”ظالمو! قاضی آ رہا ہے۔“ کے نعرے کی گونج


یہ 24 جون 1996 ء کا واقعہ ہے۔ راولپنڈی کے گلی کوچوں میں قاضی حسین احمد کے نعروں کی گونج سنائی دے رہی تھی۔ اچانک قاضی حسین احمد لیاقت باغ کے قریب آریہ محلہ سے نمودار ہوئے تو پولیس فورس ان کو گرفتار کرنے کے لئے حرکت میں آ گئی لیکن مری روڈ پر موجود ہزاروں پرجوش کارکنوں نے ان کو اپنے حصار میں لے لیا پولیس کے ساتھ کھینچا تانی میں قاضی حسین احمد کے سر سے ٹوپی گر گئی پہلی بار کسی نے قاضی حسین احمد کو ٹوپی کے بغیر دیکھا کیمرے کی آنکھ نے یہ منظر محفوظ کر لیا اس وقت کوئی وٹس ایپ تھا اور نہ ہی وڈیو بہر حال جماعت اسلامی کے ہزاروں کارکنوں کے سامنے مسلح پولیس بے بس نظر آئی اور وہ قاضی حسین کو پولیس سے چھین کر لے گئے قاضی حسین احمد تمام رکاوٹیں عبور کرتے اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے یوں تو مہاتما گاندھی کا برت اور دھرنا مشہور تھا لیکن اس روز قاضی حسین احمد نے اسلام آباد میں بے نظیر حکومت کی کرپشن کے خلاف پہلا دھرنا دیا تو ہر کوئی سوال کر رہا تھا ”یہ دھرنا کیا ہوتا ہے؟“ جس کے نتیجے میں بے نظیر کی حکومت ختم ہو گئی

پاکستان کی سیاست میں دھرنے کو متعارف کرانے والے قاضی حسین احمدؒ ہیں۔ اس کے بعد ملکی سیاست میں ”دھرنا“ کا عمل دخل اس حد تک بڑھ گیا کہ آج ہر سیاسی جماعت حکومت گرانے اور مطالبات منوانے کے لئے دھرنے کی سیاست کر رہی ہے۔ عمران خان نے 126 دن ریڈ زون میں دھرنا دیا وہ شام کے وقت بن ٹھن کر ریڈ زون آتے اور تقریر کر کے واپس چلے جاتے بالآخر اپنا بوریا بستر سمیٹ کر بنی گالا چلے گئے اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ آرائی نہیں ہو گی کہ راولپنڈی سے اسلام آباد تک پہلا ”مارچ“ بھی قاضی حسین احمد نے کیا آج ”دھرنا مخالف“ عناصر اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا دینے میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔

قاضی حسین احمد مضبوط اعصاب کے مالک سیاست دان تھے۔ انہوں نے جرات کے ساتھ فوجی حکمرانوں کے اقدامات کو چیلنج کیا اور جو بات وہ کہنا چاہتے لگی لپٹی رکھے بغیر کہہ دیتے جماعت اسلامی ایک صلح جو تحریکی جماعت تصور کی جاتی تھی لیکن جب قاضی حسین احمد نے امارت سنبھالی تو انہوں نے جماعت اسلامی کا ”معاشرتی اور سیاسی کلچر“ تبدیل کر دیا اور جارحانہ سیاست کو متعارف کرایا مظلوم کی فریاد پر مدد کے لئے ”ظالمو! قاضی آ رہا ہے۔“ کے نعرے کو متعارف کرایا ان کے اس نعرے سے جماعت اسلامی کے کچھ سینئر رہنماؤں نے تحفظات کا اظہار کیا اور انہوں نے تحریک اسلامی کے نام سے الگ تو جماعت بنالی لیکن وہ عوام میں جماعت اسلامی کے مقابلے میں قبولیت نہیں پا سکی کو کوئی خاص فرق نہ پڑا قاضی حسین احمد ایک منکسر المزاج لیڈر تھے۔ ان کے خوبصورت چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ ہی نظر آتی تھی لیکن جب وہ جلال میں ہوتے تو کوئی ان کے سامنے بات کرنے کی جرات نہیں کرتا تھا۔

مجھے یاد ہے جولائی 2007 میں لندن میں نواز شریف کی میزبانی میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد اے پی ڈی ایم قائم کی گئی جس میں نواز شریف اور عمران خان بھی شامل تھے۔ اس اتحاد نے جنرل پرویز مشرف کے زیر انتظام ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کا فیصلہ کر لیا تو کچھ دنوں بعد مسلم لیگ (ن) کو احساس ہو کہ اس کا یہ فیصلہ درست نہیں لہذا وہ انتخابات کے بائیکاٹ کے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئی لیکن قاضی حسین احمد اپنے فیصلے پر ڈٹے رہے

مجھے یاد ہے جماعت اسلامی کے کچھ رہنماؤں (جو ہر انتخابات میں حصہ لینے کے خواہش مند رہتے ہیں۔ ) نے کہا کہ ”ہم تو قاضی حسین احمد سے عام انتخابات کے بائیکاٹ کے فیصلہ پر نظر ثانی کرنے کا مشورہ نہیں دے دے سکتے اگر آپ بات کریں تو ممکن ہے۔ وہ آپ کی بات سن لیں“ میں نے جرات کر کے قاضی حسین احمد کو جماعت اسلامی کے انتخابی رہنماؤں کی خواہش تو پہنچا دی لیکن قاضی حسین احمد نے بڑے تحمل سے میری بات سننے کے بعد اے مسترد کر دیا اور کہا کہ ”اے پی ڈی ایم نے عام انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ اب اس پر نظر ثانی کی گنجائش نہیں“ پھر انہوں نے بزرگانہ شفقت کے ساتھ تاکید کی کہ ”آپ نے آج اس موضوع پر بات تو کر لی ہے۔ آئندہ مجھے ایسا مشورہ نہ دینا“ ۔ بعد ازاں 2008 کے انتخابات کے بائیکاٹ کے حوالے سے انہوں نے اعتراف کیا کہ ”ہمیں الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے تھا۔“ جماعت اسلامی میں نظم و ضبط کا بڑا خیال رکھا جاتا ہے اگرچہ امیر جماعت اسلامی ارکان کے ووٹوں سے منتخب ہوتا ہے۔ امیر جماعت اسلامی کے پاس بے پناہ اختیارات ہو نے کے باوجود امیر جماعت کے احتساب کا نظام موجود ہوتا ہے۔

شاید قاضی حسین احمد واحد امیر جماعت اسلامی ہیں جن کو اپنی پالیسیوں کی وجہ سے تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑا ان کے خلاف جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کے رکن راجہ محمد ظہیر مرحوم نے تحریک عدم اعتماد پیش کی تو جماعت اسلامی میں کھلبلی مچ گئی یہ الگ بات ہے۔ قاضی حسین احمد کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر باقاعدہ بحث کے بعد راجہ صاحب نے تحریک واپس لے لی جب مجھے معلوم ہوا تو میں نے قاضی حسین احمد کے تحریک عدم اعتماد کی ایکسکلوسیو خبر فائل کر دی خبر شائع ہونے کے بعد جماعت اسلامی کی جانب سے شدید رد عمل آیا مجھ سے پہلی بار قاضی حسین احمد نے ناراضی کا اظہار کیا او خبر کا سورس بتانے کی شرط پر ناراضی ختم کرنے کا عندیہ دیا اور کہا کہ ”یہ خبر درست ہے۔ آپ خبر کا سورس بتا دیں تاکہ ہم اس بات کی تحقیقات کر سکیں کہ جماعت اسلامی کے ان کیمرہ اجلاس کی خبر کی لیکج کا ذمہ دار کون ہے؟“

میں خبر کا سورس بتانے سے گریزاں رہا قاضی حسین احمد کچھ دن تک ناراض رہے پھر بات آئی گئی ہو گئی۔ قاضی حسین احمد جہد مسلسل کا دوسرا نام تھا۔ وہ آرام سے گھر بیٹھنے والی شخصیت نہیں تھی۔ ”ناکامی اور مایوسی“ کے الفاظ ان کی کتاب سیاست میں تھے۔ ہی نہیں دو بار دل کا بائی پاس ہونے کے باعث ان کو آرام کرنے کا مشورہ دیا جاتا تھا لیکن وہ ایک پل آرام کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ لہذا ان کے ڈاکٹروں نے ان کے خاندان کو کہہ دیا تھا کہ ”قاضی حسین احمد کے متحرک رہنے میں ہی ان کی زندگی ہے۔

قاضی حسین احمد نے اپنے دور امارت میں اتحادوں کی سیاست کی جس کے نتیجے میں جماعت اسلامی کو پارلیمنٹ میں خاصی نشستیں حاصل ہوئیں انہوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا 2002 ء میں دینی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے (متحدہ مجلس عمل ) میں جماعت اسلامی نے موثر کردار ادا کیا۔ قاضی حسین احمد ایم ایم اے کے صدر بھی رہے۔ قاضی حسین احمد نے خرابی صحت کی وجہ سے امارت کی ذمہ داری اٹھانے سے معذرت کی قاضی حسین احمد صاحب بھی اپنی زندگی کے آخری ایام میں اتحادی سیاست سے مایوس تھے لیکن ان کی وفات کے بعد آنے والے دنوں امراء نے اتحادوں کی سیاست کو خیر باد کہہ دیا اور ملکی سیاست میں سولو فلائٹ شروع کر دی بلا شبہ جماعت اسلامی پاکستان کی واحد منظم جماعت ہے جو پچھلے 80 سال سے اپنے نصب العین کے حصول کے جد و جہد کر رہی ہے۔

اتحادوں کی سیاست کی بجائے ”سولو فلائٹ“ سے جماعت اسلامی کی سٹریٹ پاور میں تو اضافہ ہوا اس نے ہر بڑے شہر میں اپنی سیاسی قوت کا بھرپور اظہار کیا ہے لیکن اس کے ووٹ بینک میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ممکن ہے۔ جماعت اسلامی نے اپنی سطح پر اس پر سوچ بچار ضرور کی ہو گی لیکن اس کی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی بھی نہیں آئی جماعت اسلامی بڑے بڑے جلسے اور مظاہرے کرنے والی جماعت بن گئی ہے اور ایک سیاسی جماعت سے زیادہ پریشر گروپ بن گیا ہے۔ اس کی انتخابی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی وہ ایک ہی سانس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اپنا ہدف بناتی ہے۔ اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا جماعت حکومت کے ساتھ ہے جس اپوزیشن میں ہے۔

کچھ لوگوں کی رائے ہے۔ قاضی حسین احمد اعتدال پسند لیڈر تھے لیکن میں اس سے اتفاق نہیں کرتا وہ درحقیقت اپنے مقاصد کے حصول کے سب کچھ کر گزرنے کا عزم رکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ان کی وفات سے پاکستان میں دائیں بازو کی سیاست کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔ جرات و استقامت قاضی حسین احمد کا طرہ امتیاز تھا۔ یہ قاضی حسین احمد ہی تھے جنہوں نے پرویز مشرف دور میں ”کروڑ کمانڈرز“ کے الفاظ استعمال کیے لیکن کسی کو جرات نہیں ہوئی کہ ان پر ہاتھ ڈالتا قاضی صاحب علمی دنیا کی شخصیت تھی۔

وہ جغرافیہ کے پروفیسر تھے اور سیدو شریف کالج سوات میں پڑھاتے رہے لیکن سیاست کی پر خار وادی میں ایسا قدم رکھا پھر سیاست کے ہی ہو کر رہ گئے قاضی حسین احمد ایک روایتی سیاستدان نہیں تھے بلکہ ایک کارکن کے طور پر ترقی کر کے امیر جماعت اسلامی منتخب ہوئے۔

قاضی حسین احمد 12 جنوری 1938 ء کو خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں پیدا ہوئے دوران تعلیم اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان میں شامل رہنے کے بعد قاضی حسین احمد 1970 ء میں جماعت اسلامی کے رکن بنے اور 1978 ء میں جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل منتخب ہو گئے اور 1987 ء میں جماعت اسلامی پاکستان امیر منتخب کر لئے گئے۔

قاضی حسین احمد جماعت اسلامی کے واحد امیر رہے، جو پانچ مرتبہ امارت کے عہدے پر فائز ہوئے۔ قاضی حسین احمد 1985 ء میں چھ سال کے لئے سینیٹ آف پاکستان کے رکن منتخب ہوئے۔ وہ 1992 میں دوبارہ سینیٹر منتخب ہو گئے۔ تاہم انہوں نے حکومتی پالیسیوں پر احتجاج کرتے ہوئے سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دے دیا۔ 2002 ء کے عام انتخابات میں قاضی حسین احمد دو حلقوں سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

قاضی حسین احمد 6 جنوری 2013 ء کو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ ان کے دو بائی پاس ہوچکے تھے۔ جب انہیں دل کی تکلیف ہوئی تو ڈاکٹروں نے انھیں تیز چلنے سے منع کر دیا تب بھی وہ اپنی عادت کے مطابق ہمیشہ دوسروں سے آگے ہوتے 1970 میں باقاعدہ جماعت اسلامی جائن کی اور پھر 17 سالوں میں جماعت اسلامی کے مرکزی امیر منتخب ہو گئے قاضی حسین احمد نے 1987 ء سے 2009 ء تک جماعت اسلامی کی قیادت کی ان کی امارت کے دوران جماعت اسلامی کے کارکنوں نے جہاد افغانستان بھرپور حصہ لیا وہ خود بھی کئی بار افغانستان گئے جہاد افغانستان کی عملی طور قیادت کی افغانستان کے جہادی رہنماؤں سے ان کے ذاتی سطح پر تعلقات قائم تھے۔

انہوں نے جماعت اسلامی کو القاعدہ کے ارکان اور غیر ریاستی عناصر سے دور رکھا نومبر 2012 ء کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود نے ایک خاتون خود کش بمبار کے ذریعے قاضی حسین احمد پر قاتلانہ حملہ کرایا۔ قاضی حسین احمد دس بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ قاضی حسین احمد کا نام جمعیت علماء ہند کے امیر حسین احمد مدنی کے نام پر رکھا گیا تھا۔ حسین احمد مدنی نے قیام پاکستان کے حوالے سے علامہ اقبال سے مباحثہ کیا تھا لیکن خود قاضی حسین احمد زندگی بھر اپنی تحریر و تقریر میں علامہ اقبال کے اردو اور فارسی اشعار کا استعمال کرتے تھے۔ انہیں علامہ اقبال کے بیشتر اشعار ازبر ہے۔ تھے۔ وہ علامہ اقبال کے شیدائی تھے۔ خاص طور پر انہیں فارسی کلام پر تو مکمل دسترس حاصل تھی۔ قاضی حسین احمد کا گھرانا دینی پس منظر رکھتا تھا۔ وہ روایتی عالم دین تو نہیں تھے لیکن دینی حلقوں میں قدر منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔

قاضی حسین احمد نے جہاں روسی یلغار روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کیا وہاں انہیں جہاد کشمیر کے لئے افرادی قوت فراہم کی۔

قاضی حسین احمد ایک طلسماتی شخصیت کے مالک تھے۔ وہ جلد لوگوں اپنا گرویدہ بنا لیتے تھے۔ قاضی حسین احمد کا شمار پاکستان ان رہنماؤں میں ہوتا ہے جو افغانستان کے امور پر مکمل دسترس رکھتے تھے۔ انہوں نے 1980 کے عشرے میں پاسبان قائم کی جس کے ذریعے بنیادی حقوق اور سماجی انصاف کا پرچم بلند کیا گیا۔ قاضی حسین احمد کو اپنی جماعت کے اندر اس تنظیم کے طریقہ کار کے حوالے سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا انصاف کے حوالے سے ”ظالمو! قاضی آ رہا ہے!“ کو جہاں عوام میں بڑی مقبولیت حاصل ہوئی وہاں ان کی اپنی جماعت کے اندر مخالفت بھی ہوئی کچھ عرصہ بعد جماعت اسلامی نے پاسبان سے فاصلہ پیدا کر لیا محمد علی درانی ہی پاسبان کی پراڈکٹ تھے پھر دیکھتے ہی دیکھتے پاسبان غیر متحرک ہو گئی اور قصہ پارینہ بن گئی 1994 میں قاضی حسین احمد نے پاسبان ختم کر کے شباب ملی قائم کر دی۔

قاضی حسین احمد عالمی سطح کے لیڈر تھے۔ دنیا بھر اسلامی تحاریک کے روح رواں ان کی دعوت پر پاکستان آتے اور وہ خود ان کی دعوت پر ان ممالک کے دورے کرتے تھے۔ اخوان المسلمون کے رہنماؤں سے ان کے قریبی تعلقات قائم تھے۔ قاضی حسین دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے لیکن انہوں اپنی سیاست میں کبھی فرقہ بندی کو داخل نہیں ہونے دیا انہوں نے فرقہ واریت کو ختم کرنے کے لئے ملی یک جہتی کونسل کی بنیاد رکھی۔ قاضی حسین احمد کی کوششوں سے چند برسوں میں جماعت اسلامی کے کارکنوں کی تعداد میں کم و بیش 54 لاکھ کا اضافہ ہوا لیکن ان کی وفات کے بعد اس تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی قاضی صاحب اپنی سیاسی غلطیوں کا برملا اعتراف کرتے تھے۔ وہ امت مسلمہ کے اتحاد کے بڑے داعی تھے۔ قاضی صاحب نے اسلامک فرنٹ بنایا، لیکن دوبارہ جماعت کے نام اور جھنڈے سے انتخابات میں جانا ہی بہتر سمجھا۔

قاضی صاحب مذہبی جماعتوں کو متحد اور اکٹھا کرنے کے لیے ہمیشہ متحرک رہے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے 2002 میں متحدہ مجلس عمل بنائی، یہ پاکستان کی تاریخ میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد کا کامیاب تجربہ تھا۔ ایم ایم اے کے 68 ارکان قومی اسمبلی میں پہنچے اور ایم ایم اے خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے میں بھی کامیاب ہوئی۔ قاضی حسین احمد وفد لے کے چین گئے اور وہاں مسلمانوں کو درپیش مسائل پر بات کی جماعت اسلامی نے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ تیرہ نکاتی یادداشت پر دستخط کیے۔

اس میمورنڈم میں مسئلہ کشمیر سرفہرست تھا۔ قاضی صاحب بیرون ملک دوروں میں مقبوضہ مسلم علاقوں خاص طور پر کشمیر اور فلسطین کی آزادی کے لئے آواز اٹھاتے۔ قاضی حسین احمد کو اپنی مادری زبان پشتو کے علاوہ اردو، انگریزی، عربی اور فارسی پر بھی عبور حاصل 1999 ء میں بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی لاہور آمد پر جماعت اسلامی نے قاضی حسین احمد کی قیادت میں احتجاج کیا۔ احتجاج کی پاداش میں قاضی حسین احمد سمیت جماعت اسلامی کے درجنوں کارکن اور قیادت کو پابند سلاسل کیا گیا۔

اس احتجاج کے دوران پیش آنے بعض واقعات نے مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی کے درمیان ایسی دوریاں پیدا کر دیں جو بعد میں تمام تر کوششوں کے باوجود ختم نہ ہو سکیں قاضی حسین احمد نے 1993 ء میں اسلامک فرنٹ اتحاد بنایا، ”ظالمو قاضی آ رہا ہے۔“ کا نعرہ اس وقت نہایت مقبول ہوا۔ 2002 ء میں دینی جماعتوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل مولانا شاہ احمد نورانی کی قیادت میں سابق صدر پرویز مشرف کی امریکہ نواز پالیسیوں کے خلاف وجود میں آیا تو اتحاد کے سیکرٹری جنرل قاضی حسین احمد کو بنایا گیا۔

مولانا شاہ احمد نورانی کی وفات کے بعد قاضی حسین احمد کو اتفاق رائے سے اس کا صدر منتخب کر لیا گیا۔ قاضی صاحب کی کوششوں کے نتیجے میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے پانچ فروری کو یوم کشمیر منانے کا نواز شریف کے دور حکومت میں اعلان کیا گیا آج بھی یوم یکجہتی کشمیر جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ دوران گرفتاری انہوں نے متعدد اہم مقالہ جات لکھے، جو بعد میں کتابی صورت میں شائع ہوئے۔

Facebook Comments HS