قومی اسمبلی نے ’آئی ایم ایف کا بجٹ‘ منظور کر لیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قومی اسمبلی نے حکومت کا پیش کردہ منی بجٹ اور اسٹیٹ بنک کو خود مختاری دینے سے متعلق قانونی ترمیم منظور کر لی ہے۔ یوں آئی ایم ایف سے طے پانے والے معاہدے کے مطابق ایک ارب ڈالر سے کچھ زائد کی قسط حاصل کرنے کی راہ ہموار کرلی گئی ہے۔ پاکستان معاشی اور سیاسی طور سے ایک ایسے مشکل دوراہے پر کھڑا ہے جس میں غالباً ان اقدامات کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا ۔ تاہم افتراق و انتشار کے جس ماحول میں یہ بل منظور کئے گئے ہیں، اس سے ملکی معیشت میں نکھار آنے اور مسائل کی شدت میں کمی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔

اپوزیشن لیڈروں کی جانب سے گزشتہ تین روز کے دوران حکومتی مالی تجاویز پر شدید تنقید کی گئی تھی۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری رہا۔ اس سے پہلے حکومتی پارٹی کے پارلیمانی اجلاس کے دوران تلخ کلامی اور چپقلش کی اطلاعات ملک بھر کے میڈیا میں نشر اور شائع ہورہی تھیں۔ اس کے باوجود عمران خان قومی اسمبلی کے اجلاس میں اسی اعتماد کے ساتھ شریک ہوئے تھے کہ قومی اسمبلی سے بجٹ منظور کروا لیا جائے گا۔ وزیر اعظم کی ایوان میں آمد پر اپوزیشن بنچوں کی طرف ’چور چور‘ کے مسلسل نعروں سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ پاکستانی سیاست میں ہیرو سے ولن بننے کا سفر کس قدر تیزی سے طے ہوتا ہے۔ آج کی ووٹنگ کے بارے میں جو بھی کہا جائے لیکن اس کے بعد حکومت کی مشکلات ختم نہیں ہوں گی بلکہ ان کا آغاز ہو گا۔

بحث کے دوران شدید تنقید کے باوجود اپوزیشن لیڈر کی جانب سے کسی حد تک کوئی اتفاق رائے پیدا کرنے کی بات ضرور کی گئی تھی تاہم اس کی نہ تو نوبت آئی اور نہ ہی حکومت کے علاوہ اپوزیشن  تہ دل سے اتفاق رائے یا مصالحت کے لئے تیار تھی۔ حالانکہ ملکی معیشت کے ایجنڈے پر وسیع تر اتفاق سے ملک کے مصائب میں کسی حد تک کمی واقع ہوسکتی ہے۔ ملکی سیاست میں پایا جانے والاانتشار درحقیقت اس وقت معاشی انحطاط کی ایک بڑی وجہ بنا ہؤا ہے۔ مثبت معاشی اشاریوں کے دعوؤں کے باوجود کسی بھی ملک کی معیشت میں اسی وقت بہتری کے آثار پیدا ہوتے ہیں جب بے یقینی اور تصادم کی صورت حال موجود نہ ہو اور سرمایہ دار کو یقین ہو کہ اس ملک میں اس کا سرمایہ محفوظ رہے گا۔ اس طرح بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور ملک میں روزگار اور معاشی سہولت کے امکانات پیدا ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ سیاسی نعروں سے قطع نظر حکومت کی طرح اپوزیشن بھی جانتی تھی کہ قومی اسمبلی سے منی بجٹ اور اسٹیٹ بنک کی خود مختاری کا بل مسترد نہیں ہو سکتا۔ اس صورت میں پاکستان کی مالی اور سفارتی مشکلات دوچند ہو جاتیں ۔ مستقبل قریب میں اقتدار حاصل کرنے کی خواہشمند کوئی بھی سیاسی جماعت یہ خطرہ مول لینا نہیں چاہتی۔ اس لئے ان بجٹ تجاویز کا منظور ہونا روز اوّل سے ہی طے تھا۔

یہ بحث کی جاسکتی ہے کہ اس مقصد کے لئے کیا اسٹبلشمنٹ نے اپنا روایتی کردار ادا کیا ہے یا ملکی سیاسی فضا کی وجہ سے ایسا ماحول پیدا ہوگیا تھا کہ سب پارٹیاں نوشتہ دیوار تو جانتی تھیں لیکن اپنے اپنے حلقہ انتخاب کو پیغام پہنچانے کے لئے منی بجٹ کی آڑ میں قومی اسمبلی کا فلور استعمال کرکے طول طویل تقاریر کی گئیں۔ تاکہ عوام تک یہ پیغام پہنچایا جا سکے کہ یہ سب کیا دھرا تحریک انصاف کی حکومت کا ہے اور اسی کی وجہ سے اب ان کے مالی مصائب میں اضافہ ہوگا، مہنگائی بڑھے گی اور قومی مالی خود مختاری پر پہرے بٹھائے جائیں گے۔

اس حوالے سے یہ بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ یہ بجٹ عمران خان کی حکومت نے تیار نہیں کیا تھا لیکن وہ اس کا ’کریڈٹ‘ لینے یا بوجھ اٹھانے پر مجبور تھی۔ یہ بجٹ آئی ایم ایف کی نافذ کردہ شرائط کو پورا کرنے کے لئے تیار کیا گیا تھا ۔ حتی کہ حکومت کو روٹی پر ٹیکس میں کمی بیشی کرنے کی ’اجازت‘ حاصل کرنے کے لئے بھی واشنگٹن میں عالمی مالیاتی فنڈ کے ہیڈ آفس سے رجوع کرنا پڑا۔ اس اجازت کے بعد ہی حکومت بعض آؤٹ لیٹس سے فرخت کی جانے والی روٹی و نان کی اقسام پر نئے محصول سے چھوٹ دے پائی ہے۔ ورنہ معیشت کو ’ریگولرائز‘ کرنے کے دعوے دار وزیر خزانہ کو تو ضمنی بجٹ تجاویز میں زیر زبر کی ترمیم کا اختیار بھی حاصل نہیں تھا۔ اس لئے اس منی بجٹ کو پاکستان کی انتہائی مجبوری اور آئی ایم ایف کے بجٹ کا نام دیا جاسکتا ہے جسے پاکستان کی قومی اسمبلی نے منظور کیا ہے۔ ورنہ پاکستان جیسے ملک میں کون سی حکومت ہوگی جو روٹی پر ٹیکس لگا کر اپنی مشکلات میں اضافہ کا سامان کرے گی۔

تحریک انصاف کی حکومت کو انتہائی مجبوری کے عالم میں آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق یہ بجٹ تجاویز قبول کرنا پڑی ہیں۔ وزیر خزانہ نے چھے ماہ تک اپنی ’فیس سیونگ‘ اور عمران خان کی عوام دوستی کی لاج رکھنے کے لئے عالمی مالیاتی فنڈ سے مذاکرات کئے اور چھے ارب ڈالر کی قسط حاصل کرنے کےلئے کئی داؤ پیچ آزمائے۔ تاہم آئی ایم ایف کے پاس بھی گھاک اور جہاں دیدہ پروفیشنلز کی ٹیم موجود ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ فنڈ کو پاکستان کے دیوالیہ ہونے یا حکومت کی سیاسی مشکلات سے کوئی پریشانی نہیں تھی۔ پاکستان اور واشنگٹن کے درمیان اس وقت جو سرد مہری پائی جاتی ہے، اس کی وجہ سے آئی ایم ایف کے عہدیداروں پر امریکہ کا بھی کوئی دباؤ نہیں تھا۔ اس وقت مالی بحران سے نکلنے کے علاوہ پاکستانی حکومت کو متعدد عالمی اداروں کے سامنے سفارتی سطح پر بھی اپنے طور سے ہی نمٹنا تھا۔ آئی ایم ایف ان چند اہم ترین اداروں میں شامل ہے جس کے ساتھ معاملات بگاڑ کر پاکستان کو دیگر اداروں اور مالی منڈیوں میں بھی مشکلات کا سامنا ہوتا۔ ان حالات میں ’آئی ایم ایف ‘ کا بجٹ منظور کرتے ہوئے قومی اسمبلی کو پاکستانی عوام کی فوری مشکلات کو نظر اندازکرنا پڑا۔

ان مشکلات سے نکلنے کے لئے آئی ایم ایف کی شرائط مانتے ہوئے اور مابعد ملکی سیاسی لیڈروں کو مل کر کوئی جامع حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ قوموں کی تاریخ میں مشکل مقامات آتے رہتے ہیں لیکن ہم آہنگی، اور قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنے والی قومیں ہی ان مراحل سے سرخرو ہوکر نکلتی ہیں۔ تاہم اپوزیشن لیڈروں کے بارے عمران خان سمیت تمام حکومتی عہدیداروں کے نوک زبان بدعنوانی اور کرپشن کے الزامات اور قومی اسمبلی کی فضا میں عمران خان کے بارے میں ’چور چور‘ کے نعرے واضح کرتے ہیں کہ اہل پاکستان کو ابھی اس مقام تک پہنچنے کے لئے طویل سفر طے کرنا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ نہ حکومت کی مشکلات ختم ہوئی ہیں اور نہ ہی اپوزیشن کی آزمائش اپنے انجام کو پہنچی ہے۔

مرکزی حکومتی اتحاد میں سیاسی دراڑیں نمایاں ہیں۔ منی بجٹ کے بارے میں مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم کے تحفظات کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ حکمران تحریک انصاف کے پارلیمانی اجلاس کے دوران پرویز خٹک اور عمران خان کے درمیان ہونے والی نوک جھونک سے جانا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی بھی عمران خان کی قیادت میں ویسی متحد و یکجا نہیں جیسا تاثر عام طور سے دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے باوجود منی بجٹ سے ناراض اراکین کے لئے اس کی حمایت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ البتہ مختلف حوالوں سے یہ ارکان اپنی ناپسندیدگی ظاہر کرکے درحقیقت اپنے آئندہ سیاسی لائحہ عمل کا نقشہ تیار کرہے تھے۔ اس لئے حکومت کا یہ دعویٰ درست نہیں ہوگا کہ آج بجٹ تجاویز کی منظوری سے حکومتی اتحاد کی یکجہتی کی تصدیق ہوئی ہے۔ عمران خان کا سب سے بڑا مسئلہ وہ ’الیکٹ ایبلز‘ ہیں جن کا سہارا لے کر وہ وزیر اعظم بنے تھے۔ انہیں عمران خان کے بعد بھی اپنے حلقوں سے منتخب ہونا ہے۔ اور تمام ذاتی اثر و رسوخ کے باوجود اپنے انہی حلقوں میں مقامی بااثر خاندانوں یا پنچایتوں کو جواب بھی دینا پڑتا ہے۔ حکومت کی معاشی ناکامی کے چرچے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی و بیروزگاری کی صورت حال میں یہ اراکین تحریک انصاف کے ساتھ اپنا سیاسی مستقبل محفوظ نہیں سمجھتے۔ اس کا اظہار اگر آنے والےچند ہفتوں کے دوران کسی تحریک عدم اعتماد کی صورت میں نہ ہؤا تو آئندہ انتخابات کے دوران ایسے ارکان کی کثیر تعداد پی ٹی آئی کو ہارنے والا گھوڑا سمجھتے ہوئے، کسی دوسرے سہارے کی تلاش میں سرگرداں ہوگی۔

سیاسی ماحول میں پیدا ہونے والی یہی سنسنی خیزی عمران خان کی اصل مشکل ہے ۔ انہیں ملکی مسائل سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کرنا ہے، تحریک انصاف کے وفادار ووٹر اور کارکن کو ’نیا پاکستان‘ کے نعرے سے سحر آلود رکھنا ہے اور الیکٹ ایبلز کو مسلسل رجھانے کا اہتمام بھی کرنا ہے۔ اس وقت سیاسی منظر نامہ کی جو خبریں سامنے آرہی ہیں، ان سے یہی اطلاع مل رہی ہے کہ عمران خان تینوں محاذوں پر یہ لڑائی ہار رہے ہیں ۔ لیکن شاید اس شکست کو دیکھنے اور تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے وہ کسی ایک شعبہ کی طرف پوری توجہ دینے اور کوئی واضح لائحہ عمل بنانے میں بھی ناکام ہورہے ہیں۔

پی ڈی ایم کے نام سے اپوزیشن اتحاد اور پیپلز پارٹی اپنے اپنے طور پر حکومت کے خلاف مہنگائی مارچ یا لانگ مارچ کی تیاریاں کررہے ہیں۔ عوام کو سڑکوں پر لا کر ’انقلاب‘ برپا کرنے کی ان کوششوں کے درپردہ کوئی ایسا اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش بھی ہورہی ہے کہ عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کی حکومت کو چلتا کیا جائے۔ چند واضح عوامل کی وجہ سے یہ فیصلہ کرنا مشکل ثابت ہورہا ہے:1) عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے بعد کون محض ڈیڑھ دو سال کے لئے وزیر اعظم بن کر قومی انتخابات میں تحریک انصاف کی سیاسی غلطیوں کا خمیازہ بھگتے گا۔ 2)اقتدار سے محروم ہونے کے بعد عمران خان کی عوامی رابطہ صلاحیتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے گا۔ 3) اسٹبلشمنٹ کو کیسے یقین دلایا جائے کہ دونوں بڑی اپوزیشن پارٹیاں باہمی چپقلش کے باوجود جمہوریت اور قومی معیشت کی بحالی کے لئے مل جل کر کام کرنے پر راضی ہوں گی۔ اور نئے حکومتی انتظام میں ایک بار پھر وہی افتراق اور الزام تراشی کا ماحول پیدا نہیں ہوگا جس کی وجہ سے ملک کو اس وقت متعدد مسائل کا سامنا ہے۔

سیاسی بے یقینی کے اس ماحول میں بہترین طریقہ تو یہی ہے کہ سب سیاسی لیڈر ایک دوسرے کا احترام کرنے کا اہتمام کریں اور آئندہ انتخابات میں عوام کے فیصلہ کے مطابق حکومت سازی کرلی جائے۔ تاہم ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کا یہ سلسلہ تب ہی ختم ہوسکتا ہے اگر عمران خان اور ان کی حکومت بھی بقائے باہمی اور وسیع تر قومی مفاد کے اصول کو مان کر الزام تراشی کی مہم جوئی اور اپوزیشن لیڈروں کو نااہل کروانے کی کوششیں ترک کرے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2075 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments