گوری رنگت: بین الاقوامی رجحان کے نئے پہلو
اداکارہ ماریہ واسطی نے نوے کی دہائی میں پی ٹی وی میں اداکاری شروع کی۔ اپنے سانولے رنگ کی وجہ سے دوسروں سے مختلف نظر آتی تھیں۔ ماریہ واسطی کو لے کر پی ٹی وی پر ایک ٹیلی پلے ’کلو‘ کے نام سے بھی نشر کیا گیا جس میں ان کے سانولے رنگ کو مزید گہرا کیا گیا تھا۔ سعدیہ امام نے بھی لگ بھگ ماریہ واسطی کے ساتھ ہی کیرئیر شروع کیا۔ ان کی شخصیت کا ایک پہلو ان کا سانولا رنگ بھی رہا ہے۔ آج ان دونوں اداکاراؤں کو دیکھیں تو شائبہ تک نہیں ہوتا کہ ان کی رنگت کبھی سانولی بھی رہی ہو گی۔
اداکاروں کی بات ایک طرف میرے آپ جیسے بہت سے عام لوگ بھی سفید رنگت کو حسرت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ میرے مشاہدے میں ایسے بہت سے لوگ (بیشتر خواتین) ہیں جو پٹھانوں پر صرف اس لیے رشک کرتے ہیں کہ ان کی رنگت کتنی سفید ہے۔ ان سے پوچھیں کہ کیا وہ سفید رنگ کو سانولے پر ترجیح دے رہے ہیں تو اس پر فوراً انکار کر دیں گے مگر دوسرے ہی لمحے ایک دوسرے کو رنگ ’صاف‘ کرنے کے مشورے بھی دینا شروع ہو جاتے ہیں۔
پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا پر مشتمل جنوبی ایشیا ہو یا ایشیا پیسفک (فلپائن، تھائی لینڈ، بنکاک اور دیگر ملک) ، رنگ گورا کرنا بڑے کاروباروں میں سے ایک ہے۔ بزنس گروتھ پر نظر والی کمپنیوں کے مطابق دنیا بھر میں صرف رنگ گورا کرنے والی پراڈکٹس (اس میں میک اپ پراڈکٹس شامل نہیں ) کی گلوبل مارکیٹ 6 ارب ڈالر کی رہی جو 2027 تک تقریباً 9 ارب ڈالر ہو جائے گی (https://www.statista.com) ۔
مارکیٹ ریسرچ کرنے والی بعض کمپنیاں یہ تخمینہ 12 ارب اور کچھ 24 ارب ڈالر بھی لگاتی ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان کے بارے میں خاص ڈیٹا موجود نہیں (دوسرے بہت سے شعبوں کی طرح) لیکن اگر بھارت میں رنگ گورا کرنے والی کریموں کی مارکیٹ دیکھیں تو 2019 میں اس مارکیٹ کا سائز 3000 کروڑ روپے تھا جو 2023 میں 5000 کروڑ تک جانے کا امکان ہے (انڈین فیئرنس اینڈ بلیچ مارکیٹ رپورٹ) ۔
سوال یہ ہے سانولی رنگت سے گوری رنگت کا ایسا جنون آیا کہاں سے؟
عالمی پس منظر
مورخین کے مطابق قدیم مصر، روم اور یونان کی تحریروں میں رنگ صاف کرنے والے طریقوں کا ذکر ملتا ہے جن میں پارہ استعمال کیا جاتا تھا۔ پہلی عیسوی روم کے ایک مصنف پلینی دی ایلڈر ایسے پودوں کا ذکر کرتے ہیں جنہیں خواتین اپنا رنگ گورا کرنے کے لیے استعمال کرتی تھیں۔ پلینی دی ایلڈر نے پہلی صدی عیسوی میں انسائیکلوپیڈیا آف نیچرل ہسٹری ترتیب دیا تھا۔
اس کے علاوہ برطانیہ کی ملکہ الزبتھ اول کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنے چہرے کو سفید رکھنے کے لیے پارے اور سرکے سے بنا محلول استعمال کرتی تھیں، جو دھیرے دھیرے ان کی موت کا سبب بھی بنا۔
تاہم، گوری رنگت کے رجحان کو اصل بڑھاوا نوآبادیاتی نظام نے دیا۔ برطانیہ، پرتگال، فرانس نے جیسے جیسے گہری رنگت والے ملکوں پر قبضہ کیا وہ خطے آج بھی رنگ صاف کرنے والی پراڈکٹس کی بڑی مارکیٹس میں شمار ہوتے ہیں۔ اور نوآبادیاتی نظام کا محرک سفید فام کی برتری کا یہ نظریہ تھا کہ گوری رنگت والے لوگوں کو خدا نے دوسروں سے برتر بنایا ہے اور دنیا پر حکومت کرنا ان کا حق ہے۔
جنوبی ایشیا کا رجحان
گوروں نے ہندوستان پر قبضہ کیا تو مقامی لوگ آہستہ آہستہ ان کے حال حلیے کو سٹیٹس اور طاقت کی علامت سمجھنے لگے۔ خود گورے بھی صاف رنگت والے ہندوستانیوں کو اپنے ہاں نوکریوں کے لیے ترجیح دیتے تھے۔ اس سے مقامی لوگوں میں اپنی رنگت سفید کرنے کی ضرورت کا احساس پیدا ہوا تاکہ اشرافیہ کے قریب رہیں اور خوشحالی کے نئے موقعوں سے فائدہ اٹھائیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں گہری رنگت والی عورت ہو یا مرد، اسے سماجی سطح پر اچھا مقام نہیں مل پاتا۔

2018 میں یونیورسٹی آف دہلی میں ہونے والی تحقیق میں سامنے آیا کہ ہندوستانی والدین نے اپنے بچوں کی شادی کے لیے سفید رنگت کے مقابلے میں گہرے رنگ والے لڑکوں اور لڑکیوں کو لگ بھگ ایک جیسی کم ریٹنگ دی، یعنی عورت ہو یا مرد ہمارے ہاں گہری رنگت دونوں کے لیے وبال جان ہے۔ یہی وجہ ہے ہندوستان/پاکستان میں خواتین کے ساتھ اب مردوں کے لیے فیئرنس کریمز مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔
ماہرین کے مطابق رنگت گوری کرنے کا ایک اور محرک امیر اور خوشحال نظر آنا بھی ہے۔ کیونکہ امیر لوگ زیادہ وقت گھر کے اندر گزارتے ہیں جس سے ان کی رنگت سورج کی گرمی سے متاثر نہیں ہوتی اور وہ نسبتاً صاف نظر آتے ہیں۔ لیکن اگر آپ بھی کریم یا لوشن لگا کر اپنی رنگت سفید دکھا سکتے ہیں تو کیوں نہیں؟

بیوٹی برانڈز کی جنگ
گوری رنگت کے احساس کمتری/ضرورت سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا بیوٹی برانڈز نے۔ یونی لیور اور جانسن اینڈ جانسن جیسی ملٹی نیشنل کمپنیاں ہوں یا مقامی مینوفیکچررز، گوری رنگت کو خوشیوں اور کامیابیوں سے جوڑ کر گہری رنگت کو ناکامی اور اداسی سے تعبیر کیا گیا۔
سنہ 90 کی دہائی کے ٹی وی اشتہارات دیکھیں تو ہر دوسرے اشتہار میں ”نکھری رنگت“ ، ”رعنائی“ ، ”چمک“ ، ”کھلی کھلی رنگت“ جیسے الفاظ استعمال کیے جاتے۔ جبکہ کچھ برانڈز بلا جھجک یہ جملے بھی استعمال کرتے رہے : میرا گورا بننے کا سپنا سچ ہوا، اولیویا مجھے گورا کر دو، یہ گوری گوری رنگت ہے جپسی کی بدولت، پندرہ منٹ میں ہو گئی میں گوری گوری۔ یہ اشتہارات تھے بلیچ کریم برانڈز موڈ گرل اور سٹل مینز کے اور بلیچ کریموں کے اجزاء میں سے ایک پارہ بھی ہوتا ہے۔
اہم بات یہ کہ آج بھی پاکستان کے مقامی برانڈز کی پراڈکٹ رینج میں سکن وائٹننگ کی پراڈکٹس موجود ہیں جن کی پیکنگ پر واضح لکھا گیا ہے کہ یہ وائٹننگ کریم ہے۔
Black Lives Matter تحریک کے اثرات
مئی 2020 میں امریکہ میں سفید پولیس اہلکاروں نے سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کو گرفتاری کے دوران گلا دبا کر مار دیا۔ اس غیر ارادی قتل پر امریکہ میں احتجاج شروع ہوا جو بعد ازاں امریکی تاریخ کے سب سے بڑے احتجاج قرار پائے۔ ان مظاہروں نے نہ صرف امریکہ میں بلکہ دنیا بھر میں نسل پرستی کی بحث کو ایک بار پھر چھیڑ دیا۔ اور یہ بحث نسل پرستی سے ہوتی ہوئی جلد کی رنگت تک بھی پہنچ گئی اور نکتہ اٹھایا گیا کہ کیسے دنیا بھر میں بیوٹی برانڈز گہری/کالی رنگت کو نیچا دکھا کر اپنی پراڈکٹس بیچنے کے لیے گوری رنگت کو پروموٹ کرتے ہیں۔
سماجی سطح پر ہونے والے ان اعتراضات کے بعد ملٹی نیشنل کمپنی یونی لیور نے اپنی پراڈکٹ فیئر اینڈ لولی کریم (جو ہندوستان میں 80 فیصد مارکیٹ شیئر رکھتی ہے ) کا نام بدل کر گلو اینڈ لولی رکھ دیا۔ اسی طرح بین الاقوامی برانڈ لئوریل نے بھی اپنی مارکیٹنگ میں‘ گوری ’، ‘ صاف ’ اور‘ نکھری ’ جیسے الفاظ ختم کرنے کا اعلان کیا۔
اگرچہ کچھ حوصلہ شکنی ہوئی ہے لیکن آج بھی بیوٹی کریمز کے اشتہارات glowing، radiant، spotless اور fair جیسے الفاظ سے بھرے جس کا سیدھا مطلب سفید رنگ ہی ہے۔
ہم کہاں کھڑے ہیں؟
پاکستان کی سماجی صورتحال کا جائزہ لیں تو ہم بھی اپنے ہمسایہ ملک سے مختلف نہیں۔ انٹرٹینمنٹ چینلز سے لے کر نیوز چینلز اور سوشل میڈیا، کہیں بھی آپ کو، خاص طور پر خواتین میں سانولی رنگت نظر نہیں آئے گی۔ کہنے کو ہم ’گورے اور کالے میں کوئی فرق نہیں‘ کرتے لیکن ٹی وی پر مارننگ شوز ہوں یا رات کے ڈرامے، ٹی وی پر نظر آنے والی ہر شخصیت آپ کو سفید رنگ میں ہی ملے گی۔ حتیٰ کہ وہ شخصیات بھی جو چند سال پہلے تک سانولی ہوا کرتی تھیں۔
اگرچہ ماہرہ خان، عائشہ عمر اور بعض دیگر شوبز شخصیات نے رنگ گورا کرنے والی کریمیں پروموٹ کرنے سے انکار کیا ہے لیکن کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک ڈاکٹر/ایکٹر کو پاکستان میں سفید رنگت کے نئے رجحان کا بانی کہا جائے تو شاید غلط نہیں ہو گا۔ خود انٹرٹینمنٹ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے بہت سی مشہور شخصیات ان کی سکن وائٹننگ ٹریٹمنٹ سے فائدہ اٹھا چکی ہیں جس سے رنگ گورا کرنے کا شوق کم ہونے کی بجائے بڑھ رہا ہے۔
کوئی حل ہے؟
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان فرانسسکو میں ارتقاء کے ماہرین نے حالیہ تحقیق سے پتہ چلایا ہے کہ گہری رنگت والی جلد گوری کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور سخت ہوتی ہے۔ گہری رنگت میں سورج کی نقصان دہ الٹرا وائلٹ شعاعوں کا مقابلہ کرنے کی زیادہ طاقت ہوتی ہے جبکہ سفید جلد ایسا نہیں کر سکتی۔
سفید رنگت پر اصرار نہ صرف سماجی مسائل کا سبب ہے بلکہ سراسر بے بنیاد بھی ہے۔ آج جبکہ دنیا پرانے خیالات ترک کر کے نئی سوچ اپنا رہی ہے، ہمیں بھی اس خطے کی اصل رنگت کو اپنانا ہو گا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ آپ اور ہر دوسرے انسان کی شخصیت صرف اس کی رنگت نہیں ہوتی کیونکہ یہی کھلے دلوں اور ذہنوں کا یہی انداز ہونا چاہیے۔



