برفیلے وزیرستان میں ووٹ ڈالنے کا جذبہ: سنہ 2004

یہ دسمبر 2004 کا قصہ ہے جب جنوبی وزیرستان کی سڑکیں خستہ حال تھیں۔ طالبان نے آہستہ آہستہ سر اٹھانا شروع کر دیا تھا اور پاکستان آرمی نے اپنے ٹروپس جنوبی وزیرستان بھیجنا شروع کر دے تھے۔ پرویز مشرف کی حکومت فاٹا اصلاحات کے نام پر وزیرستان میں بلدیاتی الیکشن کروانے جا رہی تھی۔
یاد رہے جنوبی وزیرستان کے اکثریتی مقامی لوگ تعلیم ملازمت اور کاروباری مقاصد کے لیے خیبرپختونخوا کے میدانی علاقوں میں مقیم رہتے ہیں اور زیادہ تر صرف گرمیوں میں ہی وزیرستان کو آباد رکھتے ہیں جس کی خاص وجہ بنیادی ضروریات کا فقدان ہی کہا جا سکتا ہے۔ چلیں خیر یہ تو تمہیدی بیان تھا اب آتے ہیں مدعے کی طرف وہ یہ کہ ہمیں بتایا گیا کہ الیکشن کمپین کی گاڑی الیکشن سے ایک دن پہلے آپ کو ڈیرہ اسماعیل خان سے پک کر لے گی اور اپ نے جنوبی وزیرستان کانیگرم ووٹ ڈال کر واپس آجانا ہے۔
بظاہر تو بات بہت سیدھی سادھی لگ رہی تھی۔ جیسے تیسے الیکشن سے ایک دن پہلے ہم ڈیرہ اسماعیل خان سے جنوبی وزیرستان روانہ ہوئے اس دن دسمبر کی جھڑی یعنی سرد رت کی بارش میدانی علاقوں میں شروع ہو چکی تھی۔ ہم نے نارمل سردی کا لباس زیب تن کیا ہوا تھا جس میں چارسدہ وال چپل بطور خاص شامل تھیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے براستہ ٹانک ہم جنوبی وزیرستان کی تحصیل جنڈولہ میں داخل ہو چکے تھے۔ بارش کی جھڑی مسلسل برس رہی تھی۔
بس میں تقریباً 25 افراد سوار تھے۔ آہستہ آہستہ محسوس ہونے لگا کہ ٹھنڈ کچھ بڑھ رہی ہے۔ بس کو پہاڑ پر چڑھتے ہوئے تقریباً 4 گھنٹے ہو چکے تھے۔ بقول ڈرائیور ہم براستہ چگملائی، مولے خان سرائے اور وانہ سے کانیگرم پہنچنے کی کوشش کریں گے اور مزید یہ کہ کوٹکی، سراروغہ، مکین روڈ اور کڑمہ، کانیگرم روڈ خستہ حال ہیں اور بارش میں ہم ان رستوں پر جانے کا کوئی رسک نہیں لے سکتے۔ خیر فی الوقت چگملائی، مولے خان سرائے روڈ بھی ہمارے لیے پل صراط سے کم نہیں تھا۔
جگہ جگہ لینڈ سلائیڈنگ ہو رہی تھی۔ بس ہچکولے کھا رہی تھی۔ بارش کی شدت میں اضافہ ہو رہا تھا اور شام ہونے والی تھی۔ تھوڑی دور ایک ندی میں پانی کے بہاؤ سے الیکشن کمپین کی ایک بس پھنس چکی تھی جس میں ڈرائیور اور مسافر حضرات کود کر جانیں بچا چکے تھے۔ ہمارے بس ڈرائیور نے نہایت مہارت، احتیاط اور تحمل سے کم پانی کے بہاؤ میں گاڑی کو پار کیا۔ اب ہم مولے خان سرائے پہنچ چکے تھے شام ہو چکی تھی۔ بارش مزید تیز اور ہم اپنے منزل سے کوسوں دور۔
بس ڈرائیور جواب دے چکا تھا کہ مزید آ گے بڑھنا خطرے سے خالی نہیں اور رات گزارنے کے لیے کوئی ٹھکانہ ڈھونڈنا پڑے گا۔ وزیرستان میں اس وقت اور آج بھی کوئی ہوٹل یا رات گزارنے کی کوئی کمرشل جگہ مشکل سے ملے گی۔ اخری امید قریب کا گاؤں تھا جس سے ہمیں کچھ پناہ مل سکتی تھی۔ اب ہم بس میں بیٹھے وہاں جانے کا سوچ رہے تھے کہ ایک جوان کو ہاتھ میں ٹارچ لیے پہاڑی سے اترتے ہوئے دیکھا۔ قریب آنے پر اس نے آواز دی، مسافرو اندھیرا بڑھ رہا ہے اور بارش تیز ہو رہی ہے بس سے اترو اور میرے ساتھ چلو۔
وہ فرشتہ صفت جوان اگے بڑھنے لگا اور ہم اس کے پیچھے چلنے لگے۔ کچھ دیر بعد ایک پہاڑی میں اس کے گھر کے سامنے تھے۔ اس نے اپنے گھر کا مہمان خانہ کھولا اور ہمیں اندر آنے کا بولا۔ اس نے فوراً انگیٹھی میں آگ جلائی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ اپنی ماں کے ساتھ اکیلا رہ رہا ہے جبکہ ان کے والد فکر معاش کے سلسلے میں دبئی گئے ہوئے ہیں۔ تھوڑی دیر میں گھر کی اکلوتی خاتون، بیٹے کے ساتھ مل کر 25 لوگوں کے کھانے کا بندوبست کر رہی تھی اور ہم انگیٹھی کے سامنے بیٹھ کر آگ کے الاؤ میں ان کی خلوص، مہمان نوازی اور انسیت کی تپش محسوس کر رہے تھے۔
صبح اٹھے ناشتہ کیا اور اپنے محسنوں کو اللہ حافظ کہہ کر منزل کی جانب روانہ ہوئے۔ بارش رک چکی تھی لیکن آسمان پر کالی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں۔ خبر یہ تھی کہ آگے مزید موسم خراب ہے۔ وانا پہنچنے پر معلوم ہوا کہ وانا کانیگرم روڈ برف باری کی وجہ سے بند ہے لیکن سب نے بولا کہ جہاں تک ہو سکے، ہم رک نہیں سکتے۔ اور بس وانا شکٔی سے ہوتے ہوئے بالآخر تیارزہ کے مقام پر رک گئی کیونکہ آگے برفباری سے سارے رستے بند ہو چکے تھے۔
بتاتا چلوں کہ کانیگرم سطح سمندر سے 6500 فٹ کی بلندی پر ہے۔ سب نے مشورہ کیا کہ گاڑی تو آگے جا نہیں سکتی اور پیدل آگے جانے کا رسک نہیں لے سکتے۔ لیکن کچھ سفید ریش قومی اور سیاسی جذبے سے سرشار افراد نے طنزاً کہا کہ اب تو منزل قریب ہے، ہم نکلیں گے پیدل باقی اپ لوگوں کی مرضی۔ جب ہم نے مشران یعنی بڑوں کا جذبہ دیکھا تو کشران یعنی کم عمر کہاں پیچھے رہتے۔ ہم نے اللہ کا نام لے کر چارسدہ وال چپل میں آگے بڑھنا شروع کیا اور یہی سوچ کر آگے بڑھے کہ کوئی گھنٹہ ڈیڑھ میں کانیگرم پہنچ جائیں گے۔ لیکن جیسے پیدل آگے بڑھتے گئے ہلکی برف باری شروع ہو گئی۔ موسم خراب ہو رہا تھا، خون جما دینے والی سردی اور اوپر سے چارسدہ وال چپل پہنے ہوئے اور ہر قدم پر پھسلتے ہوئے برفیلی راستوں پر گامزن۔ پیدل سفر تھا جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ سرد جہنم میں پھنستے جا رہے تھے اور آہستہ آہستہ برفانی بھیڑیوں کا خوف الگ سے محسوس کرنے لگے۔ دور سے فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیں اور بتایا جا رہا تھا کہ طالبان اور فوج آپس میں وارم اپ کر رہے ہیں۔
کچھ آگے جا کے خبر آئی کہ ایک سفید ریش کو حالت بگڑنے پر کوئی قریبی گاؤں والے چارپائی پر اٹھا کر لے گئے ہیں۔
ہمیں دور ایک سرائے نظر آئی جو غالباً مومی کڑمہ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ سرائے پہنچ کر اللہ کا شکر ادا کیا۔ سب سے پہلے چارسدہ وال چپل سے جان چھڑائی اور ربڑ کے جوتے خریدے۔ دوپہر کے 4 بج گئے تھے اور ووٹ کاسٹ کرنے میں ایک گھنٹہ رہتا تھا۔ دل میں بولا اب رات گزارنی ہے تو اپنے گاؤں کانیگرم میں ہی گزاریں گے۔ پیدل سفر دوبارہ شروع کیا اور مغرب کی اذان کے ساتھ ہم کانیگرم کے قریب پہنچ گئے تھے۔ پولنگ کا وقت ختم ہو چکا تھا۔ پیروں پر چھا لے پڑھ چکے تھے رنگت نیلی ہو گی تھی اور قریب کوئی 35 سے 40 کلومیٹر کا رستہ برفباری میں اپنی حماقت کی وجہ سے پیدل طے کر چکے تھے۔ الیکشن مرکز کانیگرم کافی جیالے پہنچ چکے تھے اور اکثریت کو ووٹ ڈالنا نصیب نہیں ہوا تھا۔
رات الیکشن مرکز میں جگہ نہیں تھی تو ایک الیکشن کمپین والے نے بولا پاس ہی ایک گھر ہے وہاں بہترین بندوبست ہو گا اور رات آرام سے گزرے گی۔ ہم نے بولا چلو چلتے ہیں اور اس یخ بستہ رات میں ہمیں مزید کوئی 4 کلومیٹر پتھریلے راستوں پر چلنا پڑا اور ہم جسے قریب سمجھ رہے تھے وہ اتنا بھی قریب نہیں تھا اور صبح کی تھکاوٹ سے یہ والا مرحلہ بہت ہی کٹھن لگا۔ وہاں پہنچنے پر چائے اور حلوے سے تواضع ہوئی تو صبح والی تھکن بھول گئے لیکن ابھی کچھ آزمائش باقی تھی۔
رات سوتے ہوئے جو لحاف اپنے حصے میں آیا وہ اس قابل نہیں تھا کہ ہم سکون کی نیند سو سکیں۔ سرد ہوا تھی جو لحاف کے سوراخوں کو چیرتی ہوئی بدن کو چھلنی کر رہی تھی اور وہ رات ایڑیاں رگڑتے ہوئے گزاری۔ صبح ہوئی تو معلوم ہوا کہ الیکشن رزلٹ تاخیر سے دیے جائیں گے۔ برفباری رک چکی تھی آسمان نیلا ہو چکا تھا لیکن وادی میں ٹھنڈی ہواؤں نے سنسنانا شروع کر دیا تھا۔ مکین سے ایک بس پہنچی اور براستہ مکین سراروغہ، کوٹکی، ٹانک جانے کی حامی بھر لی۔ اب فائنل مرحلہ اس سے بھی سخت تھا کیونکہ ہمیں بس کی چھت پر بیٹھنے کی جگہ ملی اور پھر کیا تھا ہچکولے کھاتی ہوئی بس کی چھت اور سرد ہوا کے تھپیڑوں نے مفلوج کر دیا تھا اور بالآخر ہم واپس ڈیرہ اسماعیل خان پہنچے۔
برفانی سفر کا خلاصہ یہ نکلا کہ کچھ جوانوں پر لقوہ اور کچھ بڑوں پر فالج کی علامات ظاہر ہوئیں۔ اور کچھ سیانوں نے مشورہ دیا کہ برخودار برفانی علاقوں میں منہ اٹھا کر نہیں جایا جاتا۔

