آمر ہی چاہئے تو عمران خان میں کیا برائی ہے؟


ملک میں صدارتی نظام لانے کی کوششوں کے حوالے سے مباحث کا سلسلہ ایک بار پھر زور پکڑے ہوئے ہے۔ اپوزیشن اصرار کررہی ہے کہ بحث کا یہ سلسلہ سرکاری حلقوں کی جانب سے چلایا جارہا ہے جس کی مدد سے شخصی حکومت نافذ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حکومتی وزرا اس قسم کی کوشش یا تجویز سے لاعلمی کا اظہار کررہے ہیں۔
وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے تو ان خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے میڈیا اتھارٹی کے والے تصور کو پیش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسی خبریں سستی شہرت کے لئے نشر ہوتی ہیں۔ اسی لئے ان کا کہنا ہے کہ میری بات مانو یہ خبریں پھیلانے کے طریقے ہی کو ختم کرو۔ سرکاری ذرائع مناسب اور تصدیق شدہ خبریں فراہم کرنے کے لئے کافی ہیں۔ ایسے میں آزاد میڈیا نام کا ڈھکوسلا لوگوں کو گمراہ کرنے اور فیک نیوز پھیلانے کا دھندا ہے جس کے بارے میں قابل احترام وزیر اطلاعات پہلے بھی بارہا متنبہ کرچکے ہیں کہ یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے تاکہ لوگوں کی جھوٹی خبروں سے جان چھوٹے اور ملک کے تمام شہری اطمینان سے قومی ترقی کے کام میں جٹ جائیں۔ افسوس بس یہ ہے کہ سب لوگ فواد چوہدری کی بات کی تہ تک نہیں پہنچ پاتے اور ان کی بات بیچ میں اچک کر انہیں آزادی رائے کے خلاف اقدام قرار دینے لگتے ہیں۔ ایسے میں بیچارے فواد چوہدری سوائے دلیل دے کر مطمئن کرنے کے کر بھی کر سکتے ہیں۔
اب یہی حال صدارتی نظام کے حوالے سے سامنے آنے والی خبروں کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ خبر سامنے آئی، پھر مکرر نشر ہوئی اور اب باقاعدہ بحث کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ اتنی سی بات کو اپوزیشن نے اتنا سنجیدہ لے لیا کہ قومی اسمبلی میں قرار داد پیش کی جا چکی ہے کہ یہ ایوان صدارتی نظام لانے کی ہر قسم کی کوشش کو مسترد کرتا ہے۔ ہمارے محبوب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بھی اپوزیشن کی اس بے صبری پر اپنی خاموشی توڑنا پڑی اور ملتان کے ہفتہ وار دورے اور میڈیا ٹاک کے دوران شاہ صاحب نے وضاحت کی ہے کہ حکومت ایسی کسی بھی تجویز سے بے خبر ہے۔ ویسے وزیر خارجہ اور حکومت کے ایک معتمد ترجمان کی یہ وضاحت بڑی دلچسپ ہے کہ حکومت اس تجویز سے بے خبر ہے۔ ایک خبر سوشل میڈیا اور یوٹیوب چینلز سے ہوتی ہوئی اب زبان زد عام ہوچکی ہے۔ مین اسٹریم میڈیا اس پر خبریں، تبصریں اور مضامین شائع کررہا ہے اور اپوزیشن قومی اسمبلی میں اس حوالے سے قرار داد پیش کرچکی ہے۔ لیکن ملتان کے مخدوم فرماتے ہیں کہ وہی نہیں، پوری حکومت ہی اس تجویز سے بے خبر ہے۔ گویا حکومت کی بے خبری کا یہ عالم ہے کہ اسے چوبارے چڑھی بات کا بھی علم نہیں ہوتا۔ شاید اسی لئے اس سے گزارش کی جاتی ہے کہ کبھی کبھار اخبار وغیرہ بھی دیکھ لیا کریں کیوں کہ جن عشرت کدوں میں بیٹھ کر ملکی معیشت کو چھلانگیں لگاتے اور تیز رفتار ہوتا بتایا جاتا ہے، وہاں پر تو شاید اس مہنگائی اور معاشی بدحالی کا گزر نہیں ہوتا جس کا سامنا ملک کے عام شریوں کو اس ’ترقی ‘ کے ہاتھوں کرنا پڑتا ہے۔ البتہ اگر ہر خبر کو جھوٹ اور اپوزیشن کی سازش سمجھنے کے طریقے میں توقف کیا جائے تو جانا جا سکتا ہے کہ اس کے بارے میں عام آدمی کیا محسوس کرتا ہے اور اس کے شب و روز کس مشکل میں بیت رہے ہیں۔
