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں خوراک کی پیداوار سے صارفین تک پہنچنے کے عمل کے دوران تقریباً 14 فیصد خوراک ضائع ہو جاتی ہے۔ خوراک کا ضیاع بڑی حد تک اقتصادی ترقی پر اثر انداز ہوتا ہے جبکہ یہ امر افسوسناک ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں بنیادی طور پر صارفین تک پہنچنے سے قبل ہی خوراک ضائع ہو جاتی ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں اس کے برعکس خوراک کا بڑا حصہ صارفین کے ہاتھوں ہی ضائع ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، افریقی اور ایشیائی ممالک میں روایتی انداز سے فصلوں کی کٹائی اور ذخیرہ کرنے کے دوران خوراک کا تقریباً 30 فیصد تک تباہ ہو جاتا ہے، دوسری جانب امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں یومیہ استعمال کے دوران 21 فیصد خوراک ضائع کر دی جاتی ہے۔

اس نقصان کو محض ایک فیصد تک کم کرنا اناج کی پیداوار میں 28 ملین میٹرک ٹن اضافے کے برابر ہو گا، یوں ایک سال تک 70 ملین افراد کو کھانا کھلایا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 2020 میں 155 ملین سے زائد لوگوں کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑا، جو گزشتہ پانچ سالوں میں سب سے بڑی تعداد ہے۔ اس دوران دنیا کے مختلف حصوں میں سامنے آنے والے تنازعات، موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات اور کووڈ۔ 19 کے معاشی جھٹکوں کی وجہ سے فوڈ سیکیورٹی کی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب دنیا کووڈ۔ 19 سے نمٹتے ہوئے بحالی کے لیے کوشاں ہے وہاں اس بات کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ خوراک کے تحفظ کے نظام میں بہتری لائی جائے تاکہ کسی بھی قسم کی آفات کی صورت میں عوام کی خوراک کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال پیدا ہونے والے اناج کا ایک تہائی ضائع کر دیا جاتا ہے جبکہ ضائع کردہ کھانے کی مقدار تقریباً 1.3 ارب ٹن ہے۔ اگر اس رجحان کو روکا نہ گیا تو 2030 تک ضائع کردہ کھانے کی مقدار 02 ارب ٹن سے تجاوز کر جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کھانے کے ضیاع کو روکنے کے لیے بار بار اپیل کر رہی ہے تاکہ کروڑوں لوگوں کو غذائی قلت سے بچایا جا سکے۔ یہ تلخ حقیقت ہے کہ افریقہ، مشرق وسطیٰ اور ایشیائی خطے میں غذائی بحران کے باوجود خوشحال معاشروں میں خوراک کا ضیاع افسوسناک ہے۔

دوسری جانب دنیا میں آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے ملک چین میں تحفظ خوراک کو نمایاں اہمیت دی جا رہی ہے اور اس وقت چین نہ صرف اپنی ایک ارب چالیس کروڑ آبادی کی خوراک کی ضروریات احسن طور پر پورا کر رہا ہے بلکہ دنیا میں بھی فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانے میں بھی انتہائی اہم شراکت دار ہے۔ چین میں خوراک کے ضیاع کی صورتحال عالمی اوسط کے مقابلے میں نسبتاً بہتر ہے۔ چین میں ہر سال صارفین تک پہنچنے سے قبل تقریباً 35 ملین ٹن اناج ضائع ہو جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ چین نے اس کی حوصلہ شکنی کے لیے خوراک کے ضیاع میں کمی اور اناج کی پیداوار میں اضافے کو قومی غذائی تحفظ سے جوڑتے ہوئے عملی اقدامات متعارف کروائے ہیں۔ چین کے نزدیک خوراک کے ضیاع میں کمی سے زمین، پانی، کھاد اور کیڑے مار ادویات کی بچت ہوتی ہے، اس طرح ماحول کا تحفظ ممکن ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو بھی کم کیا جا سکتا ہے، جس سے پائیدار ترقی میں مدد ملتی ہے۔

چین نے خوراک کے ضیاع کے خلاف قانون سازی کے فروغ سے خوراک کی بچت کی ہے اور فصل کی کٹائی سے لے کر خوردہ فروشی تک اناج کے نقصان کو کم کیا ہے۔ ملک بھر میں 54 ہزار پوسٹ پروڈکشن سروس سینٹرز بنائے گئے ہیں جو اناج پیدا کرنے والی ایک ہزار بڑی کاؤنٹیوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ ان مراکز میں اناج کی صفائی سمیت خشک کرنے، ذخیرہ کرنے، پروسیسنگ اور خوردہ فروشی سمیت دیگر خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ یہاں اناج کو خشک کرنے کی یومیہ صلاحیت 1.1 ملین ٹن تک پہنچ چکی ہے۔ جدت، ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچہ خوراک کے نظام کی کارکردگی کو بڑھانے اور خوراک کے ضیاع میں کمی کے لیے اہم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے اناج کو بہتر طریقے سے ذخیرہ کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجیز کو گوداموں میں لاگو کیا گیا ہے اور بڑے ڈپوؤں کے ذریعے اناج کے ضیاع کی شرح کو ایک فیصد سے بھی کم کیا گیا ہے۔

سماجی اعتبار سے چین بھر میں خوراک کے ضیاع کو روکنے کے لیے کلین پلیٹ مہم جیسے اقدامات میں تیزی لائی گئی ہے اور عوام میں اس بات کا شعور اجاگر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اناج کے ہر ایک دانے کی اہمیت ہے۔ چینی عوام بھی اس حوالے سے باشعور ہیں اور ریستورانوں میں محدود کھانے کا آرڈر ان کی عادات میں بتدریج شامل ہو چکا ہے۔ اس وقت تمام ممالک کی کوشش ہے کہ اقوام متحدہ کے دو ہزار تیس کے پائیدار ترقیاتی اہداف میں شامل بھوک کے مکمل خاتمے کا ہدف حاصل کیا جائے۔

اس مقصد کی خاطر کم ترقی یافتہ معیشتوں کو فصلوں کی کٹائی اور ذخیرہ کرنے کے دوران خوراک کی بچت پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ مزید یہ کہ چین کے تجربے کی روشنی میں موسم اور کیڑوں جیسے ناموافق حالات کے خلاف مزاحمت کرنے والی زرعی اجناس کے فروغ، جدید زرعی مشینری کے استعمال، اعلیٰ معیار کی اسٹوریج اور نقل و حمل کی بہتری سے فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments