امریکہ کا چکر: ایلومیناٹی کا ہیڈکوارٹر اور دیگر مشاہدات


ایلومیناٹی کا ہیڈکوارٹر

جیسا کہ ہر ذی شعور پاکستانی جانتا ہے، دنیا کا نظام ایلومیناٹی نامی ایک نہایت خفیہ تنظیم چلا رہی ہے۔ وہی فیصلہ کرتی ہے کہ کس ملک کا حکمران کون ہو گا، کیا پالیسیاں بنائے گا، کس ملک کی معیشت کیسی ہو گی، کہاں جنگ ہو گی اور کہاں امن ہو گا۔ سننے میں تو یہ بھی آیا ہے کہ ہمارے موبائل پیکیج کے ریٹ بھی یہی تنظیم طے کرتی ہے۔ اتنے زیادہ اثر و رسوخ کے باوجود اسے تلاش کرنا ممکن نہیں۔ بس کچھ نشانیاں ہیں جن کی مدد سے لوگ اس کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ ان نشانیوں میں سب سے اہم ایک آنکھ کا نشان ہے۔ آنکھ کے ذریعے یہ تنظیم ظاہر کرتی ہے کہ وہ موبائل پیکیج سمیت ہر شے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

اب ہوا یوں کہ کرسمس کا زمانہ چل رہا تھا اور ہم بتیاں دیکھنے کی نیت سے ڈیلاس میں گھوم رہے تھے۔ اچانک ایک تاریک سے پارک کے باہر لگے ایک بورڈ پر ہماری نظر پڑی۔ لکھا تھا ”یہاں داخل ہونا منع ہے“ ۔ ہم چونک گئے کیونکہ امریکہ جیسے آزاد ملک میں یہ پابندی کچھ کھٹک رہی تھی۔ ہم نے پارک کے قفل زدہ دروازے کے اوپر سے جھانکا تو ہماری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

اندر ایک بڑی سی آنکھ پڑی ہمیں گھور رہی تھی۔ ہم نے ارد گرد کی بلند و بالا عمارات کو دیکھا اور ترنت سمجھ گئے کہ یہ ایلومیناٹی کا ہیڈکوارٹر ہے۔ جلدی میں وہاں سے ہٹے تو ساتھ ہی کچھ فاصلے پر ایک آنکھ جیسا گول مٹول سا ویسا گولہ پڑا تھا جیسا کارٹونوں میں بم دکھایا جاتا ہے۔ اس پر اے ٹی اینڈ ٹی لکھا تھا۔ کسی نے بتایا کہ یہ امریکی ٹیلیفون اینڈ ٹیلی گراف کا دفتر ہے۔ ہم سمجھ گئے کہ ایلومیناٹی نے خود کو چھپانے کے لیے یہ ڈرامہ کیا ہے ورنہ ہے یہ اسی کا ہیڈ کوارٹر۔

کاؤ بوائز کے گڑھ میں

ٹیکساس کے کاؤ بوائز کا بہت شہرہ سنا تھا۔ فلمیں دیکھ دیکھ کر ہم یہ سمجھتے تھے کہ کاؤ بوائے کوئی بہت ہی نرالی مخلوق ہوتے ہیں، لیکن وہاں جا کر علم ہوا کہ امریکہ میں گجروں کو کاؤ بوائے کہا جاتا ہے۔ اور انصاف کی بات کی جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے دیسی گجر امریکی کاؤ بوائز پر برتری رکھتے ہیں۔ یہ قوم مویشی پالتی ہے، گھوڑوں پر بیٹھ کر اپنے گلے کی نگرانی کرتی ہے۔ مزاج کی ایسی ہے کہ جہاں دنگا کرنے کا موقع ہو وہاں پستول نکالنے میں منٹ نہیں لگاتی لیکن جہاں بات سے معاملہ طے ہوتا ہو ادھر بھی ایسا ہی کرتی ہے۔ اس کا پسندیدہ مشغلہ بپھرے ہوئے سانڈوں کی سواری کرنا ہے جسے یہ روڈیو کہتے ہیں۔ مقابلے ہوتے ہیں کہ کون بندہ کسی سانڈ کی پشت پر زیادہ دیر تک جما رہتا ہے۔

