ایڈیٹر کی ڈائری

کئی برس پہلے، بطور ڈائجسٹ ایڈیٹر، ذمہ داری سنبھالنے کے بعد جس اہم چیز سے میرا، سب سے پہلے واسطہ پڑا، وہ رائٹرز کے، ہاتھ سے لکھے ہوئے مسودے تھے۔ بیشتر کہانیاں ایسی تھیں کہ ان میں کہانی ڈھونڈنا آسان کام نہیں تھا۔ یوں سمجھیں کہ الفاظ کا ڈھیر ہوتا تھا، جس میں سے جملے خود بنانے پڑتے تھے۔ ایک نامور خاتون لکھاری کی تحریر میں پیراگراف تو کیا، کوما یا فل سٹاپ بھی نہیں ہوتا تھا۔ گویا وہ کہانی

Read more

کرنل کی لائبریری

برسوں بعد شہر کی اس گلی سے گزرنے کا اتفاق ہوا جہاں کبھی ایک لائبریری ہوا کرتی تھی۔ دور طالب علمی میں ہم اسی لائبریری سے جاسوسی ناول، ڈائجسٹ اور دیگر کتابیں کرائے پر لے کر پڑھا کرتے تھے۔ اس لائبریری کا مالک دونوں ٹانگوں سے معذور ایک ادھیڑ عمر خوش مزاج آدمی تھا۔ وہ خود بھی جاسوسی کہانیوں کا دلدادہ تھا۔ سب لوگ اسے کرنل کے نام سے پکارتے تھے۔ کرنل کی لائبریری میں ڈھیروں کتابیں تھی۔ اس کے

Read more

سبزی والے پراٹھے

گھر میں سبزی تو اکثر بنتی ہے، لیکن شوق سے کھاتا کوئی نہیں۔ اس رات میں نے پانی کی بوتل نکالنے کے لیے فریج کا دروازہ کھولا تو اندر پڑے سبزی کے دو تین سالن دیکھتے ہی جو پہلا خیال ذہن میں آیا کچھ یوں تھا کہ ”لگتا ہے عنقریب گھر میں سبزی والے پراٹھوں کا سیزن شروع ہونے والا ہے۔ “ پانی پینے کے بعد میں نے بوتل واپس فریج میں رکھ دی اور سونے کے لیے لیٹ گیا۔ :اگلی

Read more

ایک تھا کرونا

برسوں بعد بھی لوگ اپنے بچوں کو یہ کہانی سنایا کریں گے کہ ”کرونا“ نامی ایک وبا پھیلی تھی اور دنیا بھر کے لوگ گھروں میں دبک کر بیٹھ گئے تھے۔ ان دنوں انسان، انسان سے دور بھاگتا تھا۔ محبتیں صرف سوشل میڈیا اور موبائل فونز تک محدود ہو گئی تھیں۔ کنواروں کی شادیاں رک گئی تھیں اور شادی شدہ لوگوں کو سوشل ڈسٹنس کا مشورہ دیا جا رہا تھا۔ لوگ ہاتھ کی بجائے کہنیوں سے مصافحہ کرتے تھے۔ یہاں

Read more