کوڑا دان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ لوگ کمرے کے کونے میں پڑے کوڑا دان کی طرح ہوتے ہیں اگر وہ وقتاً فوقتاً دوسروں کا پھیلایا گند اپنے اندر نا سمیٹیں تو ماحول گندا ہو جاتا ہے۔ خاندان، دوستوں کے گروہ، دفتر، تنظیم اور معاشرے میں ایسے لوگوں کی موجودگی ناگزیر ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کو پذیرائی تو نہیں ملتی مگر یہ لوگ خداداد صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں جو انسانوں سے محبت کرتے ہیں، دوسروں کے منفی رویوں کو اپنے اندر جذب کرنے اور نفرتوں کو محبت میں ڈھالنے کا فن جانتے ہیں۔

عبدالستار ایدھی مرحوم ساری زندگی ہمارے معاشرے کا پھیلایا گند اپنے اندر سمیٹتے رہے۔ ساری زندگی انہوں نے بھیک مانگ کر ان بچوں کی کفالت کی جنہیں لوگ ناجائز یا حرام کی اولاد کہتے ہیں، انہوں نے ان بچوں کو اپنا نام دیا جنہیں معاشرے نے گند سمجھ کر کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا۔ مدر ٹریسا اور روتھ فاؤ نے ان لوگوں کو نہلایا دھلایا اور سنبھالا جنہیں لوگ دیکھنا تک پسند نہیں کرتے تھے، معاشرے کے لیے کوڑھ کے مریض ایک گند تھے مگر مدر ٹریسا اور روتھ فاؤ نے معاشرے کی نفرت کا گند اپنے اندر سمیٹا تا کہ انسانیت زندہ رہے۔

مدر ٹریسا، ایدھی، روتھ فاؤ جیسے لوگ ہمارے لئے مثال ہیں جنہوں نے اس معاشرے کی گندگی کو اپنے اندر سمیٹا تاکہ انسانیت پر سے لوگوں کا اعتبار جاتا نہ رہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ہمارے معاشرے کی گندگی کے سیاہ گھنے بادلوں کو چیر کر اپنی محبت، خدمت اور انکساری کی کرنوں سے ماحول کو روشن رکھتے ہیں۔ اگر آپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ ایسے کام سے منسلک ہیں جہاں انسانی ہمدردی اور خدمت آپ کا مقصد ہے تو آپ کو مدر ٹریسا، ایدھی اور روتھ فاؤ جیسے لوگوں کی سوانح حیات پڑھنے کی ضرورت ہے۔ جب آپ کے اچھے کام کی وجہ سے لوگ آپ پر لعن طعن کریں آپ پر بہتان لگائیں تو اپنے مقصد سے پیچھے مت ہٹیں، یاد رکھیں آپ ایک کوڑا دان کی طرح ہو جس کا کام معاشرے کا گند اپنے اندر سمیٹنا ہے۔

کچھ دنوں پہلے میں نے ایک کم ظرف کو کسی ذاتی عناد کی بنا پر اس شخص کو گالیاں دیتے سنا جس کو کبھی وہ اپنا محسن کہتا تھا مگر جس کو گالیاں دی گئیں اس کا مقام یہ تھا کہ اس نے گالی کے جواب میں بھی دعا ہی دی۔ مجھے تب سمجھ آئی کہ معاشرے کا گند سمیٹنے والے نہ ہوں تو معاشرہ انتہائی بدبودار ہو جائے۔

ہم اپنی تقریروں اور تحریروں میں خدمت، قربانی، انکساری اور شفافیت جیسے الفاظ کا استعمال تو کرتے ہیں مگر حقیقت میں یہ الفاظ اپنے اندر بہت بھاری ذمہ داری سمیٹے ہوئے ہیں۔ معاشرے کا سدھار کبھی بھی بادشاہوں کے محلوں سے شروع نہیں ہوتا، مصنوعی روشنیوں سے بھی معاشرے کا اندھیرا دور نہیں ہوتا، بھاری بھرکم الفاظ بھی غربت اور نا انصافی تلے دبے مجبور لوگوں کو تسلی نہیں دیتے۔ جن بادشاہوں نے

لوگوں کے دلوں پر راج کیا وہ ایک وقت پہ اپنا اختیار چھوڑ کر عوام کا حصہ بنے۔ حقیقی خدمتگار اور ہمدرد انسان ایک کوڑا دان کی طرح ہوتے ہیں جو معاشرے کا گند اپنے اندر سمیٹنے کی دلیری رکھتے ہیں


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments