بڑے بندوں کی نشانیاں


ہر معاشرہ میں بڑے بندے کی چند نشانیاں ہوتی ہیں جیسے کہ امریکہ میں بڑے بندے اپنی دولت اپنے بچوں کے نام نہیں کرتے اکثر خیرات کر دیتے ہیں۔ کتابیں لکھتے ہیں اور کتابیں پڑھتے ہیں۔ کسی رفاہی کام کا بیڑا اٹھاتے ہیں۔ قانون کی پاسداری کرتے دکھائی دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ہمارے پیارے پاکستان میں بڑے لوگ موجود ہیں بلکہ کہنا چاہیے بہت ہی بڑے لوگ ہیں۔ ان کی چند نشانیاں درج ذیل ہیں :

( 1 ) وہ اپنا ایک ڈرائیور اور محافظ (گن مین) رکھتے ہیں، چاہے ان کے پاس گاڑی ہے کہ نہیں ہے۔
( 2 ) وہ کبھی بھی اکیلے نہیں چلتے ہر وقت ان کے ساتھ ان کے دوست یعنی چمچے کڑچھے ساتھ ہوتے ہیں۔

( 3 ) گولڈن نمبر کی سم ان کے پاس ہوتی ہے۔ چاہے ان کو ایک بھی کال نہ آئے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں گولڈن نمبر بہت مہنگے ہیں۔

( 4 ) ان کے فیس بک، انسٹا گرام پر ہر وقت ان کے ساتھ سیاست دان، پولیس والے، افسر کھڑے نظر آتے ہیں۔ وہ عام آدمی کو منہ نہیں لگاتے۔

( 5 ) ان کی باتیں ہمیشہ ان سے شروع ہو کر ان پر ختم ہوتی ہیں چاہے دوسرا ان کی بات کو سننا چاہے یا نہ چاہے۔

( 6 ) وہ کھاتے بھی ہیں پیتے بھی ہیں۔ اگر بڑے بندے کا تعلق دیہاتی علاقے سے ہو تو اس کو چھوٹا گوشت پسند ہوتا ہے اور ہر وقت چھوٹا، چھوٹا کرتا رہتا ہے اور اگر بڑے بندے کا تعلق شہری علاقے سے ہو تو وہ برگر بچہ ہوتا ہے اور اس کو مکڈونلڈز پسند آتا ہے اور کھانے سے پہلے پینا ان کا پسندیدہ فعل ہوتا ہے۔

( 7 ) قانون کو اپنے پیر کی جوتی سمجھتے ہیں۔ اس لیے اس پر عمل کرنا اپنی توہین سمجھے ہیں۔ ویسے بھی ہمارے ملک کا قانون اتنا نازک ہے کہ لگتا ہے موم سے بنا ہوا ہے۔ اس لیے جیسے چاہتے ہیں وہ اس کو موڑ لیتے ہیں۔

( 8 ) ہر نئے ماڈل کا موبائل رکھتے ہیں لیکن پسندیدہ ان کو ’سیب کے چک‘ والا ہی آتا ہے مگر سام سنگ سے بھی کام چل سکتا ہے۔

( 9 ) پڑھنے لکھنے سے ان کو کوئی خاص لگاؤ نہیں ہوتا حالانکہ ان میں اکثر بیرون ملک سے پڑھ کر آتے ہیں یا شاید ڈگریاں لے کر آتے ہیں مگر رتی بھر تبدیلی نہیں آتی۔

( 10 ) غریبوں کی مدد کرتے ہیں لیکن کیمرے کے سامنے اور جب کیمرے بند ہوں تو ان کو لوٹتے رہتے ہیں۔ ان کا یہ کھیل کئی صدیوں سے جاری ہے اور نجانے کب تک جاری رہے گا۔

ہم نے دس عدد نشانیاں گنوا دی ہیں لیکن اگر آپ سمجھتے ہیں یہ کم ہیں تو آپ ان میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS