عورت


عورت کے لفظ کا ماخذ عربی زبان ہے جس کا مطلب وہ اعضاء یا وہ حصے جنہیں ڈھانپا جائے ( بحوالہ :ریختہ اردو لغت ) ۔ اصطلاحی معانی میں عورت ایسی مخلوق کا نام ہے جو شرم و حیا کا پیکر و منبع ہو۔ اگرچہ معنوی اعتبار سے تو یہ لفظ فقط بالغ اور اوسط عمر کی خواتین کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن بعض مقامات پر سہولت کی خاطر ہر عمر کی عورت کے لئے یہ لفظ برتا جاتا ہے۔ فارسی میں عورت کے متبادل کے طور پر زن اور انگریزی میں وومن استعمال ہوتا ہے۔

ویسے تو نسوانیت کا ہونا ایک حیاتیاتی ( بائیولوجیکل ) اور جنس ( جینڈر ) پر مبنی خصوصیت ہے۔ یہ کئی جنسی اور سماجی عوامل کے ساتھ شخصی خصائل پر بھی منحصر ہوتا ہے، تاہم کچھ خصوصیات روایتی طور پر عورتوں سے منسوب کی گئی ہیں جیسا کہ جذباتیت، اشتراک، شفقت، قربانی، ایثار، جسمانی اور اعصابی طور پر کم زور

اور دوسروں کا خیال رکھنے کا جذبہ وغیرہ وغیرہ۔ ان میں سے بہت سی خصوصیات ایسی ہیں جن کو کلی طور پر عورت ذات کے ساتھ منسوب کیا جاسکتا ہے لیکن کچھ خصوصیات ایسی ہیں جن کو تمام عورتوں پر لاگو نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ مجموعی خصوصیات کی بجائے شخصی خصوصیات زیادہ ہیں، مثال کے طور پر اشتراکی رویہ ہر عورت میں موجود ہونا ضروری نہیں۔ ہاں یہ ضرور وثوق سے کہا جاسکتا ہے ایثار و قربانی وہ خصوصیات ہیں جن پر عورت ذات کے قبضے کو تسلیم کرلینا اس کا استحقاق ہو گا۔

عورت کو قربانی کا استعارہ کہنا بے جا نہ ہو گا۔ وہ چاہے جس رشتے میں بھی ہو یہ خواص اس میں بدرجہ اتم موجود ہوتے ہیں، ماں کے روپ میں وہ شفقت کی، پیار اور محبت کی وہ عمارت ہے جو اپنے زیر سایہ تمام مسافروں کو مساوی پناہ دے سکتی ہے۔ ایک بیوی کے روپ میں وہ بہترین ہم سفر، ایک حوصلہ دینے والی ہستی اور اشک کوئی کرنے والا وہ جزو ثابت ہو سکتی ہے جو آپ کو پہاڑ جتنا مضبوط بھی کر سکتی ہے، پھر اس اثناء میں عورت کو کم زور جسامت اور کم زور اعصاب کا مالک کہنا تو اس کی ذات سے نا انصافی ہوگی کیوں کہ وہ تو آپ کو باقی سب سہاروں سے بہتر سنبھال سکتی ہے۔

ایک بہن کے روپ میں وہ ہمت، جرات، شفقت، چاہت اور احساس کا وہ خوب صورت استعارہ ہے جو بڑی ہو تو سر پر ہاتھ رکھتی ہر، جو ہم عمر ہو انگلی پکڑ کر چلتی ہے اور آپ سے چھوٹی ہو تو اس کے سر پر ہاتھ رکھنے سے آپ کو ایک الگ اور منفرد قسم کی رجائیت اپنے اندر سرسراتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔

عورت جس کے بارے عمومی خیال یہ کیا جاتا ہے کہ وہ جذباتیت کا شکار ہونے میں دیر نہیں لگاتی اور اس کے فیصلے انہی جذبات کے زیر اثر ہوتے ہیں۔ ان تمام تصورات میں سچائی فقط ان صورتوں میں ممکن ہے جب عورت کسی کو اپنا مرکز نگاہ سمجھ لے، جب وہ کسی کو حقیقی طور پر اپنی دیوار سمجھ لے تب وہ اس سے ٹیک لگانے میں دیر نہیں لگاتی اور تب اس کے جذبات کا یہ عالم ہوتا ہے کہ وہ اسی دیوار کے سہارے کی وجہ اپنے قدم اٹھا کر جینا شروع کر دیتی ہے کہ اس کے اندر سہارے پر کامل یقین جلد پیدا ہوجاتا ہے۔

یہ بات بھی تسلیم کرنا پڑے گی عورت اگر کسی پر فریفتہ بھی ہوگی تب بھی اس بات کے امکانات شاذ و نادر ہی ہیں کہ وہ خود قدم بڑھا کر اپنے جذبات کا اظہار کر پائے بلکہ وہ ہمیشہ ہی اس نرم تھپکی کی منتظر ہوتی ہے جو مرد پہلے اپنے اظہار کے بعد اسے دیتا ہے۔ اور پھر یہ مرد پر منحصر ہے کہ وہ صرف کیٹالسٹ بن کر عورت کے جذبات میں صرف اشتعال پیدا کرے یا اینزائمز کی طرح خود بھی وہیں قربان ہو جائے۔ اگر مرد کا رویہ کیٹالسٹ کی مانند ہو گا تو عورت یقیناً وہاں خاموش ہونا پسند کرے گی اور خاموشی کسی عورت کی طرف سے لیا جانے والا خطرناک ترین بدلہ ہے۔

اگر مرد اینزائمز کی طرح خود کو بھی اس آتش کا حصہ بنا لے گا تو پھر وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ عورت اپنائیت اور شفقت کی انتہا کردے گی۔

مزے کی بات یہ ہے کہ مرد کو عورت سے ہمیشہ یہ گلہ رہا ہے کہ وہ فضول بولتی رہتی ہے اور قدیم چین میں یہ رواج رہا ہے کہ شوہر حضرات عورت کو فقط اس بات پر طلاق دینے کے مجاز تھے کہ اگر وہ زیادہ باتیں کرے، وہیں پر مرد عورت کی زیادہ عرصے تک چپ، خامشی اور نان رسپانسو نیچر کو بھی برداشت کرنے کا تحمل نہیں رکھتا اور بہت جلد اپنا رد عمل ظاہر کر دیتا ہے جب کہ عورت میں صبر اور برداشت کی قوت اس معاملے میں زیادہ ہے پھر کس طرح یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ عورت جذباتیت کا شکار ہوجاتی ہے؟

آمدم بر نتیجہ یہی کہا جاسکتا ہے عورت نہ صرف کائنات کا حسن ہے بلکہ اس کائنات کے تسلسل اور اس کائنات کے سینچنے میں مرد کے شانہ بشانہ رہنے والی ایک اکائی ہے اور اکائی ہمیشہ دہائی کے ساتھ ہی جچتی ہے۔ میں یہاں پر فارینہ الماس صاحبہ کی انڈیپنڈنٹ اردو میں لکھی گئی تحریر کے ان الفاظ کو شامل کرنا برمحل سمجھتا ہوں جو ہماری پوری تحریر کے مقصد کو جامع طور پر واضح کرتے ہیں

”مرد کی نظر اگر آسمان کی بلندیوں پر رہتی ہے تو عورت کی دھرتی کے جڑوں میں۔ مٹی بھی تو تخلیق کرتی ہے۔ ایک بیج کو سینچ کر اسے بھرا پورا پیڑ بناتی ہے۔ گویا عورت اور دھرتی دونوں کا کام حیات کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہے۔ زندگی اس وقت معدوم ہونے لگے گی جب یہ دونوں بانجھ ہوجائیں گے۔“

Facebook Comments HS