طالبان ’تاوان‘ لینے اوسلو پہنچ گئے


افغانستان کی طالبان حکومت کا پندرہ رکنی وفد وزیر خارجہ عامر خان متقی کی سربراہی میں ہفتہ کی رات ناروے کے دارالحکومت اوسلو پہنچا ہے۔ اتوار سے شروع ہونے والے مذاکرات میں افغانستان میں انسانی حقوق کی صورت حال اور طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے پیدا ہونے والے انسانی و معاشی بحران پر بات چیت کی جائے گی۔ طالبان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے بیس سالہ جنگ کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو افغانستان سے مار بھگایا ہے، اس لئے ہوسکتا ہے کہ طالبان کے نمائندے اس ملاقات میں ’ہاری ہوئی اقوام سے تاوان‘ طلب کریں۔

 ناروے بھی ان اتحادی ممالک میں شامل تھا جو نائن الیون کے بعد سے افغانستان میں مسلح کارروائی میں ملوث رہے تھے۔ طالبان کی دہشت گردی اور خوں ریزی میں امریکیوں یا اتحادیوں سے زیادہ افغان شہری ہی ہلاک ہوئے تھے۔ اگست میں کابل پر قبضہ کے بعد سے ملک کو شدید معاشی بحران اور عوام کو سنگین مالی مشکلات کا سامنا بھی ہے۔ تمام بیرونی امداد بند ہوچکی ہے اور طالبان نے جن عوام کو آزادی دلانے کے نام پر افغانستان کو میدان جنگ بنائے رکھا ، اب حکومت ملنے کے بعد ان کی ضروریات پوری کرنے کے لئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے امداد مانگ رہے ہیں۔

افغانستان میں معاشی ابتری میں اضافہ ہورہا ہے، غذا کی فراہمی محدود ہوچکی ہے اور افغان عوام گھر کا سامان بیچ کر پیٹ بھرنے کی کوشش کررہے ہیں یا متعدد گھروں میں فاقوں کی نوبت آچکی ہے۔ وہی طالبان لیڈر جو کل تک امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو للکارتے تھے، اب ان سے انسانی ہمدردی کے نام پر مہربان ہو کر مالی مدد کرنے اور افغان عوام کو بھوک سے بچانے کی اپیل کررہے ہیں۔ پاکستانی حکومت بھی ایسی اپیلیں کرنے اور دنیا کو افغانستان میں رونما ہونے والے حالات سے ڈرانے میں پیش پیش رہی ہے تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی قابل ذکر پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ اس دوران طالبان نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے دوحا معاہدے کے مطابق نہ تو سب افغان گروہوں کو ساتھ ملا کر حکومت سازی کی ہے اور نہ ہی انسانی حقوق کے حوالے سے کوئی عملی اقدامات کئے گئے ہیں۔

بار بار اعلان کرنے کے باوجود ملک میں لڑکیوں کے اسکول مسلسل بند ہیں اور خواتین کے لئے حالات کو مشکل بنایا جارہا ہے۔ ایک طرف طالبان کے نمائیندے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس وقت جو طالبان برسر اقتدار آئے ہیں وہ دو دہائی پہلے والے طالبان سے مختلف ہیں اور دنیا کے ساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں۔ لیکن انہی طالبان کی حکومت خواتین پر مزید پابندیاں عائد کررہی ہے ۔ حال ہی میں خواتین کے لئے برقع پہننے اور محرم کے بغیر سفر نہ کرنے کی پرانی پابندی پھر سے عائد کی گئی ہے۔ طالبان کے ترجمان یہ بھی واضح کرتے رہے ہیں کہ انسانی حقوق کی تشریح وہ اسلامی شریعت کے مطابق کریں گے اور دنیا کو اس کا احترام کرنا چاہئے۔ اس تشریح کے مطابق افغان نظام میں جمہوریت یا خواتین کی حصہ داری کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس تضاد بیانی کی وجہ سے نہ تو کسی بھی ملک نے ابھی تک طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا ہے اور نہ ہی افغانستان کی معاشی امداد بحال ہوسکی ہے۔ اگرچہ بیشتر ممالک کی طرف سے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے تعاون سے افغان عوام کو براہ راست امداد فراہم کرنے کا اہتمام کیا جارہا ہے لیکن یہ امداد افغانستان میں پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کے لئے کافی نہیں ہے۔

بنکنگ نظام کی پابندیوں کی وجہ سے وسائل کی ترسیل ایک مسئلہ ہے تو دوسری طرف کابل حکومت بھی ایسی امداد کی راہ میں روڑے اٹکاتی ہے۔ طالبان سمجھتے ہیں کہ مغربی ممالک افغانستان میں پیدا ہونے والے قحط اور معاشی تباہی کی ذمہ داری قبول نہیں کرسکیں گے اور جلد یا بدیر انہیں طالبان کی حکومت کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہونا پڑے گا۔ دوسری طرف امریکہ اور مغربی ممالک بھی بنیادی اصولوں پر کسی اتفاق رائے کے بغیر طالبان کے ساتھ کسی تعاون پر آمادہ نہیں ہیں۔ ان میں سر فہرست خواتین کے حقوق کی صورت حال ہے۔ مغرب میں یہ تاثر عام ہے کہ جب تک طالبان خواتین کے حوالے سے مثبت رویہ اختیار نہیں کرتے اور عملی اقدامات سے اپنی نیک نیتی کا ثبوت نہیں دیتے، کسی وسیع المدت تعاون کی راہ ہموار ہونا ممکن نہیں ہوگا۔

اوسلو میں طالبان کو بلانے کے لئے ناروے کی حکومت نے کوشش کی ہے اور طالبان کے 15 رکنی وفد کو اوسلو لانے کے لئے فن لینڈ کی ایک کمپنی سے خصوصی طیارہ چارٹرڈ کرکے اس وفد کو گزشتہ رات اوسلو پہنچایا گیا ہے۔ اس فیاضی پر ناقدین کی طرف سے حکومت پر شدید تنقید ہورہی ہے۔ تاہم نارویجئن وزارت خارجہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ سلامتی اور دیگر عملی مسائل کی وجہ سے طالبان کو خصوصی پرواز کے ذریعے بلانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ طالبان کا وفد ابھی کابل سے اوسلو کی طرف محو سفر ہی تھا کہ اس مفت شاہی سفر کو اپنی پہلی سفارتی کامیابی سمجھنے کے زعم میں طالبان نے خود ہی طیارے کے اندر سے تصاویر سوشل میڈیا پر شائع کیں۔ ان میں سے ایک تصویر میں افغان وزارت داخلہ کے معاون خصوصی اور حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی کے بھائی انس حقانی بھی موجود تھے جو اس وفد کا حصہ ہیں۔ وفد میں انس حقانی کی موجودگی کو ناروے کے میڈیا میں خاص طور سے نمایاں کیا گیا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ ایک ایسے گروہ کا نمائیندہ بھی طالبان کے وفد کے ساتھ ناروے آیا ہے جو 2008 میں کابل کے سیرینا ہوٹل پر دہشت گرد حملہ کا ذمہ دار تھا۔ اس حملہ میں 8 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں ایک نارویجئن صحافی بھی شامل تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس دہشت گردی کی منصوبہ بندی سراج الدین حقانی نے کی تھی۔ وہ خود اس وقت طالبان حکومت میں وزیر داخلہ ہیں اور ان کے بھائی ان کے معاون کے طور پر اوسلو آنے والے وفد کا حصہ ہیں۔ وفد میں انس حقانی کی موجودگی پر ناروے کے متعدد حلقوں نے تشویش اور بے چینی کا اظہار کیا ہے۔

ناروے کی وزیر خارجہ آنیکن ہیوت فیلت نے اس موقع پر ایک مضمون میں طالبان کو مدعو کرنے کا پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ افغانستان کے 39 ملین لوگوں کو قحط سالی، وبا اور معاشی ابتری کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ موجودہ حالات میں افغانستان کو قحط کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اس وقت ملک کے 24 ملین لوگوں کو غذائی قلت کا سامنا ہے۔ اگر موجودہ صورت حال جاری رہتی ہے تو افغانستان میں دس لاکھ بچے ہلاک ہوسکتے ہیں۔ اور 97 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے چلی جائے گی‘۔ بیس سال تک افغانستان میں مصروف جنگ رہنے والی حکومتیں فوری طور سے اس انسانی بحران کے بوجھ کو برداشت کرنے میں دقت محسوس کررہی ہیں۔ اوسلو کانفرنس اس مشکل سے نکلنے کا ایک راستہ ہوسکتاہے۔ تاہم یہ بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی کہ اگر طالبان نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا ا اور افغانستان میں سیاسی بالادستی کے علاوہ انسانی حقوق کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے عملی اقدمات نہ کئے تو خیر سگالی کا یہ طرز عمل تادیر جاری رہے گا۔ افغانستان سے انخلا کے بعد افغانستان، امریکہ یا اس کے مغربی حلیفوں کے لئے غیر اہم ہوچکا ہے۔ طالبان کو مغرب سے تعلقات استوار کرنے کے لئے مثبت سفارت کاری اور سیاسی زیرکی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

آنیکن ہیوت فیلت نے اپنے مضمون میں بتایا ہے کہ’ ہمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں پریشان کن اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ بارہ سال سے زیادہ عمر کی بچیوں کے لئے تعلیم کی سہولت بہت کم کردی گئی ہے۔ اور خواتین کے معاشرے میں حصہ لینے کے مواقع غیر یقینی ہیں۔ اسی پس منظر میں طالبان کو اوسلو مدعو کیا گیا ہے۔ طالبان کو اس شرط پر ناروے آنے کی دعوت دی گئی ہے کہ وہ افغان خواتین ایکٹوسٹوں، صحافیوں اور افغان عوام کے دیگر نمائیندوں سے ملاقات کریں گے۔ اس وقت افغان معاشرہ کے مکمل طور سے ٹوٹ پھوٹ جانے کا اندیشہ ہے۔ جس کا سب سے زیادہ خمیازہ افغان عوام کو بھگتنا پڑے گا‘۔ اس طرح یہ پہلا موقع ہوگا کہ طالبان امریکہ ، یورپی یونین، برطانیہ، جرمنی ، فرانس اور دیگر ممالک کے نمائیندوں کے علاوہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، افغان خواتین، صحافیوں اور حقوق کی جد و جہد کرنے والے دیگر لوگوں سے بات چیت کریں گے اور ان کی شکایات کا جواب دینے پر مجبور ہوں گے۔ ان لوگوں کو خاص طور سے ان مذاکرات میں حصہ لینے کے لئے ناروے بلایا گیا ہے۔

طالبان کے ساتھ بات چیت کا فوکس دو ہی باتوں پر ہوگا۔ طالبان کی کوشش ہوگی کہ وہ کوئی خاص رعایت دیے بغیر مغربی ممالک سے مزید امداد اور سہولتیں حاصل کرسکیں جبکہ ناروے اور دیگر ممالک کے نمائیندے اس بات پر زور دیں گے کہ طالبان اپنے وعدے کے مطابق افغانستان میں انسانی حقوق کی ضمانت دیں اور خواتین کو معاشرے میں برابری کی بنیاد پر حصہ لینے کا موقع دیا جائے۔ نارویجئن وزیر خارجہ نے بھی اسی امید کا اظہار کیا ہے کہ طالبان کو ان کے حال پر چھوڑنے کی بجائے ان سے رابطہ رکھ کر اور انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلا کر خواتین کے حقوق کے حوالے سے کچھ رعایت حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس کانفرنس کی کامیابی یا اس حوالے سے مزید پیش رفت کا اندازہ طالبان کے رویہ سے ہی ہوسکے گا۔ نارویجئن وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ’ بات چیت میں معاونت کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہے کہ ہم طالبان کو تسلیم کررہے ہیں۔ یہ ناروے کی پالیسی میں کسی تبدیلی کا اشارہ بھی نہیں ہے۔ افغان حکومت کو ناروے کی تمام امداد بند ہے۔ یہ امداد اب اقوام متحدہ اور دیگر خود مختار اداروں کی معاونت سے افغان عوام تک پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ طالبان نے افغان شہریوں کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور ان کے بنیادی حقوق کی ضمانت دی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس مقصد کے لئے سیاسی رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اوسلو کانفرنس کے دوران ہم اس بارے میں طالبان کا نقطہ نظر سنیں گے‘۔

طالبان اگر کوئی مثبت اشارہ دے سکے تو افغان عوام کے لئے مزید مغربی امداد کا راستہ ہموار ہوسکتا ہے ۔ طالبان نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا تو مغربی ممالک یہ کہہ کر کسی تعاون سے گریز کریں گے کہ طالبان حکومت خود ہی ان تمام مسائل کی ذمہ دار ہے۔ البتہ اوسلو کانفرنس افغانستان کے موجودہ بحران کے حل کے لئے امید کی ایک کرن ضرور ہے۔ پاکستان کو اس کانفرنس میں مدعو نہیں کیا گیا حالانکہ اسلام آباد افغان کاز کا سب سے بڑا ترجمان بنا ہؤا ہے۔ اس سے عالمی سطح پر پاکستانی سفارت کاری کی کمزوری عیاں ہوئی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2170 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments