چلتے ہو تو مہر گڑھ کو چلیے

کبھی کبھار انسان اس مصروف زندگی سے وقت نکال کر کچھ پُرسکون لمحات کی تلاش میں ہوتا ہے۔ سیاسی عدم استحکام و افراتفری، بدامنی اور عقائد و نظریات کے بنیاد پر تقسیم معاشرے میں ایسے لمحات انسانوں کے مابین رہ کر کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایک غالب خیال یہ ہے کہ ایسی صورت حال میں انسانی معاشرے سے دور بھاگ کر کسی پہاڑی کی چوٹی پر قدرت کے نظاروں یا دریا کے کنارے بیٹھ کر دریا کی مست

Read more

پشتون قوم میں قومی نظریہ کا فقدان

لفظ Nation یعنی قوم لاطینی زبان کے لفظ Natiu یا nacioun سے ماخوذ ہے جس کے معنی پیدائش، لوگ، ذات یا کلاس کے ہیں۔ وسیع اور کم پیچیدہ معنوں میں یہ اصطلاح ایک ثقافتی اور تاریخی نوعیت کی ایک ایسی جماعت کی عکاسی کرتی ہے جو جو مشترکہ خصوصیات جیسے کہ زبان، تاریخ، نسل، ثقافت اور یا ایک مخصوص علاقے کے مجموعے کی بنیاد پر تشکیل دی گئی ہوں۔ اور سب سے بڑھ کر قوم ایک مشترکہ اور قومی نظریہ

Read more

بد کردار مرد

ایک مشہور قول ہے کہ ”اگر معاشرہ خواتین کی آزادانہ ترقی کو تسلیم نہیں کرے گا، تو معاشرے کو از سر نو تشکیل دینا چاہیے۔“ بدقسمتی سے افسانہ نگار، تاریخ دان، فلاسفر سے لے کر مذہبی لوگوں تک ان کے فلسفے، تاریخ اور افسانوں میں آپ کو بدکردار عورت کا ذکر ضرور ملے گا۔ اگر تاریخی اوراق کو پلٹ کر دیکھا جائے تو قدیم یونان سے لے کر اب تک عورت کی محبت اور اس کی مجبوریوں کو بدکرداری سے

Read more

نظام نہیں چہروں کو بدلنا ہوگا

پچھلے کئی دنوں سے ایک بار پھر ملک میں صدارتی نظام رائج کرنے کی سرگوشیاں سنائی دی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلائے جا رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ملک کی ترقی کا واحد حل صدارتی نظام میں ہے۔ اگر صدارتی نظام رائج بھی ہوجاتا ہے تو وہ ایک غیر ذمہ دار حکومت ہوگی، غیر ذمہ دار اس وجہ سے کہ صدر کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ اپنے کونسل آف منسٹرز میں پارلیمنٹ کے

Read more

برفباری اور پشتون مہمان نوازی کا ڈھونگ

جب سے مری کا واقعہ پیش آیا ہے، تب سے سوشل میڈیا پر ایک طوفان سا برپا ہے۔ جہاں ایک طرف سیاحت کے آمد و رفت کے واضح پلان نہ ہونے کی وجہ سے حکومتی نا اہلی اور سست روی پر تنقید جاری ہے اور ہوٹل انتظامیہ کے نا مناسب ریٹ پر بھی سوشل میڈیا صارفین اور مختلف میڈیا فورمز پر تنقیدی بحث جاری ہے وہاں دوسری جانب سوشل میڈیا پر پشتون بیلٹ سے تعلق رکھنے والے صارفین سیاح کو

Read more

ہم دیکھیں گے

یہ تب کی بات ہے جب علاقے میں امن تھا۔ امن اس حد تک کہ شکاری پرندوں نے بھی شکار چھوڑ دیا تھا، وہ گوشت خور جانور جو اپنے سے کمزور جانوروں کو چیر پھاڑ کر کھا لیتے تھے، اب وہ گھاس کھانے لگے تھے۔ جہاں کے پہاڑ امن کے گیت گایا کرتے تھے۔ ایک ایسی دنیا تھی جس کا اب صرف خیال ہی کیا جا سکتا ہے۔ جہاں قدیم یونان میں افلاطون کی اس وقت کے دانشوروں کے ساتھ سمپوزیم

Read more

چل کہیں اور چلیں

میری جان جس معاشرے میں محبت کو گھناؤنا جرم گردانا جائے، جہاں محبت کرنے والوں کو سولی چڑھایا جائے، جہاں محبتوں کے اظہار کرنے والوں سے ان کے اپنے ہی لا تعلقی کا اظہار کر دیں، جہاں محبت کے بجائے نفرت کا بیوپار کیا جاتا ہو، جہاں پیار و محبت کے باغی لوگ اہل محبت والوں کو غیرت کے نام پر قتل کر کے بے غیرتی کر جاتے ہیں، جہاں سینوں میں نفرت کھوٹ کھوٹ کر بھری ہو۔ میری جان!

Read more