بنی اسرائیل سے اسرائیل تک تین مذاہب کا مرکز: قسط نمبر 12
فلسطین کا نقطۂ نظر
فلسطینیوں کا یہ کہنا ہے کہ ان کی سرزمین پر اسرائیل کا قیام کسی بھی شکل میں قابل قبول نہیں ہے لیکن اب ایسا ہو چکا ہے اسی لیے اب ان کی اس سوچ میں فرق بھی آیا ہے۔ یاد رہے فلسطین کے بہت سے گروہوں میں (جیسے پی ایل او اور حماس) میں بھی آپس میں ان معاملات پر اختلاف پایا جاتا ہے۔
فلسطین نے مختلف ادوار میں جو معاہدے کیے ان معاہدوں کے مطابق وہ اسرائیلی ریاست کو تسلیم بھی کرتے ہیں اور اس بات کا مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ یہودیوں کو ایک مخصوص حصے میں ہی رہنا چاہیے اور فلسطین کے علاقوں ( غزہ کی پٹی، ویسٹ بنک ) سے اسرائیل کی فوجوں کو واپس جانا چاہیے اور یہودیوں کی نئی بستیوں کو ختم ہونا چاہیے وغیرہ وغیرہ۔
میں جو بات سمجھ سکا ہوں اس کے مطابق فلسطین کے بہت سے لوگ اب تک دو ریاستی حل کی طرف جانا چاہتے ہیں لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو چاہتے ہیں کہ اسرائیل کا وجود کسی بھی حالت میں قابل قبول نہیں اور 1948 سے پہلے کا فلسطین ہی ہو جس میں یہودی ایک شہری کی حیثیت سے رہ سکیں۔ مذاکرات اور مختلف ادوار میں ہونے والے معاہدوں کو دیکھ کر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ کئی دفعہ فلسطینیوں نے امن کی کوشش کی ہے لیکن اسرائیل کی ہٹ دھرمی بھی ہمیشہ ہی آڑے آئی ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ فلسطین میں موجود کئی انتہا پسند لوگوں کی وجہ سے بھی امن ممکن نہیں ہے۔
اسرائیل اور امریکہ کا موقف
ایلن پاپی ( جو اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے پر ایک اتھارٹی سمجھا جاتا ہے ) نے اس موضوع پر کئی کتابیں بھی لکھی ہیں۔ اس کی ایک کتاب One Land، Two Peoples میں وہ لکھتا ہے کہ اسرائیل کا ایک پرانا روایتی نقطۂ نظر (Traditional Narrative) تھا اور ایک نیا نقطۂ نظر ہے (Modern Narartive) ۔
ایلن پاپی کے مطابق روایتی نقطۂ نظر کے مطابق اسرائیل کا یہ کہنا ہے کہ انہوں نے 1940 میں عربوں کے ساتھ مذاکرات شروع کیے اور انہیں اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ فلسطین کے اندر ایک مخصوص حصے کو یہودیوں کا وطن قرار دیا جائے لیکن انہوں نے اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ جس کے نتیجے میں یہودیوں نے دنیا بھر سے لوگوں کو لا کر اسرائیل میں آباد کرنا شروع کیا اور اب وہ اس میں آباد ہو چکے ہیں۔ اس وقت وہ آبادی کے لحاظ سے فلسطینیوں سے بھی زیادہ ہیں۔ پہلی عرب اسرائیل جنگ اور بعد میں چھ روزہ جنگ کے نتیجے میں انہوں نے بہت سے علاقوں پر قبضہ بھی کر لیا اور اب جن علاقوں پر قابض ہیں وہاں قابض رہیں گے اور عرب ممالک کو یہ تسلیم بھی کرنا پڑے گا۔
یہ بھی یاد رہے کہ 1988 میں پی ایل او نے سرکاری سطح پر اسرائیل کو تسلیم کیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کا یہ مطالبہ بھی ہے کہ فلسطین کے اندر سے ان کے خلاف لڑنے والے جنگجو گروہوں کو بھی ختم کیا جائے۔
ایلن پاپی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب اسرائیل میں ایک نیا بیانیہ بھی جنم لے رہا ہے۔ اس بیانیے کے مطابق اسرائیلی اس بات پر تیار ہیں کہ امن کی خاطر انہیں دو ریاستی حل قبول کرنا چاہیے اور وہ امن کی خاطر پرانی سرحدوں پر جانے کے لیے بھی کسی حد تک تیار ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی طاقت میں بھی اضافہ کرتے جا رہے ہیں۔ دنیا بھر سے ابھی بھی ہزاروں کی تعداد میں یہودی ہر سال اسرائیل میں آ کر آباد ہوتے ہیں۔
اسرائیلی بار بار مذاکرات بھی کرتے ہیں جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ وہ اس مسئلے کا ایک پر امن حل چاہتے ہیں۔ وہ جنگ کی بجائے امن کو ترجیح دینا چاہتے ہیں لیکن ابھی تک ایسا ممکن نہیں ہوا۔ مذاکرات بھی ہوتے رہتے ہیں لیکن کسی معمولی بات پر جنگ بھی چھڑ جاتی ہے جیسا کہ ابھی حال ہی میں ایک گیارہ روزہ جنگ ہوئی جو ایک مسجد میں یہودیوں کی طرف سے کیے گئے ایک ایکشن سے شروع ہوئی اور پھر ایک جنگ کی شکل اختیار کر گئی۔ سینکڑوں لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بے حد مالی نقصان بھی ہوا۔ پوری دنیا کوشش کے باوجود بھی جنگ بندی نہ کروا سکی اور یہ جنگ گیارہ دن تک چلتی رہی۔
اس مسئلے کا تیسرا فریق امریکہ ہے۔ امریکہ کا موقف ان الفاظ سے ہی واضح ہوتا ہے جو اس 11 روزہ جنگ کے آغاز میں امریکی صدر بائیڈن نے کہا کہ اسرائیل کو اپنے تحفظ کا حق حاصل ہے۔ وہ اسرائیل کا بہت بڑا حامی ہے اور اس کی بے حد مالی اور فوجی مدد بھی کرتا ہے۔ وہی اسرائیل کو بڑی تعداد میں اسلحہ بھی فروخت کرتا ہے۔ یاد رہے کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان مذاکرات کی سب سے زیادہ کوششیں بھی امریکہ نے ہی کی ہیں۔
اسرائیل میں دو طرح کے لوگ طاقت کا اصل سرچشمہ ہیں۔ ایک گروہ کو دائیں بازو والے لوگ کہا جاتا ہے (Rightest) ۔ ان میں سیکولر اور مذہبی دونوں طرح کے لوگ ہیں۔ آپ انہیں شدت پسند یہودی بھی کہہ سکتے ہیں۔ ان کا یہ خیال ہے کہ فلسطین کے ساتھ کسی بھی طرح کی رعایت نہ کی جائے اور ان کا کوئی بھی مطالبہ تسلیم نہ کیا جائے۔ دوسرا گروپ جو بائیں بازو کا نظریہ رکھتے ہیں انہیں Leftistکہا جاتا ہے۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ فلسطینیوں کے لیے ایک خودمختار ریاست ہونی چاہیے اور اسرائیل کو امن کی خاطر فلسطین کے ساتھ سمجھوتہ کرنا چاہیے لیکن نیتن یاہو کی حالیہ قیادت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ فلسطین کے ساتھ کسی بھی طرح کا معاملہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ صرف طاقت کے استعمال سے فلسطین کے لوگوں کو مزید تنگ کرنا چاہتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ مختلف سروے یہ بھی بتاتے ہیں کہ اب عام اسرائیلی بھی یہ چاہتا ہے کہ مزید جنگ نہیں ہونی چاہیے۔ اس رائے میں کئی اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ اب بھی کبھی فلسطین کی طرف سے کوئی فوجی کارروائی ہوتی ہے تو اسرائیلی عوام کی رائے بدل جاتی ہے۔
اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ نے 2010 میں ایک سروے کیا جس کے مطابق 66 فیصد یہودی اسرائیلیوں نے دو ریاستی حل کو ترجیح دی۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ لوگوں کا یہ خیال بھی ہے کہ ایک ہی ریاست ہونی چاہیے جس میں عرب اور یہودی مل جل کر رہیں۔ فلسطین کے تمام علاقے بھی اسرائیل میں شامل کر لیے جائیں۔ اسے Bi۔ National ریاست کا نام دیا گیا۔ اکثر لوگوں کے نزدیک دو ریاستی نظام ہی واحد حل ہے۔
میں اس سے یہ بات جان سکا ہوں کہ امریکہ چاہتا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے اسرائیل کی ریاست تمام عرب تسلیم کر لیں اور اسے ہر صورت قائم رکھا جائے۔ (حال ہی میں کئی عرب اور افریقی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے ) ۔ اب تک بیان کیے گئے تینوں فریقوں کے نقطۂ نظر سے یہ بات واضح ہے کہ اب سوائے اس کے کوئی نہیں ہے کہ ایک دو ریاستی نظام کی طرف جایا جائے، لیکن کیسے؟ ایک خوفناک ماضی کو بھلانا آسان نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو مجھے مستقبل قریب میں تو حل ہوتا نظر نہیں آتا۔ اللہ کرے کوئی امن کی جلد صورت پیدا ہو۔ (آمین)
میں 70 سال میں ہونے والے مذاکرات اور معاہدوں کی ایک جھلک آپ کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا۔
فلسطین اسرائیل امن مذاکرات اور معاہدے
فلسطین اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات اور معاہدے ایک تسلسل سے جاری ہیں۔ ان معاہدوں اور مذاکرات کا آغاز اسرائیل کے قیام سے قبل ہی ہو چکا تھا۔ شاید ہی کوئی ایسا سال گزرا ہو جب فلسطین اور اسرائیل کے درمیان میں مذاکرات نہ ہوئے ہوں اور کوئی نہ کوئی معاہدہ نہ ہوا ہو۔ اب صورت حال یہ ہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی بات چیت کو پیس پروسس (Peace Process) کا نام دیا جاتا ہے ( اس کا مطلب تو یہی ہوتا ہے کہ ایسا کام جو ابھی تک جاری ہے ) ۔ ان معاہدوں کی تفصیل یہودیوں کی ایک لائبریری میں موجود ہے۔ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان معاہدوں کی ایک تاریخ طویل ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق 1982 سے 2017 تک 22 مرتبہ کوئی نہ کوئی مذاکرات یا معاہدے ہوئے ہیں۔ یعنی تقریباً 35 سال میں 22 مرتبہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔ یہ بات چیت براہ راست بھی ہوئی ہے اور بالواسطہ بھی۔
ان تمام معاہدوں کی تفصیل لکھنا ممکن نہیں ہے لیکن میں ان میں سے چند ایک کا مختصر تذکرہ ضرور کرنا چاہوں گا۔
یاد رہے کہ ایسے معاہدے بھی ہوئے ہیں جن کا تعلق تو فلسطین سے تھا لیکن اس میں فلسطین شامل نہیں تھا، جیسے اسرائیل اور مصر کا معاہدہ۔ اسی طرح 1948 کی جنگ کے بعد 1949 میں ایک معاہدہ اسرائیل، لبنان، مصر اور شام کے درمیان ہوا جس میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا اور ایک سرحد کا تعین کیا گیا۔ جسے گرین لائن کا نام دیا جاتا ہے اور یو این او اس کی نگرانی کرتی ہے۔ یہ سرحد چھ روزہ جنگ تک برقرار رہتی ہے۔ جنگ میں فتح حاصل کرنے کے بعد اسرائیل اس سرحد کی خلاف ورزی کرتا ہے اور عربوں کے کئی علاقے قبضے میں لے لیتا ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں اسرائیل اس علاقے کے 78 فیصد پر قابض ہو جاتا ہے جبکہ یو این او کی 1947 کی قرارداد کے مطابق اسرائیل کا حصہ صرف پچاس فیصد تھا۔
فلسطین کا کل علاقہ 28 ہزار مربع کلومیٹر تھا۔ جس میں سے 22 ہزار مربع کلو میٹر (تقریباً 80 فیصد حصے ) سے زائد علاقے پر اسرائیل نے قبضہ کر رکھا ہے اور صرف بیس فیصد علاقہ فلسطینیوں کے پاس ہے۔ جس کے چاروں طرف اسرائیل کا قبضہ ہے۔ ایک طرح سے فلسطینی چاروں طرف سے اپنے دشمن کے درمیان گھرے ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کی آمدورفت پر بھی اسرائیل کا مکمل کنٹرول ہے۔

