جامن کی افادیت


Dr Shahid M shahid

جامن خوش ذائقہ کھٹا میٹھا اور کسیلا پھل ہے۔ اسے اردو میں جامن، سندھی میں جموں، ہندی میں جمبل، بنگالی میں کالا جام، انگریزی میں جاواں پلم (java plum) کہتے ہیں۔

جامن موسم برسات اور گرمیوں کا مشہور اور لاجواب پھل ہے۔ یہ مختصر مدت کے لیے مارکیٹ میں دستیاب ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ سال میں ایک بار ہی با کھانے کو ملتا ہے لہذا اسے لازمی کھانا چاہیے۔ کیوں کہ ہر پھل کی اپنی پہچان، لذت تاثیر، اور غذائی اہمیت ہے۔ جس کی وجہ سے اس پھل کی پہچان اور انفرادیت کا پتہ چلتا ہے۔

جامن کے پودے پاکستان، بھارت، نیپال، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا میں پائے جاتے ہیں۔ یہ بڑی تیزی سے بڑھنے والا پودا ہے اس کی لمبائی 30 فٹ سے زیادہ ہو سکتی ہے اور عمر سو سال 100 سال سے زیادہ۔

جامن کے پتے گھنے اور سیاہ دار ہوتے ہیں لوگ اس پودے کو سایہ اور خوبصورتی کے لئے لگاتے ہیں۔ جہاں جامن سایہ اور خوبصورتی کے لئے استعمال ہوتا ہے وہاں یہ طبی لحاظ سے نعمت خداوندی ہے۔ کیونکہ طب یونانی اور آیور ویدک میں اس کے پتے پھل بیج اور چھال کو بطور دوا استعمال کیا جاتا ہے۔ ہومیوپیتھک طریقہ علاج میں اس کی گھٹلی سے ہومیو پیتھی دوا (syzegeium jumbolinium ) تیار کی جاتی ہے۔ جو شوگر کے مریضوں کے لئے بہت مفید ہے۔

جامن میں کیلشیم، پوٹاشیم، آئرن، سوڈیم، وٹامن بی اور سی، کاربوہائیڈریٹ، پروٹین، فاسفورس، اور فولاد اور پانی جیسے دیگر خاص موجود ہوتے ہیں۔ آئیں کچھ جامن کے طبی خواص پر نظر ڈالتے ہیں۔

1۔ مختلف بیماریوں سے تحفظ:

جامن مختلف بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ مثلاً خاص طور پر معدے کی بیماریوں میں آنتوں کی جلن، تیزابیت، السر اور خراش۔ ہائی بلڈ پریشر، شوگر، خون کی کمی، متلی، قے، ڈائریا، بواسیر، دمہ، کھانسی اور منہ کے چھالوں کے لیے بہت مفید ہے۔

2۔ ہیموگلوبن (HB) بڑھانے کے لئے :

جامن میں موجود وٹامن سی اور آئرن ہیموگلوبن کی مقدار بڑھاتے ہیں۔ کیونکہ ہیموگلوبن خون میں آکسیجن کو ملاتا ہے جس سے خون کا رنگ سرخ رہتا ہے اور خون جسم کے تمام حصوں تک گردش کرتا ہے۔ ہیموگلوبن کی مناسب مقدار سے چہرہ صاف اور جلد چمکدار رہتی ہے۔

3۔ شوگر کے علاج میں :
شوگر کے مریضوں کو جامن لازمی کھانا چاہیے کیونکہ جامن خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھنے سے روکتا ہے۔
شوگر کے مریضوں کے لیے جامن قدرت کا لاجواب تحفہ ہے۔ انہیں اس پھل کو خوراک کا حصہ لازمی بنانا چاہیے۔
3۔ مصفی خون:

جامن زبردست مصفی خون ہے کیوں کہ اس میں موجود آئرن خون کو صاف کرنے میں معاون ہے۔ اس کے علاوہ جسم میں آئرن کی کمی دور کرنے کے لیے جامن کا استعمال انتہائی مفید ہے۔ جن مریضوں میں خون کی کمی ہو انہیں جامن کو خوراک کا حصہ بنانا چاہیے۔

4۔ دل کی بیماریوں میں :
جامن انسان کو بہت سی دل کی بیماریوں سے بچاتا ہے۔
اس میں پوٹاشیم کی خاصی مقدار پائی جاتی ہے۔

تقریباً سو گرام جامن میں 55 ملی گرام پوٹاشیم پایا جاتا ہے جو دل کی بیماریوں ہائی بلڈ پریشر اور فالج سے بچاتا ہے۔ جامن شریانوں کو تنگ ہونے سے بھی بچاتا ہے۔

5۔ دانتوں کی مضبوطی اور چمک:
وٹامن سی اینٹی بیکٹیریل خصوصیات کا حامل ہے۔

یہ دانتوں کی مضبوطی اور چمک کے لئے انتہائی مفید ہے۔ اس کے رس سے دانتوں کو صاف کیا جاسکتا ہے اور دانتوں کی خوبصورتی میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

6۔ وزن میں کمی:

جامن میں موجود فائبر بہت دیر تک بھوک نہیں لگنے دیتا جامن وزن بڑھنے سے روکتا ہے اور اسے کنٹرول کرتا ہے۔ موٹاپے میں مبتلا خواتین کو جامن لازمی کھانا چاہیے۔

7۔ نظام انہضام کی خرابیاں :

جہاں نظام انہضام کی خرابیاں ہوں وہاں جامن کا استعمال انتہائی مفید ہے۔ مثلاً السر، جلن، اور بڑی ہوئی تیزابیت کو اعتدال پر لانے کے لئے جامن معاون پھل ہے۔ یہ کھانسی اور دمہ میں بھی مفید ہے اور خاص طور پرجن بچوں کے منہ میں چھالے بنتے ہوں انہیں جامن لازمی کھلانا چاہیے۔

اس کے علاوہ جامن قے، متلی اور ڈائریا میں انتہائی مفید ہے۔

Facebook Comments HS