شاہدرہ سے شاردہ تک


علم صرف کتابوں کا محتاج نہیں ہوتا، دوسرے بہت سے ذرائع بھی علم کے حصول میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ سیاحت بھی ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے آپ دوسری ثقافتوں، خطوں اور زبانوں کے متعلق جانتے ہیں۔ مختلف علوم جیسے فوٹوگرافی اور مصوری وغیرہ کے لیے نئے نئے زاویے آشکار ہوتے ہیں۔ سیاحت آپ کی ذہنی اور جسمانی نشوونما میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے اور مختلف چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ جب آپ اس طرح کے سفر سے واپس آتے ہیں تو ایک نئی توانائی سے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔

روزمرہ کی گونا گوں مصروفیات میں سے وقت کے کچھ لمحات اپنے لیے نکالے اور دوستوں کی ہمراہی میں ضروری ساز و سامان اٹھا کر نکل پڑے۔ اس سفر کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ پہلے سے کچھ خاص پلان نہیں تھا اور شوق آوارگی کی تسکین کے لیے منہ اٹھایا اور چل دیے۔ راستے میں البتہ قرعہ فال کشمیر جنت نظیر کے نام نکلا۔

لاہور سے براستہ جی ٹی روڈ سفر، بے ہنگم ٹریفک اور ناہموار سڑک کے باوجود سیاحت کے شوقین حضرات کے لیے ایک خاص کشش رکھتا ہے۔ موٹروے کی نسبت جہاں ریسٹ ایریا مخصوص فاصلے پر واقع ہیں، جی ٹی روڈ پر کھانے پینے اور دوسری اشیاء جگہ جگہ اور ارزاں نرخوں پر دستیاب ہوتی ہیں۔ راستے میں خوبصورت کھیت، چھوٹے بڑے قصبے اور شہر، اور ان شہروں کی مشہور مقامی صنعتیں، کھانے، سوغاتیں اور تاریخی مقامات وغیرہ سیاحت کے نہایت پرکشش ہیں۔

پہلوانوں کے شہر گوجرانوالہ کے لذیذ کھانے، وزیر آباد کی کٹلری کی صنعت، گجرات کی مشہور زمانہ بجلی کی مصنوعات کے علاوہ جہلم اور دینہ کے اطراف منگلا ڈیم، قلعہ روہتاس اور ٹلہ جوگیاں سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ ہم ان چھوٹے بڑے شہروں سے ہوتے، ڈھابوں کی چائے اور کھانے سے لطف اندوز ہوتے راولپنڈی کی حدود میں داخل ہوئے تو سورج افق پر سرخ رنگ بکھیرتے ہوئے نیند کی آغوش میں جانے کو تیار تھا۔ شہر اقتدار کی دل آویز شام میں کچھ وقت گزار کر سفر کا دوبارہ آغاز کیا اور براستہ ہزارہ موٹروے مانسہرہ پہنچے تو رات پوری طرح اپنے پر پھیلا چکی تھی۔ سفر کی تھکاوٹ اور بھوک سے نڈھال ہونے کی وجہ سے مزید سفر کو اگلے دن تک موخر کرتے ہوئے رات کا بقیہ حصہ مانسہرہ کے ایک ہوٹل میں گزارنے کا فیصلہ کیا۔ کھانا کھانے کے بعد کب نیند نے ہمیں اپنی آغوش میں لے لیا یہ کسی کو یاد نہیں۔

الارم کی آواز سے آنکھ کھلی تو رات کی سیاہی چھٹ چکی تھی اور نیلگوں آسمان ایک روشن صبح کا آغاز ہونے کی نوید سنا رہا تھا۔ ہوٹل کی بالکنی سے مانسہرہ شہر کا نظارہ بہت خوبصورت منظر پیش کر رہا تھا۔ سر سبز پہاڑوں کی اوٹ سے سورج کی کرنیں شہر پر سنہری رنگ کی چادر چڑھا رہی تھیں۔ مانسہرہ سے گڑھی حبیب اللہ کے راستے آزاد کشمیر کی حدود میں داخلے سے پہلے چیک پوسٹ پر موجود عملے نے روکا اور ضروری معلومات لے کر آگے جانے کی اجازت دی۔ اونچائی سے مظفرآباد شہر کے گرد دریائے نیلم کی روانی ایک مسحور کن نظارہ ہے۔

مظفرآباد میں ناشتہ اور چائے پینے کے بعد اگلی منزل کی طرف روانہ ہوئے اور چلہانہ، کنڈل شاہی سے ہوتے ہوئے وادیٔ نیلم کے ہیڈکوارٹر اٹھ مقام پہنچے۔ وادی کے ضلعی ہیڈکوارٹر ہونے کی وجہ سے اٹھ مقام کو ایک خاص مقام حاصل ہے اور یہاں تمام بنیادی سہولتیں موجود ہیں۔ سیاح یہاں رک کر تازہ دم ہونے کے ساتھ ساتھ اگلی منزل کے لیے ضروری اشیاء کی خریداری بھی کرتے ہیں۔ اٹھ مقام سے تقریباً دس کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد کیرن پہنچے تو ہلکی ہلکی بارش شروع ہو چکی تھی۔

کیرن دریائے نیلم کے کنارے واقع ایک نہایت خوبصورت قصبہ ہے جہاں ایک چھوٹا سا بازار ہے۔ آزاد جموں کشمیر حکومت کے ٹور ازم ڈیپارٹمنٹ نے یہاں ایک ٹورسٹ لاج بھی قائم کی ہوئی ہے۔ بارش کی رم جھم نے کیرن کے موسم کو اور بھی خوبصورت بنا دیا تھا۔ یہاں چائے اور پکوڑوں سے دل بہلاتے ہوئے مقامی لوگوں سے گپ شپ بھی ہوئی جس سے معلوم ہوا کے دریا کے اس طرف مقبوضہ کشمیر کا علاقہ ہے۔ انہوں نے مزید یہ بھی بتایا کہ کیرن سے آگے ذاتی گاڑیاں لے کر جانا نقصان دہ ہو گا کیونکہ راستہ بہت خطرناک ہے اور مقامی ڈرائیور زیادہ بہتر ثابت ہوتے ہیں۔

چنانچہ گاڑی کو وہیں پارک کرنے کے بعد ایک جیپ کے ذریعے کیرن سے روانہ ہوئے۔ کیرن سے سفر کا آغاز ہوا تو چند کلومیٹر تک سڑک ہمارے ساتھ رہی اس کے باد اپنا وجود کھو بیٹھی اور پتھروں اور پتھریلی مٹی سے بنا راستہ جسے بمشکل سڑک کا نام دیا جاسکتا تھا، ہمارا ہمسفر ہوا۔ مصطفی زیدی نے شاید ایسے ہی کسی راستے کے بارے میں شعر کہا تھا کہ

انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ
میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

یہ الگ بات ہے کہ ان پتھروں پہ تو چلا جاسکتا ہے، کہکشاؤں کے بارے میں ہمارا علم البتہ نا ہونے کے برابر ہے۔ جیپ پتھریلے راستے پر ہچکولے کھاتی منزل کی طرف رواں دواں تھی۔ ایک طرف فلک بوس پہاڑ تو دوسری طرف سینکڑوں فٹ گہرا تند و تیز دریائے نیلم، ایک طرف سے پتھر گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ تو دوسری طرف دریا کی شوریدگی اور گہرائی کا خوف، سچ پوچھیں تو منٹوں کا یہ سفر گھنٹوں پر محیط اور انتہائی پر خطر ہونے کے باوجود، کوئی چیز اگر باعث سکون ہے تو وہ کشمیر کا دلکش حسن، جو سیاحوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور نگاہیں پہاڑوں کی چوٹیوں پر جمی برف اور دریا کے پیچ و خم میں الجھ جاتی ہیں۔

قدرت کے حسین شاہکار، کشمیر میں شاردہ ہمارا اگلا پڑاؤ تھا۔ شاردہ وادیٔ نیلم کی تحصیل ہے جو سطح سمندر سے تقریباً 6500 فٹ کی بلندی پر دریائے نیلم کے کنارے واقع ہے۔ یہ دو پہاڑیوں شاردی اور ناردی کے درمیان گھری ہوئی ہے۔ اسے شاردہ دیش یا لینڈ آف شاردہ بھی کہا جاتا ہے۔ ہم شاردہ پہنچے تو سہ پہر کا وقت تھا۔ جیپ ڈرائیور کی معاونت سے مناسب داموں ہوٹل کا کمرہ مل گیا۔ سامان وغیرہ رکھنے اور تازہ دم ہونے کے بعد ہم شاردہ کی سیر کو نکلے۔ دریائے نیلم کے دونوں طرف موجود ہوٹل اور ریسٹ ہاؤسز موجود ہیں۔ دریا کے اوپر لوہے سے بنا ہوا پل آمدورفت کا واحد ذریعہ ہے جس سے پیدل چلنے والے، گاڑیاں اور مال مویشی وغیرہ گزرتے ہیں۔

شاردہ پیتھ جس کا شمار کشمیری پنڈتوں کے مقدس ترین مقامات میں ہوتا ہے۔ یہ چھٹی اور بارہویں صدی کے دوران سب سے اہم ٹیمپل یونیورسٹی تھی۔

دریا میں کشتی رانی، پیڈل بوٹ اور جیٹ سکائی کی سہولت موجود۔ ہم نے بھی جیٹ سکائی کا لطف اٹھایا۔ دریا کے کنارے برفیلے پہاڑوں سے کے پیچھے ڈوبتے ہوئے سورج کا نظارہ کرتے چائے پکوڑوں سے لطف اندوز ہونے کا مزہ لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا، وہ صرف محسوس کیا جاسکتا ہے۔

ہوٹل کی چھت پراس سرد موسم میں باربی کیوز اور بون فائر نے تھراپی کا کام کیا اور سارے دن کی تھکاوٹ دور ہو گئی۔ اس لذیذ کھانے اور بون فائر نے جادوئی کام کیا اور چند لمحوں کے بعد ہم سب خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے۔

وقت کی کمی کے باعث کیل اور تاؤ بٹ جانے کا ارادہ منسوخ کرنا پڑا جس کا بہت افسوس رہے گا۔ تاہم ہم کشمیر سے خوبصورت یادوں اور تصویروں کا البم لے کر واپس لوٹے جو ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گا۔

Facebook Comments HS

One thought on “شاہدرہ سے شاردہ تک

  • 18/01/2022 at 10:37 شام
    Permalink

    Excellent visualization of this travel

Comments are closed.