آپ واقعی بہت "خطرناک” ہیں


آپ واقعی بہت خطرناک ہیں کیونکہ وہ آپ ہی تھے جب اس بد نصیب ملک کا معاشی گروتھ ریٹ پانچ اعشاریہ آٹھ کے قریب پہنچ گیا تھا۔ جب سٹاک ایکسچینج تریپن ہزار کو چھوتا ہوا پورے ایشیا کے سٹاک ایکسچینجز پر بازی لے جا رہا تھا۔ جب دنیا کا سب سے بڑا اقتصادی منصوبہ سی پیک پچاس ہزار ڈالرز کے ساتھ گیم چینجر بننے کو تھا۔ جب آئی ایم ایف کو الوداعی ہاتھ ہلایا جا رہا تھا۔ جب بیس بیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا شکار ملک بارہ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کر کے لوڈ شیڈنگ کو جڑوں سے اکھاڑ چکا تھا۔ جب ریلوے پہلی بار خسارے سے نکل کر اربوں روپے منافع کمانے لگا تھا۔ اور جب مہنگائی کی شرح تین فیصد پر آ گئی تھی۔

تو وہ آپ ہی تھے جو کہیں سے اشارہ ابرو پا کر اسلام آباد کے ڈی چوک میں نمودار ہوئے تھے اور پھر برباد ہوتی معیشت، سسکتی ہوئی غربت، معدوم ہوتے ہوئے منصوبے، چڑھتے ہوئے قرضے، بے وقار ہوتی ہوئی دھرتی، سلگتے ہوئے مسائل اور نحوستیں اگلتے ہوئے روز و شب آپ کے ہم قدم بن کر اس بدنصیب وطن کا مقدر بنے تھے۔

آپ واقعی بہت خطرناک ہیں کیونکہ اس معاشرے اور سماج کی صدیوں سے چلی آتی شاندار تہذیب اور روایات تھے۔ اختلاف یہاں ہمیشہ ہوتا رہا۔ مقدمے بازی اور دشمنیاں بھی اس زندگی کا حصہ تھے۔ سیاسی مخالفت اور برادریوں کی تقسیم بھی چلتی رہیں۔ نقطہ نظر کا تفریق بھی زندہ رہا۔

لیکن اس سب کچھ کے باوجود یہ یہی شاندار تہذیب اور روایات ہی تھے جو خواتین کا سرعام تمسخر اڑانا، گھریلو معاملات سربازار لانا، جاں بلب مریضوں پر پھبتیاں کسنا اور قبر میں اترے ہوئے مردوں کا مذاق اڑانا تو درکنار معمولی سی بدزبانی کی اجازت بھی نہیں دے رہے تھے بلکہ غمی شادی اور سماجی میل جول کے ساتھ ساتھ برداشت اور احترام کا معاملہ بھی چلتا رہتا۔

لیکن آپ واقعی بہت خطرناک ہیں کیونکہ جونہی آپ سیاسی منظر نامے کے سٹیج پر نمودار ہوئے تو صدیوں سے تابندہ روایات کی بنیاد پر کھڑی شائستہ اور حفاظت کی ضامن تہذیب کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا۔ پھر کہاں کی تہذیب اور شائستگی کون سی روایات اور کیسے اقدار؟

پھر اپنے ایک سیاسی مخالف کے سیاست دان بیٹے پر جنسی زاویے سے تضحیک آمیز جملے تو دوسرے مخالف سیاست دان کے بیٹوں کے جسمانی ساخت پر طنز تو درکنار بہو بیٹیوں تک کا ذکر بازاروں اور چوراہوں پر آ گیا۔ صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنے مخالف سیاست دان کی موت سے برسرپیکار اہلیہ کا مذاق اڑاتا، ڈرامہ باز کہتا اور اپنے ان پیروکاروں کی پیٹھ تھپتھپاتا رہا جو آپ کے ”جذبات“ کی ترجمانی کرتے رہے۔

آپ واقعی بہت خطرناک ہیں کیونکہ اس ملک کی تاریخ میں سیاسی کارکن ہونا، سیاسی شعور، جمہوری جدوجہد، نظریاتی وابستگی، فکری بلندی، دوسروں کے احترام، وطن پرستی، مشکلات، قید و بند اور استقامت ہی کا نام تھا۔

لیکن آپ واقعی بہت خطرناک ہیں کیونکہ اکتوبر دو ہزار گیارہ میں جیسے ہی آپ کو سیاسی ”گود“ لیا گیا تو آپ نے سیاست اور سیاسی کارکن کا روایتی اور بنیادی نقشہ ہی تبدیل کر ڈالا۔

اب سیاسی شعور کی جگہ سیاسی توہین، نظریات کی جگہ بہتان طرازی، دوسروں کے احترام کی جگہ لعن طعن، سیاسی اور جمہوری جدوجہد کی جگہ گالم گلوچ، الزامات، ڈنڈوں، مارپیٹ اور بد زبانی جبکہ آمریت کی مخالفت اور قید و بند کی جگہ غریب پولیس ملازمین سے صحافیوں تک کی گوشمالی اور حملوں نے لے لی۔

آپ واقعی بہت خطرناک ہیں کیونکہ پینسٹھ سال پہلے ایک وزیراعظم فیروز خان نون کو اس وقت گوادر کی اہمیت کا اندازہ ہو چکا تھا اور انہوں نے اپنی زیرک سفارت کاری کے ذریعے گوادر کو اومان سے لے کر پاکستان کا حصہ بنایا۔ ایک وزیراعظم بھٹو نے شکست خوردہ حالات کے باوجود بھی شملہ مذاکرات کیے اور اپنے ایک لاکھ قیدیوں کو چھڑوا لایا جبکہ آمریتوں کے شکار اس ملک کو انیس سو تہتر کا متفقہ آئین بھی دیا۔ ایک اور وزیراعظم بے نظیر بھٹو آمریت کے خلاف طویل جدوجہد کرتی اور بندوقوں والوں کو ایک نہتی لڑکی سے ڈراتی رہی۔

جبکہ وزیراعظم نواز شریف تمام دنیا کی مخالفت کے باوجود بھی ایٹمی دھماکے کر کے اپنے ملک کو دنیا کا پہلا مسلم ایٹمی طاقت بھی بنا گیا جبکہ موٹر ویز اور سی پیک کے جال پھیلاتا اسے ترقی کی راہ پر بھی ڈال گیا۔

لیکن آپ واقعی بہت خطرناک ہیں کیونکہ ایک نے گوادر لیا اور آپ نے کشمیر دیا۔ ایک نے دشمن سے اپنے قیدی چھڑوانے جبکہ آپ قیدی حوالے کرنے والوں کے سہولت کار بنے۔ ایک وزیراعظم آمریت کے خلاف طویل جمہوری جدوجہد کرتی اور اقتدار ٹھکراتی رہی اور آپ جمہوریت کا دھڑن تختہ کرنے والوں کو امپائر کہتے اور بناتے رہے جبکہ ببانگ دہل یہ اعلان بھی فرماتے رہے کہ فوج میرے ساتھ ہے۔

ایک وزیراعظم ملک کو معاشی قوت بناتا اور ترقی کی راہ پر ڈالتا رہا جبکہ آپ کا فلسفہ ہے کہ قومیں سڑکوں سے نہیں بلکہ انڈوں چوزوں کٹوں اور بے سر و پا باتوں سے ترقی کرتی ہیں۔

واقعی آپ بہت خطرناک ہیں کیونکہ اس ملک میں آپ کے چند مصاحبین کے علاوہ ایسا کوئی گھر اور کوئی فرد بچا ہی نہیں جو اس ”خطرے“ سے محفوظ رہا ہو یا اس کی زد میں نہ آیا ہو۔

آپ واقعی بہت خطرناک ہیں، اتنے خطرناک کہ بیس ہزار لوگوں کو اکٹھا کر کے جرنیلوں کا… نکلنے کا فلسفہ بھی پیش کر دیتے ہیں. اور پھر دس فٹ اونچی دیوار بھی پھلانگ جاتے ہیں۔ لیکن اس بار دیوار پھلانگنے میں بھی مشکل پیش آئے گی کیونکہ نیچے عوام انتظار میں کھڑے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments