کرونا کے خلاف جدوجہد
کوڈ۔ 19 نے چین کے شہر وہان سے سر کیا اٹھایا کہ پوری دنیا گزشتہ تین سالوں سے لرزہ براندام ہے اور تو اور پوری دنیا کا نہ صرف ہیلتھ سسٹم بیٹھ گیا بلکہ جانی اور مالی نقصان بھی ناقابل برداشت سطح تک پہنچ گیا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کو تو چھوڑیں بلکہ مستحکم معیشت والے ممالک بھی بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا نظر آئے۔
ایسے میں جنوبی ایشیاء میں پاکستان جیسا ملک جس کی معیشت پہلے سے زبوں حالی کا شکار ہے کیسے بری طرح متاثر ہونے سے بچ سکتا تھا۔ ڈبلیو ایچ او اور NCOC کی رپورٹس کے مطابق 2021 کے دوران پاکستان میں 28، 933 اموات ہوئیں اور 1، 295، 933 افراد کرونا سے متاثر ہوئے جبکہ کئی میلن ڈالر کا معاشی نقصان ہوا ہے۔ اسی طرح حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 2021 میں گلگت بلتستان میں 187 اموات ہوئیں جبکہ مجموعی طور پر 10,467 افراد متاثر رہے۔
گلگت بلتستان پاکستان کے دیگر حصوں کی طرح ترقی میں ہم قدم نہیں ہے بلکہ یہاں جغرافیائی مشکلات اور محدود معاشی سرگرمیوں کی وجہ سے صحت سمیت دیگر مسائل زیادہ گمبھیر ہو جاتے ہیں۔
کرونا کی لہر نے دیگر علاقوں کی طرح گلگت بلتستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا لیکن یہاں صحت کا محکمہ اپنے محدود وسائل اور ماہرین کی کمیابی کے باوجود اس موذی وائرس کے خلاف سینہ سپر رہا۔ اس مشکل مرحلے میں نہ صرف بڑی تعداد میں ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل سٹاف کرونا سے متاثر ہوئے بلکہ ڈاکٹر اسامہ اور۔ جیسے ہمدرد انسان دوست افراد نے اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا۔ AKRSP نے گلگت بلتستان کے عوام کو اس مشکل موقع پر آگے بڑھ کر مدد کرنے میں پہل کی اور اپنے روایتی رورل ڈیولپمنٹ کے ساتھ ساتھ کرونا کے خلاف بھی کمیونٹی کے ساتھ مل کر جدوجہد جاری رکھا ہے۔
2020 میں کوڈ فیز کے دوران یورپی یونین، UNFPA، گورنمنٹ آف کینیڈا کے تعاون سے ایکو، صحت مند خاندان اور فاؤنڈیشن فار ہیلتھ پروجیکٹس کے تحت کرونا کے روک تھام کے لئے ایل ایس اوز، محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کے باہمی اشتراک سے شعور و آگہی مہم بڑے پیمانے پر چلائی گئی۔ اس ضمن میں بلتستان کی 22 سے زائد یونین کونسل میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے پیغامات وین لاؤڈ سپیکر کے ذریعے نشر کیے گئے۔ کمیونٹی میں شعور و آگہی اور رہنمائی کے لئے 22 یونین کونسلوں میں والنٹیئر ٹاسک فورس بنائے گئے جنہوں نے اپنی اپنی یونین کونسلوں کی سطح پر 500 سے زائد کمیونٹی سیشن منعقد کروائے جہاں مرد و خواتین کی کثیر تعداد کو احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا گیا۔
ریڈیو پاکستان سکردو، FM نیٹ ورکس اور کیبل نیٹ ورکس کے ذریعے ڈبلیو ایچ او ، NCOC اور محکمہ صحت کے خصوصی پیغامات نشر کیے گئے۔ ریڈیو پاکستان سکردو میں دو درجن سے زیادہ پروگرام کے گئے جس میں بلتستان کے ماہر ڈاکٹروں اور کنسلٹنٹس کے ذریعے لائیو کالز موصول کی گئی اور انہیں کرونا سے متعلق معلومات اور میڈیسن تجویز کیا گیا۔
صحت مند خاندان پراجیکٹ کے ذریعے 2020 میں لیڈی ہیلتھ ورکرز، جونیئر میڈیکل ٹیکنیشنز، ہیلتھ کیئر گیورز کو کرونا کے مریضوں کی ہینڈلنگ کی تربیت دی گئی۔ اسی پراجیکٹ کے تحت کیمونٹی ریسورس پرسنز کو کمیونٹی کی سطح پر کرونا سے بچاؤ اور متاثرین کی دیکھ بھال کے تربیتی کورسز کروائے گئے۔
فاؤنڈیشن فار ہیلتھ کے تحت مرکزی کرونا سنٹر عبداللہ ہسپتال کو چھ آکسیجن فراہمی مشینیں دی گئی تاکہ ایڈمٹ مریضوں کی جلد ریکوری ہو سکے۔ اسی طرح اس پراجیکٹ کے ذریعے چار ہزار سے زائد خواتین کو ہائی جین کٹس، 300 سے زائد کرونا مریضوں کو دوائی کی مد میں مدد اور 400 کے قریب مستحق خاندانوں کو سوشل سیفٹی نیٹ ورکس کے ساتھ منسلک کیا گیا۔ نیز درجنوں کی تعداد میں شعور و آگہی کے سیشنز کمیونٹی کی سطح پر کروائے گئے۔
2021 کے دوران صحت مند خاندان پراجیکٹ کا دوسرا فیز شروع ہوا جو طویل مدت یعنی چار سال دورانیہ کا ہے۔ اسی طرح فاؤنڈیشن فار ہیلتھ بھی 2021 میں مزید چار سال کے لئے بڑھایا گیا ہے۔ ECHO پراجیکٹ جس کے تحت 2020 میں زیادہ تر کرونا سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات اور شعور و آگہی کی مہم چلائی گئی تھی اسے 2021 میں کرونا ویکسین کی شرح بڑھانے کے لئے مختص کیا گیا۔ اس ضمن میں AKRSP نے بلتستان کی ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور دیہی تنظیمات کے ساتھ مل کر دور دراز اور افتادہ علاقوں کے غریب عوام کو کرونا ویکسین پہنچانے اور سوشل موبلائزیشن کے ذریعے زیادہ سے زیادہ ویکسین لگانے کے لئے تن دہی سے کام کیا۔
اس مہم کا باقاعدہ آغاز پسماندہ اور سلسلہ ہمالیہ کی بلندی پر واقع وادی گلتری سے کیا گیا اور پھر اس مہم کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے شوگر تھنگ، روندو کے دورافتادہ موضوعات ہنگو، ہر داس، خمراہ، تلو، گنجی، سب سر، یلبو، یلبو کوٹ، تلو بروق، لشی تھنگ، شنگس وغیرہ میں ویکسین کی گئی۔ اسی طرح کھرمنگ کے لائن آف کنٹرول پر واقع بلند ؤ دورافتادہ گاؤں جن میں گنوخ، دانسر، ژے ژے تھنگ، مرمق، واژرا، گنگنی، میموش تھنگ، میموش، برسیل چھو، برسیل، غابس، ہلال آباد، شیلا اور ڈورو میں مرد و خواتین کو کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگائی گئی۔ ضلع شوگر کے انتہائی دور گاؤں ارندو، بیسل، ڈاہنگ، امبوژوق، ڈوکو، اسکولی، تستے، کروفے، حوطو، پکورہ، وغیرہ میں ویکسین لگائی گئی۔
ضلع گانچھے میں سلترو، کندوس، دم سم، ہوشے، مچلو، تھلے، بلغار، کورو، کریس وغیرہ میں ویکسینیشن کا کام کیا گیا
علاوہ ازیں ریڈیو، کیبل نیٹ ورکس اور FM سٹیشنوں کے ذریعے ویکسین کی اہمیت سے متعلق اہم پیغامات اور معلومات نشر کیے جا رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس حوالے سے آگاہی حاصل ہوں۔ ایل ایس اوز کے ذریعے بھی یونین کونسلوں کی سطح پر موبلائزیشن اور شعور و آگہی کی مہم چلائی گئی جس میں یونین کونسل سطح پر اعلانات، دینی سکالرز کے ذریعے مذہبی اجتماعات میں ویکسین کی افادیت پر خصوصی پیغامات اور اہم چوک چوراہوں پر بینرز آویزاں کر دیے گئے۔ اس آگہی مہم کا خاطر خواہ نتیجہ نکلا اور بلتستان ریجن ویکسینیشن کے حوالے سے سر فہرست رہا۔
ویکسین لگانے کے دوسرے مرحلے میں جب 12 سال سے اوپر کی عمر کے نوجوانوں کو شامل کیا گیا تو AKRSP نے نومبر اور دسمبر کے دوران محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم کے اشتراک سے مختلف سکولوں کے طالب علموں کو ویکسین لگانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس مرحلے میں AKRSP نے محکمہ صحت کے ساتھ مل کر جامع ورک پلان مرتب کیا اور سردیوں کی چھٹیوں سے پہلے دورافتادہ اور نزدیکی سکولوں میں بڑی حد تک ویکسین کرنے کا کام مکمل کیا گیا۔ اس کام کی لئے یونین کونسلوں میں ایل ایس اوز کے علاوہ بعض رجسٹرڈ سول سوسائٹی آرگنائزیشن کو بھی میں شامل رکھا گیا۔
اے کے آر ایس پی کی مقامی انتظامیہ، محکمہ صحت، ایل ایس اوز اور دیگر سول سوسائٹی آرگنائزیشن کے اشتراک سے کی جانے والی جدوجہد کا نتیجہ یہ نکلا کہ بلتستان ریجن مجموعی طور پر پاکستان بھر میں ویکسین شدہ علاقوں کی نمبر شمار میں اولین صفحے پر ہے۔ علاوہ ازیں کمیونٹی اور سول سوسائٹی نے اس خدمت کو بڑے پیمانے پر سراہا اور اس قومی مہم میں AKRSP کی شمولیت کو ناگزیر اور خوش آئند قرار دیا۔


