عالمگیر خان "فکس اٹ” کے بانی اور معاشرتی شعور کے داعی


ہر قوم میں سماجی سطح پر جب مسائل حد سے زیادہ پیدا ہونے لگیں لیکن ان کو حل کرنے پر توجہ نہ دی جائے تو ایسے میں عوام میں سے ہی کوئی شخص عوام کی ترجمانی کرنے لگتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو اور عوام میں سے کوئی آواز بلند کرنے کا جذبہ نہ رکھتا ہو تو ایسی قومیں جستہ جستہ بے نامی اور غلامی کے دلدل میں پھنستی چلی جاتی ہیں۔

عالمگیر خان جو ”فکس اٹ“ تحریک کے بانی ہیں کچھ ایسا ہی عزم لے کر کچھ سالوں پہلے عوامی سطح پر متحرک ہوئے۔ جنوری 2016 میں انہوں نے ”فکس اٹ“ کی بنیاد رکھی اور اس کی وجہ حکومتی سطح پر عوامی مسائل کی ترجمانی تھی۔ عالمگیر خان کا تعلق کراچی سے ہے اور ان کی تحریک اور بہترین کاوش کا آغاز بھی کراچی کی گلیوں سے ہوا۔ عالمگیر خان ژرف نگاہ سے کراچی کے مسائل کے بارے میں جانتے ہیں۔ بدیں حال وہ ایسٹ کراچی ll این اے 243 کے حلقے سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر ایم این اے بھی ہیں اور قومی اسمبلی میں اپنے نظریات اور ملکی مسائل کے لیے اپنی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ 2018 میں ان کا تحریک انصاف کے ٹکٹ پر ایم این اے بننا ان کو قومی اسمبلی میں پیش رفت کا موقعہ دیتا ہے اور یہ سب ان کے مقصد کے استقلال کے باعث ہوا۔ جب بھی ایک نئی آواز عوام کے حق میں بلند ہوتی ہے تو شروع میں تنقید کا سامنا ضرور ہوتا ہے۔ ایسا ہی عالمگیر خان اور ان کے سماجی کارکنوں کے ساتھ بھی ہوا۔

عالمگیر خان نے ”فکس اٹ“ کے پلیٹ فارم سے کراچی میں کچرے اور آلودگی پر نمایاں کردار ادا کرنے کی ٹھانی۔ سب سے پہلے انہوں نے کراچی میں گٹر کے ڈھکن کا نہ ہونا جو کہ حادثات کا سبب تھا، عملی نمونہ پیش کیا۔ انہوں نے اپنے کارکنان کے ساتھ بغیر اشتعال گٹروں کے ڈھکن لگا کر سی ایم سندھ کو مثبت تنقید کا نشانہ بنایا۔ شروعات میں اس کارروائی پر عالمگیر خان نے اور ان کے کارکنوں نے سرکاری سطح پر مشکلات کا سامنا بھی کیا۔ فکس اٹ کے بانی عالمگیر خان اور پی ٹی آئی کے ایم این اے ہونے کا سفر آسان نہ تھا۔ اس مقام تک رسائی کا مکمن ہونا ان کی کاوشوں کے باعث تھا جس سے ان کو عوامی سطح پر بہ چشم سر داد ملنا شروع ہوئی۔

عالمگیر خان کی شہرت نہ ان کو علاقائی، صوبائی بنیادوں پر حاصل ہوئی بلکہ ان کو وطنیت کی عوامی سطح پر تمثیل سمجھا جانے لگا۔ ان کو گٹروں کے ڈھکن لگانے پر اور صفائی مہم شروع کرنے پر گرفتار بھی کیا گیا۔ گرفتاری کے بعد انہیں جلد ضمانت پر چھوڑ دیا گیا۔ عالمگیر خان ایک انقلاب کی طرح برپا ہوئے جس کا احساس ان کے مخالفین نے بھی کیا اور پوری قوم ان کی مثبت سوچ کی معترف ہو گئی۔

سماجی کارکن کی حیثیت سے لوگ فکس اٹ میں بڑی تعداد میں شہر کے محافظ بنتے چلے گئے اور ان کی تنظیمی وقعت پھیلنے میں ذرا تشکیک باقی نہ رہی۔ اگر فلسفے کے علم کو مد نظر رکھتے ہوئے عالمگیر خان کی شخصیت کا جائزہ لیا جائے تو اس عوامی کارکن اور رائج مسائل پر آواز کو بغاوت نہیں شعوری سفر کا سلسلہ مانا جاتا ہے۔

نوجوانوں کا رجحان عالمگیر خان کی طرف ان کے جذبے کی سالمیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے انتہا پر دکھائی دیا جانے لگا۔ ان کا گٹر کے ڈھکن لگانا اور صفائی مہم پر کارروائی کرنے کا انداز اتنا منفرد اور دلچسپ رہا کہ ہر کوئی ان کے اگلے عمل کو لیے لزوجت اپنے باطن میں محسوس کرنے لگا۔ عالمگیر خان عصبیت سے پاک وطن کی مثال دینے میں کامیاب ہوئے اور رنگ، نسل، حسب نسب سے بالاتر لوگ ان کے عزم میں شریک ہونے لگے۔ عالمگیر خان کا گرفتار ہونا اس لیے بھی فائدے مند رہا کہ لوگوں کے ان کے حق میں تاثرات کو مزید سند حاصل ہونے لگی۔ پورے شہر کی عوام نے ان کی گرفتاری کو برا عمل سمجھا اور سوشل میڈیا پر ان کے حق میں کلمے قابل غور ثابت ہوئے۔

عالمگیر خان کی سماجی حیثیت سے فکس اٹ کی بنیاد رکھنا، نام سے ہی گٹر کے ڈھکنوں کو بنیادی مسئلہ بتانے میں کامیاب رہی۔ ان کا گلی گلی سڑک سڑک کام کرنا ان کو قومیت کے خانے میں اعلی مقام دلاتا ہے۔ احتجاج ہمیشہ سے قوم کا حق سمجھا جاتا ہے، عالمگیر خان نے صوبائی سطح پر اپنا احتجاج وقت کے سی ایم کی رہائش گاہ کے آگے کچرا پھینک کر کیا۔ مبصرین کا کہنا تھا یہ عمل بدتمیزی اور بد تہذیبی نہیں بلکہ سرکاری سطح پر یہ احساس دلانا ہے کہ کراچی شہر میں کچرا لوگوں کو نفسیاتی طور پر کتنا متاثر کرتا ہو گا۔

ایک بات غور طلب ہے کہ عالمگیر خان کی گرفتاری کے بعد ان کو ضمانت پر چھوڑنے پر پانچ ہزار کے مچلکے عائد کیے گئے۔ انہوں نے اس کی ادائیگی کے بعد ہمت نہیں ہاری بلکہ عوامی اور سماجی سطح پر متحرک رہنا اور شدت سے محسوس کیا۔ کراچی کے سگنلز پر فکس اٹ کے بانی نے بہ ذات خود لوگوں سے چندے کی درخواست کی تاکہ جو کام سرکار کی نا اہلی کے سبب نہیں ہو پا رہا اس کا بیڑا شہر کے باشندے خود اٹھائیں۔ لوگوں کا بڑھ چڑھ کر ان کو چندہ دینا اور ان کے ساتھ شامل ہونا ان کے لیے پذیرائی کا ذریعہ تھا جس سے ان کے عزم کو مزید تقویت ملی۔

جب ان کی ضمانت ہوئی تو انہوں نے اپنا بیان میڈیا کو ریکارڈ کروایا۔ ان کے مطابق حکمران عام آدمی کو کمزور کر رہے ہیں۔ ان کی یہ بات صادق آتی ہے کہ کمزور عوام دھیرج سے غلامی کا وہ سفر طے کرنا شروع کرتی ہے جس کا علم اس قوم کو خود نہیں ہوتا۔ عوام کا کمزور ہونا اجارہ داری کے نظام کو فروغ دیتا ہے جو کہ شہر، صوبے، ملک کے مستقبل کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ ان کے فہم کے مطابق، وزیر اعلیٰ سندھ کے گھر کے آگے کچرا پھینکنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ان کو اس بدبو کا اندازہ ہو جو عوام کے لیے روز و شب صعوبت کا باعث ہے۔

ان کے بیان کے بعد یہ ثابت ہوا کہ وزیر اعلیٰ کے لیے یہ عمل امتحان کی مانند تھا اور عوام کو عالمگیر خان کی وجہ سے پہلی بار ممتحن کا درجہ ملا۔ عالمگیر خان کی گرفتاری پر وہ ذرا رنجور نظر نہیں آئے بلکہ وہ تو اس مشن پر اکیلے نکلے تھے یہاں تک کہ ان کا وزیر اعلیٰ کے گھر کے باہر اس طرح کے احتجاج کا ارادہ بھی اکیلے کرنے کا ہی تھا۔

عالمگیر خان کو ان کے ان عملی اقدامات کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے بہت سراہا گیا اور ان کی عوام کاوش پر ہی آج وہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ سے ایم این اے کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ عالمگیر خان نے پاکستانیوں کی خدمت کو اپنا وتیرہ بتایا اور پاکستانیوں میں ایسے شعور کی بنیاد رکھی جس کی بناء ملکی حالات میں ملزوم تھی۔ کئی سازشوں کے بعد بھی لوگوں کی اکثریت اور فکس اٹ پر عوامی اجماع نے اس تنظیم کو ختم ہونے سے باآسانی بچایا۔ مخالفین کی سازشوں پر عالمگیر خان تحریک انصاف کے تہہ دل سے متشکر رہے کیونکہ ان کی سپورٹ سے ان کو اپنے منشور کے ابلاغ میں مشکلات کا کم سامنا کرنا پڑا۔

گزشتہ روز عالمگیر خان کے والد دلاور خان گیس کی وجہ سے ہونے والے دھماکے کے باعث دار فانی سے کوچ کر چکے ہیں۔ پوری قوم نے سماجی کارکن کے ساتھ ہوئے اس واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کیا۔ مشکلات کے سامنے کے باوجود عالمگیر خان اپنی تحریکی سرگرمیوں اور تحریک انصاف کے ایم این اے کی حیثیت سے اپنے فریضے کو پوری طرح سے نبھانے میں مصروف رہتے ہیں۔ اس جہد کی وجہ ان کا تخلیقی اور سماجی سفر ہے جو شعور کو عوامی سطح پر منتقل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔

عالمگیر خان کی تنظیم کا ایک غیر معمولی کارنامہ واٹر بورڈ کے دفتر کے آگے گندا پانی پھینکنا بھی ہے۔ اس طرح کے احتجاج کو ان کی سستی شہرت پانے کا ذریعہ بھی بتایا گیا۔ فکس اٹ کے بانی کے بقول وہ کوئی بھی احتجاج فی الفور شروع کرنے کے قائل نہیں۔ پہلے پہل ان کا مقصد اپنی بات اور عوام کے مسائل کو سرکاری عہدیداروں تک پہنچانا ہوتا ہے۔ جب ان کی درخواست کی حد درجے تک تردید کا عمل جاری رہتا ہے تب وہ سرکاری پیسوں پر چلنے والی عمارت کے آگے احتجاج کو وقتی مایحتاج سمجھتے ہیں۔

فکس اٹ کے بانی کے مطابق ان کی سماجی تنظیم خود مختار ہے جس میں کارکنان کی رائے کا پاس بھی رکھا جاتا ہے۔ ان کا تحریک انصاف سے ایم این اے منتخب ہونا فکس اٹ سے کسی طور متعلقہ نہیں بلکہ عالمگیر خان کے بقول صرف پارلیمانی تقریریں کرنا حل نہیں۔ فکس اٹ کا منشور سڑکوں اور گلیوں میں نکلنا اور عوام کی آواز بننا ہے۔ ان کے نظریات کا صادق ہونا اس لیے بھی اعتراف کے قابل ہے کہ ایم این اے بننے کے بعد بھی انہوں نے فکس اٹ کے پلیٹ فارم سے عوامی مسائل پر گلی گلی نکل کر دکھایا۔ سرکاری اداروں کے باہر احتجاج ان کا حق ہے اور عوام کی بڑی تعداد ان کی اس تحریک میں ان کے ساتھ ہے۔

آخر الذکر عالمگیر خان ایک ایسا نام ہے جس نے اپنی تفہیم سے لوگوں میں وجودیت کا احساس پیدا کیا۔ انہوں نے لوگوں کے درمیاں داعی کی حیثیت سے اپنے حقوق کی آواز بلند کرنے کا درس دیا۔ ان کو ایک ایسے مدرس کی شناخت حاصل ہوتی گئی جو عملی طور پر ایک خوب صورت نمونہ ہے۔ عالمگیر خان کا انداز اور کام اس بات کی دلیل ہے کہ ایم این اے ہونے کے باوجود بھی ایک عہدے دار جب تک گراؤنڈ ریئلیٹیس پر نظر ثانی نہیں کرے گا جب تک عوامی مسائل مزید پیچیدگیوں کا شکار رہیں گے۔ عالمگیر خان نے فکس اٹ کی تحریک سے یہ نظریہ اجاگر کیا کہ ہر وجود معاشرے کا حصہ ہے اور ہر معاشرے کی شکل اس میں موجود لوگوں کی شعوری بیداری پر منحصر ہے۔

Facebook Comments HS