شاہ محمود قریشی کی تردید اور فواد چوہدری کی وضاحت کے باوجود رانا ثنا اللہ کو چین نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت اس ’شرارت‘ کے پیچھے نہیں ہے تو پھر ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔ قومی اسمبلی میں قرار داد پیش کی جا چکی ہے۔ حکومت ویسے بھی اپوزیشن سے تعاون کرنے کے دعوے کرتی رہتی ہے بلکہ محمود قریشی تو جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے پر پہلے ہی اپوزیشن کے ساتھ مل کر چلنے کی باتیں کررہے ہیں تو آیئے اس قرار داد کو متفقہ طور سے قومی اسمبلی سے منظور کرا کے صدارتی نظام کی بحث کو ہمیشہ کے لئے ختم کیا جائے۔ حکومت یوں تو شاید اس تجویز پر غور کرتی لیکن رانا ثنااللہ جیسے شخص کے منہ سے پیش کی گئی تجویز میں تو وزیر اعظم عمران خان کو کسی نہ کسی سازش کی بو ضرور آئے گی۔ آخر جو شخص ’منشیات‘ کی اسمگلنگ کے الزام میں ’رنگے ہاتھوں‘ پکڑا گیا ہو اور بس ملک کے ناقص عدالتی نظام کی وجہ سے جیل سے باہر بیٹھا سیاسی معتبر بنا پھرتا ہو، اس کی کسی بات کو کیسے مانا جا سکتا ہے۔ عمران خان کی یہی معصومیت ان کے چاہنے والوں کو بھاتی ہے۔ وہ بھی سلمان خان کے ڈائیلاگ کی طرح اس اصول پر گامزن ہیں کہ ’ایک بار کمٹمنٹ کرلی تو پھر اپنی بھی نہیں سننی‘۔ عمران خان نے شریفوں اور زرداریوں کو چور سمجھ لیا تو اب دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے وہ اپنی رائے تبدیل نہیں کرسکتے۔
رہی بات ملک میں صدارتی نظام لانے کی تو اس میں سو طرح کے کیڑے نکالے جارہے ہیں۔ زیادہ پڑھے لکھے لوگ 1973 کے آئین کا حوالہ دے کر واضح کررہے ہیں کہ حکومت تو کیا اگر قومی اسمبلی بھی چاہے تو اس آئین کو تبدیل نہیں کرسکتی۔ اول تو کسی کے پاس دو تہائی اکثریت ہی نہیں ہے۔ پھر یہ اسمبلی 1973 کے آئین کے تحت منتخب ہوئی ہے۔ اب اگر اس آئین کو تبدیل کرنا ہے تو ملک میں نئی دستور ساز اسمبلی منتخب کروانا ہوگی اور اس کے سامنے یہ مقدمہ پیش کیا جائے گا اور وہ اسمبلی اگر اس نکتہ پر اتفاق کرلے تو شاید ملکی نظام کو پارلیمانی سے صدارتی کیا جا سکتا ہے۔ گویا نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی والا سماں ہے۔
تاہم یہ عذر اور دلیل لانے والے اس حقیقت کو بھول چکے ہیں کہ اس آئین کے بعد بھی دو بار ملک میں صدارتی انتظام کی فیوض و برکات سے فائدہ اٹھایا جاچکا ہے۔ پہلے ضیاالحق نے آئین معطل کیا اور اپنی صدارت کو ایک ریفرنڈم کے ذریعے نافذ کردیا۔ ملکی عدالتوں کو بھی اس طریقہ پر کوئی اعتراض نہیں تھا کیوں کہ یہ طریقہ ’نظریہ ضرورت‘ کے تحت ناگزیر سمجھا گیا تھا۔ پھر دس گیا رہ سال بعد جنرل پرویز مشرف کو ایسی ہی حاجت محسوس ہوئی تو انہوں نے بھی آئین معطل کیا اور اختیار سنبھال کر خود کو ملک کا صدر بتانے لگے۔ کسی نے نہیں پوچھا کہ میاں منہ میں کتنے دانت ہیں۔ ’نظریہ ضرورت‘ نے ایک بار پھر عدالتوں کو مجبور کردیا اور پی سی او کے حلف نے پارلیمانی آئین کے ہوتے صدارتی نظام کے فوائد سے مالامال ہونے کا راستہ ہموار کئے رکھا۔ وہ تو 2007 کی ایمرجنسی۔ 2 نے مسئلہ کھڑا کردیا جس کی وجہ سے بعد میں ایک خصوصی عدالت نے پاک فوج کے سربراہ رہنے والے ایک شخص کو موت کی سزا دینے کا حوصلہ کرلیا۔ تاہم اس خصوصی عدالت کے انجام سے عبرت پکڑی جاسکتی ہے۔
یوں بھی سپریم کورٹ میں ایسی متعدد پٹیشنز سماعت کے لئے دائر کی گئی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جناب دیکھئے یہ پارلیمانی نظام تو اسلامی شریعت سے متصادم ہے۔ اس لئے سپریم کورٹ اسے مسترد کرے اور سیدھے سبھاؤ ملک میں صدارتی نظام نافذ کرنے کا حکم جاری کرے۔ ملکی عدلیہ خود مختار ہے اور کسی دباؤ میں نہیں آتی۔ وہ چاہے تو فوجی حکمرانی کو ’نظریہ ضرورت‘ میں لپیٹ کر حلال قرار دے یا منتخب وزیر اعظم کو توہین عدالت یا صداقت وامانت کے پیمانے پر پورا نہ اترنے پر گھر بھیج دے۔ اس لئے اگر یہ معاملہ ابھی قابل سماعت نہیں ٹھہرا تو اسے 1973 کے آئین کی خوش نصیبی جانیے۔ بالکل اسی طرح جیسے اس آئین کے ہوتے ملک پر صدر ضیاالحق اور صدر پرویز مشرف کی حکمرانی رہی تھی لیکن آئین کو سستانے کے لئے بھیج دیا گیا تھا لیکن اس کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ مستقبل میں اگر کسی شدید قومی ضرورت کے تحت آئین کو ایک بار پھر آرام کا مشورہ دیا جائے تو اس پر کسے حیرت ہوگی؟ یوں بھی اسلام کا نام لے کر اس ملک میں کسی بھی آفت کا دروازہ کھولا جاسکتا ہے۔ یہ تو پھر صدارتی نظام نافذ کرنے کی بات کی جارہی ہے۔ کہتے ہیں کہ آدھا ملک تو اس کی افادیت کا اسیر ہے، باقی نصف کو راضی کرنے میں کتنی دیر لگتی ہے؟
تو بہتر ہوگا کہ ’صدارتی نظام لایا جارہا ہے‘ کی سازشوں سے پریشان ہونے کی بجائے، اس نظام کے فیوض و برکات اور فوائد پر غور کرلیا جائے۔ ہوسکتا ہے کہ کل کلاں اس پر غور کرنے کی نوبت ہی نہ آئے اور ملکی آئین پھر سے فوجی بوٹوں تلے روندا جاچکا ہو۔ اب دیکھئے صدارتی نظام نافذ ہوجائے تو ملک کو عمران خان جیسا ہینڈ سم اور عقل کل قسم کا شخص صدر کے طور پر نصیب ہوسکتا ہے۔ عمران خان جیسے نیک نام شخص کی صدارت میں پارلیمنٹ کے غیرضروری جھنجٹ سے بھی نجات مل جائے گی جہاں اپوزیشن وزیر اعظم کی ’بے عزتی‘ کرنے کے سوا کوئی کام نہیں کرتی۔ اسی لئے بیچارے وزیر اعظم کو یا تو قومی اسمبلی میں آنے سے گریز کرنا پڑتا ہے یا تقریر کرنے سے پہلے اپنے نمائیندوں کے ذریعے اپوزیشن لیڈروں کو خاموش رہنے یا ایوان سے غائب رہنے پر آمادہ کرنا پڑتا ہے۔ دیکھا جائے تو بیچارے عمران خان کی ساری صلاحیت اسی ’لین دین‘ میں ضائع ہوجاتی ہیں، مافیا مضبوط ہورہا ہے اور ایماندار وزیر اعظم اپنی بے بسی ظاہر کرنے کے سوا کچھ نہیں کرسکتا۔
ایک بار عمران خان کو صدر بناکر دیکھئے، کیسے سارے مسائل حل ہوتے ہیں۔ آخر قوم نے ’نیا پاکستان‘ کے نام پر بھی تو ووٹ دیے تھے۔ اتنے دھوکے کھائے ہیں تو ایک اور رسک لینے میں کیا حرج ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی پوچھنے والا نہ ہو تو عمران خان واقعی ڈلیور کرنے لگے۔ ورنہ یہ تو طے ہے کہ وہ کسی کو بولنے کے قابل نہیں چھوڑے گا۔ یہ روز روز کی کڑ کڑ سے تو جان چھوٹے گی۔ ملک کو آمر ہی چاہئے تو عمران خان میں کیا برائی ہے؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2172 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments