یوسف پرواز کا افسانوی مجموعہ بے گھر


Dr Shahid M shahid

میرے نزدیک ادب کی پھلواری میں تخلیق ایک ایسا بیج ہے جس کے پھل سے طرح طرح کے ذائقے چکھنے کو ملتے ہیں اور اس میں خاص بات یہ ہوتی ہے جس کو جس طرح کا پھل اور ذائقہ پسند ہو وہ اسے ہی کھانا پسند کرتا ہے۔ تخلیق کے ان پھلوں اور ذائقوں کی خوشبو دوسوں کے نتھنوں تک پہنچی جاتی ہے۔ یوں قارئین تجسس کے ماحول میں ادب کی خوشگوار آب و ہوا میں سانس لے سکتے ہیں۔ اور اپنے دل کی دھرتی پر ادب کا گلشن آباد کر سکتے ہیں۔

ادب کے گلشن میں ایک خوبصورت پھول یوسف پرواز بھی ہے جس کی تخلیق تحقیق و جستجو سے پر نمکین ہے۔

انہوں نے ادب کی کئی اصناف پر طبع آزمائی کی ہے جن میں اردو پنجابی شاعری، مضمون نگاری، افسانہ نگاری اور کالم نگاری ہے ان کا ادب کے ساتھ ریاضت و محبت کا سلسلہ ایک طویل عرصے آزمائشی عدد چالیس پر مشتمل ہے اس طویل سفر میں ان کا واسطہ اور ٹکراؤ اس بات کی علامت بن گیا جس کے بل بوتے وہ ادبی قافلے میں شامل ہو گئے اور اپنے فن و شخصیت کو ان دائروں میں قید کر لیا جہاں روشنی کی شعاعیں منعکس ہو کر دوسروں پر پڑتی ہیں۔ یوسف پرواز کو جہاں شعر و شاعری میں مقام و مرتبہ عطا ہوا وہاں انہوں نے افسانہ نگاری میں بھی عزت و توقیر پائی ہے۔

یوسف پرواز کے افسانوں میں زندگی کے حقائق کی فطری مصوری کے رنگ ملتے ہیں جو تجربات کی آغوش میں پل کر زندگی کی کہانی کو حقیقی تصویر میں کھینچ لیتے ہیں۔ انسانی زندگی یہاں غم و خوشی کے اثرات و فتور سے متاثر ہوتی ہے وہاں تصرف میں اپنائیت کا احساس بھی پیدا ہو جاتا ہے جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسلوب نگارش فنی اسلوب کو جلا بخشتا ہے اور جب اظہار و بیان کا انداز بھی پرخلوص ہو وہاں واقعات پسندی تاثر کی وحدت میں افسانہ نگاری کی جان بن جاتی ہے۔

فاضل دوست اپنے افسانوں میں کردار نگاری کی ذات سے بھی جدا نہیں ہوئے کیونکہ کردار شخصیت کے پرتو میں لپٹا ہوا وہ جگنو ہے جس کی روشنی رات کے گھپ اندھیروں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ جس کی تائید و توثیق کے زمرے میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ یہ شخص انکشاف و عرفان کے مراحل سے واقف ہے اور زندگی کی مخفی کروٹوں سے بھی ان کے لب و لہجہ میں اتنی شگفتگی و پختگی ہے جو کہانی کے مجموعی کردار کو تاثر کی فضا دینے پر مجبور کر تی ہے تاکہ منجدھار کی گہرائیوں کو دل کی گہرائی سے سمجھا جائے۔ یقیناً ایسی سعادت و فضیلت منفی عناصر کو جن میں زندگی کی قوت نہیں ہوتی وہ خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔ تاکہ حیات کی تجدید ایسی کیفیت و ماحول پیدا کر دے جہاں اثباتی عناصر اپنا دامن پھیلا کر جہالت کی گرد مٹا دیں۔

ایسے ٹھوس اور حقیقت پسندانہ اثبات کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ یوسف پرواز کا افسانوی ادب قلب و روح کو تخلیقی حسن کے ساتھ جکڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایک وطن پرست ادیب کی حیثیت سے انہوں نے ایسے افسانے تراشے ہیں جن کے موضوعات اپنے فکری اور فنی محاسن کی بدولت تجسس کا راستہ ہموار بنا لیتے ہیں اور اس وقت تک اپنی دلچسپی کا مرکز آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیتے جب تک قاری اپنا مطالعاتی تجسس ختم نا کر لے۔ یقیناً شگفتہ و ارفع ادب کی یہی ایک خوبی ہوتی ہے جو اپنے اظہار و ذوق میں منفرد ثابت ہو۔

مجھے ان کے کچھ افسانے ایسے ماحول اور معاشرے کے عکاس دکھائی دیے جن کی روشنی میں کہا اور پرکھا جاسکتا ہے جو مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں رحمت و درخشاں بن جاتے ہیں۔ ان چند مشہور افسانوں میں افلاس، محرومی، تاریک راستے، صدمہ، مکان، نفرت کا الاؤ، بوجھ، جیون ساتھی منفرد طرز بیان میں لکھے گئے ہیں جو معاشرے کو روشن خیالی اور شعور و فکر کی اصلاحی، اخلاقی، تہذیبی اور روحانی تربیت کا ارفع معیار مرتب کرتے ہیں۔ اور ان کے افسانوی چراغ سے ادب کا نکھار روح کے سناٹے میں اپنی جگہ بنانے کا ہنر رکھتا ہے۔

نمونہ کے طور پر چند افسانوں سے اقتباس پیش خدمت ہے۔
افسانہ تاریک راستے شروع سے آخر تک اپنے فنی اور فکری محاسن کی تصویر پیش کرتا ہے مثلاً وہ لکھتے ہیں۔

”رات تقریباً اپنا آدھا سفر طے کر چکی تھی۔ جیل میں ایک ایک چیز سیاہی میں ڈوبی نیند کی آغوش میں خراٹے بھر رہی تھی لیکن وہ ابھی تک جاگ رہا تھا نیند اس سے کوسوں دور تھی کیا اس وقت قانون کی آنکھیں اندھی تھیں۔ اگر ایسا پہلے بھی تھا تو میں ایک اچھا شہری کیوں نہیں بن سکا اس میں کس کا قصور ہے“

اسی طرح ان کے افسانے بے گھر سے اقتباس پڑھیں۔

”اسے اپنی غلطیوں کوتاہیوں اور ناکام پالیسیوں کا احساس کھائے جا رہا تھا۔ وہ اس جذبہ کی کھوج میں تھا۔ جس کے لئے اس نے اپنی زندگی نچھاور کر دی تھی۔ وہ وقت کا انتظار کر رہا تھا کہ اب مالی حالات درست ہو ں۔ خود کو ڈھارس دینے کے لیے وہ خود کلامی میں مبتلا تھا۔

آج اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ زندگی کے پلیٹ فارم پر تنہا رہ گیا ہے ”

بلاشبہ افسانہ نگاری اساسی نوعیت کا کام ہے جس کے باعث افسانہ کے فنی، موضوعاتی، تکنیکی اور اسلوبیاتی اعتبار سے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ جو ایک ادیب کی شخصیت اور ادوار کے آئینہ بن جاتے ہیں۔

یوسف پرواز کے افسانوں میں جدیدیت کی گہری پرتیں موجود ہیں جو عصری شعور کی واضح تصاویر دکھاتے ہیں۔ جو اپنے حسن و جمال میں سماجی ذمہ داریوں کا احساس کے ساتھ فکری و جذباتی سیاق و سباق سے پر ہے اور تمام تر خوبیاں جو رمزی، اشاراتی، تمثیلی، تجریدی اور استعاراتی ہیں جو فن کے جوبن اور حسن کو تلاش کر لیتے ہیں۔ جو ادیب عہد ساز ہوتا ہے وہ اپنی صنف میں اجلا پن، شفافیت اور جذبات کی مدوجزر کی فضا ضرور قائم رکھتا ہے۔

میں یوسف پرواز کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے ”بے گھر“ افسانوی مجموعہ تخلیق کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں جس طرح انہوں نے بے گھر افسانوں میں روشنی کا چراغ روشن کیا ہے اس روشنی سے کئی اور چراغ جلیں گے۔

Facebook Comments HS