ہم فورٹ ورتھ کے قدیمی حصے میں گئے جو کاؤ بوائز کا گڑھ ہے۔ ادھر مرکزی گیٹ پر ایک بپھرے ہوئے سانڈ کا مجسمہ بنا ہوا تھا جس کے گلے میں ایک بڑے میاں ٹنگے تھے۔ وہ اپنے تئیں اسے قابو کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اندر ایک باڑے میں بہت سے سانڈ بند تھے۔ نہایت شریف اور سیدھے سادے لگ رہے تھے۔ برخوردار خان نے بعضوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی مگر وہ تو یوں کھڑے تھے جیسے چارے میں بھنگ کھاتے ہوں۔ ایسے میں ہماری نظر ایک فرنگی حسینہ پر پڑی جو ایک سانڈ کو اشتعال دلانے میں کامیاب ہو چکی تھی اور وہ اسے ٹکر مارنے کی کوشش میں جنگلے سے اپنا سر پھوڑ رہا تھا۔

وہ ہٹی تو اس کی جگہ برخوردار خان نے سنبھال لی۔ سانڈ کچھ دیر تک تو نظرانداز کرتا رہا، پھر اس نے بالکل کارٹونوں والے انداز میں فرش پر پیر رگڑے اور دھاڑ سے برخوردار خان کو ٹکر رسید کر دی۔ درمیان میں یکلخت جنگلہ آ جانے سے وہ واپس ہوا مگر اس کے باوجود اس نے اپنی کوشش جاری رکھی۔

باہر نکلے تو وہاں پیڈرو مل گیا۔ وہ ایک بڑے سے سانڈ کے ساتھ کھڑا لوگوں کو دعوت دے رہا تھا کہ ذرا اس پر بیٹھ کر تو دیکھو۔ یا تصویر ہی اتروا لو اور پانچ ڈالر دھر دو۔ باقی لوگ تو گھبرا گئے مگر برخوردار خان فوراً اس کی پشت پر سوار ہو گیا۔ اس کا عقیدہ ہے کہ جتنا خطرناک جانور ہو وہ دل کا اتنا ہی اچھا اور معصوم ہوتا ہے۔

وہاں ایک خاتون اور چند مرد بیٹھے گانے بھی گا رہے تھے۔ ہم کچھ دیر تک سنتے رہے مگر پھر فیصلہ کیا کہ انہیں ٹھیک سے انگریزی بولنا نہیں آتی اس لیے ہم سمجھنے سے قاصر ہیں کہ وہ کہنا کیا چاہتے ہیں۔ بہرحال کچھ ہنگامہ انہوں نے برپا کر دیا تھا اور چند لوگ ان کے گانوں پر رقص کر رہے تھے۔ روڈیو شو میں ابھی دیر تھی اور ٹھنڈ زیادہ ہو رہی تھی۔ اسے دیکھے بغیر ہم وہاں سے نکل آئے۔

چینی مارکیٹ

فورٹ ورتھ کی دیسی مارکیٹ تو دیکھ رکھی تھی جہاں پاک و ہند کے تمام مرچ مسالے اور مشہور پراڈکٹ موجود تھیں۔ لیکن جب چینی مارکیٹ دکھائی دی تو سوچا کہ چینیوں کے بارے میں جانکاری بڑھائی جائے۔ چینی کہانیاں پڑھ پڑھ کر ہم ویسے بھی خالص چینی چائے خریدنا چاہتے تھے۔ وہاں پہنچے تو حکومت آپا نے کہا کہ کس کر ماسک باندھ لیں کیونکہ اتنی بدبو ہو گی کہ سانس لینا مشکل ہو جائے گا۔ فرمانبردار خان نے بھی تائید کی تو سب لوگ ڈبل ماسک پہن کر اور سانس روک کر مارکیٹ میں داخل ہو گئے۔

وہاں نہایت عجیب و غریب چیزیں موجود تھیں۔ تحقیق کرنے پر علم ہوا کہ یہ اشیائے خورد و نوش ہیں۔ وہاں کئی طرح کی زندہ مچھلیاں ایکویریم میں تیر رہی تھیں تو پلاسٹک کے لفافوں میں خشک مچھلیاں بھی رکھی تھیں۔ دیکھ کر تعجب ہوا کہ ہماری قوم اس طرح مچھلیاں کیوں نہیں سکھاتی۔ کچھ کیڑے مکوڑے بھی تھے۔ اور پتہ نہیں کیا کیا الم غلم تھا۔ چائے دیکھنی شروع کی تو فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا کہ کون سی خریدی جائے۔ کچھ برانڈ تو واقعی مہنگے تھے۔ بہرحال اکڑ بکڑ کا فارمولہ لگا کر چند ڈبے خرید لیے۔

کینیڈی مانومنٹ اور اظہار رائے

امریکہ میں مختلف آزادیوں کے بارے میں بہت سن رکھا تھا۔ اتفاق ایسا ہوا کہ اس کا مشاہدہ بھی ہو گیا۔ نیو ائر نائٹ کی آتش بازی دیکھ کر نکلے تو کینیڈی مانومنٹ کے گرد گھوم کر اس کی زیارت کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں جان ایف کینیڈی کو گولی ماری گئی تھی۔ مانومنٹ کے گرد گھومے تو ایک مجسمہ دکھائی دیا۔ ہمیں حیرت ہوئی کہ کینیڈی کتنا بدل گیا ہے، اپنی تصویروں سے تو بالکل نہیں ملتا، کوئی اور بندہ لگتا ہے۔ مگر ہمیں یقین دلایا گیا کہ کینیڈی کے مانومنٹ پر کینیڈی کا ہی مجسمہ ہو سکتا ہے۔ بعد میں اس کے نیچے لکھی تحریر پڑھی تو علم ہوا کہ امریکی بالکل جھلے ہیں۔ قتل وہاں کینیڈی ہوا تھا مگر مجسمہ انہوں نے کسی جارج بینرمین ڈیلی نامی شخص کا لگا دیا۔ غالباً وہاں کی بیوروکریسی بھی پاکستان جیسی ہو گی، سب سے کم ریٹ والے ٹھیکیدار سے کام کروایا ہو گا۔ اس نے جو مجسمہ سب سے زیادہ سستا ملا وہ لگا دیا۔

وہاں چوک پر ایک پادری صاحب اپنا سپیکر اور بیٹری رکھ کر عین سگنل کے نیچے کھڑے کسی قسم کی تبلیغ کر رہے تھے۔ غالباً لوگوں کو بتا رہے تھے کہ قیامت نزدیک ہے سدھر جاؤ۔ ان کی آزادی اظہار میں پولیس وغیرہ کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈال رہے تھے۔ اور لوگ بھی ان کی باتوں میں اتنی ہی دلچسپی لے رہے تھے جتنی ہمارے ہاں بھی تبلیغیوں کی باتوں میں لی جاتی ہے۔

اتنی دیر میں ایسا ہوا کہ ایک حسینہ اپنے ساتھی مرد کا ہاتھ پکڑے زیبرا کراسنگ سے سڑک کراس کرنے لگی۔ سردی بہت تھی اور کپڑے اس کے کچھ کم تھے۔ غالباً سردی کا احساس کم کرنے کے لیے اس نے سڑک پار کرتے کرتے ہی سپیکر سے بھی بلند آواز میں پادری صاحب سے اختلاف رائے کرنا شروع کر دیا۔ پادری صاحب بھی تبلیغ چھوڑ کر دلیل کا جواب دلیل سے دینے میں مصروف ہو گئے۔

ان کی باتیں تو ہماری سمجھ میں نہیں آئیں کیونکہ وہ بظاہر امریکہ میں مروج ف کی بولی میں دلائل دے رہے تھے، مگر دیکھ کر یہ معلوم ہو گیا کہ حسینہ کا درجہ حرارت اتنا بلند ہو گیا ہے کہ اب اسے سردی کا احساس باقی نہیں رہا ہو گا۔ پادری صاحب بھی پسینے پسینے ہوتے دکھائی دے رہے تھے۔ اس دوران وہ مرد جری جو حسینہ کا ہمراہی تھا، تمام مذاکرات سے یکسر بے نیاز ہو کر حسینہ کا ہاتھ تھامے ناک کی سیدھ میں سگنل دیکھتا ہوں یوں سڑک پار کرتا رہا جیسے اسے خبر ہی نہیں کہ حسینہ کسی سے اس حد تک مشتعل ہو کر جھگڑ رہی ہے کہ بھنبیری بنی ہوئی ہے۔ بہرحال حسینہ اور پادری کا مکالمہ تمام تر گرمیٔ جذبات کے باوجود زبانی ہی رہا۔ نہ کسی کا سر پھوٹا نہ کسی کی ٹانگ ٹوٹی۔ واقعی عجیب قوم ہے۔

کوڑا اٹھانے کا نظام

ٹیکساس میں کوڑا اٹھانے کا نظام عجیب ہے۔ ہر گھر نے کوڑے کے لیے دو مخصوص سے ڈرم رکھے ہوتے ہیں۔ ہفتہ بھر ایک ڈرم میں وہ ایسا کوڑا جمع کرتے ہیں جو ری سائیکل کیا جا سکے اور دوسرے میں ایسا جو ضائع کیا جائے۔ ایک مقرر کردہ دن ایک بڑا سا ٹرک آتا ہے۔ جس گھر کے سامنے ڈرم پڑا ہو، ٹرک وہاں رکتا ہے اور ایک مشینی بازو ڈرم اٹھا کر ٹرک میں الٹ دیتا ہے۔ پھر ڈرم کو واپس رکھ دیتا ہے۔ پھر دوسرا ٹرک آتا ہے اور وہ ری سائیکل والا ڈرم اٹھا کر اپنے اندر انڈیل لیتا ہے۔ اس کے بعد گھر والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ خالی ڈرم اٹھا کر اندر لے جائیں ورنہ بلدیہ والے آتے ہیں اور چالان کر دیتے ہیں۔

آپ بھی ہماری طرح اس نظام کے بارے میں سن کر حیران ہوئے ہوں گے۔ کہاں یہ مشہور ہے کہ امریکہ میں شہریوں کو ہر طرح کی آسانی بہم پہنچائی جاتی ہے اور کہاں یہ نظام جو شہریوں کو پیچیدہ گورکھ دھندے میں پھنسا کر جرمانے کرتا ہے۔ ہمارے ہاں تو ایسا نظام ایک دن نہ چلے۔ ایک تو شہری ایسی نفاست سے ری سائیکل ہونے والا اور دوسرا کوڑا الگ الگ ڈرم میں نہیں ڈالیں گے۔ دوسری بات یہ کہ بالفرض محال انہوں نے ایسا کر کے ڈرم باہر رکھ دیا تو اسے وہ نہیں اٹھائیں گے، کوئی دوسرا پہلے ہی اٹھا کر غائب کر دے گا۔ ڈرم اچھا بھلا مہنگا بک سکتا ہے۔

تیسری بات یہ کہ جہاں ہم نے دس جگہ امریکہ کی تعریف کی ہے، وہاں اپنی تعریف کرنے میں ہرج نہیں۔ ہمارا نظام اس سے بہتر ہے۔ شہری ہر قسم کا کوڑا ایک ہی شاپر میں ڈالتے ہیں جس کے چوری ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ پھر کوڑا اٹھانے والا روزانہ خود کوڑا اٹھا کر لے جاتا ہے اور کچرا کنڈی میں پھینک دیتا ہے، ہفتے بھر گھر والے اسے اپنے پاس خزانے کی طرح محفوظ نہیں رکھتے۔ بلکہ شاپر میں کیا، ہمیں اتنی آزادی میسر ہے کہ جب جی چاہے جہاں جی چاہیے کوڑا پھینک دیں۔ ہر دو صورت میں کوڑا چننے والے آتے ہیں اور خود ہی ری سائیکل ہونے والا کوڑا الگ کر کے بیچ آتے ہیں۔ یوں شہری بھی کوڑے کے انتخاب میں اپنا قیمتی وقت ضائع نہیں کرتے اور ایک بڑے طبقے کو روزگار بھی فراہم کر دیتے ہیں۔ غالباً گلی کوچوں میں کوڑا بھی ہم نیکی سمجھ کر پھینکتے ہیں کہ چلو کوئی ہماری اس نیکی کے طفیل کچھ پیسے ہی کما لے گا۔

گلی گلی ری سائیکل کوڑا خریدنے کے لیے ردی والے بھی آتے ہیں جو کاغذ، پلاسٹک کی بوتلوں، شیشے کی بوتلوں وغیرہ کے بدلے کپ اور جوتے دے جاتے ہیں۔ ادھر امریکہ میں ری سائیکل کوڑے کا پورا ڈرم دے کر بھی بدلے میں کچھ نہیں ملتا۔ یعنی ہمارا ہر طرح سے فائدہ ہی فائدہ ہے۔

اس سیریز کے دیگر حصےامریکہ کا چکر: لوگ اور زندگی

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1482 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments