مرزا غالب کی خانگی زندگی، بزبانِ حالی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پانی پت کی پہچان جہاں دو مرتبہ ایسی رزمگاہ ہونے کے ناتے سے ہے کہ جس نے تاریخ کو نیا موڑ دیا وہیں اس کی شناخت رزم و بزم کے شاعر خواجہ الطاف حسین حالی کی جائے پیدائش اور آخری آرام گاہ کے طور پر بھی ہے۔ مولانا حالی کو جہاں اور کئی امتیاز حاصل ہوئے وہاں ایک امتیاز ایسا بھی تھا جس نے انہیں اور انہوں نے جسے یادگار بنا دیا۔ مراد ہے غالب کا شاگرد ہونے کا اعزاز اور یادگار غالب جیسی کتاب کا قلمبند کرنا۔ طرف داران غالب کے لیے ان کی یہ کتاب ایسا تحفہ تھی کہ جو ایک صدی سے زیادہ قدیم ہو کے بھی ان پہ لکھی گئی ان گنت کتابوں میں گل تر کی حیثیت رکھتی ہے۔

آپ کا دور 1837 تا 1914 ہے۔ یادگار غالب 1897 میں چھپی۔ اس کے موضوعات میں غالب کی مختصر سوانح، خانگی حالات، تبصرہ کتب، لطائف اور منتخب اشعار کی تشریح شامل ہیں۔ کتاب میں ان کے خانگی حالات پہ موجود مواد کا کچھ حصہ میں ذیل میں نقل کر رہا ہوں۔ غور کیجیئے کہ ایک ایسا شخص جس نے معروف معنوں میں باقاعدہ تعلیم بھی حاصل نہیں کی تھی لیکن اپنے بعد آنے والے ہر دور میں آسمان سخن کا آفتاب مانا گیا جبکہ دوسری طرف ذاتی زندگی کی مشکلات کا یہ عالم تھا کہ پکار اٹھے،

ع۔ ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے

1۔ ”اپنی بیگم کے بھانجے زین العابدین خان عارف سے مرزا صاحب کو غایت درجے کا تعلق تھا۔ کچھ تو قرابت کے سبب اور زیادہ تر اس وجہ سے کہ وہ نہایت خوش فکر اور معنی یاب طبیعت رکھتے تھے۔ باوجود پر گوئی کے نہایت خوش گو تھے۔ جب وہ جوان عمر میں فوت ہو گئے تو مرزا اور ان کی بی بی پر سخت حادثہ گزرا۔ مرزا نے ان کے مرنے پہ ایک غزل بطور نوحہ کے لکھی جو نہایت بلیغ اور دردناک ہے۔

لازم تھا کہ دیکھو میرا رستہ کوئی دن اور
تنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اور

مرزا صاحب کے اولاد نہ تھی۔ ابتداء میں سات بچے یکے بعد دیگرے ہوئے مگر کوئی زندہ نہیں رہا۔ اس لیے ایک مدت سے وہ اور ان کی بی بی تنہا زندگی بسر کرتے تھے۔ جب زین العابدین کا انتقال ہو گیا اور ان کے دونوں بچے صغر سن رہ گئے تو مرزا اور ان کی بی بی نے چھوٹے لڑکے حسین علی خان کو جو اس وقت بہت کم عمر تھا اپنے سایہ عاطفت میں لے لیا۔ مرزا انہیں حقیقی اولاد سے بھی کچھ بڑھ کر عزیز رکھتے تھے۔ جب زین العابدین خان کی والدہ کا انتقال ہو گیا تو حسین علی خان کے بڑے بھائی باقر علی خان کو بھی مرزا نے اپنی سرپرستی میں لے لیا۔ یہ دونوں خوش فکر، نیک خو اور نہایت شریف مزاج تھے۔ مگر افسوس کی مرزا کی وفات کے بعد دونوں تھوڑے تھوڑے فاصلے سے جوان عمر میں فوت ہو گئے ( سوچیئے مرزا کی بیگم پہ کیا گزری ہو گی، پہلے جوان بھانجا اور اب اس کے دو جوان بیٹے دنیا سے اٹھ گئے ) ۔

2۔ مرزا کے چھوٹے بھائی مرزا یوسف جو تیس برس کی عمر میں دیوانے ہو گئے تھے اور اخیر دم تک اسی حالت میں رہے۔ جب مرزا نے دلی میں سکونت اختیار کی تو ان کو بھی اپنے ساتھ یہیں لے آئے تھے۔ مرزا کے مکان سے ان کا مکان تقریباً دو ہزار قدم کے فاصلے پر تھا۔ ایک دربان اور ایک کنیز کہ دونوں عمر رسیدہ تھے ان کے پاس رہتے تھے۔ جب دلی فتح ہو گئی اور شہر اہل دلی سے خالی ہو گیا اور راستے بند ہو گئے، اس وقت مرزا بھائی کی طرف سے سخت پریشان رہنے لگے۔

بھائی کی مطلق کوئی خبر نہ تھی۔ ایک روز یہ خبر آئی کہ مرزا یوسف کے مکان میں بھی کچھ سپاہی گھس آئے تھے اور جو کچھ سامان ملا لے گئے۔ پھر ایک دن وہی بڈھا دربان جو مرزا یوسف کی حویلی میں رہتا تھا یہ خبر لایا کہ پانچ روز سخت تپ میں مبتلا رہ کر آج آدھی رات گزرے مرزا یوسف کا انتقال ہو گیا۔ اس وقت نہ کفن بازار میں مل سکتا تھا نہ غسال اور گورکن کا کہیں پتہ تھا۔ نہ شہر سے قبرستان جانا ممکن تھا۔ مرزا کے ہمسایوں نے بڑی مدد کی۔ بس کچھ ضروری انتظام کے بعد مکان کے قریب مسجد کے صحن میں دفن کر دیا۔

3۔ مرنے سے کئی برس پہلے سے آپ کا چلنا پھرنا بالکل موقوف ہو گیا تھا۔ اکثر اوقات پلنگ پر پڑے رہتے تھے۔ غذا کچھ نہ رہی تھی۔ مرنے سے چند روز پہلے بے ہوشی طاری ہو گئی تھی۔ جس روز انتقال ہوا اس سے شاید ایک دن پہلے میں ان کی عیادت کو گیا تھا۔ اس دن کئی پہر کے بعد افاقہ ہوا تھا اور نواب علا الدین احمد خان کے خط کا جواب لکھوا رہے تھے۔ انہوں نے لوہارو سے حال پوچھا تھا۔ اس کے جواب میں جو فقرہ لکھوایا یہ تھا ”میرا حال مجھ سے کیا پوچھتے ہو۔ ایک آدھ روز میں ہمسایوں سے پوچھنا“ ۔

اپنی زندگی کے ایسے برگشتہ حالات کا نقشہ جب بصورت شعر کھینچا تو کیسی پر درد تصویر سامنے آئی۔
حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

دوسری طرف ان تمام مشکلات کے باوجود طبیعت کی شوخی کبھی ماند نہ پڑی۔ اسی وجہ سے مولانا نے آپ کو حیوان ظریف کہا اور کیا خوب کہا۔ ایک مثال مولانا حالی ہی کی زبانی ملاحظہ ہو۔

4۔ ”مکان کے جس کمرے میں مرزا دن بھر رہتے تھے وہ مکان کے دروازے کی چھت پر تھا۔ اس کی ایک جانب تنگ و تاریک کوٹھڑی تھی۔ اس کا در اس قدر چھوٹا تھا کہ کوٹھڑی میں بہت جھک کے جانا پڑتا تھا۔ اس میں فرش بچھا تھا اور مرزا اکثر دس بجے سے تین چار بجے تک وہاں بیٹھتے تھے۔ ایک دن جبکہ رمضان کا مہینہ اور گرمی کا موسم تھا مولانا آزردہ ٹھیک دوپہر کو مرزا سے ملنے چلے آئے۔ اس وقت مرزا صاحب کسی دوست کے ساتھ شطرنج کھیل رہے تھے۔ مولانا نے دیکھا تو کہنے لگے کہ ہم نے تو حدیث میں پڑھا تھا کہ رمضان کے مہینے میں شیطان مقید رہتا ہے مگر آج اس حدیث کی صحت میں تردد پیدا ہو گیا۔ مرزا نے کہا قبلہ حدیث بالکل صحیح ہے، مگر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ جگہ جہاں شیطان مقید رہتا ہے وہ یہی کوٹھڑی تو ہے“ ۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments