نظام نہیں چہروں کو بدلنا ہوگا


پچھلے کئی دنوں سے ایک بار پھر ملک میں صدارتی نظام رائج کرنے کی سرگوشیاں سنائی دی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلائے جا رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ملک کی ترقی کا واحد حل صدارتی نظام میں ہے۔ اگر صدارتی نظام رائج بھی ہوجاتا ہے تو وہ ایک غیر ذمہ دار حکومت ہوگی، غیر ذمہ دار اس وجہ سے کہ صدر کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ اپنے کونسل آف منسٹرز میں پارلیمنٹ کے باہر کے لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کر سکتا ہے۔ صدر اور کونسل آف منسٹرز پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ نہیں ہوں گے ، اور نہ صدر کو آسانی سے گھر بھیجا جا سکتا ہے جس طرح پارلیمانی نظام میں عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے ہوتا ہے۔

اول تو موجودہ نظام کو بدلنے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے جو دو تہائی اکثریت سے صدارتی نظام نافذ کر سکتی ہے نو بظاہر ناممکن نظر آتا ہے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نظام بدلنے سے ملک کی تقدیر بدل جائے گی؟ مہنگائی کم ہوگی؟ وزیر اعظم کا نام صدر رکھنے سے تبدیلی آئے گی؟ اکانومی بہتر ہو جائے گی؟ کیا ایوب، ضیا، اور مشرف کا دور ہم نے نہیں دیکھا؟ اس صدارتی یا نیم صدارتی نظام سے اب تک کون سی دودھ کی نہریں بہہ رہی ہے۔ ؟ کیا وہی 100 یا 150 کے قریب الیکٹیبلز اس نظام کا حصہ نہیں ہوں گے ؟ جب حکومتیں کچھ ڈلیور کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے تو ان سب کا ملبہ پچھلوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ کیا نظام بدلنے سے ادارے اپنی آئینی حدود میں واپس چلے جائیں گے؟ کیا نظام انصاف ٹھیک ہو گا؟ کیا احتساب کے ادارے ٹھیک ہوجائیں گے؟ کیا صدر پارلیمان کو جوابدہ ہو گا؟ کیا سب اداروں کے بجٹ پر پارلیمان میں بحث ہو سکے گی؟

بدقسمتی سے ملک کی 74 سالہ تاریخ میں ہم نے کب پارلیمانی نظام کو چلنے دیا ہے؟ یہ تیسری حکومت ہوگی جو اپنی پانچ سالہ جمہوری حکومت پوری کرے گی، مطلب صرف پندرہ سال۔

خرابی نظام میں نہیں ہے، خرابی اشخاص میں ہے۔ یہاں مفاد پرست سیاست کا رواج ہے۔

ہمارے قومی اور سیاسی نمائندے ایرانی سرکس میں موجود بندروں کی طرح اپنے مالک کے اشارے پر ناچتے ہیں۔ جس کی وجہ سے پارلیمانی نظام کمزور پڑھ جاتا ہے۔ پارلیمنٹ قومی نمائندوں سے نہیں بلکہ ایرانی سرکس کے مسخروں سے بھری پڑی ہے، جو وقتاً فوقتاً صرف لوگوں کو ہنساتے رہتے ہیں۔ یہاں مفاد پرست سیاست کا رواج ہے، ہمارے قومی نمائندے لکی ایرانی سرکس والوں کی طرح ایک موزوں ماحول کے انتظار میں ہوتے ہیں جہاں پر وہ اپنی اداکاری کے جوہر دکھا سکے۔ پھر نظام کا حصہ بننے کے بعد یہ موسمی پرندے اپنی ناکامی کا الزام پچھلوں پر ڈال دیتے ہیں۔ جس طرح موجودہ حکومت کے نمائندے پچھلی حکومتوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔

ایک مختصر سا جائزہ لیتے ہیں کہ یہ پچھلے اصل میں ہے کون؟ جس طرح پی ٹی آئی کے نور عالم خان نے کہا کہ جب تک یہ پہلے قطار والوں کا احتساب نہیں ہو گا ملک کی ترقی ممکن نہیں ہے۔ یہ پہلے والے جب تک نہیں جائیں گے بابائے قوم بھی قبروں سے اٹھ کر آ جائیں حالات تبدیل نہیں ہوسکتے۔

ہوا بازی کے وزیر، سرور خان ہیں 1985 اور 1988 اور 1990 میں یہ PPP کے ایم پی اے منتخب ہوئے۔ 1997 میں PPP کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے ہار گئے۔ 2004 میں شوکت عزیز کی کابینہ میں محنت اور افرادی قوت کے وزیر تھے۔

‏خسرو بختیار صاحب اکنامک افیئرز کے وفاقی وزیر ہیں 1997 میں PMLN میں تھے۔ 2002 میں ق لیگ کے ٹکٹ پر ایم این اے بنے۔ شوکت عزیز کی کابینہ میں امور خارجہ کے وزیر مملکت تھے۔ 2013 میں پھر PMLN میں شامل ہو گئے! 2018 میں پی ٹی آئی میں گھس گئے۔

‏صاحبزادہ محبوب سلطان بھی وفاقی وزیر ہیں 2002 اور 2008 کا الیکشن ق لیگ کے ٹکٹ پر لڑا
2013 کے الیکشن میں PMLN کے امیدوار تھے. 2018 میں پی ٹی آئی ان کی منزل مراد بن گئی اور ان کی خدمات کے صلے میں انہیں وفاقی وزارت عطا فرما دی گئی! ‏

فواد چودھری مشرف کی آل پاکستان مسلم لیگ میں تھے۔ پھر PPP پر بہار آئی تو اس کی شاخ پر جا بیٹھے۔ اب وہ پی ٹی آئی کے ترجمان ہے۔ ‏

نور الحق قادری وفاقی وزیر برائے مذہبی امور ہیں۔ زرداری دور میں قادری صاحب زکواۃ و عشر کے وفاقی وزیر تھے۔ ‏محمد میاں سومرو الیکشن والے سال پی ٹی آئی کا حصہ بنے۔ اس وقت وفاقی وزیر ہیں۔ وہ چیئرمین سینٹ قائم مقام وزیر اعظم اور صدر بھی رہ چکے اور مشرف دور میں گورنر سندھ۔

‏عمر ایوب وفاقی وزیر ہیں. 2002 کا الیکشن ق لیگ کے ٹکٹ سے لڑا۔ شوکت عزیز کی کابینہ میں وزیر مملکت رہے۔ 2012 میں نون لیگ میں چلے گئے۔ الیکشن سے چند ماہ پہلے پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے۔  ‏سید فخر امام وفاقی وزیر ہیں۔ سابق سپیکر اور قائد حزب اختلاف بھی رہ چکے ہیں۔

‏طارق بشیر چیمہ صاحب بھی وفاقی وزیر ہیں۔ سیاسی سفر میں البتہ وہ PPP میں رہے، ق لیگ میں رہے بہاولپور کے ناظم رہے۔ ایم پی اے رہے پنجاب کے وزیر خوراک و زراعت رہے۔ 2016 میں ق لیگ کے سیکرٹری جنرل تھے۔

‏شیخ رشید 1985، 1988، 1990، 1993 اور 1997 کے انتخابات میں کامیابی ہوئے۔ نواز شریف کے دور میں مشیر اطلاعات و نشریات پھر وزیر صنعت و حرفت اضافی چارج سیاحت و ثقافت۔ 2002 میں PML۔ Q میں وزیر اطلاعات پھر وزیر ریلوے۔ 2013 میں MNA, اور پھر 2018 پی ٹی آئی میں وزیر ریلوے۔ اب وزیر داخلہ۔
‏اعظم سواتی بھی وفاقی وزیر ہیں۔ یوسف رضا گیلانی کی حکومت میں بھی صاحب وفاقی وزیر تھے۔

زبیدہ جلال، فروغ نسیم، فہمیدہ مرزا، عبدالحفیظ شیخ جیسوں کی تو بات ہی کیا، ابھی تو مشیران اور وزرائے مملکت کی فہرست بھی باقی ہے۔

‏ یہ صاحبان جو ہر حکومت کا حصہ بھی ہوتے ہیں اور پھر اپنی ناکام پہلے والوں پر ڈال دیتے ہیں۔ لیکن یہ بتانے کی جرات نہیں کر سکتے کہ یہ پہلے والے کون تھے؟

پارلیمان میں ان ایرانی سرکس کے اداکاروں کے ہوتے ہوئے غلطی نظام میں نہیں بلکہ اشخاص میں ہے۔ اگر واقعی ہم ملک میں ایک جمہوری سیٹ اپ کے خواہش مند ہیں تو نظام نہیں بلکہ ان افراد کو بدلنا ہو گا۔ ان افراد کے بدلنے کے لئے لوگوں نے اپنی شخصیت پرست سیاسی کلچر کو ترک کرنا ہو گا اور ایک منظم اور جمہوری سیٹ اپ کو تشکیل دینا ہو گا نہیں یہ سیاسی سرکس کے مسخرے ہم پر مسلط ہوتے رہے گے۔

Facebook Comments HS